بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
زمین سے محبت محض ایک جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک شعوری وابستگی ہے، ایک ایسا ادراک جو انسان کو اس زمین پر بسنے والے کمزور، محروم اور پسے ہوئے طبقات—یعنی مستضعفین—کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے پر آمادہ کرے۔ اگر کوئی واقعی زمین سے محبت کا دعویدار ہے تو اسے زمین کے حسن، وسائل یا ترقیاتی نعروں سے آگے بڑھ کر ان زخموں کو دیکھنا ہوگا جو صدیوں سے اس کے سینے پر لگائے جا رہے ہیں۔ یہی وہ زاویہ ہے جہاں سے مستضعفین کی نظر دنیا کو دیکھتی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں اشرافیہ کی بنائی ہوئی حقیقتیں ٹوٹنا شروع ہوتی ہیں۔
مستضعفین کے لیے سب سے بڑا مسئلہ صرف غربت نہیں، بلکہ وہ نظام ہے جو غربت کو پیدا کرتا اور برقرار رکھتا ہے۔ یہ ایسا جال ہے جس میں معاشی استحصال، سیاسی بےاختیاری، علمی محرومی اور ثقافتی تحقیر سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک غریب انسان صرف روٹی سے محروم نہیں ہوتا بلکہ فیصلہ سازی کے عمل سے بھی باہر ہوتا ہے، اس کی آواز کو یا تو دبایا جاتا ہے یا اسے غیر مؤثر بنا دیا جاتا ہے۔ اس کے بچوں کو ایسا تعلیمی نظام دیا جاتا ہے جو انہیں سوچنے کے بجائے تابع بناتا ہے، اور اس کی شناخت کو اس طرح مسخ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی محرومی کو تقدیر سمجھنے لگے۔ یہ محرومی محض وسائل کی کمی نہیں بلکہ اختیار، عزت اور شعور کی چھین لی جانے والی حالت ہے۔
اس کے برعکس اشرافیہ جن چیزوں کو عالمی مسائل بنا کر پیش کرتی ہے، ان میں اکثر وہ عناصر شامل ہوتے ہیں جو درحقیقت ان کے اپنے مفادات کے تحفظ کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ کبھی سیکیورٹی کے نام پر جنگوں کو جائز قرار دیا جاتا ہے، کبھی ترقی کے نام پر وسائل کی لوٹ مار کو قانونی حیثیت دی جاتی ہے، اور کبھی آزادی کے نام پر ایسے تصورات کو مسلط کیا جاتا ہے جو مقامی تہذیبوں اور اقدار کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ اشرافیہ کے لیے مسئلہ وہ نہیں ہوتا جو انسان کو کچل رہا ہے بلکہ وہ ہوتا ہے جو ان کے اقتدار، سرمائے یا بیانیے کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیا، تعلیم اور پالیسی سازی کے ذریعے ایک مصنوعی ترجیحی نظام قائم کیا جاتا ہے جس میں اصل مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور مصنوعی مسائل مرکز بن جاتے ہیں۔
ان مسائل کے پیچھے بنیادی وجہ طاقت اور مفاد کا وہ گٹھ جوڑ ہے جو عالمی سطح پر ایک مخصوص طبقے کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ یہ گٹھ جوڑ صرف سیاسی نہیں بلکہ معاشی، فکری اور ثقافتی سطحوں پر بھی کام کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام، نوآبادیاتی ذہنیت کی باقیات، اور علم کی ایسی تشکیل جو حقیقت کے بجائے طاقت کی خدمت کرے—یہ سب مل کر ایک ایسا ڈھانچہ بناتے ہیں جس میں مستضعفین کا استحصال ایک “نارمل” چیز بن جاتا ہے۔ اس نظام کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ یہ خود کو ناگزیر اور فطری بنا کر پیش کرتا ہے، گویا اس کے علاوہ کوئی متبادل ممکن ہی نہیں۔
مستضعفین کے مسائل کا حل کسی ایک وقتی انقلاب یا محض حکومت کی تبدیلی میں نہیں بلکہ ایک تدریجی مگر بنیادوں سے جڑی ہوئی تبدیلی میں ہے۔ اس تبدیلی کا آغاز شعور سے ہوتا ہے، ایک ایسے شعور سے جو انسان کو اپنی حقیقت، اپنی قدر اور اپنے حقوق کا ادراک دے۔ جب تک انسان اپنے بارے میں دوسروں کے بنائے ہوئے بیانیے کو قبول کرتا رہے گا، وہ اسی دائرے میں گھومتا رہے گا۔ لہٰذا سب سے پہلا محاذ فکری اور تعلیمی ہے، جہاں انسان کو محض ہنر مند مزدور نہیں بلکہ ایک باوقار، باشعور اور ذمہ دار فرد بنایا جائے۔
تعلیم وہ بنیادی شعبہ ہے جس کی اصلاح سے درجہ بدرجہ، قدم بقدم پورا نظام بدلنے کی امید پیدا ہو سکتی ہے، لیکن یہ تعلیم محض نصاب کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک مکمل فکری انقلاب کا تقاضا کرتی ہے۔ ایسی تعلیم جو انسان کو سوال کرنا سکھائے، جو اسے اپنی تہذیب، اپنی تاریخ اور اپنے دینی و اخلاقی اصولوں سے جوڑے، اور جو اسے ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کا حوصلہ دے۔ جب تعلیم بدلتی ہے تو سوچ بدلتی ہے، جب سوچ بدلتی ہے تو ترجیحات بدلتی ہیں، اور جب ترجیحات بدلتی ہیں تو نظام خود بخود دباؤ میں آ کر تبدیل ہونے لگتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ معاشی اور سیاسی میدان میں بھی نچلی سطح سے شفافیت، خودمختاری اور اجتماعی ذمہ داری کو فروغ دینا ضروری ہے۔ مقامی سطح پر ایسے ڈھانچے قائم ہوں جہاں لوگ اپنے مسائل خود حل کرنے کی صلاحیت پیدا کریں، اور اوپر کی سطح پر ایسا نظام ہو جو عوام کے سامنے جواب دہ ہو، نہ کہ کسی خفیہ یا بیرونی طاقت کے سامنے۔ یہ ایک طویل سفر ہے، کیونکہ صدیوں کا انحراف اور فساد ایک دن میں ختم نہیں ہو سکتا، لیکن اگر سمت درست ہو اور بنیاد مضبوط ہو تو ہر قدم ایک نئی امید کو جنم دیتا ہے۔
آخرکار زمین سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس کے سب سے کمزور انسان کے ساتھ کھڑے ہوں، اس کے درد کو سمجھیں اور اس نظام کو چیلنج کریں جو اس درد کو پیدا کرتا ہے۔ یہ محبت نعروں سے نہیں بلکہ شعور، عمل اور استقامت سے ثابت ہوتی ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو زمین کو حقیقی معنوں میں امن، عدل اور انسانیت کا گہوارہ بنا سکتا ہے۔
