بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
اہلِ سنت کی غالب فکری روایت میں امام علیؑ کی گوشہ نشینی، امام حسنؑ کی صلح اور امام حسینؑ کے قیام کو جس تعبیر، تعمیم اور اطلاق کے ساتھ پیش کیا گیا، اس میں اصل سقم واقعات میں نہیں بلکہ ان کے باہمی ربط کو توڑ دینے اور ہر واقعے کو ایک الگ، غیر مربوط اخلاقی اصول بنا دینے میں ہے۔ اس اپروچ نے تاریخ کو ایک مربوط اخلاقی منہج کے بجائے چند محفوظ واقعات میں تقسیم کر دیا، جنہیں زیادہ تر “فتنہ سے اجتناب” کے ایک ہی زاویے سے پڑھا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ حق و باطل کی جدلیات، طاقت اور اخلاق کے توازن، اور وقت و حالات کے مطابق ذمہ داری کے تصور کو سمجھنے کی صلاحیت کمزور پڑ گئی۔
اہلِ سنت تعبیر میں امام علیؑ کی گوشہ نشینی کو عموماً صبر، خاموشی اور وحدت کی خاطر حق سے دستبرداری کے ایک مثالی نمونے کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہاں سقم یہ پیدا ہوا کہ اس گوشہ نشینی کو ایک ہمہ وقتی اخلاقی اصول بنا دیا گیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امام علیؑ کی خاموشی ایک مجبوری، ایک حکمت اور ایک وقتی ترجیح تھی، نہ کہ ظلم یا انحراف پر دائمی رضامندی۔ اہلِ سنت اپروچ میں اس نکتے کو کمزور کر دیا گیا کہ امام علیؑ نے حق چھوڑا نہیں تھا بلکہ حق کو زندہ رکھنے کے لیے وقتی طور پر اس کے عملی نفاذ سے ہاتھ روکا تھا۔ جب اس حکمت کو عمومی قاعدہ بنا دیا گیا تو بعد کی تاریخ میں حق کے حامل طبقوں کو یہ پیغام ملا کہ باطل کے غلبے کے سامنے خاموشی ہی اصل دینی وقار ہے۔
امام حسنؑ کی صلح کے باب میں یہی اپروچ مزید گہری ہو جاتی ہے۔ اہلِ سنت روایت نے اس صلح کو ایک مستقل سیاسی اخلاقیات میں ڈھال دیا، جہاں مفاہمت بذاتِ خود مقصد بن گئی، نہ کہ ایک خاص صورتحال کا حل۔ سقم یہ ہے کہ صلحِ حسنؑ کو اس کے سیاق، شرائط اور عارضی نوعیت سے کاٹ کر پیش کیا گیا۔ یوں یہ تاثر مضبوط ہوا کہ جب بھی طاقت کا توازن بگڑ جائے یا باطل منظم ہو جائے تو حق کی ذمہ داری بس پیچھے ہٹ جانا ہے۔ اس تعبیر نے اہلِ سنت اجتماعی شعور میں مزاحمت کے تصور کو مشتبہ اور خطرناک بنا دیا، حالانکہ امام حسنؑ کی صلح دراصل مزاحمت کی ہی ایک اعلیٰ شکل تھی، مگر اسے نظریاتی کمزوری کے طور پر پڑھا گیا۔
اس کے برعکس امام حسینؑ کے قیام کو اہلِ سنت اپروچ میں یا تو ایک استثنائی واقعہ بنا دیا گیا یا محض ایک اخلاقی سانحہ، جس سے جذباتی وابستگی تو پیدا کی گئی مگر عملی رہنمائی بہت محدود کر دی گئی۔ قیامِ حسینؑ کو ایک قابلِ تقلید منہج کے بجائے ایک ناقابلِ تکرار قربانی کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہاں سقم یہ ہے کہ جب حق و باطل کی سرحدیں بالکل واضح ہو جائیں، جب ظلم نظام بن جائے اور جب مفاہمت خود باطل کی تقویت بننے لگے، تو قیام ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اہلِ سنت تعبیر نے اس نکتے کو دبا دیا اور یوں قیامِ حسینؑ کو تاریخ میں قید کر دیا، حال میں زندہ نہ رہنے دیا۔
