28

*اپنی نئی تعمیر و تعبیر کے ساتھ*

  • نیوز کوڈ : 2690
  • 24 March 2026 - 16:40
*اپنی نئی تعمیر و تعبیر کے ساتھ*

*اپنی نئی تعمیر و تعبیر کے ساتھ*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

تحریر : سید جہانزیب عابدی

انسانی زندگی میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب حالات انسان کو اس مقام پر لا کھڑا کرتے ہیں جہاں اسے اپنی تمام ظاہری وابستگیوں، سہولتوں اور حتیٰ کہ بعض اوقات اپنی پہچان کے ظاہری سہاروں کو بھی چھوڑنا پڑتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں اصل میں انسان کی تعریف متعین ہوتی ہے۔ یہ کیفیت بظاہر ایک بحران محسوس ہوتی ہے، لیکن درحقیقت یہ انسان کے باطن کی تعمیر اور اس کی حقیقی شناخت کے ظہور کا موقع ہوتی ہے۔

علمِ نفسیات کے مطابق جب انسان شدید دباؤ، غیر یقینی صورتحال یا نقصان کے احساس سے گزرتا ہے تو اس کے اندر دو طرح کے ردِ عمل پیدا ہوتے ہیں۔ ایک ردِ عمل خوف، انکار اور ٹوٹ پھوٹ کا ہوتا ہے، جبکہ دوسرا ردِ عمل معنی تلاش کرنے اور خود کو نئے انداز میں تشکیل دینے کا ہوتا ہے۔ جدید نفسیات میں اسے “post-traumatic growth” کہا جاتا ہے، یعنی صدمے کے بعد شخصیت کا ارتقاء۔ اس مرحلے میں وہی افراد آگے بڑھتے ہیں جو حالات کو محض مصیبت نہیں بلکہ ایک پیغام سمجھتے ہیں۔ وہ اپنے آپ سے سوال کرتے ہیں کہ اس صورتحال میں میری اصل ذمہ داری کیا ہے، اور میں اپنے وجود کو کس طرح ایک اعلیٰ مقصد کے ساتھ ہم آہنگ کر سکتا ہوں۔

اسلامی نفسیات اس کیفیت کو اس سے بھی زیادہ گہرے انداز میں دیکھتی ہے۔ یہاں یہ مانا جاتا ہے کہ انسان کی اصل حقیقت اس کا ظاہر نہیں بلکہ اس کا باطن ہے، اور حالات دراصل اسی باطن کو آشکار کرنے کے ذرائع ہوتے ہیں۔ قرآن اور روایات میں بارہا اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ آزمائشیں انسان کے ایمان، صبر اور توکل کو نمایاں کرنے کے لیے آتی ہیں۔ اس تناظر میں جب انسان کو سب کچھ چھوڑنا پڑے تو اصل سوال یہ نہیں ہوتا کہ اس نے کیا کھویا، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ اس نے اپنے رب کے ساتھ تعلق کو کس حد تک محفوظ رکھا۔

عرفانی نقطۂ نظر اس تجربے کو ایک اور زاویے سے دیکھتا ہے۔ اہلِ عرفان کے نزدیک انسان کی سب سے بڑی رکاوٹ اس کی “تعلقات کی کثرت” ہے، یعنی وہ چیزیں جنہیں وہ اپنا سمجھ کر ان سے وابستہ ہو جاتا ہے۔ جب حالات اسے ان سب سے جدا کرتے ہیں تو دراصل اسے ایک موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی اصل حقیقت، یعنی اپنی عبدیت اور اپنے خالق کے ساتھ اپنے تعلق کو پہچانے۔ اس مرحلے پر اگر انسان شکایت کے بجائے تسلیم اور رضا کا راستہ اختیار کرے تو یہی کیفیت اس کے لیے قربِ الٰہی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان ظاہری سہاروں کے ٹوٹنے کے باوجود اندر سے مضبوط ہو جاتا ہے، کیونکہ اس نے اپنے آپ کو ایک ایسی ہستی کے ساتھ جوڑ لیا ہوتا ہے جو کبھی زوال پذیر نہیں۔

عملی طور پر اس حالت میں انسان کو سب سے پہلے اپنے جذبات کو سمجھنا اور قبول کرنا چاہیے۔ خوف، غم اور بے بسی جیسے احساسات فطری ہیں، ان کا انکار مزید اندرونی انتشار پیدا کرتا ہے۔ لیکن ان احساسات کے ساتھ ساتھ ایک شعوری فیصلہ بھی ضروری ہے کہ انسان ان کے زیرِ اثر ہو کر بکھر جائے یا انہیں ایک ذریعہ بنائے اپنے اندر جھانکنے کا۔ یہاں صبر کا مفہوم محض برداشت کرنا نہیں بلکہ شعوری استقامت ہے، یعنی حالات کے باوجود اپنے اصولوں، اپنے ایمان اور اپنے اخلاق کو برقرار رکھنا۔

