بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
ایک صاحب بہت پڑھے لکھے تھے کئی کتابوں کے مصنف تھے، مگر سگریٹ بہت پیتے تھے، ان سے پوچھا گیا آپ پڑھے لکھے ہیں پھر بھی سگریٹ پیتے ہیں تو ایسے جواب دیا جیسے ان کی حیثیت داغدار کردی گئی ہو، کہنے لگے” ارے میں مصنف ہوں” یعنی مصنف ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سگریٹ پی جائے بقول ان کے کہ اس سے خیالات و تصورات قائم ہوتے ہیں اور تخلیقی کام اچھے ہوتے ہیں۔
یہ رویہ دراصل علم نہیں بلکہ علم کا خمار ہے۔ ایک ایسا خمار جو انسان کو حقیقت سے کاٹ کر ایک خودساختہ تقدس کی دنیا میں بٹھا دیتا ہے۔ یہ صاحب جو کتابوں کے مصنف تھے اور سگریٹ نوشی پر سوال کو اپنی توہین سمجھ بیٹھے، اصل میں اسی خمار کی علامت ہیں۔ جیسے مصنف ہونا کوئی ایسا روحانی مرتبہ ہو جس کے بعد جسم، صحت، اخلاق اور سماجی ذمہ داریاں سب معطل ہو جاتی ہوں۔ ان کے جواب میں یہ مفروضہ پوشیدہ تھا کہ تخلیق کے لیے خود کو زہر دینا، عادتوں کا غلام ہونا، اور نفس کی خواہشات کو فلسفے کا لبادہ پہنا دینا کوئی فکری عظمت ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تخلیق اگر شعور کو بلند نہ کرے اور انسان کو بہتر نہ بنائے تو وہ محض ذہنی مشقت رہ جاتی ہے، عبادت نہیں بنتی۔
اسی ذہنیت کی ایک اور صورت وہ دانشور ہیں جو اپنے آپ کو صرف مطالعہ، تصنیف، تدریس اور مباحثے تک محدود کر لیتے ہیں اور باقی زندگی کو اپنے لیے معاف کر دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک روزمرہ کے کام، گھر کی ذمہ داریاں، معاشی جدوجہد، بچوں کی تربیت، بیماروں کی تیمارداری، بازار جانا، قطار میں لگنا، گاڑی چلانا، بل ادا کرنا، حتیٰ کہ اپنے کپڑے سمیٹنا بھی ان کے شایانِ شان نہیں۔ یہ سب کام گویا کسی اور مخلوق کے لیے ہیں، جو ان کے گرد گھومتی ہے اور ان کے فکری “جہاد” کے لیے قربانی دیتی ہے۔ یہ دانشور اپنے آپ کو ذہنی اشرافیہ سمجھتے ہیں اور باقی انسانوں کو عملی مزدور، حالانکہ انسان ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ فکر اور عمل ایک ہی وجود میں جمع ہوں۔
ایسے دانشور صرف عملی زندگی ہی میں دوسروں کے سہارے نہیں ہوتے بلکہ جن علمی کاموں کو وہ اپنی فکری عظمت کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں، ان میں بھی ایک بڑا حصہ دراصل دوسروں کی محنت پر کھڑا ہوتا ہے۔ کتابوں کی تلاش اور انتخاب سے لے کر انہیں منگوانے تک، لائبریریوں میں جا کر حوالہ جاتی مواد کھنگالنے، نایاب نسخوں کی فوٹو کاپی یا اسکین کروانے، آن لائن ڈیٹا بیس تک رسائی قائم کرنے اور مطلوبہ ابواب الگ کرنے تک یہ سب کام عموماً شاگرد، ریسرچ اسسٹنٹ یا کوئی کم سن محنتی فرد انجام دیتا ہے۔ اقتباسات ڈھونڈنا، صفحہ نمبر نوٹ کرنا، حوالہ جات کو ترتیب دینا، فوٹ نوٹس بنانا اور کتابیات تیار کرنا بھی اکثر انہی کے حصے میں آتا ہے، جبکہ دانشور صرف تیار شدہ مواد پر نظر ڈال کر اسے اپنی “تحقیق” کا نام دے دیتا ہے۔
