بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
جنگوں کے دوران صرف ہتھیاروں سے لڑائی نہیں ہوتی بلکہ “اطلاعات اور بیانیوں کی جنگ” بھی لڑی جاتی ہے۔ اس لیے ایران، امریکہ اور اسرائیل جیسے تنازعات میں اکثر ایسی خبریں پھیلائی جاتی ہیں جو حقیقت کا صرف ایک حصہ دکھاتی ہیں یا اسے خاص انداز میں پیش کرتی ہیں۔ اس کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ جنگی حالات میں “پروپیگنڈا کی چند معروف تکنیکیں” بار بار استعمال کی جاتی ہیں۔
سب سے پہلی تکنیک “مبالغہ آمیز فتح یا شکست کا بیانیہ” ہے۔ جنگ میں ہر فریق اپنی کامیابی کو بہت بڑا اور دشمن کے نقصان کو بہت زیادہ دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی حملے میں معمولی نقصان ہوا ہو تو اسے “تباہ کن ضرب” یا “تاریخی شکست” کہہ دیا جاتا ہے۔ اسی لیے جب کسی خبر میں ایسے الفاظ نظر آئیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ زیادہ تر “جنگی نفسیاتی حکمت عملی” کا حصہ ہے۔
دوسری تکنیک “ادھوری حقیقت (Selective Truth)” ہے۔ اس میں جھوٹ بولنے کے بجائے سچ کا صرف ایک حصہ دکھایا جاتا ہے اور باقی حصہ چھپا لیا جاتا ہے۔ مثلاً کسی حملے کی خبر دی جائے لیکن اس کے پس منظر یا اس سے پہلے ہونے والے واقعات کا ذکر نہ کیا جائے۔ اس طریقے سے سامع یا قاری ایک خاص نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
تیسری تکنیک “جذباتی تصاویر اور کہانیوں کا استعمال” ہے۔ جنگی پروپیگنڈا میں اکثر بچوں، زخمیوں یا تباہی کی تصویریں دکھا کر عوام کے جذبات کو متاثر کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ تصاویر کسی اور وقت یا کسی اور ملک کی بھی ہو سکتی ہیں مگر انہیں نئے واقعے کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ اسی لیے جنگی خبروں میں تصویروں اور ویڈیوز کی تصدیق بہت ضروری ہوتی ہے۔
چوتھی تکنیک “اتھارٹی یا ماہر کے نام کا استعمال” ہے۔ کبھی کسی خبر کو معتبر بنانے کے لیے کہا جاتا ہے کہ “انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق” یا “ماہرین کے مطابق”، مگر ان ماہرین یا ذرائع کا نام واضح نہیں ہوتا۔ اس طریقے سے خبر کو سائنسی یا معتبر شکل دی جاتی ہے حالانکہ اس کا اصل ماخذ واضح نہیں ہوتا۔
پانچویں اور سب سے طاقتور تکنیک “دشمن کی شیطانیت (Demonization)” ہے۔ اس میں مخالف فریق کو مکمل طور پر ظالم، غیر انسانی یا شیطانی قوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تاکہ اس کے خلاف ہر قسم کی کارروائی کو اخلاقی طور پر درست ثابت کیا جا سکے۔ تاریخ میں تقریباً ہر جنگ میں یہ طریقہ استعمال ہوا ہے۔
اسی تناظر میں بعض میڈیا ناقدین جیسے Noam Chomsky نے بتایا ہے کہ جدید میڈیا میں خبریں اکثر طاقت کے ڈھانچے کے مطابق ترتیب دی جاتی ہیں، جس کی وضاحت انہوں نے اپنی مشہور کتاب Manufacturing Consent میں کی ہے۔ اسی لیے عالمی میڈیا ادارے جیسے BBC، CNN یا Reuters اور اسی طرح کسی ریاستی موقف کے حامل ادارے جیسے Press TV — سب اپنے اپنے زاویۂ نظر کے مطابق خبر کو ترتیب دیتے ہیں۔
