19

*تقویٰ! عبادت سے آگے ایک مکمل نظامِ حیات*

  • نیوز کوڈ : 2712
  • 27 March 2026 - 21:41
*تقویٰ! عبادت سے آگے ایک مکمل نظامِ حیات*

*تقویٰ! عبادت سے آگے ایک مکمل نظامِ حیات*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

تحریر : سید جہانزیب عابدی

انسانی تاریخ میں “صالح”، “زاہد”، “پرہیزگار” اور “متقی” جیسے الفاظ کو اکثر ایک محدود دائرے میں سمجھ لیا گیا ہے۔ عموماً جب ان اوصاف کا ذکر ہوتا ہے تو ذہن فوراً عبادات کی طرف جاتا ہے: نماز، روزہ، حج، تلاوت، ظاہری پرہیزگاری، داڑھی، لباس کی سادگی، یا چند مخصوص گناہوں جیسے جھوٹ، زنا یا حرام کھانے سے اجتناب۔ اگرچہ یہ سب یقیناً تقویٰ کے اہم اجزاء ہیں، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع، گہری اور ہمہ گیر ہے۔ تقویٰ محض چند ذاتی اعمال کی اصلاح کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل فکری، اخلاقی اور عملی نظام ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کو اپنے احاطے میں لیتا ہے۔

اصل میں تقویٰ کا تعلق صرف عبادت گاہ یا ذاتی زندگی تک محدود نہیں بلکہ بازار، عدالت، سیاست، معیشت، تعلیم، معاشرت اور اقتدار کے ایوانوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اگر کوئی شخص نماز کا پابند ہو، ظاہری گناہوں سے بچتا ہو، مگر کاروبار میں دھوکہ دے، سیاست میں جھوٹ اور فریب کو اختیار کرے، یا اجتماعی حقوق پامال کرے، تو یہ تقویٰ کی روح سے خالی ایک ظاہری دینداری ہے۔ قرآن مجید بارہا اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک اصل قدر انسان کے ظاہر سے نہیں بلکہ اس کے باطن اور اس کے اجتماعی کردار سے وابستہ ہے۔

صالح اور متقی انسان وہ ہے جو نہ صرف اپنے نفس کی سطح پر پاکیزگی اختیار کرے بلکہ معاشرے میں عدل، انصاف، صداقت اور امانت کو قائم کرنے کی کوشش کرے۔ وہ جانتا ہے کہ جھوٹ صرف ایک فردی برائی نہیں بلکہ جب یہ سیاست اور معیشت میں داخل ہوتا ہے تو پوری قوم کو تباہ کر دیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ خیانت صرف کسی ایک شخص کا نقصان نہیں بلکہ ایک اجتماعی زوال کا آغاز ہے۔ اس لیے اس کا تقویٰ اسے اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ ہر اس عمل سے بچے جو انسانوں کے درمیان اعتماد کو ختم کرے اور ظلم کو فروغ دے۔

زہد کا حقیقی مفہوم بھی یہی ہے کہ انسان دنیا کو ترک نہیں کرتا بلکہ دنیا کی غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے۔ وہ مال رکھتا ہے مگر مال اس کے دل میں نہیں ہوتا۔ وہ اقتدار میں ہو سکتا ہے مگر اقتدار اس کے ضمیر کو نہیں خرید سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی زاہد وہ ہے جو معاشی معاملات میں پاکیزہ ہو، سود، استحصال اور ذخیرہ اندوزی سے دور رہے، اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے۔ اگر کوئی شخص عبادت گزار ہو مگر اس کی کمائی مشکوک ہو، یا وہ دوسروں کا حق مار کر اپنے لیے آسائشیں جمع کرے، تو اس کا زہد محض ایک ظاہری پردہ ہے، حقیقت نہیں۔

اسی طرح پرہیزگاری کا مطلب صرف حرام کھانے سے بچنا نہیں بلکہ حرام نظام سے بچنا بھی ہے۔ اگر کوئی ایسا نظام ہو جو ظلم، ناانصافی اور استحصال پر قائم ہو، تو اس کا حصہ بننا بھی ایک قسم کا گناہ ہے۔ متقی انسان وہ ہے جو نہ صرف خود برائی سے بچے بلکہ اس برائی کے ڈھانچے کو بھی پہچانے اور اس سے فاصلہ اختیار کرے۔ اس کا ضمیر زندہ ہوتا ہے، وہ حالات کا غلام نہیں بنتا بلکہ اصولوں کا پابند رہتا ہے۔

