23

*فقہِ اسلامی: فرد سے نظام تک*

  • نیوز کوڈ : 2722
  • 29 March 2026 - 14:47
*فقہِ اسلامی: فرد سے نظام تک*

*فقہِ اسلامی: فرد سے نظام تک*

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

تحریر : سید جہانزیب عابدی

دینِ اسلام کو اگر صرف فرد کی نجات یا عبادات کے محدود دائرے تک سمجھ لیا جائے تو یہ اس کے حقیقی مزاج کے ساتھ بڑی ناانصافی ہوگی۔ اسلام ایک ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جو انسان کو نہ صرف اس کی انفرادی حیثیت میں بلکہ ایک اجتماعی وجود، ایک معاشرتی اکائی اور ایک تمدنی حقیقت کے طور پر دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں عمرانی مسائل، یعنی معاشرے کی ساخت، تعلقات، انصاف، معیشت، سیاست اور ثقافت سے متعلق امور، فقہی تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ فقہ محض طہارت و نجاست یا عبادات کے چند ابواب کا نام نہیں بلکہ یہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں کو منظم کرنے والا ایک جامع ضابطہ ہے جس کا بنیادی ہدف ایک عادلانہ اور متوازن معاشرہ قائم کرنا ہے۔

اسلامی فقہ کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے، اور ان دونوں مصادر میں جہاں فرد کی اصلاح پر زور دیا گیا ہے وہاں اجتماعی عدل اور معاشرتی توازن کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ قرآن بار بار ظلم، استحصال، ناپ تول میں کمی، یتیموں کے حقوق کی پامالی، اور معاشی ناہمواریوں کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔ یہ محض اخلاقی نصیحتیں نہیں بلکہ ایسے اصول ہیں جن کی بنیاد پر ایک پورا سماجی و قانونی نظام تشکیل دیا جاتا ہے۔ فقہ ان اصولوں کو عملی صورت دینے کا نام ہے، تاکہ معاشرہ محض اخلاقی خواہشات کا مجموعہ نہ رہے بلکہ ایک منظم اور قابلِ نفاذ نظام بن جائے۔

عمرانی مسائل کی فقہی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اسلام میں عدالت اور قسط کو قیامِ دین کا لازمی جزو قرار دیا گیا ہے۔ اگر ایک معاشرہ عبادات میں تو مضبوط ہو مگر وہاں ظلم، ناانصافی، طبقاتی تقسیم اور استحصال عام ہو تو وہ اسلامی معیار پر پورا نہیں اترتا۔ فقہ اس خلا کو پر کرتی ہے، کیونکہ وہ نہ صرف انفرادی اعمال کو منظم کرتی ہے بلکہ اجتماعی تعلقات، معاہدات، اقتصادی لین دین، اور حکومتی ڈھانچے کے اصول بھی متعین کرتی ہے۔ مثلاً بیع و شراء کے احکام، سود کی حرمت، زکوٰۃ و خمس کے نظام، اور وقف جیسے ادارے—all یہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسلام معاشی انصاف کو کس قدر بنیادی اہمیت دیتا ہے۔

اسی طرح سیاسی اور حکومتی سطح پر بھی فقہ کی رہنمائی ناگزیر ہے۔ اسلام میں اقتدار کو ایک امانت سمجھا گیا ہے، اور حکمران کو عوام کے حقوق کا محافظ قرار دیا گیا ہے۔ فقہی اصول اس بات کو یقینی بنانے کے لیے وضع کیے گئے ہیں کہ اقتدار ظلم کا ذریعہ نہ بنے بلکہ عدل کے قیام کا وسیلہ ہو۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا تصور بھی دراصل ایک اجتماعی ذمہ داری ہے جو معاشرے کو اخلاقی اور سماجی بگاڑ سے بچانے کے لیے دیا گیا ہے۔ یہ سب امور اس بات کی دلیل ہیں کہ فقہ کا دائرہ صرف فرد تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے کو محیط ہے۔

عمرانی مسائل کے حوالے سے فقہ کی ایک اور اہم جہت اس کی اجتہادی صلاحیت ہے۔ ہر دور کے اپنے مسائل اور چیلنجز ہوتے ہیں، اور فقہ ان کا جواب دینے کے لیے اجتہاد کا دروازہ کھلا رکھتی ہے۔ یہ اجتہاد محض نصوص کی تکرار نہیں بلکہ ان کے مقاصد کو سمجھ کر نئے حالات پر منطبق کرنے کا عمل ہے۔ اسی کے ذریعے جدید معاشی نظام، بین الاقوامی تعلقات، میڈیا، اور سماجی تبدیلیوں کے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اگر فقہ اس اجتہادی روح سے محروم ہو جائے تو وہ محض ایک جامد روایت بن کر رہ جائے گی، جبکہ اسلام کی اصل روح حرکت، توازن اور عدل میں مضمر ہے۔