مسودہ نویسی کے مرحلے میں بھی یہی انحصار نظر آتا ہے۔ خام خیالات کو تحریری شکل دینا، انگریزی یا کسی دوسری زبان میں ترجمہ کرنا، جملوں کی اصلاح، املا اور رموزِ اوقاف کی درستگی، پیراگراف کی ترتیب، اقتباسات کو ہم آہنگ کرنا اور تحریر کو قابلِ اشاعت بنانا اکثر شاگردوں یا معاونین کا کام ہوتا ہے۔ بعض اوقات لیکچرز یا دروس کے لیے مکمل نوٹس، سلائیڈز، خلاصے اور حوالہ جاتی پرچیاں تیار کی جاتی ہیں، جنہیں استاد محض پڑھ کر یا ان میں معمولی ردوبدل کر کے اپنی علمی کاوش ظاہر کرتا ہے۔ یہاں تک کہ سوال و جواب کے سیشن کے لیے متوقع سوالات اور ان کے جوابات بھی پہلے سے تیار کروائے جاتے ہیں۔
تحقیقی مقالات اور کتب کی اشاعت میں بھی یہ انحصار نمایاں ہوتا ہے۔ جرائد کا انتخاب، ایڈیٹروں سے رابطہ، سبمشن کی تکنیکی کارروائی، ریویورز کے تبصروں کا جواب تیار کرنا، ترمیم شدہ نسخہ دوبارہ جمع کروانا، اور فارمیٹنگ کے تمام تقاضے پورے کرنا بھی عموماً کسی اور کے ذمے ہوتا ہے۔ کانفرنسوں اور سیمیناروں کے لیے مقالہ لکھنا، خلاصہ تیار کرنا، پاورپوائنٹ بنانا، اور سفر و رجسٹریشن کے انتظامات بھی وہ خود نہیں کرتے، مگر اسٹیج پر علمی خطبہ دیتے وقت پورا کریڈٹ اپنے نام سمیٹ لیتے ہیں۔
تدریسی میدان میں بھی یہی صورت حال رہتی ہے۔ نصاب کی تفصیلی تیاری، سوالیہ پرچے بنانا، اسائنمنٹس تیار کرنا، امتحانی کاپیاں چیک کرنا، گریڈز مرتب کرنا اور طلبہ کی رہنمائی کے لیے اضافی مواد تیار کرنا اکثر جونیئر اساتذہ یا تدریسی معاونین کے سپرد ہوتا ہے۔ تھیسس اور مقالہ جات کی نگرانی میں بھی وہ عملی رہنمائی کم دیتے ہیں مگر شاگردوں کی برسوں کی محنت پر اپنا نام بطور سپروائزر نمایاں رکھتے ہیں۔ بعض اوقات شاگردوں کے تحقیقی نتائج کو تھوڑے سے ردوبدل کے ساتھ اپنی تحریروں میں شامل کر لیا جاتا ہے، اور اصل محنت کرنے والا پس منظر میں گم رہتا ہے۔
یہاں تک کہ فکری مباحث اور مناظرانہ تحریروں میں بھی دوسروں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ مخالف نظریات کی فہرست، ان کے جوابات، حوالہ جاتی نصوص، اور تاریخی شواہد پہلے سے جمع کروا لیے جاتے ہیں تاکہ بحث کے وقت دانشور روانی سے گفتگو کر سکے۔ سوشل میڈیا یا اخبارات میں شائع ہونے والے کالم، بیانات اور تجزیے بھی کئی بار شاگردوں یا معاونین کے مسودوں سے جنم لیتے ہیں، جن پر صرف ایک معروف نام کی مہر لگا دی جاتی ہے۔