ان تینوں واقعات کو الگ الگ اور غیر مربوط انداز میں پڑھنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اہلِ سنت اپروچ میں ایک غیر متوازن اخلاقیات جنم لیتی ہے، جہاں صبر، خاموشی اور مفاہمت تو عمومی اصول بن جاتے ہیں مگر قیام، مزاحمت اور انکارِ باطل ایک خطرناک استثنا ٹھہرتے ہیں۔ اس فکری عدم توازن نے عصرِ حاضر میں اہلِ سنت کو حق و باطل کی نبرد میں پیچھے رکھا، کیونکہ جدید باطل نہ صرف منظم ہے بلکہ نظریاتی، معاشی اور تہذیبی سطح پر بھی حملہ آور ہے۔ ایسے باطل کے مقابل صرف خاموشی اور مفاہمت دراصل اس کی مدد بن جاتی ہے۔
عصرِ حاضر میں اس سقم کا عملی اثر یہ ہے کہ اہلِ سنت اکثریتی ہونے کے باوجود عالمی ظلم، استعماری نظاموں اور داخلی آمریتوں کے سامنے واضح، اجتماعی اور اخلاقی مزاحمت پیدا نہیں کر پاتے۔ امام علیؑ کی گوشہ نشینی کو دلیل بنا کر حق گوئی سے گریز کیا جاتا ہے، امام حسنؑ کی صلح کے نام پر ظالم قوتوں کے ساتھ سمجھوتے کیے جاتے ہیں، اور امام حسینؑ کے قیام کو محض منبر اور ماتم تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ یوں حق و باطل کی عملی سرحد دھندلا جاتی ہے۔
اصل سقم یہ ہے کہ اہلِ سنت اپروچ نے ان تینوں ائمہ کے مناہج کو ایک مسلسل، ارتقائی اور مربوط حقانی منہج کے طور پر نہیں دیکھا۔ اگر دیکھا جاتا تو یہ واضح ہوتا کہ حق کبھی خاموشی مانگتا ہے، کبھی مفاہمت، اور کبھی قیام—مگر ہر صورت میں حق، حق ہی رہتا ہے اور باطل کے ساتھ دائمی سمجھوتہ کبھی مطلوب نہیں ہوتا۔ اس ربط کے ٹوٹ جانے نے اہلِ سنت کو فکری طور پر محتاط، اخلاقی طور پر دفاعی اور سیاسی طور پر پیچھے کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج حق و باطل کی فیصلہ کن نبرد میں ان کی تعداد تو بہت ہے، مگر سمت، جرات اور واضح موقف کمزور نظر آتا ہے۔
اہلِ سنت کی رائج اپروچ کے مقابل جب ہم حقیقی تاریخ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو سب سے پہلی بات جو سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ امام علیؑ کی گوشہ نشینی، امام حسنؑ کی صلح اور امام حسینؑ کا قیام تین الگ الگ اخلاقی راستے نہیں تھے بلکہ ایک ہی حقانی منصوبے کے تین مسلسل مراحل تھے، جو حالات کے بدلنے کے ساتھ اپنی شکل بدلتا رہا مگر اپنی روح میں ایک ہی رہا۔ حقیقی تاریخ میں یہ تینوں رویّے باہم متضاد نہیں بلکہ مکمل طور پر مربوط ہیں، جبکہ اہلِ سنت کی اپروچ نے انہیں الگ الگ خانوں میں ڈال کر ان کے اندرونی ربط کو توڑ دیا۔
