25

*کتاب کافی نہیں، ذی روح رہنما ناگزیر ہے*

  • نیوز کوڈ : 2661
  • 13 March 2026 - 21:49
*کتاب کافی نہیں، ذی روح رہنما ناگزیر ہے*

*کتاب کافی نہیں، ذی روح رہنما ناگزیر ہے*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

تحریر : سید جہانزیب عابدی

یہ سوال کہ علم کے حصول میں کتاب کافی ہے یا کسی ذی روح استاد، مینٹور یا رہنما کی موجودگی بھی ضروری ہے، دراصل تعلیم کی سطحی تعریف اور انسانی تشکیل کی گہری حقیقت کے درمیان فرق کو واضح کرتا ہے۔ کتاب علم منتقل کرتی ہے، مگر انسان صرف معلومات کا مجموعہ نہیں ہوتا۔ انسان ایک نفسیاتی، جذباتی، سماجی اور اخلاقی وجود ہے، اور اس وجود کی تشکیل محض متن سے نہیں بلکہ تعلق (relationship) سے ہوتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں “ہمارے لیے کتاب کافی ہے” کا نعرہ اپنی حد میں درست ہونے کے باوجود اپنی جامعیت کھو دیتا ہے۔

نفسیات اس بات پر متفق ہے کہ سیکھنے کا عمل صرف ادراک (cognition) کا معاملہ نہیں بلکہ جذبات (emotions)، تعلق (attachment) اور تقلید (modeling) سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو وہ سب سے پہلے کتاب نہیں بلکہ چہرہ پڑھتا ہے، آواز پہچانتا ہے اور ردِعمل سے معنی اخذ کرتا ہے۔ یہی ابتدائی تعلقات اس کے ذہن میں یہ نقش کرتے ہیں کہ دنیا محفوظ ہے یا خطرناک، سیکھنا خوشی ہے یا دباؤ، اور سوال کرنا قابلِ قبول ہے یا قابلِ سزا۔ یہ سب نقش کتاب سے پہلے بنتے ہیں اور بعد کی تمام علمی کاوشوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انسان تقریباً سب ہی کسی نہ کسی درجے میں بچپن کے نفسیاتی زخموں یا ٹراماز کا حامل ہوتا ہے۔ یہ زخم ہمیشہ کسی بڑے سانحے کی شکل میں نہیں ہوتے۔ کبھی توجہ کی کمی، کبھی غیر متوازن سختی، کبھی مسلسل تقابل، کبھی جذبات کو نظرانداز کیا جانا، اور کبھی غیر محفوظ ماحول بھی ٹراما کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ نفسیات میں اسے Developmental Trauma کہا جاتا ہے، یعنی وہ زخم جو شخصیت کی تشکیل کے دوران خاموشی سے اندر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ زخم شعوری یادداشت میں نہ بھی ہوں تو رویے، خوف، خود اعتمادی اور تعلقات کے انداز میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔

اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کتاب ان زخموں کے ساتھ کیا کرتی ہے؟ کتاب معلومات دیتی ہے، تشخیص نہیں کرتی۔ کتاب راستہ دکھاتی ہے، ہاتھ نہیں تھامتی۔ ٹراما کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ انسان صرف نہ جاننے کی وجہ سے نہیں رکتا بلکہ ڈر، شرم، عدمِ تحفظ اور اندرونی الجھن کی وجہ سے رک جاتا ہے۔ ایسے میں معلومات کا اضافہ بعض اوقات فائدے کے بجائے دباؤ بڑھا دیتا ہے، کیونکہ انسان جان تو لیتا ہے کہ کیا درست ہے مگر اندر سے اس پر عمل کے قابل نہیں ہوتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک ذی روح مینٹور، استاد یا رہنما کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔

نفسیات میں اسے Corrective Emotional Experience کہا جاتا ہے، یعنی ایسا نیا تعلق جو پرانے زخموں کی تلافی کرے۔ ایک سمجھدار مینٹور طالب علم کو محض درست جواب نہیں دیتا بلکہ اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ سوال کرنا محفوظ ہے، غلطی قابلِ برداشت ہے، اور سیکھنا ایک انسانی عمل ہے نہ کہ امتحان۔ یہ احساس دماغ کے اس حصے کو فعال کرتا ہے جو خوف کے بجائے تجسس سے سیکھتا ہے۔ اس کے برعکس اگر سیکھنے والا اکیلا ہو اور اندرونی خوف کے ساتھ کتاب سے ٹکر لے رہا ہو تو دماغ کا دفاعی نظام فعال رہتا ہے اور حقیقی سیکھنا رک جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ نفسیات کے بڑے نظریات، جیسے Vygotsky کا Zone of Proximal Development، اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسان وہ چیز بہتر سیکھتا ہے جو وہ کسی زیادہ تجربہ کار فرد کے ساتھ مل کر سیکھتا ہے۔ مینٹور وہ پل ہوتا ہے جو طالب علم کو اس مقام سے، جہاں وہ اکیلا نہیں پہنچ سکتا، آہستہ آہستہ آگے لے جاتا ہے۔ یہ پل صرف علمی نہیں بلکہ جذباتی بھی ہوتا ہے۔