جدید دور کے عمرانی مسائل نے انسانی معاشرے کو جس پیچیدگی، تیزی اور باہمی انحصار کے جال میں جکڑ دیا ہے، وہ ماضی کے کسی بھی دور سے مختلف ہے۔ معیشت عالمی ہو چکی ہے، معلومات کی ترسیل لمحوں میں سرحدیں عبور کر لیتی ہے، اور سماجی تعلقات نئے معانی اختیار کر رہے ہیں۔ ایسے میں اسلامی فقہی اجتہاد کی اہمیت محض ایک علمی بحث نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت بن جاتی ہے، کیونکہ یہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے دین کی ابدی ہدایات کو بدلتے ہوئے حالات پر منطبق کیا جا سکتا ہے۔ اگر اجتہاد کو اس کی حقیقی روح کے ساتھ سمجھا جائے تو یہ محض احکام کے استخراج کا عمل نہیں بلکہ ایک زندہ شعور ہے جو قرآن و سنت کے مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے انسانی معاشرے کی رہنمائی کرتا ہے۔

معصومینؑ کی سیرت اس اجتہادی روح کی عملی تفسیر ہے۔ حضرت محمد ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں ہمیں یہ اصول واضح طور پر نظر آتا ہے کہ آپؐ نے محض عبادات کی تعلیم نہیں دی بلکہ ایک مکمل سماجی نظام قائم کیا۔ مدینہ میں قائم ہونے والی ریاست میں آپؐ نے مختلف قبائل، مذاہب اور معاشرتی طبقات کے درمیان ایک ایسا معاہدہ ترتیب دیا جو آج کے دور میں سماجی ہم آہنگی اور بین المذاہب تعلقات کے لیے ایک مثالی نمونہ ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں اجتماعی مسائل کے حل کے لیے عملی اور اجتہادی اقدامات کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

اسی طرح حضرت علی علیہ السلام کی حکومت اور آپؑ کے اقوال جدید عمرانی مسائل کے حل کے لیے ایک گہرا منبع فراہم کرتے ہیں۔ آپؑ نے اپنے گورنر مالک اشتر کو جو ہدایات دیں، وہ درحقیقت ایک مکمل سماجی، سیاسی اور معاشی منشور کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس میں عدل، احتساب، کمزور طبقات کے حقوق، اور حکمران کی ذمہ داریوں کو جس وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، وہ آج کے جدید ریاستی نظام کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ حضرت علیؑ کا یہ فرمان کہ “معاشرہ اس وقت تک قائم رہ سکتا ہے جب تک اس میں عدل موجود ہو، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو، اور ظلم کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتا چاہے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو” اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اسلام میں عمرانی عدل محض ایک اخلاقی قدر نہیں بلکہ ایک وجودی ضرورت ہے۔

جدید دور میں جب ہم معاشی ناہمواری، سرمایہ دارانہ استحصال اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم جیسے مسائل کو دیکھتے ہیں تو فقہی اجتہاد کی روشنی میں زکوٰۃ، خمس، اور بیت المال کے تصورات کو نئے انداز میں فعال کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ معصومینؑ کی سیرت میں ہمیں یہ نمونہ ملتا ہے کہ بیت المال کو کس طرح عوام کی فلاح کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، نہ کہ حکمران طبقے کی عیش و عشرت کے لیے۔ آج کے دور میں اگر اسلامی فقہ کے ان اصولوں کو اجتہادی بصیرت کے ساتھ نافذ کیا جائے تو معاشی انصاف کی ایک نئی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

اسی طرح معلوماتی دور میں میڈیا، سوشل نیٹ ورکس اور رائے سازی کے جدید ذرائع نے ایک نیا عمرانی چیلنج پیدا کیا ہے۔ جھوٹ، پروپیگنڈا، اور فکری انتشار کے اس ماحول میں فقہی اجتہاد کو سچائی، امانت اور ذمہ دارانہ اظہار کے اصولوں کو نئے سیاق و سباق میں واضح کرنا ہوگا۔ معصومینؑ کے اقوال میں ہمیں زبان اور بیان کی ذمہ داری پر بار بار زور ملتا ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کا یہ ارشاد کہ “ہمارے لیے زینت بنو، باعثِ ننگ نہ بنو” اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مومن کا ہر عمل، حتیٰ کہ اس کا اظہارِ رائے بھی، معاشرے پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس میں ذمہ داری کا عنصر ہونا چاہیے۔

