27

*غصبِ امامت اور دنیا کی تقدیر*

  • نیوز کوڈ : 2652
  • 13 March 2026 - 21:31
*غصبِ امامت اور دنیا کی تقدیر*

*غصبِ امامت اور دنیا کی تقدیر*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

تحریر : سید جہانزیب عابدی

یہ بات دراصل محض ایک تاریخی مفروضہ نہیں بلکہ تمدنی، فکری اور روحانی تاریخ کی سمت پر غور و فکر کی دعوت ہے۔ اگر رسولِ خدا صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امام علیؑ اور پھر باری باری تمام ائمہؑ کو حکومت و قیادت کا حق دیا جاتا تو تاریخ کا دھارا صرف حکمرانوں کے ناموں میں نہیں بلکہ اقتدار کی فطرت، معیشت کی روح اور انسان کے باہمی رشتوں کی ساخت میں بنیادی طور پر مختلف ہوتا۔ اس کا اثر کسی ایک صدی یا خطے تک محدود نہ رہتا بلکہ ایک مسلسل چین ری ایکشن کی صورت میں آج کے جدید دور تک پہنچتا۔

امام علیؑ کی حکومت کا مختصر تجربہ ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر یہ سلسلہ بعد از رحلت رسول ص کے وقت سے برقرار رہتا تو معیشت طاقت کے بجائے عدل کے تابع ہوتی۔ بیت المال کو شخصی، قبائلی یا سیاسی وفاداریوں کی بنیاد پر بانٹنے کے بجائے انسان کی ضرورت اور حق کے مطابق تقسیم کیا جاتا۔ اگر یہی اصول امام حسنؑ، امام حسینؑ اور بعد کے ائمہؑ کے زمانے میں ریاستی پالیسی کی صورت اختیار کر لیتا تو دولت کبھی چند ہاتھوں میں مرتکز نہ ہوتی، سرمایہ کبھی حاکم نہ بنتا اور معیشت کبھی انسان پر سوار نہ ہوتی۔ اس صورت میں جدید دنیا کا وہ استحصالی سرمایہ دارانہ ڈھانچہ، جس کی بنیاد ہی دولت کے ارتکاز اور طاقت کے عدم توازن پر ہے، اپنی ابتدائی فکری غذا سے محروم رہتا۔

سیاسی سطح پر سب سے بڑی تبدیلی حاکمیت کے تصور میں آتی۔ اگر ائمہؑ کی امامت محض روحانی نہیں بلکہ عملی حکومت اور نظام کی صورت میں تسلیم کی جاتی تو اقتدار کو کبھی ذاتی میراث، خاندانی حق یا عسکری قوت کا نتیجہ نہ سمجھا جاتا۔ حکومت ایک امانت رہتی، ایک ذمہ داری، نہ کہ غلبہ۔ اس سے وہ ذہنیت جنم ہی نہ لیتی جس نے بعد میں بادشاہت، آمریت اور پھر جدید ریاستی جبر کو جنم دیا۔ یوں سیاست طاقت کے کھیل کے بجائے اخلاقی خدمت کی صورت اختیار کرتی، اور یہی سیاست بعد کی تہذیبوں کے لیے معیار بنتی۔

اس کا سب سے گہرا اثر انسانی شعور پر پڑتا۔ جب تاریخ کی ابتدا ہی میں انسان یہ دیکھ لیتا کہ سب سے زیادہ با اختیار شخص سب سے زیادہ زاہد، عادل اور جواب دہ ہے تو اقتدار اور اخلاق کے درمیان وہ خلیج پیدا ہی نہ ہوتی جو بعد میں مذہب اور سیاست کی جدائی، اور پھر معیشت کی مطلق العنانیت کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ تعلیم کا مقصد صرف اطاعت یا روزگار نہ ہوتا بلکہ انسان سازی ہوتی۔ علم طاقت کا ہتھیار نہیں بلکہ حق کی پہچان بن جاتا۔ ایسی تعلیم سے وہ انسان پیدا ہوتے جو استحصال کو فطری نہیں بلکہ فساد سمجھتے۔