“ہمارے لیے کتاب کافی ہے” کا نعرہ اکثر اس غلط فہمی سے جنم لیتا ہے کہ انسان ایک خود کفیل، غیر متاثر ہونے والا

ذہن رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان آئینے کے بغیر خود کو درست طور پر نہیں دیکھ سکتا۔ مینٹور آئینہ بھی ہوتا ہے اور سہارا بھی۔ وہ طالب علم کے blind spots کو نمایاں کرتا ہے، اس کی غیر محسوس رکاوٹوں کو پہچانتا ہے، اور اس کے سیکھنے کے انداز کو اس کی نفسیاتی ساخت کے مطابق ڈھالتا ہے۔ یہ کام کوئی کتاب نہیں کر سکتی، چاہے وہ کتنی ہی اعلیٰ کیوں نہ ہو۔

بچپن کے ٹراماز کا علاج اسی لیے تعلق کے ذریعے ہوتا ہے، کیونکہ زخم بھی تعلق میں لگے ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو بچپن میں نظرانداز کیا گیا ہو تو اسے صرف یہ پڑھ لینا کافی نہیں کہ “میں قیمتی ہوں”، بلکہ اسے کسی ایسے انسان کے تجربے کی ضرورت ہوتی ہے جو عملاً اسے اہم سمجھے۔ یہی تجربہ آہستہ آہستہ دماغ کے اندرونی نقشے بدلتا ہے۔ نفسیات میں اسے Neuroplasticity کہا جاتا ہے، یعنی دماغ کا نئے تجربات کی بنیاد پر خود کو دوبارہ منظم کرنا۔

اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ کتاب علم کا ذریعہ ہے، مگر انسان کی تشکیل کا ذریعہ نہیں۔ انسان انسان سے سیکھتا ہے، کتاب کے ذریعے نہیں بلکہ کتاب کے ساتھ۔ ذی روح مینٹور اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ صرف علم منتقل نہیں کرتا بلکہ سیکھنے والے کے اندر وہ نفسیاتی سلامتی پیدا کرتا ہے جس کے بغیر علم بوجھ بن جاتا ہے۔ اس لیے درست بات یہ نہیں کہ “ہمارے لیے کتاب کافی ہے”، بلکہ درست بات یہ ہے کہ کتاب رہنما ہے، مگر رہنمائی ایک زندہ انسان ہی کرتا ہے۔

جب یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسان محض معلومات سے نہیں بنتا بلکہ تعلق، رہنمائی اور زندہ نمونے سے تشکیل پاتا ہے، تو پھر ائمۂ معصومینؑ اور علماء کی فطری ضرورت کوئی ثانوی یا فرقہ وارانہ مسئلہ نہیں رہتی بلکہ انسانی نفسیات، اخلاق اور تہذیب کی گہری ضرورت بن کر سامنے آتی ہے۔ اگر انسان واقعی صرف کتاب سے مکمل ہدایت پا سکتا ہوتا تو تاریخ میں نہ انبیاء کی ضرورت رہتی، نہ اساتذہ کی، اور نہ ہی زندہ رہنماؤں کی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کتاب راستہ بتاتی ہے، جبکہ راہ پر چلنا سکھانے کے لیے زندہ ہستی درکار ہوتی ہے۔

قرآن خود اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ ہدایت محض متن کے ذریعے مکمل نہیں ہوتی۔ وحی نازل ہوئی، مگر اس وحی کو سمجھانے، اس پر عمل کر کے دکھانے، اور انسانی زندگی میں اس کا زندہ نمونہ بننے کے لیے رسولؐ موجود تھے۔ یہی منطق نبوت کے بعد امامت تک پھیلتی ہے۔ ائمۂ معصومینؑ اس لیے نہیں آئے کہ وہ کوئی نئی کتاب لائیں، بلکہ اس لیے آئے کہ کتاب کو انسان کے نفسیاتی، اخلاقی اور اجتماعی وجود میں مُجسّم کریں۔ وہ چلتا پھرتا قرآن تھے، کیونکہ انسان کتاب کے الفاظ سے زیادہ عمل کی صورت سے سیکھتا ہے۔

نفسیات کی زبان میں کہا جائے تو ائمہؑ انسان کے لیے اعلیٰ ترین “Ideal Attachment Figures” ہیں۔ انسان کو سیکھنے کے لیے ایک ایسے نمونے کی ضرورت ہوتی ہے جس پر وہ اعتماد کر سکے، جس کے طرزِ عمل میں تضاد نہ ہو، اور جس کی شخصیت میں علم، عمل اور اخلاق ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں۔ ائمۂ معصومینؑ کی عصمت دراصل اسی نفسیاتی ضرورت کا جواب ہے، کیونکہ اگر رہنما خود خوف، خواہش یا مفاد کے زیرِ اثر ہو تو پیروکار کے ذہن میں عدمِ تحفظ پیدا ہو جاتا ہے اور سیکھنے کا عمل رک جاتا ہے۔ معصوم رہنما انسان کو یہ اعتماد دیتا ہے کہ جس راستے کی طرف بلایا جا رہا ہے وہ خود بھی اس پر پوری طرح قائم ہے۔