یوں یہ علمی کام جو بظاہر خالص ذہنی کاوش نظر آتے ہیں، درحقیقت اجتماعی محنت کا نتیجہ ہوتے ہیں، مگر مسئلہ اس اجتماعیّت کا نہیں بلکہ اس کے انکار کا ہے۔ جب دانشور اس محنت کو تسلیم کرنے، اس پر شکر ادا کرنے اور کریڈٹ بانٹنے سے انکار کر دے، تو علم عبادت کے بجائے استحصال بن جاتا ہے، اور تحقیق نور کے بجائے ایک ایسا سایہ بن جاتی ہے جس میں صرف ایک شخص کھڑا نظر آتا ہے، باقی سب اندھیرے میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔
ایسے دانشور جنہیں اپنی فکری حیثیت کا خمار لاحق ہو، وہ دراصل زندگی کے ان تمام معمولی سمجھے جانے والے کاموں سے کتراتے ہیں جن کے بغیر کوئی معاشرہ چل ہی نہیں سکتا۔ وہ اپنے کپڑے خود دھونا یا استری کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں، بستر سمیٹنا، کمرہ صاف کرنا، جھاڑو لگانا، برتن دھونا یا باورچی خانے میں ہاتھ بٹانا ان کے نزدیک ذہنی عظمت کے خلاف ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ کھانا پکانا، سبزی کاٹنا، آٹا گوندھنا یا چولہے کے سامنے کھڑا ہونا فکر کے زوال کا سبب بن جاتا ہے، اس لیے یہ سب کسی اور کی ذمہ داری ہے۔ گھر کے چھوٹے موٹے ٹوٹے کام، نل ٹھیک کرنا، بلب بدلنا، دروازے کا قبضہ کسنا یا پانی کی موٹر دیکھنا بھی ان کے مزاج سے فروتر سمجھے جاتے ہیں۔
یہی رویہ گھر سے باہر بھی ان کے ساتھ چلتا ہے۔ بازار جا کر خود سودا سلف لانا، سبزی والے سے دام طے کرنا، قطار میں کھڑے ہو کر بل جمع کروانا، بینک یا سرکاری دفتر کے چکر لگانا، فارم بھرنا، ڈاک خانے جانا، کوریئر دینا یا وصول کرنا، یہ سب کام وہ اپنے وقت اور مرتبے کے خلاف سمجھتے ہیں۔ گاڑی خود چلانا، پیٹرول ڈلوانا، ٹائر میں ہوا چیک کرنا، گاڑی کی صفائی یا معمولی مرمت کروانا بھی ان کے خیال میں کسی کم تر ذہن کی مصروفیات ہیں۔ سفر کے انتظامات کرنا، ٹکٹ لینا، سامان اٹھانا، ہوٹل میں چیک اِن کرنا یا اپنا بیگ خود سنبھالنا بھی وہ دوسروں کے سپرد کر دیتے ہیں۔
انسانی تعلقات کی عملی ذمہ داریاں بھی انہیں بوجھ محسوس ہوتی ہیں۔ بچوں کو اسکول چھوڑنا، ان کا ہوم ورک دیکھنا، بیمار بچے یا بزرگ کے پاس بیٹھنا، دوا لانا، ڈاکٹر کے پاس لے جانا، کسی عزیز کی تیمارداری کرنا یا جنازے کے انتظامات میں ہاتھ بٹانا بھی ان کے نزدیک وقت کا ضیاع ہے۔ رشتہ داروں سے ملنا، تعزیت یا عیادت کے لیے جانا، شادی یا غمی کے انتظامات میں شریک ہونا، مہمانوں کی خدمت کرنا یا خود کسی کے لیے پانی کا گلاس بھر دینا بھی وہ اپنی فکری مصروفیات کے خلاف سمجھتے ہیں۔