سیاسی سطح پر بھی جدید دور کے مسائل، جیسے جمہوریت، آمریت، عالمی طاقتوں کا اثر و رسوخ، اور عوامی نمائندگی، فقہی اجتہاد کے متقاضی ہیں۔ یہاں معصومینؑ کی سیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اقتدار بذاتِ خود مقصد نہیں بلکہ ایک وسیلہ ہے، اور اس کا اصل ہدف عدل کا قیام ہے۔ امام حسین علیہ السلام کا قیام اس حقیقت کی سب سے بڑی مثال ہے کہ جب نظام ظلم پر قائم ہو جائے تو اس کے خلاف کھڑا ہونا ایک دینی فریضہ بن جاتا ہے، چاہے اس کے لیے کتنی ہی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔ یہ اصول آج کے دور میں بھی اسی طرح قابلِ اطلاق ہے، جہاں ظلم کے مختلف جدید روپ سامنے آتے ہیں۔

اجتہاد کی اصل روح یہ ہے کہ وہ نصوص کے ظاہر سے آگے بڑھ کر ان کے مقاصد کو سمجھے اور انہیں نئے حالات پر منطبق کرے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں فقہ ایک زندہ اور متحرک علم بن جاتی ہے، نہ کہ ایک جامد روایت۔ جدید عمرانی مسائل کا حل اسی وقت ممکن ہے جب فقہ اپنی اس اجتہادی قوت کو بروئے کار لائے، اور معصومینؑ کی سیرت کو محض تاریخی واقعات کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ رہنمائی کے طور پر اپنایا جائے۔

جدید دور میں بھی اسلامی فقہ کی ایک اہم خصوصیت یہی ہے کہ وہ زندگی کے اُن گوشوں تک بھی رسائی رکھتی ہے جنہیں عام طور پر “معمولی” یا “دنیاوی” سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ فقہ کی نظر میں کوئی بھی ایسا عمل جو دوسروں کے حقوق، نظمِ اجتماعی، یا عدلِ عمومی کو متاثر کرے، وہ محض عادت یا سہولت کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ اس پر حلال و حرام، جائز و ناجائز، اور حق و باطل کا حکم بھی جاری ہو سکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اجتہاد اپنی حقیقی افادیت دکھاتا ہے، کیونکہ وہ نصوص کے کلی اصولوں کو لے کر نئے اور بظاہر غیر مذہبی دکھنے والے مسائل پر بھی حکمِ شرعی متعین کرتا ہے۔

مثلاً غلط پارکنگ کو عام طور پر ایک معمولی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے، مگر فقہی زاویے سے دیکھا جائے تو اگر کوئی شخص اپنی گاڑی اس طرح کھڑی کرتا ہے کہ راستہ بند ہو جائے، ایمبولینس یا فائر بریگیڈ کی راہ رک جائے، یا دوسروں کے لیے اذیت اور خطرہ پیدا ہو، تو یہ صرف “غلطی” نہیں بلکہ واضح طور پر “تعدی علیٰ حقوق الغیر” ہے، جو حرام کے دائرے میں آ سکتا ہے۔ یہاں قاعدہ “لا ضرر و لا ضرار” (نہ خود نقصان اٹھاؤ نہ دوسروں کو نقصان پہنچاؤ) براہِ راست لاگو ہوتا ہے، اور یوں ایک بظاہر سادہ سا شہری مسئلہ ایک شرعی مسئلہ بن جاتا ہے۔

اسی طرح سڑک پر کچرا پھینکنا ایک عام سی عادت ہے، مگر اگر اس سے بیماری پھیلنے کا خدشہ ہو، راستہ گندا ہو، یا دوسروں کو تکلیف پہنچے تو یہ بھی فقہی لحاظ سے ممنوع عمل شمار ہو سکتا ہے۔ اس کا تعلق نہ صرف طہارت کے احکام سے ہے بلکہ “حفظِ نفس” اور “نظامِ عامہ” جیسے مقاصدِ شریعت سے بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ قرار دیا گیا ہے، تو اس کے برعکس تکلیف ڈالنا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟

ڈیجیٹل دور میں بھی ایسے کئی مسائل پیدا ہوئے ہیں جن پر عام طور پر لوگ دینی زاویے سے غور نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر کسی کی اجازت کے بغیر اس کی تصویر یا ویڈیو شیئر کرنا، یا کسی کی ذاتی معلومات کو پھیلانا، یہ سب جدید اصطلاح میں “پرائیویسی” کے مسائل ہیں، مگر فقہ کی زبان میں یہ “ہتکِ حرمتِ مؤمن” اور “افشاءِ سر” کے زمرے میں آ سکتے ہیں، جو سخت گناہ ہیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانا یا بغیر تحقیق کے آگے بڑھانا، “کذب” اور “اشاعۃ الفاحشہ” کے اصولوں کے تحت ممنوع قرار پاتا ہے۔

