بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
“پاکستان” کے لیے ایک مکمل اسلامی معاشی ماڈل کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ یہ صرف معیشت کا نہیں بلکہ ایک پورے نظامِ فکر کا سوال ہے۔ یہاں اصل تبدیلی وسائل میں نہیں بلکہ اس زاویۂ نظر میں آتی ہے جس کے تحت وسائل کو دیکھا اور استعمال کیا جاتا ہے۔ اس ماڈل کی بنیاد اس عقیدے پر قائم ہے کہ کائنات کی ہر چیز کا حقیقی مالک اللہ ہے اور انسان کو صرف ایک امین اور خلیفہ کے طور پر ان وسائل کا حق دیا گیا ہے۔ جب یہ تصور معاشی نظام کی بنیاد بنتا ہے تو ملکیت، پیداوار اور تقسیم کے تمام اصول بدل جاتے ہیں۔
اس نظام میں پاکستان کے معدنی وسائل، جیسے کہ بلوچستان میں واقع “Reko Diq” کے سونے اور تانبے کے ذخائر یا سندھ کے “Thar Coalfield” کے وسیع کوئلے کے ذخائر، کسی فرد، خاندان یا بیرونی کمپنی کی مکمل ملکیت نہیں رہتے بلکہ انہیں اجتماعی امانت سمجھا جاتا ہے۔ ریاست ان وسائل کی نگران ہوتی ہے، مالک نہیں، اور اس کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کو پورے معاشرے کی فلاح پر خرچ کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وسائل سے پیدا ہونے والی دولت چند ہاتھوں میں جمع ہونے کے بجائے براہِ راست عوام تک پہنچتی ہے، اور ہر شہری کو اس میں حصہ دار سمجھا جاتا ہے۔
اس ماڈل میں ریاست کی آمدنی کا ڈھانچہ بھی مختلف ہوتا ہے۔ یہاں بنیادی انحصار قدرتی وسائل، زکوٰۃ اور دیگر شرعی مالیاتی اصولوں پر ہوتا ہے، نہ کہ بھاری ٹیکسوں یا سودی قرضوں پر۔ زکوٰۃ صرف ایک عبادت نہیں بلکہ ایک باقاعدہ معاشی ادارہ بن جاتی ہے جو دولت کو معاشرے کے کمزور طبقات تک منتقل کرتی ہے۔ اسی طرح قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ریاست اپنے اخراجات کے لیے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ براہِ راست عوام میں بھی تقسیم کرتی ہے، جس سے ہر شہری کو اس ملک کی دولت میں حقیقی شرکت ملتی ہے۔
خرچ کے نظام میں سب سے بنیادی تبدیلی یہ آتی ہے کہ خوراک، رہائش، لباس، صحت اور تعلیم کو کسی کی مہربانی یا مارکیٹ کی قوتوں پر نہیں چھوڑا جاتا بلکہ انہیں ہر شہری کا حق تسلیم کیا جاتا ہے۔ ریاست اس بات کی پابند ہوتی ہے کہ کوئی شخص بھوکا نہ سوئے اور کوئی خاندان بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہے۔ اس طرح فلاحی ریاست کا تصور خیرات یا سبسڈی کے بجائے حق اور ذمہ داری کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔
زرعی شعبہ، جو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس ماڈل میں ایک مرکزی حیثیت اختیار کرتا ہے۔ یہاں زمین کو چند بڑے زمینداروں کے قبضے میں رکھنے کے بجائے منصفانہ طریقے سے تقسیم کیا جاتا ہے اور کسان کو اس کی محنت کا مکمل صلہ دیا جاتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، پانی کے بہتر استعمال اور ریاستی معاونت کے ذریعے زرعی پیداوار میں اضافہ کیا جاتا ہے، جس سے نہ صرف غذائی خود کفالت حاصل ہوتی ہے بلکہ دیہی معیشت بھی مضبوط ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں شہروں کی طرف ہجرت کم ہوتی ہے اور معاشرتی توازن برقرار رہتا ہے۔
معدنی وسائل کے استعمال میں بھی ایک بنیادی اصول یہ ہوتا ہے کہ بیرونی سرمایہ یا ٹیکنالوجی اگر استعمال کی جائے تو وہ شراکت داری کی بنیاد پر ہو، نہ کہ مکمل کنٹرول کے ساتھ۔ مثال کے طور پر “Reko Diq” جیسے منصوبوں میں مقامی آبادی کو بھی حصہ دار بنایا جاتا ہے تاکہ وہ صرف مزدور نہ رہیں بلکہ اس دولت کے حقیقی شریک بنیں جو ان کی زمین سے نکل رہی ہے۔ اس سے نہ صرف معاشی انصاف قائم ہوتا ہے بلکہ مقامی سطح پر ترقی اور استحکام بھی آتا ہے۔
