بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
جدید دنیا کی فکری اور معاشی ساخت کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کس طرح بعض نظریات اور تصورات کو اس انداز میں پیش کیا گیا کہ وہ فطری یا ناگزیر معلوم ہونے لگیں۔ اٹھارویں صدی کے ماہرِ معاشیات Adam Smith نے آزاد منڈی اور ذاتی مفاد کے تصور کو ایک معاشی اصول کے طور پر بیان کیا، جسے بعد کے زمانوں میں سرمایہ دارانہ نظام نے اس طرح اختیار کیا کہ گویا وسائل کا چند ہاتھوں میں مرتکز ہونا ایک قدرتی اور لازمی نتیجہ ہے۔ حالانکہ تاریخ کے گہرے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ معاشی ڈھانچے ہمیشہ سیاسی طاقت، عسکری غلبے اور علمی بیانیوں کے ذریعے تشکیل پاتے رہے ہیں۔ جب کسی نظام کو برقرار رکھنا مقصود ہوتا ہے تو اس کے لیے ایسے نظریاتی مغالطے پیدا کیے جاتے ہیں جو عوام کے ذہن میں اسے فطری اور ناگزیر بنا دیں۔
ان مغالطوں میں سے ایک یہ تصور ہے کہ دنیا کے وسائل بنیادی طور پر محدود ہیں اور اسی وجہ سے شدید مقابلہ، معاشی عدم مساوات اور طاقتور طبقات کا وسائل پر قبضہ ایک ناگزیر حقیقت ہے۔ اس تصور کو اس طرح پیش کیا گیا کہ گویا انسانوں کے درمیان عدل، تقسیم اور تعاون پر مبنی کوئی نظام ممکن ہی نہیں۔ حالانکہ اسلامی فکر میں کائنات کو اللہ کی وسیع نعمتوں کا مظہر قرار دیا گیا ہے جہاں اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ انسان کی ناعادلانہ تقسیم اور استحصالی نظام ہے۔ جب وسائل کو چند طبقات کے ہاتھوں میں جمع کرلیا جاتا ہے تو پھر یہ نظریہ پھیلایا جاتا ہے کہ یہی قدرتی قانون ہے۔ اس بیانیے کا نتیجہ یہ ہوا کہ عالمی معیشت میں طاقتور مالیاتی مراکز اور بڑی کارپوریشنوں کو ایک ایسا اخلاقی جواز مل گیا جس کے تحت وہ دنیا کے وسائل پر کنٹرول کو ترقی اور آزادی کے نام پر برقرار رکھ سکیں۔
اسی طرح ایک دوسرا بڑا مغالطہ یہ پیدا کیا گیا کہ مذہب انسانی آزادی کے خلاف ہے اور وہ انسان کو قید میں رکھتا ہے۔ اس تصور کو فروغ دینے کے لیے مذہبی اخلاقیات کو دقیانوسی اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر پیش کیا گیا۔ نتیجتاً معاشرتی اقدار کو اس طرح بدلنے کی کوشش ہوئی کہ اخلاقی حدود کو توڑنا ہی آزادی کی علامت سمجھا جانے لگا۔ جب معاشرے میں یہ ذہنیت پیدا ہوجاتی ہے تو پھر فحاشی، عریانیت اور انسانی جسم کی تجارت کو محض “انڈسٹری” کے طور پر پیش کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اس عمل کے ذریعے ایک طرف انسانی وقار کو کمزور کیا جاتا ہے اور دوسری طرف ایک بہت بڑا معاشی بازار بھی قائم ہوجاتا ہے جس میں انسانی خواہشات کو سرمایہ بنانے کا عمل جاری رہتا ہے۔
ایک اور اہم مغالطہ جہاد کے تصور کے بارے میں پیدا کیا گیا۔ اسلامی تعلیمات میں جہاد ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جس میں ظلم کے خلاف مزاحمت، نفس کی اصلاح اور معاشرتی عدل کے قیام کی جدوجہد شامل ہے۔ لیکن جدید عالمی بیانیے میں اس لفظ کو اس طرح محدود اور مسخ کیا گیا کہ وہ محض دہشت گردی کا مترادف دکھائی دینے لگا۔ اس تصور کے پھیلنے سے وہ تمام تحریکیں جو عالمی ناانصافیوں یا استعماری دباؤ کے خلاف کھڑی ہوسکتی تھیں، پہلے ہی سے مشتبہ اور قابلِ مذمت قرار دے دی گئیں۔ اس طرح سیاسی مزاحمت کے امکانات کو نظریاتی سطح پر کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔
سیاسی میدان میں بھی ایک اہم مغالطہ یہ پیدا کیا گیا کہ ظلم کے خلاف ہر مزاحمت کو انتہا پسندی یا دہشت گردی کے دائرے میں رکھا جائے۔ خاص طور پر اسلامی تصورِ جہاد کو اس طرح مسخ کیا گیا کہ وہ محض تشدد کی علامت دکھائی دینے لگا، حالانکہ اسلامی تعلیمات میں جہاد ایک وسیع اخلاقی اور سماجی جدوجہد کا نام ہے جس میں ظلم کے خلاف کھڑا ہونا اور معاشرتی عدل قائم کرنا شامل ہے۔ جب کسی تصور کو اس طرح مسخ کر دیا جائے تو پھر اس کے ماننے والوں کی ہر سیاسی یا سماجی تحریک کو مشکوک بنانا آسان ہوجاتا ہے۔