تاریخی حقیقت یہ ہے کہ امام علیؑ کی گوشہ نشینی کسی اصولی خاموشی یا دائمی صبر کی تعلیم نہیں تھی بلکہ ایک عارضی حکمتِ عملی تھی، جس کا مقصد نوخیز اسلامی معاشرے کو داخلی ٹوٹ پھوٹ سے بچانا تھا۔ خود امام علیؑ کے خطبات، خصوصاً نہج البلاغہ میں، اس بات کی صریح شہادت موجود ہے کہ انہوں نے اپنے حق کو ترک نہیں کیا بلکہ حالات کے جبر کے تحت اسے مؤخر کیا۔ حقیقی تاریخ میں امام علیؑ خاموش نہیں تھے؛ وہ فکری، اخلاقی اور علمی سطح پر مسلسل حق واضح کر رہے تھے۔ اہلِ سنت کی اپروچ نے اس گوشہ نشینی کو اس طرح پیش کیا جیسے امام علیؑ نے عملاً سیاسی حق سے دستبرداری اختیار کر لی ہو، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک منتظرِ موقع حق تھے، نہ کہ منکرِ حق۔
اسی طرح حقیقی تاریخ میں امام حسنؑ کی صلح کسی مطلق مفاہمتی نظریے کا اعلان نہیں تھی بلکہ ایک ایسی مجبورانہ حکمت تھی جو ایک بکھرے ہوئے لشکر، اندرونی غداری، عوامی تھکن اور مسلسل خانہ جنگی کے تناظر میں اختیار کی گئی۔ تاریخی مصادر، جنہیں اہلِ سنت بھی معتبر مانتے ہیں، واضح کرتے ہیں کہ امام حسنؑ کا لشکر اندر سے ٹوٹ چکا تھا اور جنگ کا جاری رہنا حق کی بقا کے بجائے اس کے مٹ جانے کا سبب بن سکتا تھا۔ حقیقی تاریخ میں صلح کا مطلب باطل کو حق تسلیم کرنا نہیں تھا بلکہ حق کو مستقبل کے لیے محفوظ کرنا تھا۔ اہلِ سنت اپروچ نے اس صلح کو ایک دائمی اخلاقی قاعدہ بنا دیا، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ حق ہمیشہ پیچھے ہٹنے میں ہی محفوظ رہتا ہے، حالانکہ تاریخ اس کے برعکس بتاتی ہے۔
امام حسینؑ کے قیام کی حقیقی تاریخی تعبیر یہ ہے کہ یہ کوئی جذباتی یا اچانک فیصلہ نہیں تھا بلکہ اسی مسلسل منہجِ حق کا وہ مرحلہ تھا جہاں خاموشی اور مفاہمت دونوں باطل کی تقویت بن چکی تھیں۔ یزیدی نظام میں انحراف محض فردی نہیں بلکہ ادارہ جاتی اور نظریاتی ہو چکا تھا۔ یہاں قیام حق کی بقا کے لیے واحد راستہ رہ گیا تھا۔ حقیقی تاریخ میں امام حسینؑ نے قیام کو نہ صرف جائز بلکہ واجب سمجھا، کیونکہ اب مسئلہ اقتدار کا نہیں بلکہ دین کی روح کے مسخ ہونے کا تھا۔ اہلِ سنت اپروچ نے اس قیام کو ایک استثنائی سانحہ بنا کر پیش کیا، جس سے یہ نتیجہ نکلا کہ ایسے حالات دوبارہ پیدا ہی نہیں ہوتے، حالانکہ تاریخ بار بار بتاتی ہے کہ یزیدیت ایک مزاج ہے، کوئی ایک شخص نہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اہلِ سنت کی یہ اپروچ پیدا کیوں ہوئی؟ اس کے اسباب محض علمی نہیں بلکہ گہرے سیاسی، سماجی اور نفسیاتی ہیں۔ سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ خلافتِ راشدہ کے بعد جو سیاسی نظم وجود میں آیا، اس کو دینی جواز درکار تھا۔ اس جواز کے لیے ایسی تعبیرات کو فروغ دیا گیا جو اقتدار کو چیلنج کرنے کے بجائے اس کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔ صبر، اطاعت اور فتنہ سے اجتناب کو مرکزی اقدار بنایا گیا، جبکہ حق کے لیے قیام کو خطرناک اور انتشار پسند عمل کے طور پر پیش کیا گیا۔
ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ اہلِ سنت علمی روایت میں سیاسی فقہ کا ارتقا زیادہ تر موجودہ طاقتوں کے سائے میں ہوا۔ محدثین اور فقہاء نے خونریزی سے بچنے کے خوف سے ایسے اصول وضع کیے جو عوام کو بغاوت سے دور رکھیں۔ یہ خوف ایک حد تک قابلِ فہم تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ خوف ایک مستقل ذہنیت بن گیا۔ نتیجتاً تاریخ کو اس طرح پڑھا گیا کہ ہر قیام مشتبہ اور ہر مفاہمت مقدس نظر آنے لگی۔
نفسیاتی سطح پر ایک سبب یہ بھی ہے کہ اہلِ سنت اکثریت میں رہے ہیں۔ اکثریت عموماً استحکام کی خواہاں ہوتی ہے، تبدیلی کی نہیں۔ اس مزاج نے بھی ایسی تعبیرات کو تقویت دی جو موجودہ نظم کو برقرار رکھیں، چاہے وہ نظم اخلاقی طور پر کمزور ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے برعکس اقلیت میں رہنے والے طبقات تاریخ کو زیادہ مزاحمتی زاویے سے دیکھتے ہیں۔
یوں حقیقی تاریخ اور اہلِ سنت کی رائج اپروچ کے درمیان فرق یہ نہیں کہ ایک حق ہے اور دوسری باطل، بلکہ فرق یہ ہے کہ ایک حرکی، سیاقی اور ارتقائی ہے جبکہ دوسری جامد، دفاعی اور اسٹیٹس کو پرست بن چکی ہے۔ حقیقی تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حق کبھی خاموشی مانگتا ہے، کبھی صلح اور کبھی قیام، مگر ہر حال میں باطل سے قلبی، فکری اور عملی براءت ضروری ہے۔ اہلِ سنت اپروچ نے اسی براءت کو کمزور کیا، اور یہی کمزوری عصرِ حاضر میں حق و باطل کی نبرد میں ان کے پیچھے رہ جانے کی اصل وجہ بنی۔
عصرِ حاضر میں اہلِ سنت کے سامنے جب تاریخ ایک بار پھر زندہ ہو کر کھڑی ہے، جب ماضی کے حق و باطل اب صرف کتابی واقعات نہیں رہے بلکہ معاصر صورتوں میں مجسم ہو چکے ہیں، اس کے باوجود اگر وہ اجتماعی طور پر ماضی کے حق کی حمایت اور ماضی کے باطل کی مخالفت پر آمادہ نہیں ہو پا رہے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق و باطل مبہم ہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حق و باطل کی پہچان کے باوجود اس پہچان کے تقاضے قبول کرنے کی اخلاقی اور عملی قیمت ادا کرنے کی آمادگی پیدا نہیں ہو سکی۔
سب سے گہرا سبب یہ ہے کہ اہلِ سنت کے اجتماعی شعور میں تاریخ کو ایک بند باب کے طور پر پڑھایا گیا ہے، نہ کہ ایک جاری سنّت کے طور پر۔ ماضی کے حق کو “ہم مانتے ہیں کہ وہ حق پر تھا” کہہ کر محفوظ کر لیا گیا، اور ماضی کے باطل کو “وہ غلط تھا، مگر وہ گزر گیا” کہہ کر تاریخ کے میوزیم میں رکھ دیا گیا۔ اس اپروچ نے حق و باطل کو زندہ سوال بننے سے روک دیا۔ یوں اہلِ سنت ماضی کے حق کو اخلاقی طور پر تسلیم تو کرتے ہیں، مگر اسے حال میں اختیار کرنے کو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتے۔ تاریخ ان کے لیے آئینہ نہیں، بلکہ تسلی بن جاتی ہے۔