ان تکنیکوں کو سمجھ لینے کے بعد کسی بھی خبر کو دیکھتے وقت انسان فوراً یہ سوال پوچھ سکتا ہے کہ:
کیا یہ خبر مکمل تصویر دکھا رہی ہے یا صرف ایک پہلو؟
کیا اس میں جذباتی زبان استعمال ہو رہی ہے؟
کیا اس کا اصل ماخذ واضح ہے؟
اگر یہ سوالات ذہن میں رکھے جائیں تو جنگی حالات میں بھی “حقیقت کے قریب پہنچنا بہت آسان ہو جاتا ہے”۔
ایران، امریکہ اور اسرائیل جیسے حساس تنازعات میں خبر کی صداقت کا مسئلہ صرف ایک صحافتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک “جیوپولیٹیکل اور معلوماتی جنگ (Information Warfare)” کا حصہ بن جاتا ہے۔ آج کی دنیا میں خبر صرف اطلاع نہیں ہوتی بلکہ ایک “بیانیہ (Narrative)” بھی ہوتی ہے جس کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو متاثر کیا جاتا ہے۔ اسی لیے جب کوئی شخص کسی خاص نظریاتی یا سیاسی موقف سے وابستہ ہو — مثلاً اسلامی انقلاب ایران کے حامی — تو اسے اکثر یہ احساس ہوتا ہے کہ عالمی میڈیا حقیقت کو چھپا رہا ہے یا اسے مخصوص انداز میں پیش کر رہا ہے۔ اس صورتحال میں حقیقی خبر تک پہنچنے کے لیے چند بنیادی اصول اور طریقے اپنانا ضروری ہیں۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عالمی میڈیا کے بڑے ادارے جیسے BBC، CNN، Reuters اور The New York Times بلاشبہ طاقتور ممالک کے سیاسی اور معاشی کنٹرولڈ ماحول کے اندر کام کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی ہر خبر لازماً جھوٹ ہوتی ہے، کیونکہ بعض دفعہ حقیقت بولنا مجبوری بن جاتی ہے ورنہ ذرائع پر اعتماد کم ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ حقیقت ضرور ہے کہ “خبروں کی ترجیحات، زاویۂ بیان اور فریمنگ” اکثر ان کے قومی یا بین الاقوامی مفادات سے متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح ایران کے سرکاری ذرائع جیسے Press TV اور Islamic Republic News Agency بھی اپنے قومی بیانیے کے مطابق خبر پیش کرتے ہیں۔ اس لیے حقیقت تک پہنچنے کا پہلا اصول یہ ہے کہ “کسی ایک میڈیا بیانیے پر مکمل انحصار نہ کیا جائے”۔
حقیقی خبر کے قریب پہنچنے کا ایک مؤثر طریقہ یہ ہے کہ “متضاد کیمپوں کے میڈیا کو بیک وقت پڑھا جائے”۔ مثال کے طور پر ایک ہی واقعے کو اگر مغربی میڈیا، ایرانی میڈیا اور غیر وابستہ علاقائی میڈیا تینوں سے دیکھا جائے تو ان کے درمیان جو مشترکہ عناصر ہوتے ہیں وہ عموماً حقیقت کے قریب ہوتے ہیں۔ اگر کسی حملے یا واقعے کی خبر Al Jazeera، BBC اور Press TV تینوں میں مختلف انداز سے آئے لیکن بنیادی واقعہ ایک ہی ہو تو اس کی صداقت کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اختلاف عموماً “تشریح اور سیاسی مفہوم” میں ہوتا ہے۔
