بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
آج 13 مارچ 2026ء کو، جب ایران اور اسرائیل کی جنگ مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے اور دنیا بھر کی قومیں تباہی کے دہانے پر کھڑی نظر آتی ہیں، تو انسانیت کا ایک مشترکہ سوال ہے جو صدیوں سے دہرایا جا رہا ہے کہ کیا اس تباہی کے بعد کوئی نجات دہندہ آئے گا؟ یہ سوال محض مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے تقریباً تمام بڑے مذاہب میں “منجی بشریت” کا تصور موجود ہے۔ ہر مذہب اپنی مقدس کتابوں اور روایات میں ایک ایسے رہنما کا ذکر کرتا ہے جو آخری زمانے میں ظاہر ہو کر دنیا کو ظلم، جبر اور فساد سے پاک کرے گا اور عدل و انصاف کا بول بالا کرے گا ۔
اسلام میں منجی بشریت کو امام مہدی علیہ السلام کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسلامی عقیدے کے مطابق مہدی وہ ہدایت یافتہ رہنما ہیں جو آخر زمانے میں ظاہر ہوں گے اور دنیا کو ظلم و جور سے بھرنے کے بعد عدل و انصاف سے بھر دیں گے ۔ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل سے ہوں گے اور ان کا ظہور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے پہلے یا ان کے ساتھ ہوگا ۔ اگرچہ قرآن مجید میں مہدی کا نام نہیں آیا، لیکن احادیث کی متعدد کتب میں ان کے ظہور کی تفصیلات موجود ہیں، تاہم صحیح بخاری اور صحیح مسلم جیسی معتبر ترین کتب میں ان کا ذکر نہ ہونے کی وجہ سے بعض اہل سنت علما نے مہدی کے تصور کو کلی طور پر تسلیم نہیں کیا ۔ اس کے برعکس اثنا عشری شیعہ عقیدے میں مہدی کا تصور بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ شیعہ اثنا عشریہ کے نزدیک امام مہدی علیہ السلام امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں جو 874ء میں اللہ کے حکم سے غیبت میں چلے گئے اور ایک دن ظاہر ہو کر دنیا کو عدل سے بھر دیں گے ۔
یہ بات قابل غور ہے کہ اسلام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بھی آخر زمانے کی ایک بڑی علامت ہے۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، جو دو ہزار سال پہلے آسمان پر اٹھا لیے گئے تھے، آخر زمانے میں دوبارہ زمین پر تشریف لائیں گے، دجال کا خاتمہ کریں گے اور عدل و انصاف قائم کریں گے ۔ اسلامی نقطۂ نظر سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ دوبارہ آنا ان کے الوہیت کے عقیدے کی نفی کرتا ہے اور انہیں ایک محترم نبی کے طور پر پیش کرتا ہے ۔
یہودیت میں منجی بشریت کو مسیح (ماشیح) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہودی عقیدے کے مطابق مسیح ایک ایسا رہنما ہوگا جو بنی اسرائیل کو جمع کرے گا، ہیکل سلیمانی کو دوبارہ تعمیر کرے گا اور پوری دنیا میں خدا کی بادشاہت قائم کرے گا ۔ یہودی مسیح کے منتظر ہیں اور ان کا خیال ہے کہ وہ داؤد علیہ السلام کی نسل سے ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسلامی روایات میں امام مہدی علیہ السلام کا سلسلۂ نسب بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوتا ہوا بنی اسرائیل تک پہنچتا ہے، جس سے دونوں مذاہب کے منجی کے درمیان ایک روحانی ربط قائم ہوتا ہے ۔
مسیحیت میں منجی بشریت کا تصور بنیادی طور پر یسوع مسیح کی دوسری آمد (Second Coming) سے وابستہ ہے۔ عیسائی عقیدے کے مطابق یسوع مسیح، جو صلیب پر چڑھائے جانے کے بعد زندہ ہو کر آسمان پر اٹھا لیے گئے تھے، ایک دن دوبارہ زمین پر “جلال کے ساتھ” تشریف لائیں گے تاکہ زندوں اور مردوں کا انصاف کریں اور اپنی بادشاہت قائم کریں ۔ اگرچہ اس دوسری آمد کا وقت کوئی نہیں جانتا، لیکن عیسائیوں کا ماننا ہے کہ اس سے پہلے جنگیں، زلزلے، قحط اور شدید مذہبی آزمائشیں رونما ہوں گی ۔ کیتھولک چرچ کی تعلیمات کے مطابق یہ آمد اچانک اور غیر متوقع طور پر ہوگی اور اس کے بعد مردوں کا جی اٹھنا اور آخری فیصلہ ہوگا ۔
ہندو مت میں منجی بشریت کو کلکی اوتار کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہندو عقیدے کے مطابق وشنو کے دسویں اور آخری اوتار کلکی کا ظہور کلی یوگ (ظلم اور جہالت کے دور) کے آخر میں ہوگا ۔ وہ ایک سفید گھوڑے پر سوار، ہاتھ میں تلوار لیے ظاہر ہوں گے اور اس وقت کے ظالم اور خدا سے منحرف حکمرانوں کا خاتمہ کریں گے۔ ان کی آمد کے بعد ستیہ یوگ (عہد صداقت) کا آغاز ہوگا، جب انسانیت دوبارہ راست بازی کی طرف لوٹ آئے گی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندو روایات میں کلکی کے ظہور کی جگہ “سمبھالا” نامی گاؤں بتایا گیا ہے، جبکہ بدھ مت میں بھی مستقبل کے بدھ “متریا” کا تعلق اسی سمبھالا سے جوڑا جاتا ہے ۔