اسی کے ساتھ توکل کا عنصر انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ توکل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی پوری کوشش کرے اور نتیجے کو اللہ کے سپرد کر دے۔ اس کیفیت میں انسان کو اپنے اندر یہ یقین پیدا کرنا ہوتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض حادثہ نہیں بلکہ ایک حکمت کے تحت ہو رہا ہے، چاہے وہ حکمت فوری طور پر سمجھ میں نہ آئے۔

یہ کیفیت انسان کو ایک بنیادی سوال کی طرف لے جاتی ہے کہ اس کی اصل پہچان کیا ہے۔ اگر اس کی پہچان اس کی دولت، مقام یا تعلقات سے جڑی ہوئی تھی تو وہ سب ختم ہونے پر وہ خود کو کھو بیٹھے گا۔ لیکن اگر اس کی پہچان اس کے اصولوں، اس کے ایمان اور اس کے مقصدِ حیات سے جڑی ہوئی ہے تو وہ ہر نقصان کے باوجود قائم رہے گا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں وقت انسان کی تعریف کرتا ہے، کیونکہ اس نے یہ ثابت کر دیا ہوتا ہے کہ وہ حالات کا غلام نہیں بلکہ

زندگی میں وہ لمحہ جب سب ظاہری سہارے ڈگمگا جائیں، محض ایک حادثہ نہیں ہوتا بلکہ انسانی نفسیات، اس کی شخصیت کی ساخت، اور زندگی کے فطری ارتقائی مراحل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ بظاہر یہ حالات بیرونی نظر آتے ہیں، جیسے نقصان، جدائی، ناکامی یا اچانک تبدیلی، مگر ان کے پیچھے گہرے نفسیاتی اسباب کارفرما ہوتے ہیں جو انسان کو ایک خاص موڑ پر لا کھڑا کرتے ہیں۔

نفسیاتی طور پر انسان اپنی شناخت (identity) کو ہمیشہ بیرونی چیزوں کے ساتھ جوڑتا ہے۔ بچپن سے لے کر جوانی تک وہ اپنے آپ کو رشتوں، کامیابیوں، معاشرتی مقام اور دوسروں کی رائے کے ذریعے پہچانتا ہے۔ یہ ایک فطری عمل ہے کیونکہ ابتدائی زندگی میں انسان کو اپنی ذات کی پہچان کے لیے سہارا درکار ہوتا ہے۔ لیکن یہی وابستگیاں آہستہ آہستہ اس کی “مصنوعی شناخت” بن جاتی ہیں۔ جب یہ شناخت کسی وجہ سے ٹوٹتی ہے، تو انسان کو ایک شدید نفسیاتی جھٹکا محسوس ہوتا ہے۔ درحقیقت یہ ٹوٹنا اس لیے ہوتا ہے کہ انسان اپنی اصل ذات سے آشنا ہو سکے، کیونکہ جب تک وہ بیرونی سہاروں پر کھڑا رہتا ہے، وہ اپنی اندرونی حقیقت کو پوری طرح نہیں دیکھ پاتا۔

ایک اور اہم نفسیاتی سبب “کنٹرول کا وہم” ہے۔ انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام معاملات کو کنٹرول کر سکتا ہے، لیکن حقیقت میں زندگی کا بڑا حصہ غیر یقینی اور غیر متوقع ہوتا ہے۔ جب اچانک کوئی واقعہ اس کے اس وہم کو توڑ دیتا ہے، جیسے کسی عزیز کا کھو جانا، مالی نقصان، یا کسی بڑے مقصد میں ناکامی، تو وہ اس مقام پر آ جاتا ہے جہاں اسے اپنی محدودیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ لمحہ اگرچہ تکلیف دہ ہوتا ہے، مگر یہی وہ مقام ہے جہاں انسان حقیقت پسند بنتا ہے اور اپنی زندگی کو زیادہ گہرائی سے سمجھنا شروع کرتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ انسانی نفسیات میں ایک “ارتقائی دباؤ” (developmental pressure) بھی پایا جاتا ہے۔ ہر انسان کے اندر لاشعوری طور پر یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ ترقی کرے، اپنی ذات کو بہتر بنائے اور ایک مکمل انسان بنے۔ بعض اوقات یہ ارتقاء آرام دہ حالات میں ممکن نہیں ہوتا، اس لیے زندگی ایسے حالات پیدا کر دیتی ہے جو انسان کو اس کی موجودہ حالت سے نکال کر ایک نئے درجے کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے ایک بیج کو پھٹنا پڑتا ہے تاکہ وہ پودا بن سکے۔ یہ “ٹوٹنا” دراصل ایک نئی تشکیل کا آغاز ہوتا ہے۔

جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ یہ لمحہ زندگی کے کس حصے میں آتا ہے، تو اس کا کوئی ایک وقت متعین نہیں، لیکن نفسیاتی طور پر چند ادوار ایسے ہیں جہاں اس کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ نوجوانی کے ابتدائی مرحلے میں، جب انسان اپنی شناخت بنانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے، اسے پہلی بار اس قسم کے بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس وقت یہ بحران زیادہ تر اس کی خودی، تعلقات اور مستقبل کے انتخاب سے متعلق ہوتا ہے۔

دوسرا اہم مرحلہ جوانی کے وسط میں آتا ہے، جسے عام طور پر “midlife crisis” کہا جاتا ہے۔ اس وقت انسان اپنی حاصل کردہ کامیابیوں، رشتوں اور زندگی کے مقصد کو دوبارہ پرکھتا ہے۔ اگر اسے محسوس ہو کہ اس نے جو کچھ حاصل کیا وہ اس کے اندرونی خلا کو پُر نہیں کر رہا، تو وہ ایک گہرے بحران میں داخل ہو سکتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب اسے اپنی زندگی کے ظاہری ڈھانچے کو چھوڑ کر ایک زیادہ حقیقی اور بامعنی راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔

تیسرا مرحلہ بڑھاپے یا اس کے قریب کا ہوتا ہے، جہاں انسان کو زندگی کی ناپائیداری اور موت کی حقیقت کا زیادہ شدت سے احساس ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر وہ اپنی پوری زندگی کا جائزہ لیتا ہے اور اگر اس نے اپنی شناخت کو صرف دنیاوی چیزوں پر قائم کیا ہو تو اسے ایک شدید خالی پن محسوس ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ اس لمحے کو قبول کر لے تو یہی کیفیت اسے ایک گہری روحانی بصیرت تک لے جا سکتی ہے۔

اسلامی اور عرفانی نقطۂ نظر اس پورے عمل کو ایک “دعوت” کے طور پر دیکھتا ہے، نہ کہ صرف ایک نفسیاتی حادثہ۔ یہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ انسان کو اس کے ظاہری سہاروں سے اس لیے جدا کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی اصل حقیقت، یعنی اپنی عبدیت اور اپنے رب کے ساتھ تعلق کو پہچان سکے۔ اس لحاظ سے یہ لمحہ کسی خاص عمر کا محتاج نہیں بلکہ جب بھی انسان اس قابل ہو جائے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھ سکے، یہ لمحہ آ سکتا ہے۔

یہ کیفیت انسان کی کمزوری کی علامت نہیں بلکہ اس کے اندر موجود ایک گہری صلاحیت کی نشاندہی ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہوتی ہے کہ اب وہ محض ایک معمولی زندگی گزارنے کے مرحلے سے آگے بڑھ کر ایک بامقصد، باشعور اور حقیقی زندگی کی طرف قدم رکھ سکتا ہے۔

یوں یہ مشکل ترین لمحہ دراصل ایک دروازہ ہوتا ہے، زوال کا نہیں بلکہ عروج کا۔ شرط صرف یہ ہے کہ انسان اسے کس نظر سے دیکھتا ہے: ایک انجام کے طور پر یا ایک نئے آغاز کے طور پر۔

جب انسان اسی کیفیت کو انجام نہیں بلکہ ایک نئے آغاز کے طور پر دیکھنے لگتا ہے تو دراصل اس کے سامنے ایک بالکل مختلف کائنات کھلتی ہے۔ وہی حالات جو پہلے اسے محرومی، شکست یا بے بسی محسوس ہو رہے تھے، اب امکانات، تعمیر اور بیداری کے دروازے بن جاتے ہیں۔ یہ تبدیلی باہر کے حالات میں نہیں بلکہ انسان کے زاویۂ نظر میں آتی ہے، اور یہی زاویۂ نظر اس کے مستقبل کی سمت متعین کرتا ہے۔

