بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
انسانی تاریخ میں آزادیٔ فکر اور آزادیٔ رائے ہمیشہ ایک مرکزی سوال رہی ہے۔ جب یہ آزادی محض علمی دائرے میں رہے تو معاشرہ اس سے استفادہ کرتا ہے، لیکن جب یہ آزادی سیاسی نظم اور اجتماعی طاقت سے ٹکرائے تو دنیا کے کسی بھی نظام میں برداشت کی گنجائش کم ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چاہے سیکولر مغرب ہو جو آزادیٔ اظہار کے بڑے بڑے نعرے لگاتا ہے، یا مشرقِ وسطیٰ کی مذہبی حکومتیں ہوں، بنیادی منطق ایک ہی ہے کہ اگر کوئی فکر سیاسی استحکام کو متزلزل کرنے والی سمجھی جائے تو اس کے ساتھ سختی برتی جاتی ہے۔ فرق صرف تعبیر اور جواز کا ہے۔ مغرب اسے ’’قانون‘‘ اور ’’قومی سلامتی‘‘ کے نام سے کرتا ہے جبکہ دینی حکومت اسے ’’نظامِ اسلامی کے تحفظ‘‘ کے عنوان سے انجام دیتی ہے۔
قرآن مجید نے آزادیٔ فکر کی بنیاد رکھی ہے۔ ارشاد ہے: “فَبَشِّرْ عِبَادِ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ” (الزمر: 17-18) یعنی خوشخبری ہے ان بندوں کے لیے جو بات سنتے ہیں اور پھر اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔ اس آیت میں غور و فکر، سننے اور پرکھنے کی آزادی کو انسانی کمال کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی قرآن یہ بھی کہتا ہے: “وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ” (البقرہ: 11) یعنی جب ان سے کہا جاتا ہے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ اس آیت میں یہ نکتہ ملتا ہے کہ ہر اختلاف یا ہر آواز آزادی کے زمرے میں نہیں آتی، بلکہ اگر وہ سماج میں فساد یا بگاڑ پیدا کرے تو اسے روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
اہل بیت علیہم السلام کی سیرت میں بھی یہی دو رُخ نظر آتے ہیں۔ ایک طرف امام صادقؑ کے دور میں علمی آزادی کی وہ فضا قائم ہے جہاں معتزلی، جبری، قدری اور مختلف مکاتب کے لوگ امامؑ کے سامنے آزادانہ سوال کرتے ہیں اور امامؑ انہیں علمی جواب دیتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف حضرت علیؑ کے دور میں خوارج جب مسلح ہو کر مدینے اور بصرے میں فساد پھیلانے لگے تو مولا نے انہیں روکا اور یہاں تک کہ جنگ نہروان میں ان کے خلاف اقدام کیا۔ پس معلوم ہوا کہ علمی تنقید کی گنجائش موجود ہے لیکن جب وہ سیاسی طاقت کو چیلنج کر کے سماجی نظم کو توڑنے لگے تو پھر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس کا مقابلہ کرے۔
آیت اللہ منتظری، آیت اللہ صافی گلپائیگانی یا معاصر دور میں آیت اللہ کمال حیدری کا معاملہ اسی زاویے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ شخصیات علمی میدان میں اپنی اجتہادی آراء پیش کرتی رہیں، لیکن جب ان کی آراء کو یا تو عوامی سطح پر زیادہ پذیرائی ملی یا ان آراء نے براہِ راست نظامِ سیاسی ولایتِ فقیہ پر سوالات اٹھائے، تو حکومت نے انہیں صرف ایک فکری مخالف نہیں بلکہ ایک ممکنہ خطرہ سمجھا۔ یہی کیفیت ابتدائی اسلام میں مولا علیؑ کے بھائی عقیل کے واقعے میں دیکھی جا سکتی ہے جب انہوں نے بیت المال سے اپنی ضرورت کے لیے اضافی رقم مانگی اور مولا نے اصول کی بنیاد پر انکار کر دیا۔ یہاں معاملہ صرف بھائی کے ساتھ ہمدردی یا علمی اختلاف کا نہ تھا بلکہ ریاستی نظم اور عدلِ اجتماعی کا تھا جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا تھا۔