ایک بنیادی سبب یہ بھی ہے کہ اہلِ سنت کی دینی تربیت میں نتائج سے خوف، حق سے وابستگی پر غالب آ چکا ہے۔ ماضی کے حق کو ماننے کا مطلب یہ نہیں کہ اس حق کی قیمت بھی چکائی جائے۔ امام علیؑ، امام حسنؑ اور امام حسینؑ کی حقانیت کو تسلیم کرنا آسان ہے، مگر ان کے راستے پر چلنے کا مطلب سماجی تنہائی، ریاستی دباؤ، معاشی نقصان اور “فتنہ پسند” کہلانے کا خطرہ مول لینا ہے۔ اہلِ سنت کی اکثریت نے لاشعوری طور پر یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ حق کو مان لینا کافی ہے، اس کے لیے کھڑا ہونا ضروری نہیں۔
ایک اور گہرا سبب یہ ہے کہ اہلِ سنت کے ہاں ماضی کے باطل کو افراد تک محدود کر دیا گیا ہے، نظام تک نہیں پھیلنے دیا گیا۔ یزید کو ایک “برا شخص” مان لیا جاتا ہے، مگر یزیدیت کو ایک مسلسل سیاسی و تہذیبی مزاج کے طور پر پہچاننے سے گریز کیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب وہی مزاج، وہی جبر، وہی تقدیسِ طاقت اور وہی تحریفِ دین نئے ناموں اور نئے نعروں کے ساتھ سامنے آتی ہے تو اہلِ سنت اسے پہچاننے کے باوجود “ماضی جیسا” ماننے سے ہچکچاتے ہیں۔ کیونکہ اگر یہ مان لیا جائے کہ یزیدیت آج بھی زندہ ہے تو پھر خاموشی کا کوئی دینی جواز باقی نہیں رہتا۔
اہلِ سنت کو آج بھی آمادہ نہ کر پانے کا ایک بڑا سبب اطاعتِ نظم کو حق پر فوقیت دینا ہے۔ جدید ریاست، قومی مفاد، سلامتی، فرقہ وارانہ توازن اور عالمی سیاست کے نام پر ایسے دلائل دیے جاتے ہیں جو ماضی میں بھی طاقتور طبقے دیا کرتے تھے۔ یوں اہلِ سنت یہ تو جانتے ہیں کہ ماضی میں حق کہاں تھا، مگر حال میں وہی حق “غیر حقیقت پسندانہ”، “غیر عملی” یا “مزید نقصان دہ” قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ وہی ذہنیت ہے جو کربلا کے وقت کہتی تھی کہ حسینؑ حق پر ہیں، مگر خروج کا وقت درست نہیں۔
ایک نہایت خاموش مگر مؤثر سبب سماجی قبولیت کی خواہش ہے۔ اہلِ سنت چونکہ اکثریت میں ہیں، اس لیے ان کی مذہبی شناخت بھی استحکام، نظم اور معمول کے ساتھ جڑ چکی ہے۔ ماضی کے حق کی کھل کر حمایت کرنا اور باطل کی مخالفت کرنا اکثر سماجی کشیدگی، تعلقات کی خرابی اور فرقہ وارانہ لیبلنگ کا باعث بنتا ہے۔ نتیجتاً ایک “محفوظ دینداری” اختیار کر لی جاتی ہے جس میں ایمان بھی محفوظ رہتا ہے اور سماجی حیثیت بھی۔
ایک اور اہم سبب یہ ہے کہ اہلِ سنت کی فکری روایت میں مظلوم کی حمایت کو اصول کے بجائے ہمدردی تک محدود کر دیا گیا ہے۔ مظلوم کے لیے دعا، افسوس اور جذباتی وابستگی تو موجود ہے، مگر اس کے ساتھ کھڑے ہونے کو سیاسی یا فرقہ وارانہ عمل سمجھا جاتا ہے۔ یوں ماضی کے حق کے ساتھ قلبی محبت تو باقی رہتی ہے، مگر اس محبت کا عملی اظہار غائب ہو جاتا ہے۔
لہذا سب سے بنیادی سبب یہ ہے کہ اہلِ سنت نے حق کو ایک تاریخی سچ تو مان لیا ہے، مگر ایک حاضر ذمہ داری کے طور پر قبول نہیں کیا۔ وہ جانتے ہیں کہ ماضی میں کون درست تھا اور کون غلط، مگر یہ سوال اپنے سامنے رکھنے سے گریز کرتے ہیں کہ اگر ہم اس وقت ہوتے تو کہاں کھڑے ہوتے، اور اگر آج وہی صورت حال مختلف ناموں سے موجود ہے تو ہمیں کہاں کھڑا ہونا چاہیے۔