نفسیاتی اعتبار سے یہ نقطۂ نظر انسان کو “معنی تخلیق کرنے” کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ جب انسان یہ طے کر لیتا ہے کہ وہ اپنے نقصان کو صرف نقصان کے طور پر نہیں دیکھے گا بلکہ اسے اپنی شخصیت کی تعمیر کے لیے استعمال کرے گا، تو اس کے اندر ایک نئی قوت پیدا ہوتی ہے۔ وہ اپنی ترجیحات کو دوبارہ ترتیب دیتا ہے، غیر ضروری وابستگیوں سے خود کو آزاد کرتا ہے اور اپنی توانائی کو ان چیزوں پر مرکوز کرتا ہے جو واقعی اس کی ذات اور اس کے مقصد کے لیے اہم ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں انسان محض حالات کا ردِ عمل دینے والا نہیں رہتا بلکہ ایک بااختیار تخلیق کار بن جاتا ہے جو اپنی نئی شناخت خود بناتا ہے۔

اسلامی نفسیات اس نئے آغاز کو “رجوع” اور “تجدید” کے عنوان سے دیکھتی ہے۔ جب انسان کے ہاتھ سے ظاہری سہارا چھن جاتا ہے تو اسے یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی اصل بنیاد، یعنی اللہ کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عبادت رسم نہیں رہتی بلکہ ایک زندہ تعلق بن جاتی ہے، دعا محض الفاظ نہیں رہتی بلکہ دل کی گہرائی سے نکلنے والی پکار بن جاتی ہے، اور توکل ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک عملی کیفیت بن جاتی ہے۔ اس مرحلے پر انسان کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے ماضی کی کمزوریوں، گناہوں اور غفلتوں کو پہچانے اور ایک نئے عزم کے ساتھ اپنی زندگی کو از سرِ نو ترتیب دے۔

عرفانی زاویے سے دیکھا جائے تو یہ دروازہ “خودی کی تطہیر” اور “قربِ الٰہی” کے نادر مواقع فراہم کرتا ہے۔ جب انسان اپنی ظاہری شناختوں سے محروم ہوتا ہے تو اس کے پاس ایک سنہری موقع ہوتا ہے کہ وہ اپنی اصل حقیقت کو دریافت کرے۔ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ وہ دراصل اپنے عہدوں، رشتوں یا مال کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسی روح ہے جس کا اصل تعلق اپنے خالق سے ہے۔ یہی ادراک اسے ایک گہری آزادی دیتا ہے، کیونکہ اب اس کی خوشی اور سکون بیرونی چیزوں پر منحصر نہیں رہتے بلکہ ایک داخلی استحکام میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

یہ نیا آغاز انسان کو جرات بھی دیتا ہے۔ جب وہ ایک بار سب کچھ کھونے کے تجربے سے گزر لیتا ہے تو پھر اسے کھونے کا خوف پہلے جیسا نہیں رہتا۔ یہی بے خوفی اسے بڑے فیصلے کرنے، سچ کا ساتھ دینے اور اپنی زندگی کو ایک بڑے مقصد کے لیے وقف کرنے کی ہمت دیتی ہے۔ وہ اب مصلحتوں کا قیدی نہیں رہتا بلکہ ایک صاحبِ بصیرت انسان بن جاتا ہے جو حق کو پہچان کر اس پر قائم رہ سکتا ہے۔

اسی کے ساتھ یہ دروازہ تعلقات کی نئی تعریف بھی پیش کرتا ہے۔ انسان یہ سیکھتا ہے کہ کون سے رشتے حقیقی تھے اور کون سے محض وقتی سہارے۔ اس ادراک کے بعد وہ اپنے تعلقات کو زیادہ شعوری، خالص اور بامقصد بنیادوں پر استوار کرتا ہے۔ اس کے اندر ہمدردی اور دردمندی بڑھتی ہے کیونکہ وہ خود درد کے تجربے سے گزر چکا ہوتا ہے، اور یہی تجربہ اسے دوسروں کے لیے سہارا بننے کے قابل بناتا ہے۔

آخرکار یہ نیا آغاز انسان کو ایک نئی زندگی نہیں بلکہ ایک نیا “خود” دیتا ہے۔ وہی انسان، لیکن ایک بدلے ہوئے شعور کے ساتھ، ایک واضح مقصد کے ساتھ اور ایک مضبوط اندرونی بنیاد کے ساتھ۔ یہی وہ مواقع ہیں جو اس دروازے کے پیچھے چھپے ہوتے ہیں: خود کی دریافت، اللہ سے قرب، خوف سے آزادی، اور ایک بامقصد زندگی کی تعمیر۔ یہ دروازہ ان لوگوں کے لیے کھلتا ہے جو ہمت کر کے اسے اختتام نہیں بلکہ ابتدا مان لیتے ہیں۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2690

ٹیگز

تبصرے