روایات میں بھی آیا ہے کہ امام علیؑ نے فرمایا: “إنّ في العدل سعة، ومن ضاق عليه العدل فالجور عليه أضيق” یعنی عدل میں وسعت ہے، اور جو عدل کو تنگ سمجھے اس پر ظلم اور زیادہ تنگی لائے گا۔ پس اگر کوئی عالم، فقیہ یا دانشور ایسی بات کرے جو عدلِ اجتماعی کے منافی قرار پائے، تو ریاستی نظام کے نزدیک اس پر پابندی لگانا ظلم نہیں بلکہ عدل کی حفاظت ہے۔ البتہ اس منطق کا استعمال ہمیشہ محلِ بحث رہا ہے کہ کہاں تک اسے ’’عدل‘‘ سمجھا جائے اور کہاں یہ ’’سیاسی مصلحت‘‘ کے نام پر علمی آزادی کو محدود کرنے کا بہانہ بن جاتا ہے۔
یہی وہ نازک لکیر ہے جہاں سیکولر اور مذہبی حکومتوں میں فرق باقی رہتا ہے۔ مغرب میں آزادی کو ایک مطلق قدر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن جب بات اسرائیل پر تنقید، ہولوکاسٹ کے سوال یا قومی سلامتی پر آئے تو وہی آزادی محدود ہو جاتی ہے۔ ایران یا دیگر مذہبی حکومتوں میں آزادی کو دینی اصولوں کے تحت پرکھا جاتا ہے، اس لیے وہاں جب اختلاف بنیادی فقہی یا سیاسی ڈھانچے پر اثر ڈالنے لگے تو اسے دبایا جاتا ہے۔ اس فرق کے باوجود منطق ایک ہی ہے کہ ریاست اپنی بقا اور نظم کو اولین ترجیح دیتی ہے اور اسی کے تحت آزادی کو محدود کرتی ہے۔
چند مثالوں کو دیکھئے، انسانی زندگی میں خاندان، رشتہ دار اور اہل و عیال بڑی نعمت ہیں۔ والدین، بھائی بہن، بیوی بچے سب کے ساتھ محبت اور انسیت فطری جذبہ ہے جسے قرآن نے بھی تسلیم کیا ہے۔ قرآن نے فرمایا ہے: “وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً” یعنی اللہ نے میاں بیوی کے درمیان مودت اور رحمت رکھی ہے۔ اسی طرح والدین کے بارے میں تاکید کی گئی: “وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا” کہ ان کے ساتھ نیکی کرو۔ یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ عام حالات میں اسلام انسان کو پیار و محبت اور تعلقات کے حسن کو قائم رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ لیکن یہی قرآن جب عدل و عدالت اور حق و باطل کے تقابل کا ذکر کرتا ہے تو اعلان کرتا ہے کہ کسی کا رشتہ داری کا تعلق حق کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
قرآن کی واضح تعلیم ہے: “لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ” (المجادلة: 22)۔ یعنی تم ایسے لوگوں کو کبھی نہیں پاؤ گے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہوں اور وہ ان سے محبت کریں جو اللہ اور اس کے رسول کے دشمن ہیں خواہ وہ ان کے والدین ہوں، بیٹے ہوں، بھائی ہوں یا قبیلے والے۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ جب خدا کی اطاعت اور عدل و حق کا معاملہ سامنے آتا ہے تو سب رشتہ داریاں پیچھے رہ جاتی ہیں اور ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے رب کے حکم کو سب پر مقدم رکھے۔
اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد ہوا: “قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ … أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا” (التوبة: 24)۔ یعنی اگر تمہارے والدین، بیٹے، بھائی، بیویاں اور رشتہ دار، مال و جائیداد اور کاروبار تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اللہ کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر تم انتظار کرو کہ اللہ اپنا فیصلہ نافذ کرے گا۔ یہ اعلان اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ محبت اپنی جگہ مگر جب حق و عدل کا تقابل آئے تو ایمان والے کبھی بھی دنیاوی رشتوں کو دین سے مقدم نہیں کر سکتے۔
