30

*خوف سے آزادی کا سفر*

  • نیوز کوڈ : 2697
  • 25 March 2026 - 20:05
*خوف سے آزادی کا سفر*

*خوف سے آزادی کا سفر*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

تحریر : سید جہانزیب عابدی

انسان کی زندگی میں ایک عجیب تضاد پایا جاتا ہے: وہ جانتا ہے کہ وہ کچھ کر سکتا ہے، اس کے اندر صلاحیت بھی ہوتی ہے، مواقع بھی موجود ہوتے ہیں، مگر پھر بھی ایک غیر مرئی رکاوٹ اسے آگے بڑھنے سے روک دیتی ہے۔ یہ رکاوٹ دراصل ناکامی کا خوف ہے، جو بظاہر ایک سادہ احساس لگتا ہے مگر اپنے اندر گہری نفسیاتی، سماجی اور فکری پرتیں رکھتا ہے۔

ناکامی کا خوف اصل میں ناکامی سے زیادہ اس کے نتائج کا خوف ہوتا ہے۔ انسان کو یہ ڈر لاحق ہوتا ہے کہ اگر وہ ناکام ہو گیا تو لوگ کیا کہیں گے، اس کی خودی کو ٹھیس پہنچے گی، اس کی محنت ضائع ہو جائے گی، یا وہ اپنی نظر میں ہی گر جائے گا۔ یہ خوف اکثر ہمارے ماضی کے تجربات سے جنم لیتا ہے، جہاں کسی ناکامی پر ہمیں تنقید، شرمندگی یا مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ یادیں ایک اندرونی آواز بن جاتی ہیں جو ہر نئے قدم پر ہمیں خبردار کرتی ہیں کہ “رک جاؤ، کہیں پھر وہی نہ ہو جائے۔”

اس کے ساتھ ساتھ ہمارا ذہن کمال پسندی کا شکار بھی ہو جاتا ہے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ جو بھی کریں، مکمل طور پر درست اور بہترین ہو، اور اگر ہمیں یہ یقین نہ ہو کہ ہم سو فیصد کامیاب ہوں گے تو ہم شروع ہی نہیں کرتے۔ یوں انسان عمل سے پہلے ہی خود کو روک لیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کمال پسندی دراصل ایک نفسیاتی دفاعی نظام ہے، جس کے ذریعے ہم خود کو ممکنہ ناکامی کے درد سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ انسان اپنی پہچان کو اپنی کامیابیوں سے جوڑ لیتا ہے۔ جب وہ خود کو اپنے نتائج کے ساتھ باندھ دیتا ہے تو پھر ناکامی صرف ایک واقعہ نہیں رہتی بلکہ ایک ذاتی شکست بن جاتی ہے۔ اسی لیے وہ رسک لینے سے گھبراتا ہے، حالانکہ وہ جانتا ہوتا ہے کہ اس کے اندر صلاحیت موجود ہے۔ اس طرح خوف اس کی قابلیت پر غالب آ جاتا ہے اور وہ اپنی ہی طاقت کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے۔

اس مسئلے کا حل کسی ایک فوری نسخے میں نہیں بلکہ ایک تدریجی فکری اور عملی تبدیلی میں پوشیدہ ہے۔ سب سے پہلے انسان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ناکامی کوئی آخری فیصلہ نہیں بلکہ ایک مرحلہ ہے۔ یہ دراصل سیکھنے کا وہ عمل ہے جس کے بغیر کامیابی کی کوئی بنیاد ہی نہیں بنتی۔ جب انسان ناکامی کو اپنی شناخت کے بجائے اپنے سفر کا حصہ سمجھنا شروع کر دیتا ہے تو اس کا خوف کم ہونے لگتا ہے۔

اسی طرح ضروری ہے کہ انسان اپنے عمل کو نتائج سے الگ کرے۔ اسے یہ سیکھنا ہوگا کہ اس کی ذمہ داری صرف کوشش کرنا ہے، جبکہ نتیجہ اس کے اختیار میں نہیں۔ جب توجہ عمل پر مرکوز ہوتی ہے تو ذہن خوف کے بجائے سیکھنے اور آگے بڑھنے کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانا بھی بہت مؤثر حکمت عملی ہے۔ جب انسان بڑے ہدف کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے آگے بڑھتا ہے تو خوف کی شدت کم ہو جاتی ہے اور اعتماد آہستہ آہستہ بحال ہوتا ہے۔

انسان کو اپنے اندرونی مکالمے پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ اکثر ہم خود سے ایسے جملے کہتے ہیں جو ہمیں کمزور کر دیتے ہیں، جیسے “میں نہیں کر سکتا” یا “اگر میں ناکام ہو گیا تو سب ختم ہو جائے گا۔” ان خیالات کو چیلنج کرنا اور ان کی جگہ حقیقت پسندانہ اور مثبت سوچ اپنانا ایک ضروری قدم ہے۔ جب انسان اپنے ذہن کا رخ بدلتا ہے تو اس کے عمل پر بھی اثر پڑتا ہے۔

لہذا یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خوف کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان خوف کے باوجود عمل کرنا سیکھ لے۔ بہادری کا مطلب یہ نہیں کہ خوف نہ ہو، بلکہ یہ ہے کہ خوف کے ہوتے ہوئے بھی انسان آگے بڑھے۔ جب انسان بار بار اس کیفیت کا سامنا کرتا ہے تو آہستہ آہستہ خوف کی گرفت کمزور پڑنے لگتی ہے اور اس کی جگہ ایک مضبوط خود اعتمادی لے لیتی ہے۔

