بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
انسان کی باطنی دنیا ایک عجیب میدانِ کشمکش ہے جہاں بیک وقت سکون بھی موجود ہے اور اضطراب بھی، نور بھی ہے اور دھند بھی، حقیقت بھی ہے اور ایک مسلسل بننے والی کہانی بھی۔ یہ کہانی وہی ہے جسے ہم اپنے ذہن کی آواز، اپنے اندر کے شور کے طور پر محسوس کرتے ہیں۔ بظاہر یہ شور ہماری شناخت بن جاتا ہے، مگر درحقیقت یہ ہماری اصل شناخت نہیں بلکہ ایک پردہ ہے جو ہمیں ہماری حقیقت سے دور رکھتا ہے۔
قرآنِ مجید انسان کی اس باطنی کیفیت کو نہایت گہرائی سے بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا، فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا” یعنی نفس کو بنایا گیا اور اس میں خیر و شر دونوں کے امکانات رکھ دیے گئے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے اندر کا شور جنم لیتا ہے۔ یہ شور دراصل نفس کی مختلف کیفیات، خواہشات، خوف اور خیالات کا مجموعہ ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ انسان کو یہ یقین دلا دیتا ہے کہ وہی اس کی اصل حقیقت ہے، حالانکہ قرآن بار بار انسان کو اس کے اس وہم سے نکالتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا، وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا”، یعنی کامیاب وہ ہے جو اپنے نفس کو پاک کرے اور ناکام وہ ہے جو اسے آلودہ کر دے۔ اس آلودگی میں سب سے بڑا عنصر یہی ذہنی شور ہے، وہ مسلسل گفتگو جو انسان اپنے بارے میں خود سے کرتا رہتا ہے۔ یہ گفتگو کبھی مایوسی بن جاتی ہے، کبھی غرور، کبھی خوف، اور کبھی احساسِ کمتری۔ یوں انسان ایک ایسی خودساختہ کہانی میں قید ہو جاتا ہے جسے وہ اپنی حقیقت سمجھ بیٹھتا ہے۔
اہلِ بیت علیہم السلام نے اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کیا ہے۔ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: “من عرف نفسه فقد عرف ربه” یعنی جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔ یہاں “نفس کی پہچان” سے مراد یہ نہیں کہ انسان اپنے بارے میں بنائی گئی کہانیوں کو سچ مان لے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ان تمام پردوں کو ہٹا دے جو اس کی اصل حقیقت کو چھپا رہے ہیں۔ جب انسان اپنے اندر کے شور سے الگ ہو کر خود کو دیکھتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان خیالات، احساسات اور کہانیوں سے کہیں زیادہ وسیع اور گہرا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن انسان کو سکون کی طرف بلاتا ہے، “يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ”، اے اطمینان پانے والے نفس! یہ اطمینان اس وقت حاصل ہوتا ہے جب اندر کا شور خاموش ہو جاتا ہے اور انسان اپنی اصل فطرت سے جڑ جاتا ہے۔ یہ فطرت وہی ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا: “فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا”، یعنی اللہ کی وہ فطرت جس پر اس نے انسان کو پیدا کیا۔ اس فطرت میں نہ کوئی اضطراب ہے، نہ کوئی خوف، نہ کوئی مصنوعی شناخت، بلکہ خالص سکون، محبت اور وسعت ہے۔
انسان کا سب سے بڑا فریب اس کی “خودی کی کہانی” ہے۔ یہ کہانی اسے محدود کرتی ہے، اسے ایک خاص دائرے میں قید کر دیتی ہے، اور پھر وہ خود ہی اپنی حدود کا قیدی بن جاتا ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ انسان کے اندر ایک ایسا نور ہے جو اگر ظاہر ہو جائے تو اسے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں رہتی۔ مگر یہ نور اس وقت تک ظاہر نہیں ہوتا جب تک انسان اپنے نفس کی آلودگیوں اور ذہنی شور سے اوپر نہ اٹھ جائے۔
یہ شور دراصل انا (Ego) کی غذا ہے۔ انا انسان کو ایک جھوٹی مرکزیت دیتی ہے، اسے یہ باور کراتی ہے کہ وہی اس کے خیالات ہیں، وہی اس کی کہانی ہے، اور وہی اس کی حقیقت ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انسان کی اصل حقیقت ایک ایسا خالی پن ہے جو کسی کمی کا نہیں بلکہ ہر امکان کا مظہر ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے عرفاء “فنا” کے عنوان سے بیان کرتے ہیں، یعنی اپنی خودساختہ شناختوں کا مٹ جانا تاکہ اصل حقیقت ظاہر ہو سکے۔
جب انسان اس شور کو سننا چھوڑ دیتا ہے، جب وہ اپنے ذہن کی کہانیوں پر یقین کرنا بند کر دیتا ہے، تو ایک نیا دروازہ کھلتا ہے۔ اسے یاد آنے لگتا ہے کہ وہ کون تھا اس سے پہلے کہ دنیا نے، معاشرے نے، اور خود اس کے ذہن نے اس پر مختلف شناختیں مسلط کیں۔ یہ یاد آنا دراصل رجوع الی اللہ ہے، وہی واپسی جس کے بارے میں قرآن فرماتا ہے: “إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ”۔
یہ واپسی کسی بیرونی سفر کا نام نہیں بلکہ ایک اندرونی بیداری ہے۔ اس بیداری میں انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہ اپنے خوف ہے، نہ اپنی ناکامیاں، نہ اپنی کامیابیاں، بلکہ وہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ان سب سے ماورا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں محبت خالص ہو جاتی ہے، خوشی بے سبب ہو جاتی ہے، اور انسان اپنی اصل وسعت کو محسوس کرنے لگتا ہے۔
اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ انسان خود کو پہچانے، اپنے اندر کے پردوں کو ہٹائے، اور اس حقیقت تک پہنچے جہاں وہ اللہ کے نور کا مظہر بن جائے۔ جب یہ کیفیت حاصل ہوتی ہے تو انسان نہ صرف خود آزاد ہوتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی سکون اور محبت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
آخرکار انسان کو یہ سمجھ آتا ہے کہ وہ شور نہیں تھا، وہ کہانی نہیں تھا، وہ محدود شناخت نہیں تھا۔ وہ تو ہمیشہ سے ایک پاک، وسیع اور نورانی حقیقت تھا۔ ایک ایسی حقیقت جو محبت بھی ہے، سکون بھی ہے، اور ہر ممکن امکان کا سرچشمہ بھی۔ یہی انسان کی اصل پہچان ہے، اور یہی اس کی نجات کا راستہ ہے۔