سیاسی میدان میں تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان حق و باطل کی پہچان کو ذاتی مفاد، جماعتی وابستگی یا وقتی فائدے پر قربان نہ کرے بلکہ اصولی بنیاد پر حق کا ساتھ دے، چاہے اس میں نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ حقیقی دیندار سیاست وہ ہے جو عدل، امانت اور صداقت پر قائم ہو، نہ کہ مکر، فریب اور طاقت کے کھیل پر۔ معاشی تنگی کے زمانے میں بھی اصولی سیاست یہ سکھاتی ہے کہ حرام ذرائع، سودی نظام یا ظلم پر مبنی فیصلوں کو اختیار نہ کیا جائے، جبکہ خوشحالی کے دور میں غرور، استحصال اور ناانصافی سے بچنا لازم ہے۔ یوں دین پر مبنی سیاست ہر حال میں انسان کو اس راستے پر قائم رکھتی ہے جہاں مقصد صرف اقتدار نہیں بلکہ حق کا قیام اور باطل کا خاتمہ ہوتا ہے۔

درحقیقت انسانی پستی کا بڑا سبب یہی ہے کہ اس نے دین کو صرف چند ذاتی عبادات تک محدود کر دیا ہے اور اجتماعی گناہوں کو معمولی سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں زیادہ تر اخلاقی اور اجتماعی خرابیوں کی وجہ سے تباہ ہوتی ہیں، نہ کہ صرف فردی گناہوں کی وجہ سے۔ جھوٹا نظام، بددیانت معیشت، ظالمانہ سیاست اور ناانصاف معاشرہ کسی بھی قوم کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی شخص صرف ذاتی عبادات پر اکتفا کرے تو وہ دین کے اصل مقصد سے دور رہ جاتا ہے۔

حقیقی تقویٰ دراصل ایک ہمہ جہت کیفیت ہے جس میں انسان کی سوچ، نیت، عمل اور اس کا سماجی کردار سب شامل ہوتے ہیں۔ وہ اپنے ہر فیصلے میں یہ دیکھتا ہے کہ آیا یہ عمل اسے اللہ کے قریب لے جا رہا ہے یا دور کر رہا ہے، اور آیا یہ عمل انسانیت کے لیے خیر کا باعث ہے یا نقصان کا۔ اس کے نزدیک گناہ صرف وہ نہیں جو نجی زندگی میں ہو بلکہ وہ بھی ہے جو کسی کے حق کو پامال کرے، کسی کو دھوکہ دے، یا معاشرے میں فساد کا سبب بنے۔

لہذا صالح، زاہد، پرہیزگار اور متقی ہونا ایک جامع انسانی کمال کا نام ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان نہ صرف اپنے نفس کو پاک کرتا ہے بلکہ معاشرے کو بھی پاکیزگی کی طرف لے جانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس کی دینداری مسجد کی چار دیواری تک محدود نہیں رہتی بلکہ بازار، عدالت، سیاست اور معیشت میں بھی جھلکتی ہے۔ یہی وہ حقیقی تقویٰ ہے جو انسان کو نہ صرف روحانی بلندی عطا کرتا ہے بلکہ دنیا میں بھی عزت، اعتماد اور استحکام کا سبب بنتا ہے۔

دینداری نہیں فقط سجدہ و تسبیح کا نام

عدل ہو، صدق ہو، تب بنتا ہے تقویٰ کا مقام

جو بازار میں سچا، وہی محراب میں پاک

ورنہ یہ زہد فقط چہرے کا اک جھوٹا نقاب

عبادات اور ظاہری پرہیزگاری کو اگر صحیح زاویے سے دیکھا جائے تو یہ خود مقصد نہیں بلکہ ایک عظیم مقصد تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں۔ نماز، روزہ، حج، تلاوتِ قرآن، ظاہری طہارت، داڑھی، سادہ لباس اور حرام سے اجتناب—یہ سب دراصل انسان کے اندر ایک خاص قسم کی روحانی توانائی، فکری وضاحت اور اخلاقی قوت پیدا کرتے ہیں۔ یہ اعمال انسان کے نفس کو منتشر ہونے سے بچاتے ہیں، اس کی خواہشات کو نظم دیتے ہیں اور اس کے ارادے کو مضبوط کرتے ہیں۔ گویا یہ سب ایک تربیتی نظام ہے جو انسان کو بڑے اور کٹھن میدانوں کے لیے تیار کرتا ہے۔