اہل بیت علیہم السلام کی سیرت میں بھی یہی بات نمایاں ہے۔ امام علیؑ نے نہج البلاغہ میں فرمایا کہ عدل و انصاف دین کی بنیاد ہے اور اگر انسان اپنے قریبی رشتہ دار کے خلاف بھی حق کا فیصلہ سنائے تو یہی حقیقی تقویٰ ہے۔ امام حسینؑ نے کربلا میں اپنے بھائی ابن زیاد کے مقابل میں نہیں بلکہ اپنے رشتہ داروں تک کو قربان کیا تاکہ عدل اور حق کا پرچم بلند رہے۔ ان کے لشکر میں ان کے بیٹے، بھائی، بھتیجے اور خاندان کے جوان شامل تھے، لیکن ان سب کی محبت پر عدل و دین کو ترجیح دی گئی۔ امام صادقؑ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: “مَن كانَ على الحَقِّ كانَ أقوى النّاسِ، وإن كانَ وَحدَهُ” یعنی جو حق پر ہے وہ سب سے زیادہ طاقتور ہے اگرچہ وہ تنہا ہو، اس سے یہ حقیقت عیاں ہے کہ رشتہ داروں کی مخالفت یا اکیلا رہ جانا عدل اور ایمان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔
یوں اسلام کی اصل تعلیم یہ ہے کہ محبت و الفت کے رشتے اپنی جگہ محترم ہیں، لیکن جب یہ رشتے عدل و عدالت، حق و باطل کے معرکے میں رکاوٹ بننے لگیں تو ان کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان حق کو عزیز رکھے چاہے اس کے مقابلے میں سب سے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ یہی وہ اصل ہے جو قرآن اور اہل بیت کی تعلیمات کا خلاصہ ہے اور جو ہر دور کے انسان کے لیے ایک دائمی معیار فراہم کرتی ہے۔
لہذا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مسئلہ صرف ایران یا کسی ایک حکومت کا نہیں بلکہ انسانی معاشرت کا ایک عمومی اصول ہے کہ آزادی فکر اس وقت تک قابلِ قبول ہے جب تک وہ اجتماعی طاقت اور نظام کو چیلنج نہ کرے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں اصل راستہ یہ ہے کہ علمی اختلاف کو علمی میدان تک محدود رکھا جائے اور حکومتی سطح پر اسے جبر کی بجائے دلیل اور استدلال سے جواب دیا جائے۔ اگر علمی اختلاف کو سیاسی خطرہ بنا کر دبایا جائے تو یہ خود اس نظام کے علمی اور اخلاقی وقار کو کمزور کر دیتا ہے۔ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس پر اہل فکر اور اہل حکومت کو مسلسل غور کرتے رہنا چاہیے تاکہ عدل اور آزادی کے درمیان توازن قائم رہ سکے۔
ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حق پرست بھی وہی کرتا ہے جو باطل کرتا ہے تو پھر فرق کیا ہوا؟ اس کا جواب یوں دیا جاسکتا ہے کہ دونوں گروہوں کے درمیان فرق کو اگر فطری مشترکات سے سمجھا جائے تو یہ بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ انسان کی بنیادی ضروریات جیسے کھانا کھانا، پانی پینا، آرام کرنا اور دیگر حیاتی تقاضے ہر انسان کی زندگی میں یکساں موجود ہیں، چاہے وہ باطل پر ہو یا حق پر۔ اس سطح پر دیکھا جائے تو بظاہر کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا، کیونکہ سبھی کو بھوک لگتی ہے، سبھی کو پیاس ستاتی ہے اور سبھی کو نیند کی حاجت ہوتی ہے۔ لیکن اصل فرق ان اعمال کے پسِ پردہ کارفرما نیت میں ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں حدیث نبویؐ “اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے” حقیقت کے آئینے کی مانند صاف دکھائی دیتی ہے۔
باطل گروہ بھی جنگ کرتا ہے، اپنی قوت اور وسائل صرف کرتا ہے، لیکن اس کی بنیاد نفسانی خواہشات، دنیاوی مفادات، طاقت اور تسلط کی ہوس پر ہوتی ہے۔ اس کے عمل میں کوئی اعلیٰ مقصد نہیں، نہ کوئی اخلاقی افق اور نہ ہی آخرت کی فکر۔ اس کا کھانا اور پینا بھی صرف دنیاوی لذت یا جسمانی بقا کے لیے ہے۔ اس کے برعکس حق پرست گروہ بھی بظاہر انہی اعمال میں مشغول نظر آتا ہے، لیکن اس کے کھانے اور پینے کا مقصد اللہ کی عبادت کے لیے قوت حاصل کرنا ہے، اس کی نیند بھی عبادت کے درمیان تجدیدِ توانائی کا وسیلہ ہے اور اس کی جنگ بھی مظلوم کی نصرت اور باطل کے مقابلے میں حق کے قیام کے لیے ہوتی ہے۔