روزمرہ زندگی میں قطار توڑنا بھی ایک چھوٹی سی بات لگتی ہے، مگر حقیقت میں یہ دوسروں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ فقہی اصول “الناس مسلطون علیٰ حقوقہم” کے تحت ہر شخص کو اپنے حق میں مقدم ہونے کا حق حاصل ہے، اور کسی کا حق چھیننا ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص بجلی یا گیس کی چوری کرتا ہے، یا بل ادا کیے بغیر سہولت سے فائدہ اٹھاتا ہے، تو یہ محض “چالاکی” نہیں بلکہ صریحاً “غصب” اور “سرقہ” کے قریب تر ہے، جس پر شرعی مواخذہ ہو سکتا ہے۔

حتیٰ کہ شور و غل کرنا، خاص طور پر ایسے اوقات میں جب لوگ آرام کر رہے ہوں، یا لاؤڈ اسپیکر کا بے جا استعمال کرنا، یہ بھی فقہی لحاظ سے قابلِ اعتراض ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں دوسروں کو اذیت پہنچانا شامل ہے۔ اسلام میں “ایذاء المؤمن” کو سختی سے منع کیا گیا ہے، اور یہ اصول ہر اس عمل پر لاگو ہوتا ہے جو دوسروں کے سکون اور حق کو متاثر کرے۔

اسی طرح ماحولیاتی آلودگی، پانی کا ضیاع، یا قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال، یہ سب جدید عمرانی مسائل ہیں جن پر فقہی اجتہاد روشنی ڈالتا ہے۔ اگر کسی کا عمل اجتماعی نقصان کا باعث بن رہا ہو تو وہ صرف اخلاقی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ شرعی ذمہ داری کا موضوع بن جاتا ہے، کیونکہ انسان کو زمین پر “خلیفہ” بنایا گیا ہے اور اسے فساد پھیلانے سے روکا گیا ہے۔

ان چند مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی فقہ زندگی کے ہر پہلو کو ایک اخلاقی و شرعی دائرے میں دیکھتی ہے، اور اجتہاد اس دائرے کو مسلسل وسیع اور مؤثر بناتا رہتا ہے۔ یوں وہ امور جو عام نظر میں غیر اہم یا محض سماجی عادات سمجھے جاتے ہیں، فقہ کی نظر میں انسان کے دینی کردار اور اجتماعی ذمہ داری کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہی وہ جامعیت ہے جو اسلام کو ایک زندہ اور عملی نظامِ حیات بناتی ہے، جہاں ہر چھوٹا بڑا عمل عدل، حق اور ذمہ داری کے میزان پر تولا جاتا ہے۔

 اسلامی فقہی اجتہاد جدید دور کے پیچیدہ عمرانی مسائل کے لیے نہ صرف ایک نظریاتی بنیاد فراہم کرتا ہے بلکہ ایک عملی راستہ بھی دکھاتا ہے، بشرطیکہ اسے اس کی حقیقی روح، یعنی عدل، حکمت اور انسان دوستی کے ساتھ سمجھا اور نافذ کیا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی طرف لے جا سکتا ہے جہاں دین محض عبادات تک محدود نہ ہو بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کا سرچشمہ بن جائے۔

اس تمام بحث کا حاصل یہ ہے کہ اسلام میں عمرانی مسائل کو نظر انداز کرنا دراصل دین کو ادھورا سمجھنے کے مترادف ہے۔ فقہ ان مسائل کو نہ صرف اہمیت دیتی ہے بلکہ ان کے حل کے لیے ایک منظم اور اصولی راستہ بھی فراہم کرتی ہے۔ ایک ایسا راستہ جو انسان کو فرداً بھی سنوارتا ہے اور اجتماعاً بھی، جو عبادت کو بھی معنی دیتا ہے اور عدالت کو بھی، اور جو دنیا و آخرت دونوں کی فلاح کو ایک مربوط نظام میں جوڑ دیتا ہے۔ یہی وہ جامعیت ہے جو اسلام کو محض ایک مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات بناتی ہے، اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں فقہ، عمرانی مسائل کے حل میں اپنی حقیقی اہمیت اور افادیت کو ثابت کرتی ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2722

ٹیگز

تبصرے