علم کے میدان میں بھی ایک اہم فکری تبدیلی پیدا کی گئی۔ علم کو اس انداز میں مغربی فکری روایت کے ساتھ جوڑ دیا گیا کہ گویا حقیقی علم صرف وہی ہے جو مغربی جامعات اور علمی اداروں سے پیدا ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں مذہبی یا روایتی علوم کو پسماندہ، غیر سائنسی اور دقیانوسی قرار دیا گیا۔ اس طرزِ فکر کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سی اقوام نے اپنی علمی روایت اور فکری خودمختاری کو کم اہم سمجھنا شروع کردیا۔ جب کوئی قوم اپنی علمی بنیادوں سے دور ہوجاتی ہے تو اس کے لیے بیرونی فکری نظام کو قبول کرنا آسان ہوجاتا ہے، اور یوں ایک ایسا تعلیمی ماحول پیدا ہوتا ہے جو معاشی نظام کے لیے مطیع اور غیر تنقیدی ذہن تیار کرتا ہے۔
ثقافتی میدان میں بھی ایک اہم تبدیلی پیدا کی گئی جس کا مقصد مقامی شناختوں کو کمزور کرنا تھا۔ زبان، لباس، طرزِ زندگی اور معاشرتی اقدار کو اس طرح تبدیل کیا گیا کہ مغربی طرزِ حیات ترقی اور جدیدیت کی علامت بن گیا۔ جب کوئی معاشرہ اپنی تہذیبی بنیادوں سے کٹ جاتا ہے تو اس کے افراد ذہنی طور پر احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں اور بیرونی ثقافت کو معیار سمجھنے لگتے ہیں۔ اس صورت حال میں مقامی تہذیب اور مذہبی اقدار بتدریج کمزور ہونے لگتی ہیں۔
خاندانی اور آبادیاتی میدان میں بھی کئی نظریاتی تصورات کو فروغ دیا گیا۔ ایک طرف یہ کہا گیا کہ ترقی یافتہ معاشرہ وہ ہے جہاں آبادی کی شرح کم ہو، اس لیے بچوں کی تعداد محدود رکھنا ایک لازمی شرط ہے۔ دوسری طرف میڈیا اور تفریحی صنعت کے ذریعے ایسے رجحانات کو بڑھایا گیا جن کے نتیجے میں خاندانی نظام کمزور ہوتا گیا۔ جب خاندان کمزور ہوتا ہے تو معاشرے میں فرد تنہا اور غیر محفوظ ہوجاتا ہے، اور ایسے افراد کو بڑے معاشی و ثقافتی نظاموں کے لیے کنٹرول کرنا نسبتاً آسان ہوجاتا ہے۔
اسی طرح انسانی خواہشات اور جذبات کو بھی ایک معاشی منڈی میں تبدیل کردیا گیا۔ محبت، جمالیات اور انسانی تعلقات کو اس طرح تجارتی شکل دی گئی کہ وہ صارفیت کے دائرے میں آ گئے۔ نتیجتاً انسان کی شخصیت ایک صارف میں تبدیل ہونے لگی جس کی شناخت اس کی خریداری کی طاقت سے متعین ہونے لگی۔ اس پورے عمل نے انسانی زندگی کے روحانی اور اخلاقی پہلو کو کمزور کر دیا اور مادی کامیابی کو واحد معیار بنا دیا۔
اسی طرح میڈیا اور تفریحی صنعت کو بھی ایک فکری ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ فلموں، ڈراموں اور اشتہارات کے ذریعے ایسی اقدار کو عام کیا گیا جو صارفیت، مادہ پرستی اور فوری لذت کو زندگی کا مقصد بنا کر پیش کرتی ہیں۔ جب ایک معاشرے کی نئی نسل مسلسل ایسے پیغامات کے درمیان پرورش پاتی ہے تو اس کی ترجیحات آہستہ آہستہ بدلنے لگتی ہیں۔ اس طرح اخلاقی اور روحانی اقدار پس منظر میں چلی جاتی ہیں اور مادی کامیابی کو زندگی کا واحد معیار سمجھا جانے لگتا ہے۔
معاشی میدان میں بھی ایک اہم مغالطہ یہ پیدا کیا گیا کہ سودی نظام ترقی کے لیے لازمی ہے۔ حالانکہ اس نظام کا نتیجہ اکثر یہ ہوتا ہے کہ دولت آہستہ آہستہ مالیاتی اداروں اور سرمایہ دار طبقات کے ہاتھ میں مرتکز ہوتی جاتی ہے۔ اسی طرح عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے قرض اور معاشی پالیسیوں کے ایسے ڈھانچے بنائے گئے جن کے نتیجے میں کمزور ممالک معاشی طور پر انحصار کی حالت میں رہتے ہیں۔
اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ تمام فکری اور ثقافتی تبدیلیاں ایک ایسے عالمی نظام کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوئیں جس میں معاشی طاقت چند ہاتھوں میں مرتکز ہوتی گئی اور باقی دنیا اس کے تابع ہوتی چلی گئی۔ اس کے مقابلے میں اسلامی تصورِ حیات ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے جس میں علم، اخلاق، معیشت اور سیاست سب ایک اخلاقی اصول کے تابع ہوتے ہیں اور جس کا بنیادی مقصد عدل، انسانی وقار اور اجتماعی بھلائی کا قیام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی اسلامی فکر کو اس کی جامعیت کے ساتھ سمجھا جاتا ہے تو وہ محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں رہتی بلکہ ایک مکمل تہذیبی اور معاشرتی نظام کی صورت اختیار کر لیتی ہے، جو انسان کو محض معاشی اکائی نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی ذمہ داری رکھنے والی مخلوق کے طور پر دیکھتا ہے۔