اگر حقِ امامت غصب نہ ہوتا تو کربلا کا واقعہ وجود ہی میں نہ آتا بلکہ ایک نظام کے اندر ہی اصلاح کا عمل ہوتا۔ یزیدی ذہنیت، جو طاقت، دولت اور بیانیے کے ذریعے حق کو روندنے کی علامت ہے، تاریخ کے آغاز ہی میں غیر قانونی اور غیر اخلاقی قرار پا جاتی۔ اس کے نتیجے میں وہ پوری چین ری ایکشن پیدا ہی نہ ہوتی جس میں پہلے خلافت ملوکیت میں بدلی، پھر ملوکیت سلطنتوں میں، اور آخرکار جدید سامراجی ریاستوں اور عالمی سرمایہ داری میں ڈھل گئی۔

آج کے جدید دور میں جو معاشی و سماجی استحصال ہمیں نظر آتا ہے، وہ اسی ابتدائی انحراف کا تمدنی تسلسل ہے۔ اگر ائمہؑ کی حکومتیں قائم رہتیں تو عالمی سیاست کا مرکز طاقت نہیں بلکہ حق ہوتا، عالمی معیشت کا مرکز منافع نہیں بلکہ کفایت اور عدل ہوتا، اور میڈیا و تعلیم کا مرکز انسان کو قابو میں رکھنا نہیں بلکہ انسان کو بیدار کرنا ہوتا۔ شاید ظلم مکمل طور پر ختم نہ ہوتا، کیونکہ انسان بہرحال آزمائش میں ہے، مگر ظلم کبھی نارمل، قانونی یا اخلاقی نہ بن پاتا۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ حقِ امامؑ کے غصب ہونے کا نتیجہ صرف چند دہائیوں کی سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ایک گہرا تمدنی زلزلہ تھا جس کے بعد انسان نے آہستہ آہستہ حاکمیت کو خدا سے، پھر اخلاق سے، اور آخرکار شعور سے جدا کر دیا۔ اگر یہ انحراف نہ ہوتا تو آج کی دنیا میں استحصال کوئی عالمی نظام نہ ہوتا بلکہ ایک انحراف، ایک بیماری اور ایک قابلِ مزاحمت استثنا سمجھا جاتا۔ یہی وہ فرق ہے جو تاریخ کے اس ایک فیصلے نے پیدا کیا، اور یہی وہ حقیقت ہے جس پر غور کیے بغیر نہ ماضی سمجھ میں آتا ہے اور نہ حال۔

بعد از رحلتِ رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم جو سب سے بنیادی سبق جدید دور کے استحصال کنندگان نے سیکھا، وہ یہ تھا کہ اقتدار کو حق کے بجائے عملیت، بیانیے اور طاقت کے ذریعے برقرار رکھا جا سکتا ہے، اور اگر بیانیہ قابو میں آ جائے تو اصول کو ثانوی بنایا جا سکتا ہے۔ خلافت کے ابتدائی مرحلے میں جب امامتِ الٰہی کے بجائے سیاسی مصلحت کو ترجیح دی گئی تو یہ دراصل اس بات کی عملی مثال تھی کہ دینی تقدس کو استعمال کر کے غیر دینی اقتدار کو جائز بنایا جا سکتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو بعد میں ہر استحصالی نظام کی بنیاد بنا، چاہے وہ اموی و عباسی سلطنتیں ہوں یا جدید سامراجی ریاستیں۔

بنی امیہ نے جو سب سے بڑا سبق تاریخ کو دیا وہ یہ تھا کہ دین کو ریاستی طاقت کے ساتھ جوڑ کر ایک ایسا بیانیہ بنایا جا سکتا ہے جس میں ظلم بھی “اطاعتِ امیر” بن جائے۔ دربار، خطبہ، قاضی، محدث اور شاعر سب ایک ہی سیاسی معیشت کا حصہ بن گئے۔ یہی ماڈل بعد میں عباسی دور میں مزید نفیس ہو گیا، جہاں تلوار کے ساتھ ساتھ علم، فقہ اور فلسفہ بھی ریاستی کنٹرول میں آیا۔ یوں اقتدار نے یہ سیکھا کہ صرف طاقت کافی نہیں، علمی و فکری اداروں کو بھی قابو میں رکھنا ضروری ہے۔ جدید استحصال کنندہ اسی عباسی ماڈل کو زیادہ جدید ٹیکنالوجی، میڈیا اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ استعمال کر رہا ہے۔