قرآن انسان کے اندر سب سے پہلے خوف کے مرکز کو تبدیل کرتا ہے۔ وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ اصل خوف صرف اللہ کا ہونا چاہیے، نہ کہ مخلوق کا یا نتائج کا۔ جب انسان اپنی توجہ لوگوں کی رائے، سماجی دباؤ اور ظاہری ناکامی سے ہٹا کر خدا کی رضا پر مرکوز کرتا ہے تو اس کے اندر کا خوف کمزور پڑنے لگتا ہے۔ قرآن بار بار یہ حقیقت بیان کرتا ہے کہ کامیابی اور ناکامی کا حقیقی معیار دنیاوی نتائج نہیں بلکہ اللہ کے نزدیک قبولیت ہے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو اگر انسان نے اخلاص کے ساتھ کوشش کی، تو وہ ناکام ہو ہی نہیں سکتا، چاہے دنیا اسے ناکام سمجھے۔

اسی طرح قرآن توکل کا تصور پیش کرتا ہے، جو اس مسئلے کا بنیادی حل ہے۔ توکل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی پوری کوشش کرے اور پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کر دے۔ جب انسان کو یقین ہو جاتا ہے کہ نتائج ایک حکیم اور مہربان خدا کے ہاتھ میں ہیں تو اس کے دل سے وہ بے چینی اور خوف نکل جاتا ہے جو اسے قدم اٹھانے سے روکتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ اگر نتیجہ اس کی توقع کے خلاف بھی آیا تو اس میں بھی کوئی حکمت ہے۔

قرآن صبر کو بھی ایک کلیدی قوت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ صبر کا مطلب صرف برداشت کرنا نہیں بلکہ استقامت کے ساتھ عمل جاری رکھنا ہے۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ ہر بڑا کام وقت، محنت اور آزمائش مانگتا ہے تو وہ فوری ناکامی سے گھبراتا نہیں بلکہ اسے اپنے سفر کا حصہ سمجھتا ہے۔ اس طرح خوف ایک رکاوٹ کے بجائے ایک مرحلہ بن جاتا ہے۔

معصومینؑ کی روایات اس تعلیم کو مزید گہرائی دیتی ہیں۔ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ انسان کی قدر اس کے ہمت کے مطابق ہوتی ہے۔ اس قول میں ایک گہرا اشارہ ہے کہ اصل نقصان ناکامی نہیں بلکہ ہمت ہار دینا ہے۔ اسی طرح آپؑ نے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص کسی چیز سے ڈرتا ہے، وہ اس سے بھاگتا ہے، اور جو دنیا سے ڈرتا ہے وہ حقیقت میں اس کی طرف بھاگ رہا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خوف انسان کے فیصلوں کو الٹ دیتا ہے اور اسے اس کے اصل مقصد سے دور کر دیتا ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ مومن وہ ہے جو اللہ پر حسنِ ظن رکھتا ہے۔ جب انسان کا اپنے رب کے بارے میں گمان مثبت ہو جاتا ہے تو وہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اس کی ہر کوشش ضائع نہیں جائے گی۔ یہی یقین اسے ناکامی کے خوف سے آزاد کرتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا رب اس کی محنت کو دیکھ رہا ہے اور اس کا بہترین بدلہ دے گا، چاہے وہ دنیا میں نظر آئے یا آخرت میں۔

اہل بیتؑ کی سیرت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ عمل کو نتیجے سے زیادہ اہمیت دی جائے۔ کربلا کا واقعہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے، جہاں ظاہری طور پر کامیابی نہیں تھی، مگر حقیقت میں وہی سب سے بڑی کامیابی تھی کیونکہ وہ اللہ کی رضا کے مطابق تھا۔ یہ زاویۂ نظر انسان کے اندر ایک انقلابی تبدیلی پیدا کرتا ہے: وہ نتائج کے خوف سے نکل کر حق پر عمل کرنے کی ہمت پیدا کرتا ہے۔

قرآن اور معصومینؑ انسان کے اندر خوف کو ختم نہیں کرتے بلکہ اس کا رخ بدل دیتے ہیں۔ وہ اسے دنیا اور ناکامی کے خوف سے نکال کر خدا کی طرف لے آتے ہیں، جہاں خوف کے ساتھ امید، اعتماد اور سکون بھی ہوتا ہے۔ جب انسان اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو وہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے سے نہیں ڈرتا، بلکہ ہر قدم کو ایک عبادت سمجھ کر اٹھاتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جہاں خوف رکاوٹ نہیں رہتا بلکہ انسان کے لیے ایک نئی قوت بن جاتا ہے۔

یوں ناکامی کا خوف دراصل انسان کے اندر چھپی ہوئی ایک آزمائش ہے، جو اسے روکنے کے لیے نہیں بلکہ اسے اپنے حقیقی امکان تک پہنچانے کے لیے آتی ہے۔ جب انسان اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے تو وہ رکنے کے بجائے چلنا شروع کر دیتا ہے، اور یہی چلنا اس کی اصل کامیابی بن جاتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2697

ٹیگز

تبصرے