اسی خلا کی وجہ سے تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔ کردار بدل گئے ہیں، زبان بدل گئی ہے، نعروں کی نوعیت بدل گئی ہے، مگر حق کے ساتھ کھڑے ہونے کی قیمت آج بھی وہی ہے جو کل تھی۔ اور جب تک اہلِ سنت کی اکثریت یہ فیصلہ نہیں کرتی کہ حق کو ماننا کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ کھڑا ہونا بھی لازم ہے، تب تک ماضی کا حق مانا جاتا رہے گا، مگر حال کا حق تنہا ہی رہے گا۔
عصرِ حاضر میں جب اہلِ سنت کے سامنے تاریخ ایک نئے اسلوب میں دہرائی جا رہی ہے، جب ظلم، استحصال، سامراجی غلبہ، فکری تحریف اور دینی اقدار کی مسخ شدہ صورتیں ماضی کی یزیدیت، امویت اور ملوکیت کی واضح یاد دہانی بن چکی ہیں، اس کے باوجود اگر وہ بڑی اجتماعی سطح پر حق کی حمایت اور باطل کی مخالفت پر آمادہ نہیں ہو پا رہے تو اس کی وجہ لاعلمی نہیں بلکہ چند گہرے، راسخ اور تہہ دار اسباب ہیں جو صدیوں میں ان کی اجتماعی نفسیات، دینی فہم اور سیاسی شعور کا حصہ بن چکے ہیں۔
سب سے پہلا اور بنیادی سبب یہ ہے کہ اہلِ سنت کی اکثریت نے حق و باطل کو اب اخلاقی و اصولی معرکے کے بجائے امن و انتشار کی ثنویت میں دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ یعنی سوال یہ نہیں رہتا کہ کون حق پر ہے اور کون باطل پر، بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ کون امن برقرار رکھ رہا ہے اور کون “فتنہ” پیدا کر رہا ہے۔ چونکہ باطل ہمیشہ استحکام، ریاست، قانون اور نظم کے لباس میں ظاہر ہوتا ہے، اس لیے وہ خود بخود “امن” کا نمائندہ دکھائی دیتا ہے، جبکہ حق جو سوال اٹھاتا ہے، مزاحمت کرتا ہے اور انکار کرتا ہے، وہ فتنہ، شدت پسندی یا انتشار کے لیبل کے ساتھ مسترد کر دیا جاتا ہے۔ یہ وہی ذہنیت ہے جس نے ماضی میں یزید کی حکومت کو “نظم” اور امام حسینؑ کے قیام کو “فتنہ” کہلوانے کا راستہ ہموار کیا تھا۔
دوسرا بڑا سبب اہلِ سنت کی دینی تعلیم میں اطاعت، صبر اور خاموشی کی غیر متوازن تقدیس ہے۔ اطاعتِ اولی الامر کو قرآن و سنت کے سیاق سے کاٹ کر ایک مطلق قدر بنا دیا گیا ہے، جبکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو یا تو فردی اخلاق تک محدود کر دیا گیا ہے یا ایسے سخت شرائط کے تحت رکھ دیا گیا ہے کہ اس پر عمل عملاً ناممکن ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اہلِ سنت فرد کی سطح پر دیندار ہو سکتے ہیں مگر اجتماعی سطح پر ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کو دینی خطرہ سمجھنے لگتے ہیں۔ اس فہم میں حق کی حمایت ایک اضافی نیکی ہے، مگر باطل کی مخالفت ایک خطرناک مہم جوئی۔
