بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
حوزۂ علمیہ میں رائج دو تعلیمی نظام دراصل علم کے دو مختلف تصورات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک وہ نظام ہے جو جدید دانشگاہی سانچے کے قریب ہے، جہاں نصاب، درجات، امتحانات اور تحقیق کی انتہا پی ایچ ڈی جیسے عنوانات پر ختم ہوتی ہے۔ دوسرا وہ قدیم پایہ نظام ہے جو مرحلہ وار علمی تربیت کے بعد انسان کو اجتہاد کے مقام تک پہنچانے کا دعویٰ رکھتا ہے۔ ان دونوں نظاموں کا تقابل دراصل اس سوال کا تقابل ہے کہ قرآن اور معصومینؑ کی نظر میں علم کی غایت کیا ہے اور علم انسان کو کہاں تک لے جانا چاہتا ہے۔
قرآن مجید علم کو محض ذہنی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ نور قرار دیتا ہے جو انسان کو اللہ کی معرفت، خشیت اور اطاعت تک پہنچاتا ہے۔ قرآن میں علم کا بار بار ذکر اس سیاق میں آتا ہے جہاں وہ ایمان، عملِ صالح اور تقویٰ سے جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ معصومینؑ کی سیرت میں بھی علم کا مقصد فتوے دینا یا اصطلاحی مہارت نہیں بلکہ انسان کو حق کے مطابق زندگی گزارنے کے قابل بنانا ہے۔ امام علیؑ علم کو دل میں اتارے جانے والا نور قرار دیتے ہیں، نہ کہ صرف زبان یا ذہن کی چابیاں۔ اس قرآنی و معصومی تصور کو سامنے رکھا جائے تو اصل سوال یہ بنتا ہے کہ کون سا نظام انسان کے اندر یہ نور پیدا کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔
دانشگاہی طرز پر قائم حوزوی نظام، اپنی ساخت کے اعتبار سے جدید تعلیمی دنیا سے ہم آہنگ ہے۔ اس میں نظم، معیار، تحریری تحقیق، حوالہ جاتی ضبط اور موضوعی تخصص جیسی خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ پی ایچ ڈی کی سطح تک پہنچنے والا طالب علم کسی خاص موضوع میں گہرائی پیدا کرتا ہے، متون کا تنقیدی مطالعہ سیکھتا ہے اور علمی روایت میں تحریری اضافہ کرتا ہے۔ یہ نظام حوزہ کو عالمی علمی مکالمے سے جوڑنے اور جدید سوالات کی زبان میں بات کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ لیکن اس نظام کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ اس کی علمی انتہا ایک تحقیقی سند پر ختم ہو جاتی ہے۔ یہاں علم کا معیار یہ نہیں ہوتا کہ طالب علم حق کو پہچاننے میں کتنا پختہ ہوا ہے، بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس نے کس درجے کی تحقیق پیش کی ہے۔
اس کے مقابلے میں پایہ نظام، جو فقہ و اصول کے تدریجی مراحل سے گزرتا ہے، اپنی انتہا اجتہاد پر رکھتا ہے۔ اجتہاد محض علمی مہارت نہیں بلکہ ایک وجودی اہلیت ہے۔ مجتہد وہ ہوتا ہے جو قرآن، سنتِ معصومینؑ، عقل اور اجماع کو اس درجے میں سمجھ لے کہ نئے مسائل میں خود حکمِ شرعی تک پہنچ سکے۔ یہ مقام صرف کتابیں پڑھ لینے سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے برسوں کی ذہنی ریاضت، فقہی ذوق، تقویٰ، احتیاط اور خوفِ خدا درکار ہوتا ہے۔ اسی لیے روایات میں فتویٰ دینے کو آگ کے کنارے کھڑے ہونے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ یہ احساسِ خطر اجتہاد کو محض علمی نہیں بلکہ اخلاقی مقام بنا دیتا ہے۔
قرآن و معصومینؑ کی تعلیمات میں علم ہمیشہ عمل اور ذمہ داری سے جڑا ہوا نظر آتا ہے۔ اجتہاد چونکہ براہِ راست امت کی ہدایت، حلال و حرام کے تعین اور معاشرتی عدل سے مربوط ہے، اس لیے وہ اس قرآنی تصور سے زیادہ قرب رکھتا ہے۔ مجتہد کا علم اگر خطا کرے تو اس کے نتائج پوری امت پر پڑ سکتے ہیں، اس لیے اس نظام میں علم کے ساتھ خوف، تواضع اور احتیاط لازمی شرائط ہیں۔ یہی وہ عناصر ہیں جو علم کو نور بناتے ہیں، نہ کہ محض طاقت۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ دانشگاہی نظام غیر قرآنی ہے یا بے فائدہ ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جدید دنیا کے فکری چیلنجز کا جواب دینے کے لیے تحقیق، زبان، منہج اور اکیڈمک ڈسپلن ناگزیر ہو چکے ہیں۔ لیکن جب اس نظام کو علم کی انتہا سمجھ لیا جائے تو علم اپنی اصل غایت کھو دیتا ہے۔ قرآن و معصومینؑ کی نگاہ میں علم کا معیار یہ نہیں کہ انسان کتنا لکھ سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ حق کے کتنا قریب ہوا ہے اور باطل سے کتنا محتاط ہو گیا ہے۔
اگر دونوں نظاموں کو قرآن و اہل بیتؑ کے میزان پر تولا جائے تو پایہ نظام، اپنی اصل روح میں، زیادہ قریب نظر آتا ہے کیونکہ اس کی انتہا اجتہاد ہے اور اجتہاد عبدیت، تقویٰ اور ذمہ داری کے بغیر ممکن نہیں۔ البتہ ایک مثالی صورت وہی ہو سکتی ہے جہاں پایہ نظام کی روح اور اجتہاد کی غایت، دانشگاہی نظام کی تحقیق، نظم اور عالمی مکالمے کی صلاحیت سے جڑ جائے۔ ایسی صورت میں علم نہ صرف قرآن و معصومینؑ کے قریب رہے گا بلکہ زمانے کے سوالات کا جواب دینے کے قابل بھی ہوگا۔