یوں دونوں گروہ اگرچہ فطری سطح پر مشترکات رکھتے ہیں، مگر نیت کی تبدیلی سے ایک ہی عمل یا کیفیت جنت اور جہنم کے درمیان فرق پیدا کر دیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کے ظاہر اور باطن کا تضاد کھل کر سامنے آتا ہے۔ نیت حق پر ہو تو جنگ بھی عبادت بن جاتی ہے، کھانا پینا بھی ثواب میں ڈھل جاتا ہے اور آرام بھی بندگی کا حصہ شمار ہوتا ہے۔ اور اگر نیت باطل پر ہو تو وہی سب اعمال غفلت، معصیت اور ظلم کا سبب بن جاتے ہیں۔ اس لیے اصل فرق نیت میں ہے، اور نیت ہی انسان کو گروہوں میں تقسیم کرتی ہے: ایک راہ جنت کی طرف کھلتی ہے اور دوسری راہ جہنم کی طرف۔
کربلا کی جنگ ہی سب سے روشن اور ابدی مثال ہے جس سے یہ فرق پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ ایک طرف امام حسینؑ کا لشکر ہے اور دوسری طرف یزید کی فوج۔ اگر کوئی شخص ظاہری آنکھ سے دیکھے تو دونوں لشکر ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں، دونوں کے پاس سپاہی ہیں، دونوں کے پاس تلواریں اور نیزے ہیں، دونوں جنگ کر رہے ہیں اور دونوں کے ہاتھ خون آلود ہیں۔ لیکن ان کے درمیان جو فرق ہے وہ محض تلوار یا میدانِ جنگ کا نہیں بلکہ نیت اور مقصد کا ہے۔ امام حسینؑ کا مقصد خدا کے دین کو زندہ کرنا، عدلِ الٰہی کو قائم کرنا اور باطل کے تسلط کو توڑنا تھا۔ یزید کا مقصد اقتدار کی حفاظت، اپنی خواہشات کا غلبہ اور ظلم و جبر کو باقی رکھنا تھا۔ یہی فرق ہے جس نے ایک طرف کے خون کو شفاعت بنا دیا اور دوسری طرف کے خون کو لعنت و عذاب کا سبب بنا دیا۔
یہی وہ حقیقت ہے جسے حدیث “إنما الأعمال بالنیات” بیان کرتی ہے۔ اعمال کے ظاہری پہلو ایک جیسے ہو سکتے ہیں مگر نیت ہی ان کی حقیقت اور انجام کو بدل دیتی ہے۔ کربلا میں دونوں طرف نمازیں بھی ہو رہی تھیں، دونوں طرف اللہ اکبر کی صدائیں بھی بلند ہو رہی تھیں، مگر ایک طرف کی نماز ’’قبول‘‘ تھی کیونکہ وہ اخلاص اور خدا کی رضا کے لیے تھی اور دوسری طرف کی نماز ’’رد‘‘ تھی کیونکہ وہ ظلم و بغاوت کی بقا کے لیے تھی۔
امام حسینؑ نے اپنے خون سے یہ بتا دیا کہ جنگ صرف تلواروں کی ٹکر نہیں ہے بلکہ نیتوں کی آزمائش ہے۔ اگر مقصد خدا کی رضا ہے تو قلیل لشکر بھی حق پر ہوتا ہے اور اگر مقصد دنیاوی طاقت ہے تو لاکھوں کا لشکر بھی باطل میں شمار ہوتا ہے۔ اسی لیے قرآن نے فرمایا: “كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللّهِ” (البقرہ: 249)۔
پس سیکولر اور اسلامی حکومتوں کے ظاہری اقدامات میں جو مماثلت ہے وہ کربلا کے دو لشکروں کی ظاہری مماثلت کی طرح ہے۔ لیکن باطن میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ایک طرف عمل خدا کے لیے ہے تو وہ عبادت اور قربت ہے، دوسری طرف عمل نفس اور اقتدار کے لیے ہے تو وہ معصیت اور طاغوت ہے۔ یہی فرق ہے جو امام حسینؑ کو قیامت تک حق کا نشان اور یزید کو ہمیشہ کے لیے باطل کا پیکر بنا دیتا ہے۔
اس ساری بحث کا حاصل یہ ہے کہ علمی آزادی اور سماجی نظم کے درمیان کشمکش انسانی معاشرت کا دائمی مسئلہ ہے۔ قرآن اور اہل بیتؑ کی تعلیمات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اصل معیار نیت اور مقصد ہے، نہ کہ صرف عمل کا ظاہر۔ باطل اور حق دونوں بظاہر ایک جیسے کام کرتے ہیں، لیکن نیت ہی ان کو جنت و جہنم کی راہوں میں بانٹ دیتی ہے۔ کربلا کی مثال ہمیشہ یہ سکھاتی ہے کہ قلیل لشکر بھی اگر خدا کے لیے اٹھے تو وہ تاریخ کو بدل دیتا ہے، اور کثیر لشکر بھی اگر باطل پر ہو تو وہ لعنت کا نشان بن جاتا ہے۔ یہی اصول آج بھی ہر ریاست، ہر عالم اور ہر فرد کے لیے معیار ہے کہ وہ اپنی نیت کو خدا کے قرب اور عدل کی بنیاد پر پرکھے۔