یہاں تک کہ اپنی ذات سے متعلق بنیادی کام بھی انہیں گراں گزرتے ہیں۔ اپنے کپڑوں، جوتوں اور کتابوں کی ترتیب، اپنی صحت کا خیال، ورزش، پیدل چلنا، وقت پر سونا جاگنا، سادہ خوراک پر توجہ دینا، یا نشہ آور عادات سے پرہیز کرنا بھی ان کے نزدیک غیر ضروری تفصیلات ہیں، کیونکہ ان کے خیال میں اصل کام دماغ کرتا ہے، جسم تو محض ایک خادم ہے۔ وہ اپنی زندگی کے اس پورے بوجھ کو خاموشی سے دوسروں کے کندھوں پر رکھ دیتے ہیں اور پھر بھی اسے احسان نہیں بلکہ اپنا استحقاق سمجھتے ہیں، گویا یہ سب معمولی کام کسی اور کے لیے بنائے گئے ہیں اور ان کی عظمت کا تقاضا یہی ہے کہ وہ ان سے مستثنیٰ رہیں۔
یہاں مسئلہ صرف کام نہ کرنے کا نہیں، بلکہ شکرگزاری کے فقدان کا ہے۔ یہ لوگ اس خدمت کو اپنا حق سمجھتے ہیں جو دوسرے انجام دیتے ہیں۔ انہیں نہ ماں کی محنت دکھائی دیتی ہے، نہ بیوی کا تھکا ہوا چہرہ، نہ شاگرد کی عاجزی، نہ معاون کی دوڑ دھوپ۔ ان کے ذہن میں ایک خاموش مگر سخت عقیدہ ہوتا ہے کہ چونکہ وہ “عظیم” کام کر رہے ہیں، اس لیے دوسروں کا چھوٹا ہونا لازم ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں علم، اخلاق سے کٹ جاتا ہے اور دانش، تکبر میں بدل جاتی ہے۔
یہ حماقت زدہ زندگی اس لیے بھی خطرناک ہے کہ یہ نئی نسل کو ایک غلط نمونہ دیتی ہے۔ نوجوان یہ سیکھتے ہیں کہ بڑا بننے کے لیے بڑا انسان بننا ضروری نہیں، بس ایک شناخت، ایک لیبل، ایک خطاب کافی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مطالعہ انسان کو محنت سے آزاد کر دیتا ہے، اور علم، ذمہ داریوں سے چھٹی دلوا دیتا ہے۔ حالانکہ حقیقی علم انسان کو جھکاتا ہے، اسے زیادہ حساس بناتا ہے، اور اسے اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ دوسروں کے بوجھ میں شریک ہو، نہ کہ ان کے کندھوں پر سوار ہو۔
ایسی دانشوری دراصل ذہنی سستی اور اخلاقی فرار کا نام ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے نفس کی کمزوریوں کو فلسفے سے، اپنی کاہلی کو وقار سے، اور اپنی خودغرضی کو تقدس سے ڈھانپ لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ وہ سوچتے ہیں اس لیے انہیں جینا نہیں چاہیے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جو جینا نہیں سیکھتا وہ سوچنے کا حق بھی آہستہ آہستہ کھو دیتا ہے۔ فکر اگر زمین سے نہ جڑی ہو تو وہ بادل تو بن سکتی ہے، بارش نہیں۔
اصل عظمت اس میں نہیں کہ انسان کتاب لکھے اور لوگ اس کے لیے جئیں، بلکہ اس میں ہے کہ انسان کتاب بھی لکھے اور انسانوں کی طرح جیے بھی۔ وہ اپنی تخلیق کے ساتھ اپنی زندگی کو بھی بامعنی بنائے، خدمت لے بھی اور شکر بھی ادا کرے، علم رکھے بھی اور انکسار بھی۔ اس کے بغیر دانشوری محض ایک نفسیاتی بیماری ہے جس میں انسان خود کو بہت بڑا سمجھتے سمجھتے انسان ہونا ہی بھول جاتا ہے۔