انسانی ٹراماز اور نفسیاتی زخموں کی بات کریں تو ائمہؑ کی ضرورت اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ انسان صرف قانون اور حکم سے نہیں سنبھلتا بلکہ رحمت، فہم اور تحمل سے سنبھلتا ہے۔ ائمہؑ کا اسلوب یہی تھا۔ وہ انسان کے ظاہر کو نہیں بلکہ اس کے باطن کو مخاطب کرتے تھے۔ ان کی گفتگو، سکوت، حلم اور تدریج دراصل انسان کے ٹوٹے ہوئے اندرونی حصوں کو جوڑنے کا عمل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی مجالس، دعائیں اور مناجات آج بھی انسان کے دل پر اثر کرتی ہیں، کیونکہ وہ صرف تعلیم نہیں بلکہ شفا ہیں۔ نفسیات میں جس Corrective Emotional Experience کی بات کی جاتی ہے، وہ کامل ترین صورت میں معصومینؑ کی سیرت میں جلوہ گر ہے۔

جہاں ائمہؑ کامل معیار اور اصل منبع ہیں، وہیں علماء اس تسلسل کی ناگزیر کڑی ہیں۔ غیبت کے دور میں انسان کی نفسیاتی اور اجتماعی ضرورت ختم نہیں ہوئی بلکہ مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ زمانہ بدلتا ہے، مسائل نئی شکلیں اختیار کرتے ہیں، اور انسان کے ذہنی دباؤ بڑھتے جاتے ہیں۔ ایسے میں محض کتاب اٹھا کر خود فیصلہ کرنا ہر فرد کے لیے نہ ممکن ہے اور نہ محفوظ۔ علماء کا کردار یہاں ایک زندہ مینٹور کا ہوتا ہے جو کتاب اور زمانے کے درمیان پل بنتا ہے۔ وہ نصوص کو انسان کی نفسیاتی سطح، سماجی حالات اور فکری استعداد کے مطابق سمجھاتا ہے۔

نفسیاتی اعتبار سے عالم دین محض فتویٰ دینے والا نہیں بلکہ معنوی اتھارٹی ہوتا ہے۔ انسان کو سیکھنے کے لیے کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جس کی زندگی اس کے علم کی گواہی دے۔ جب عالم کا عمل اس کے علم سے ہم آہنگ ہوتا ہے تو وہ محض معلومات نہیں دیتا بلکہ اعتماد، سکون اور سمت فراہم کرتا ہے۔ یہی اعتماد انسان کو داخلی انتشار سے نکال کر نظم کی طرف لے جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں جب علماء نے اپنا یہ کردار کھویا تو مذہب ایک خشک قانون بن گیا، اور جب انہوں نے اسے زندہ رکھا تو مذہب انسان کی روح کی غذا بنا۔

یہاں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ “ہمارے لیے کتاب کافی ہے” کا نعرہ دراصل انسان کی نفسیاتی کمزوری کو نظرانداز کرتا ہے۔ ہر انسان کے اندر اندھے گوشے، تعصبات، خواہشات اور خوف ہوتے ہیں جو اسے کتاب کو بھی اپنی مرضی کے مطابق پڑھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ عالم اور رہنما کا وجود انسان کو اس خود فریبی سے نکالتا ہے۔ وہ سوال کرتا ہے، چیلنج کرتا ہے، اور درست سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ عمل بعض اوقات ناگوار ہوتا ہے، مگر یہی وہ ناگواری ہے جو انسان کو سنوارتی ہے۔

آخرکار یہ بات سمجھنی ضروری ہے کہ امامت اور علمائے دین کی ضرورت کسی مذہبی اجارہ داری کا جواز نہیں بلکہ انسان کی فطری ساخت کا تقاضا ہے۔ انسان کو سچائی صرف الفاظ میں نہیں بلکہ چہروں میں، رویوں میں اور تعلقات میں درکار ہوتی ہے۔ ائمۂ معصومینؑ اس سچائی کا کامل نمونہ ہیں، اور علماء اس نمونے کو زمانے کے تناظر میں قابلِ فہم بنانے والے ہیں۔ جب تک انسان انسان ہے، اسے زندہ رہنمائی کی ضرورت رہے گی، کیونکہ کتاب رہنمائی کا ذریعہ ہے، مگر ہدایت ہمیشہ ایک زندہ دل سے دوسرے زندہ دل تک منتقل ہوتی ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2661

ٹیگز

تبصرے