اس پورے نظام کی ایک اہم بنیاد سود کا خاتمہ ہے۔ سودی معیشت میں دولت بغیر محنت کے بڑھتی ہے اور امیر مزید امیر اور غریب مزید غریب ہوتا جاتا ہے، جبکہ اسلامی ماڈل میں سرمایہ کاری نفع و نقصان کی شراکت پر مبنی ہوتی ہے۔ اس سے معیشت حقیقی پیداوار اور خدمات پر قائم ہوتی ہے اور مالیاتی بحرانوں کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ قرض لینے والا بھی دباؤ سے آزاد ہوتا ہے اور سرمایہ فراہم کرنے والا بھی حقیقی کاروباری عمل میں شریک ہوتا ہے۔
اس ماڈل کی کامیابی کا دارومدار ایک مضبوط اور شفاف احتسابی نظام پر ہوتا ہے جہاں کرپشن کو صرف ایک قانونی جرم نہیں بلکہ ایک اخلاقی خیانت سمجھا جاتا ہے۔ ریاستی اہلکاروں سے لے کر عام شہری تک سب کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ وسائل امانت ہیں اور ان میں خیانت صرف قانون شکنی نہیں بلکہ ایک دینی و اخلاقی جرم ہے۔ جب یہ شعور معاشرے میں پیدا ہوتا ہے تو نظام خود بخود مضبوط ہوتا جاتا ہے۔
اگر اس پورے ماڈل کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اس کا مقصد صرف دولت پیدا کرنا نہیں بلکہ اس کو عادلانہ طریقے سے تقسیم کرنا اور انسانی وقار کو برقرار رکھنا ہے۔ “پاکستان” جیسے ملک کے لیے، جہاں قدرتی وسائل بھی موجود ہیں اور انسانی صلاحیت بھی، یہ ماڈل محض ایک نظری تصور نہیں بلکہ ایک عملی راستہ بن سکتا ہے۔ اصل سوال وسائل کی کمی کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ ان وسائل کو کس نظر سے دیکھا جا رہا ہے اور کس اصول کے تحت تقسیم کیا جا رہا ہے۔ جب یہ زاویہ درست ہو جائے تو وہی زمین، وہی وسائل اور وہی لوگ ایک بالکل مختلف اور خوشحال معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔
اب یہ سوال کہ یہ ماڈل کیسے نافذ کیا جاسکتا ہے، اصل مسئلے کے قلب تک پہنچتا ہے، کیونکہ “نظام کی تبدیلی صرف معاشی منصوبہ نہیں بلکہ طاقت، بیانیہ اور اداروں کی تشکیلِ نو کا مرحلہ ہوتا ہے”۔ جب ہم “پاکستان” جیسے معاشرے میں “ڈیپ اسٹیٹ” کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد وہ غیر منتخب طاقتیں، ادارہ جاتی مفادات اور عالمی وابستگیاں ہیں جو بظاہر نظر نہ آتے ہوئے بھی پالیسیوں کی سمت طے کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی بھی عادلانہ یا اسلامی معاشی نظام کا قیام محض اعلان یا قانون سازی سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ ایک تدریجی، حکیمانہ اور ہمہ جہتی عمل درکار ہوتا ہے۔
اس عمل کی ابتدا ہمیشہ فکر اور شعور سے ہوتی ہے، نہ کہ اقتدار سے۔ جب تک معاشرے کے اندر یہ بنیادی تصور راسخ نہ ہو کہ وسائل امانت ہیں اور نظام کا مقصد انسان کی فلاح ہے، تب تک کوئی بھی نیا نظام اوپر سے مسلط ہو کر دیرپا نہیں رہ سکتا۔ موجودہ نظام کی طاقت صرف اداروں میں نہیں بلکہ عوام کے ذہنوں میں بھی ہوتی ہے، جہاں سرمایہ دارانہ اور مفاد پرستانہ سوچ کو “نارمل” بنا دیا گیا ہے۔ اس لیے سب سے پہلا مرحلہ بیانیے کی تبدیلی ہے، جس میں تعلیمی نظام، میڈیا اور مذہبی و فکری حلقوں کے ذریعے یہ شعور پیدا کیا جائے کہ عدل پر مبنی نظام نہ صرف دینی تقاضا ہے بلکہ عملی طور پر ممکن اور ضروری بھی ہے۔