ایک گہرا سبب سیاسی خوف ہے جو صدیوں سے اہلِ سنت کے اجتماعی لاشعور میں بیٹھ چکا ہے۔ عباسی دور سے لے کر جدید قومی ریاست تک، اہلِ سنت علماء اور عوام نے بار بار دیکھا ہے کہ مزاحمت کی قیمت قید، قتل، جلاوطنی اور فتنہ قرار پانے کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس تاریخی تجربے نے ایک ایسی نفسیات پیدا کی ہے جس میں حق کی پہچان تو ممکن ہے مگر اس کا اعلان “دانشمندانہ خاموشی” کے نام پر مؤخر کر دیا جاتا ہے۔ یوں حق دل میں رہتا ہے مگر زبان اور عمل تک نہیں پہنچ پاتا۔
عصرِ حاضر میں ایک اور طاقتور سبب معاشی و سماجی مفادات ہیں۔ جدید باطل صرف سیاسی نہیں بلکہ معاشی نظام کی صورت میں غالب ہے۔ ملازمتیں، ادارے، میڈیا، مذہبی پلیٹ فارم اور حتیٰ کہ دینی سرگرمیاں بھی اکثر اسی نظام کے تحت چل رہی ہیں۔ اہلِ سنت کی بڑی تعداد اس نظام سے کسی نہ کسی درجے میں فائدہ اٹھا رہی ہے یا کم از کم اس پر انحصار کر رہی ہے۔ ایسے میں باطل کی مخالفت محض نظریاتی قدم نہیں رہتی بلکہ اپنی روزی، مقام اور سماجی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف بن جاتی ہے۔ تاریخ میں بھی اکثریت ہمیشہ اسی مقام پر کھڑی رہی ہے جہاں حق کی قیمت زیادہ اور باطل کی قیمت کم ہو۔
ایک نہایت اہم سبب یہ ہے کہ اہلِ سنت کے فکری بیانیے میں امام حسینؑ کا قیام زندہ اصول کے بجائے مقدس یادگار بن چکا ہے۔ کربلا پر آنسو بہانا قابلِ قبول ہے، مگر کربلا جیسا سوال اٹھانا قابلِ اعتراض۔ یوں ظلم کے خلاف جذباتی وابستگی تو پیدا کی جاتی ہے، مگر عملی تقلید سے شعوری طور پر گریز کیا جاتا ہے۔ یہ تضاد انسان کو اندر سے مطمئن بھی رکھتا ہے اور باہر سے غیر متحرک بھی۔
اس کے ساتھ ساتھ عصرِ حاضر کے باطل کی ایک بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے حق و باطل کی سرحدوں کو بیانیاتی دھند میں لپیٹ دیا ہے۔ میڈیا، فتووں، قومی مفاد، فرقہ واریت اور سکیورٹی کے نعروں کے ذریعے حق کو مشتبہ اور باطل کو ناگزیر بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اہلِ سنت چونکہ تاریخی طور پر بیانیہ سازی کے مراکز سے وابستہ رہے ہیں، اس لیے وہ اکثر اسی بیانیے کا حصہ بن جاتے ہیں جو طاقتور بناتا ہے، نہ کہ حق کو۔
آخر میں ایک سب سے تلخ مگر حقیقی سبب یہ ہے کہ اہلِ سنت کی اکثریت نے تاریخ کو عبرت کے بجائے تسلی کے لیے پڑھا ہے۔ امام علیؑ کی خاموشی انہیں اپنی خاموشی کا جواز دیتی ہے، امام حسنؑ کی صلح ان کی مفاہمت کو درست ٹھہراتی ہے، اور امام حسینؑ کی شہادت انہیں یہ کہنے کا موقع دیتی ہے کہ “ہم کم از کم قاتلوں میں شامل نہیں”۔ مگر تاریخ کا اصل مطالبہ یہ نہیں کہ تم قاتل نہ بنو، بلکہ یہ ہے کہ تم مظلوم کے ساتھ کہاں کھڑے ہو۔
یوں، ماضی کے حق و باطل واضح ہو جانے کے باوجود اہلِ سنت کو آج بھی حق کی حمایت اور باطل کی مخالفت پر آمادہ نہ کر پانے کی وجہ لاعلمی نہیں بلکہ خوف، مفاد، غلط تعبیر، اور ایک طویل تربیت یافتہ احتیاط ہے۔ جب تک یہ عوامل ٹوٹیں گے نہیں، تاریخ دہرائی جاتی رہے گی، کردار بدلیں گے، نام بدلیں گے، مگر سوال وہی رہے گا جو کربلا نے چھوڑا تھا: حق سامنے ہو تو خاموشی کس کھاتے میں لکھی جائے گی؟