جب انسان چھوٹے گناہوں سے بھی بچنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ دراصل اپنی باطنی طاقت کو ضائع ہونے سے بچا رہا ہوتا ہے۔ ہر گناہ، چاہے وہ بظاہر کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، انسان کے اندر ایک کمزوری پیدا کرتا ہے، اس کے ارادے کو کمزور کرتا ہے اور اس کی روحانی روشنی کو مدھم کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس، جب انسان خود کو قابو میں رکھتا ہے، اپنی زبان، نگاہ، فکر اور خواہشات کو حدود میں رکھتا ہے، تو اس کے اندر ایک جمع شدہ طاقت پیدا ہوتی ہے۔ یہی طاقت بعد میں اسے بڑے فیصلے کرنے، مشکل حالات میں ثابت قدم رہنے اور حق کے لیے کھڑے ہونے کے قابل بناتی ہے۔

اصل نکتہ یہ ہے کہ یہ ساری عبادات اور چھوٹے گناہوں سے اجتناب ایک بنیاد فراہم کرتے ہیں، مگر عمارت اس سے آگے بنتی ہے۔ اگر یہ بنیاد مضبوط ہو مگر اس پر کوئی بلند مقصد تعمیر نہ کیا جائے تو اس کا فائدہ محدود رہ جاتا ہے۔ حقیقی کمال اس وقت حاصل ہوتا ہے جب یہی محفوظ شدہ توانائی اور تربیت انسان کو اجتماعی میدان میں فعال بناتی ہے۔ سیاست میں حق کا ساتھ دینا، معیشت میں دیانتداری کو قائم رکھنا، سماج میں عدل و انصاف کے لیے جدوجہد کرنا، اور تعلیم کے میدان میں سچائی اور شعور کو فروغ دینا—یہ وہ بڑے امور ہیں جن کے لیے ایک مضبوط باطنی نظام درکار ہوتا ہے، اور وہ نظام انہی عبادات کے ذریعے تشکیل پاتا ہے۔

اگر کوئی شخص عبادات کا پابند ہو مگر جب اسے موقع ملے تو وہ سیاسی مفاد کے لیے حق کو چھوڑ دے، یا معاشی فائدے کے لیے ظلم و استحصال کو قبول کر لے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے عبادات کی اصل روح کو حاصل نہیں کیا۔ عبادات کا مقصد ہی یہ ہے کہ انسان کو اس مقام تک پہنچایا جائے جہاں وہ بڑے امتحانات میں کامیاب ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اصل فضیلت ان بڑے میدانوں میں گناہ سے بچنے اور حق پر قائم رہنے میں ہے، کیونکہ یہی وہ مقامات ہیں جہاں انسان کے ایمان اور تقویٰ کا حقیقی امتحان ہوتا ہے۔

لہذا چھوٹے گناہوں سے بچنا اور عبادات کی پابندی دراصل ایک طرح کی “انرجی مینجمنٹ” ہے، جہاں انسان اپنی روحانی اور اخلاقی قوت کو محفوظ کرتا ہے۔ پھر یہی قوت اسے اس قابل بناتی ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر خیر کو فروغ دے اور شر کا مقابلہ کرے۔ اگر یہ توانائی صرف ذاتی نجات تک محدود رہ جائے تو یہ اس کا ادھورا استعمال ہے، جبکہ اس کا مکمل اور اعلیٰ استعمال یہ ہے کہ اسے اجتماعی اصلاح، عدل کے قیام اور حق کی سربلندی کے لیے بروئے کار لایا جائے۔

بالآخر تقویٰ، پرہیزگاری اور صالحیت کی معراج یہی ہے کہ انسان نہ صرف اپنے نفس کو سنوارے بلکہ اپنی اس باطنی قوت کو ایسے میدانوں میں استعمال کرے جہاں انسانیت کی تقدیر بدلتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عبادت اپنے حقیقی ثمرات دکھاتی ہے، اور انسان ایک فرد سے بڑھ کر ایک مؤثر قوت بن جاتا ہے جو معاشرے کو روشنی اور عدل کی طرف لے جاتی ہے۔

عبادتوں سے جلی ہے دل میں وہ نور کی آگ

جو حق کی راہ میں بنتی ہے حوصلۂ بے باک

نماز سے ملی قوت، قیامِ عدل میں ڈھل

یہی تقویٰ ہے کہ باطل سے ٹکرائے عمل

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2712

ٹیگز

تبصرے