جب شعور کی ایک معقول سطح پیدا ہو جاتی ہے تو اگلا مرحلہ ادارہ جاتی سطح پر تدریجی اصلاحات کا ہوتا ہے۔ یہاں براہِ راست تصادم کے بجائے حکمت عملی اپنانی پڑتی ہے، کیونکہ ڈیپ اسٹیٹ کے مفادات اچانک چیلنج کرنے سے ردعمل شدید ہو سکتا ہے۔ اس لیے ایسے شعبوں سے آغاز کیا جاتا ہے جہاں مزاحمت نسبتاً کم ہو اور نتائج جلد نظر آئیں، مثلاً زکوٰۃ کے نظام کو شفاف اور مؤثر بنانا، مقامی سطح پر وسائل کی منصفانہ تقسیم کے پائلٹ ماڈلز قائم کرنا، یا چھوٹے پیمانے پر بلاسود مالیاتی اداروں کو فروغ دینا۔ جب عوام کو ان اقدامات کے عملی فوائد نظر آتے ہیں تو وہ خود اس تبدیلی کے حامی بننے لگتے ہیں، اور یہی عوامی دباؤ آہستہ آہستہ بڑے اداروں کو بھی بدلنے پر مجبور کرتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ریاست کے اندر موجود افراد اور اداروں میں بھی مکمل یکسانیت نہیں ہوتی۔ ہر جگہ ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو اصلاح کے خواہاں ہوتے ہیں مگر انہیں منظم سمت نہیں ملتی۔ ایک حکیمانہ حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ ان عناصر کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی جائے، انہیں متبادل ماڈل دکھایا جائے اور یہ یقین دلایا جائے کہ یہ تبدیلی ان کے وجود کے لیے خطرہ نہیں بلکہ بہتری کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس طرح نظام کے اندر سے ہی ایک تدریجی تبدیلی کی راہ ہموار ہوتی ہے، جو کسی بڑے تصادم کے بغیر آگے بڑھ سکتی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی اس عمل کو تنہائی میں نہیں چلایا جا سکتا۔ موجودہ عالمی نظام میں ہر ملک کسی نہ کسی حد تک مالیاتی اور تجارتی ڈھانچوں سے جڑا ہوتا ہے۔ اس لیے مکمل انقطاع کے بجائے متبادل راستے تلاش کیے جاتے ہیں، جیسے علاقائی تعاون، اسلامی مالیاتی اداروں کا قیام، یا ایسے معاہدے جن میں سودی دباؤ کم سے کم ہو۔ اس سے نہ صرف بیرونی دباؤ میں کمی آتی ہے بلکہ ملک کو اپنے اندرونی نظام کو مضبوط کرنے کا وقت بھی ملتا ہے۔
وقت کے ساتھ جب یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات ایک بڑی صورت اختیار کرتے ہیں تو ایک ایسا مرحلہ آتا ہے جہاں قانون سازی اور آئینی سطح پر تبدیلی ممکن ہو جاتی ہے۔ یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں عوامی شعور، ادارہ جاتی آمادگی اور عملی ماڈلز سب ایک دوسرے کو تقویت دے رہے ہوتے ہیں۔ اس مرحلے پر اگر کوئی بڑی اصلاح کی جاتی ہے تو وہ صرف کاغذی نہیں رہتی بلکہ اس کے پیچھے ایک زندہ معاشرہ کھڑا ہوتا ہے جو اسے نافذ بھی کر سکتا ہے اور اس کا دفاع بھی۔
اس پورے عمل میں سب سے اہم چیز صبر اور تسلسل ہے، کیونکہ نظاموں کی تبدیلی ایک دن یا ایک انقلاب سے نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد سے ہوتی ہے۔ اگر جلد بازی میں براہِ راست تصادم کا راستہ اختیار کیا جائے تو عموماً نتیجہ یا تو ناکامی کی صورت میں نکلتا ہے یا پھر ایک نئے ظلم کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس کے برعکس اگر تدریج، حکمت اور عوامی شمولیت کو بنیاد بنایا جائے تو وہی نظام جو بظاہر ناقابلِ تسخیر نظر آتا ہے، آہستہ آہستہ اپنی شکل بدلنے لگتا ہے۔
آخر میں حقیقت یہی ہے کہ “پاکستان” میں کسی بھی عادلانہ معاشی نظام کا قیام صرف سیاسی یا معاشی منصوبہ نہیں بلکہ ایک فکری، اخلاقی اور تہذیبی تبدیلی کا نام ہے۔ جب یہ تبدیلی نیچے سے اوپر کی طرف آتی ہے تو کوئی بھی “ڈیپ اسٹیٹ” اسے زیادہ دیر تک روک نہیں سکتی، کیونکہ اصل طاقت آخرکار اسی معاشرے کے لوگوں کے پاس ہوتی ہے جس کے نام پر وہ نظام قائم کیا جاتا ہے۔