دوسرا اہم طریقہ “اوپن سورس انٹیلیجنس (OSINT)” کا استعمال ہے۔ جدید دور میں عام شہری بھی سیٹلائٹ تصاویر، ویڈیوز اور جغرافیائی معلومات کے ذریعے خبروں کی ابتدائی تصدیق کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر تنظیمیں جیسے Bellingcat یا Amnesty International کبھی کبھی جنگی واقعات کی تصدیق سیٹلائٹ تصاویر، ویڈیوز اور مقام کی جغرافیائی شناخت کے ذریعے کرتی ہیں۔ اگر کسی حملے کی ویڈیو سامنے آئے تو اس کے مقام، موسم، عمارتوں اور وقت کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔
تیسرا اہم اصول یہ ہے کہ “خبر کے وقت اور رفتار کو سمجھا جائے”۔ جنگ کے دوران اکثر ابتدائی خبریں غلط یا ادھوری ہوتی ہیں کیونکہ میدان جنگ میں معلومات فوری طور پر واضح نہیں ہوتیں۔ اس لیے کسی بڑی خبر کے بارے میں “کم از کم 24 سے 48 گھنٹے انتظار” کرنا اکثر زیادہ درست تصویر سامنے لاتا ہے۔ تاریخ میں بہت سے واقعات ایسے ہوئے جہاں ابتدائی خبر بعد میں غلط ثابت ہوئی۔
چوتھا طریقہ “صحافتی مفادات اور طاقت کے ڈھانچے کو سمجھنا” ہے۔ عالمی میڈیا اکثر بڑی کارپوریشنز اور سرمایہ دارانہ ڈھانچوں کے اندر کام کرتا ہے۔
پانچواں اہم ذریعہ “مقامی عینی شاہدین اور سوشل میڈیا ویڈیوز” بھی ہوتے ہیں، لیکن ان کے ساتھ بہت احتیاط ضروری ہے کیونکہ جنگی ماحول میں جعلی ویڈیوز اور پرانی تصاویر بھی دوبارہ استعمال کی جاتی ہیں۔ اس لیے کسی ویڈیو کو قبول کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ کیا اسے مختلف ذرائع نے بھی رپورٹ کیا ہے یا نہیں۔
چھٹا اور شاید سب سے اہم اصول “تنقیدی شعور (Critical Thinking)” ہے۔ اگر کوئی خبر کسی کے نظریاتی موقف کو بہت زیادہ خوش کن یا بہت زیادہ خوفناک لگے تو عموماً اس میں مبالغہ کا امکان ہوتا ہے۔ حقیقی معلومات اکثر زیادہ پیچیدہ اور کم جذباتی ہوتی ہیں۔
یہ بات کہ موجودہ دور میں جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ “بیانیوں اور معلومات” سے بھی لڑی جاتی ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل جیسے تنازعات میں ہر فریق اپنی کامیابی کو بڑھا کر اور نقصان کو کم دکھا کر پیش کرتا ہے۔ اس لیے اصل حقیقت تک پہنچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان “متعدد ذرائع، آزاد تحقیق اور وقت کے ساتھ سامنے آنے والے شواہد” کو ملا کر تصویر بنائے۔
ایران، امریکہ اور اسرائیل جیسے تنازعات میں خبر کی تصدیق کے لیے ایک “آسان عملی فارمولا” اختیار کیا جا سکتا ہے۔ اسے ایک طرح سے ““خبر کی چھان بین کا سات مرحلہ اصول”” کہا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص ان مراحل پر کسی خبر کو پرکھ لے تو وہ زیادہ امکان کے ساتھ حقیقت کے قریب پہنچ سکتا ہے۔
سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ “ایک خبر کو کم از کم تین مختلف نظریاتی ذرائع سے دیکھا جائے”۔ مثال کے طور پر اگر کسی حملے یا واقعے کی خبر آئے تو اسے مغربی میڈیا جیسے BBC یا CNN سے بھی دیکھیں، پھر ایرانی ذرائع جیسے Press TV یا Islamic Republic News Agency سے بھی، اور اس کے بعد کسی نسبتاً غیر جانبدار یا علاقائی میڈیا جیسے Al Jazeera کو بھی دیکھیں یا چین اور روس کی حقیقی میڈیا سے بھی چیکنگ کریں۔ اگر سب میں بنیادی واقعہ ایک جیسا ہو تو اس کے صحیح ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اختلاف عموماً اس کی تعبیر اور سیاسی معنی میں ہوتا ہے۔
دوسرا اصول یہ ہے کہ “خبر کے اصل ماخذ کو تلاش کیا جائے”۔ اکثر سوشل میڈیا پر خبریں کسی نامعلوم اکاؤنٹ سے شروع ہوتی ہیں اور بعد میں بڑے میڈیا ادارے بھی اسے نقل کر دیتے ہیں۔ اس لیے یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ خبر کا پہلا ماخذ کون ہے: کوئی سرکاری بیان، کوئی عینی شاہد، یا کوئی صحافتی ادارہ۔
تیسرا اصول یہ ہے کہ “وقت کو فیکٹر کے طور پر استعمال کیا جائے”۔ جنگی حالات میں ابتدائی خبریں اکثر غلط یا مبالغہ آمیز ہوتی ہیں۔ اس لیے کسی بڑی خبر کو فوراً حتمی حقیقت نہ سمجھا جائے بلکہ چند گھنٹے یا ایک دن انتظار کیا جائے تاکہ مزید شواہد سامنے آئیں۔
چوتھا اصول “ویڈیوز اور تصاویر کی جغرافیائی تصدیق” ہے۔ آج کل اوپن سورس تحقیق کے ذریعے کسی ویڈیو یا تصویر کے مقام کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اسی اصول کو استعمال کرتے ہوئے تحقیقی گروہ جنگی واقعات کی تصدیق کرتے ہیں۔ اگر کسی ویڈیو میں عمارتیں، سڑکیں یا پہاڑ نظر آ رہے ہوں تو ان کی سیٹلائٹ تصاویر سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔
پانچواں اصول “زبان اور بیانیے کا تجزیہ” ہے۔ اگر کسی خبر میں جذباتی اور انتہائی الفاظ استعمال ہوں جیسے “تباہی”، “مکمل شکست”، یا “تاریخی فتح” تو اکثر یہ پروپیگنڈا کا حصہ ہوتا ہے۔ سنجیدہ صحافت عموماً زیادہ محتاط زبان استعمال کرتی ہے۔
چھٹا اصول یہ ہے کہ “ماہرین اور غیر سرکاری تحقیقی اداروں کی رپورٹس دیکھیں”۔ بعض عالمی تنظیمیں اور تحقیقاتی ادارے بعد میں واقعات کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہیں۔ یہ ادارے جنگی واقعات اور طاقت کے توازن کا نسبتاً علمی تجزیہ پیش کرتے ہیں۔
ساتواں اور سب سے اہم اصول یہ ہے کہ “اپنے نظریاتی تعصب کو قابو میں رکھا جائے”۔ اگر کوئی خبر ہماری پسند کے مطابق ہو تو ہم اسے فوراً سچ مان لیتے ہیں، اور اگر مخالف ہو تو فوراً جھوٹ سمجھ لیتے ہیں۔ حقیقت تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ خبر کو اپنے موقف سے الگ ہو کر دیکھا جائے۔
اگر ان سات اصولوں کو ملا کر دیکھا جائے تو ایک سادہ فارمولا بنتا ہے:
“(متعدد ذرائع + اصل ماخذ + وقت کا انتظار + جغرافیائی تصدیق + زبان کا تجزیہ + تحقیقی اداروں کی رپورٹ + ذاتی تعصب پر قابو)”۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید میڈیا اسٹڈیز میں بھی یہی اصول بیان کیے جاتے ہیں، اور میڈیا ناقدین جیسے Noam Chomsky نے بھی یہ واضح کیا ہے کہ طاقتور سیاسی نظاموں میں میڈیا کو سمجھنے کے لیے ہمیشہ “تنقیدی اور تقابلی مطالعہ” ضروری ہوتا ہے۔