جہاں تک اس دور کے بعض یہودی مالی و تجارتی نیٹ ورکس کا تعلق ہے، تاریخ یہ بتاتی ہے کہ رسول اکرم ص سے بھی بہت پہلے سے یہ گمراہ یہودی مختلف سلطنتوں میں، خواہ وہ بعد بظاہر اسلامی سسٹمز  ہوں یا غیر اسلامی، کچھ یہودی خاندان تجارت، مالیات اور ٹیکس کلیکشن میں مہارت رکھتے تھے اور ریاستیں ان کی اس مہارت کو استعمال کرتی تھیں۔ لہذا جب کوئی ریاست خود عدلِ الٰہی سے کٹ جائے اور دنیاوی جاہ و تمکنت کو اہم سمجھتے لگے تو وہ ہر اس طبقے سے ہاتھ ملاتی ہے جو اس کے اقتدار اور معیشت کو سہارا دے سکے، چاہے وہ کسی بھی مذہب یا قوم سے ہو۔ اموی و عباسی حکمرانوں نے بھی یہی کیا۔ انہوں نے مالی نظم، ٹیکس، جاگیرداری اور تجارت میں ایسے گمراہ یہودی عناصر کو جگہ دی جو ریاستی مفاد کے لیے کارآمد تھے اور گمراہ یہودی گروہ بھی انہی کے ذریعے اپنی خفیہ معاشی طاقتوں کو دوام دیتے رہے، چاہے وہ اخلاقی طور پر سوالیہ نشان ہی کیوں نہ ہوں۔ اس عمل میں وہ خود آلہ کار نہیں بلکہ شریکِ جرم بنے، کیونکہ اقتدار کی طاقت کا اصل مرکز یہی گمراہ یہودی مفکرین تھے۔

اہلِ بیتؑ کے مکتب سے دوری کا سب سے بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ حاکمیت کا تصور اخلاق اور الٰہی جواب دہی سے الگ ہو گیا۔ جب یہ بنیاد ہل گئی تو بعد کی صدیوں میں جو بھی طاقت ور نظام آیا، اس نے اسی خالی جگہ کو اپنے مفاد سے بھر دیا۔ آج جدید صہیونی یا سامراجی ورلڈ آرڈر جس چیز سے فائدہ اٹھاتا ہے، وہ دراصل یہی تاریخی خلا ہے۔ وہ خلا جس میں دین محض رسومات بن گیا، عدل محض نعرہ، اور حاکمیت محض قومی خودمختاری کا دعویٰ۔

آج جو مسلمان، خواہ وہ خلفائے ثلاثہ، بنی امیہ یا بنو عباس کی تاریخی تعبیرات کو تنقید کے بغیر مقدس مانتے ہیں، وہ عملاً اسی بیانیے کو مضبوط کرتے ہیں جس میں اقتدار پر سوال اٹھانا فتنہ اور ظلم کے خلاف مزاحمت بغاوت بن جاتی ہے۔ یہی ذہنیت جدید عالمی سامراجی صہیونی نظام کے لیے سب سے موزوں ہے، کیونکہ اسے ایسے معاشرے چاہییں جو ظاہری دینداری رکھتے ہوں مگر حاکمیت، معیشت اور عالمی سیاست میں طاقت کے کھیل کو “حقیقتِ حال” مان کر قبول کر لیں۔ اس کے برعکس مکتبِ اہلِ بیتؑ اقتدار کو ہمیشہ مشروط، قابلِ سوال اور اخلاق کے تابع رکھتا ہے، اور یہی چیز ہر دور کے استحصالی نظام کے لیے خطرہ رہی ہے۔

یوں مسلمان تاریخ میں اصل مسئلہ گمراہ یہودیوں کی سازش اور ایک مسلسل فکری انحراف ہے، جس کا واضح اثر حقِ امامت کے غصب سے ہوا اور جس نے رفتہ رفتہ دین کو اقتدار کا خادم بنا دیا۔ جدید عالمی استحصال اسی انحراف کی جدید شکل ہے۔ جب تک مسلمان اس تاریخی تسلسل کو شخصیات کے تقدس سے آزاد ہو کر انہیں کرپٹ نہیں سمجھیں گے، تب تک وہ جانے یا انجانے میں ہر اس عالمی نظام کے مددگار بنتے رہیں گے جو عدل کے بجائے طاقت، اور حق کے بجائے مفاد کو مرکز بناتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2652

ٹیگز

تبصرے