بدھ مت میں منجی بشریت کا تصور متریا (Maitreya) سے وابستہ ہے۔ متریا وہ بودھی ستوا ہیں جو اس وقت توشیتا جنت میں مقیم ہیں اور مستقبل میں گوتم بدھ کے بعد اگلے بدھ کی حیثیت سے زمین پر ظاہر ہوں گے ۔ ان کا نام “محبت کرنے والا” کے معنی میں ہے اور وہ ایک ایسے دور میں آئیں گے جب دنیا میں دھرم (بدھ کی تعلیمات) کو بھلا دیا جائے گا ۔ چینی زبان میں انہیں می لو فو (Mi Le Fo) اور جاپانی میں می رو کو (Miroku) کہا جاتا ہے، اور وہ مشرقی ایشیا میں انتہائی مقبول ہیں ۔
زرتشتیت میں منجی بشریت کو سوشیانت (Saoshyant) کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ اوستائی زبان سے ماخوذ ہے جس کا معنی “فائدہ پہنچانے والا” ہے ۔ زرتشتیت کی مقدس کتابوں کے مطابق سوشیانت ایک ایسا منجی ہوگا جو آخر زمانے میں ایک جھیل سے ظاہر ہوگا اور دنیا کی حتمی تجدید (Frashokereti) کرے گا۔ وہ مردوں کو زندہ کرے گا، برائی کا خاتمہ کرے گا اور دنیا کو ہمیشہ کی سچائی اور پاکیزگی کی طرف لے جائے گا ۔ بعد کی زرتشتی روایات میں تین منجیوں کا ذکر ملتا ہے جو ہزار سال کے وقفے سے آئیں گے، اور آخری ان میں سب سے بڑا سوشیانت ہوگا ۔
ان تمام مذاہب کے منجی کے تصورات میں ایک قابل ذکر چیز مشترک ہے کہ وہ سب ایک ایسے عظیم رہنما کی پیشگوئی کرتے ہیں جو دنیا کو بچانے کے لیے آئے گا۔ یہ پیشگوئیاں صدیوں پرانی ہیں لیکن آج 13 مارچ 2026ء کو جب مشرق وسطیٰ میں میزائل برس رہے ہیں، جب توانائی کا بحران ہے اور جب انسانیت ایک عظیم جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے، تو یہ پیشگوئیاں ایک بار پھر اپنی مطابقت کھو چکی ہیں اور ایک نئی معنویت اختیار کر رہی ہیں۔
ایران اور اسرائیل کی موجودہ جنگ میں امام مہدی علیہ السلام کے تصور کو دونوں طرف سے تبلیغات کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایرانی قیادت نے اپنے میزائلوں کو “الوعد الصادق” (سچا وعدہ) کا نام دیا ہے اور مسجد جمکران پر سرخ جھنڈا لہرا کر عوام کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں کر رہے بلکہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کا راستہ ہموار کر رہے ہیں ۔ دوسری طرف اسرائیل بھی اپنی بقا کی جنگ کو مسیح کی آمد کی تیاری کے طور پر دیکھتا ہے۔
لیکن کیا یہ تمام جنگیں اور تباہیاں واقعی ان منجیوں کی آمد کی نشانی ہیں؟ یا پھر انسانیت خود اپنی تباہی خود کر رہی ہے اور مذہبی پیشگوئیوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے؟ حقیقت شاید دونوں ہے۔ ایک طرف یہ مذاہب کی مقدس کتابیں آخری زمانے کی جو نشانیاں بتاتی ہیں، وہ آج ہمارے سامنے عیاں ہیں جنگیں، فساد، اخلاقی زوال، اور مذہبی اقدار کا خاتمہ۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ان پیشگوئیوں کو سیاست دانوں نے اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا ہے اور عوام کو جذباتی اور مذہبی بیانیے میں الجھا کر ان کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹا دی ہے۔
بہر حال، جو چیز تمام مذاہب میں مشترک ہے وہ یہ ہے کہ آخر زمانے میں ایک منجی آئے گا جو دنیا کو بچائے گا۔ یہ تصور انسانیت کی فطرت میں موجود امید کی علامت ہے کہ جب تاریکی اپنے عروج پر ہوتی ہے تو روشنی ضرور آتی ہے۔ اور شاید اسی امید کی وجہ سے انسان صدیوں سے ان مصلحین کا انتظار کر رہا ہے۔ لیکن اس انتظار کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم خود کچھ نہ کریں۔ حقیقی تبدیلی اس وقت آئے گی جب انسانیت ان مذہبی پیشگوئیوں کو محض عقیدے کی سطح پر نہ رہنے دے بلکہ ان پر عمل کرے، جب وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائے، جب وہ عدل قائم کرے اور جب وہ جنگ کے بجائے امن کو فروغ دے۔
آج 13 مارچ 2026ء کو جب انسانیت ایک بار پھر تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے، شاید ہمیں ان تمام مذاہب کی اس مشترکہ تعلیم پر غور کرنا چاہیے کہ ہم سب ایک ہی خدا کی مخلوق ہیں، ہم سب ایک ہی زمین پر رہتے ہیں، اور ہم سب کا انجام ایک ہی ہے۔ شاید اسی میں ہماری نجات ہے، اور شاید یہی وہ منجی ہے جس کا ہم انتظار کر رہے ہیں ایک منجی جو کسی خاص نسل، مذہب یا قوم کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے آئے گا، اور وہ اس وقت آئے گا جب انسانیت خود اس کے لیے تیار ہوگی۔
