18

ہجوم میں تنہا بصیرت

  • نیوز کوڈ : 2633
  • 11 March 2026 - 23:58
ہجوم میں تنہا بصیرت

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔ تحریر : سید جہانزیب عابدی انسان جب تنہا ہوتا ہے تو اس کا شعور نسبتاً زیادہ خود مختار انداز میں کام کرتا ہے، مگر جیسے ہی وہ کسی گروہ کا حصہ بنتا ہے تو اس کے احساسات، فیصلے اور رویّے ایک نئے دباؤ اور نئی حرکیات کے زیرِ اثر آ جاتے […]

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

تحریر : سید جہانزیب عابدی

انسان جب تنہا ہوتا ہے تو اس کا شعور نسبتاً زیادہ خود مختار انداز میں کام کرتا ہے، مگر جیسے ہی وہ کسی گروہ کا حصہ بنتا ہے تو اس کے احساسات، فیصلے اور رویّے ایک نئے دباؤ اور نئی حرکیات کے زیرِ اثر آ جاتے ہیں۔ اجتماعی فضا میں فرد اپنی انفرادی حساسیت اور فکری باریکی کو وقتی طور پر پسِ پشت ڈال کر اس مجموعی فضا سے ہم آہنگ ہونے لگتا ہے جو گروہ کے اندر غالب ہوتی ہے۔ اس ہم آہنگی کے پیچھے قبول کیے جانے کی خواہش، تنہائی کے خوف اور اجتماعی طاقت کے احساس جیسے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ نتیجتاً انسان وہ بات کہہ دیتا ہے جو وہ تنہائی میں شاید نہ کہتا، وہ فیصلہ کر لیتا ہے جو وہ اکیلے میں شاید نہ کرتا، اور وہ ردِّ عمل ظاہر کر دیتا ہے جو اس کی اصل شخصیت سے مطابقت نہیں رکھتا۔

گروہ اپنی ایک نفسیاتی ساخت رکھتا ہے۔ جب افراد اکٹھے ہوتے ہیں تو ایک مشترکہ جذباتی لہجہ پیدا ہوتا ہے جو تیزی سے پھیلتا ہے۔ اگر اس فضا میں جوش غالب ہو تو اعتدال کمزور پڑ جاتا ہے، اگر غصہ غالب ہو تو انصاف پیچھے ہٹ جاتا ہے، اور اگر اندھی حمایت غالب ہو تو تنقیدی شعور ساکت ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت میں فرد کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اکیلا ذمہ دار نہیں، اس لیے اس کے فیصلے کا بوجھ بھی تقسیم ہو گیا ہے۔ یہی تقسیم شدہ ذمہ داری بعض اوقات اخلاقی کمزوری کا سبب بن جاتی ہے، کیونکہ اجتماعی شور میں ضمیر کی آواز دھیمی پڑ سکتی ہے۔

یہ حقیقت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ انسان گروہ کا حصہ ہوتے ہوئے بھی اپنے اندر ایک خاموش اور بیدار ناظر قائم رکھے۔ ہر اجتماعی فیصلہ یا فکر کو اسی وقت قبول نہ کر لیا جائے جب وہ اکثریت کی آواز بن جائے، بلکہ اسے ایک لمحے کے لیے الگ ہو کر، اپنے ذہن کی خلوت میں، غیر جانب دارانہ انداز سے پرکھا جائے۔ گروہ وقتی ہے؛ اس کی ترکیب بدلتی رہتی ہے، لوگ بکھر جاتے ہیں، حالات تبدیل ہو جاتے ہیں، مگر فرد کی فکری و اخلاقی شناخت اس کے ساتھ رہتی ہے۔ اگر اس نے کسی لمحے محض دباؤ کے تحت اپنی رائے کو دفن کر دیا تو بعد میں وہ خود اپنے سامنے جواب دہ ہوگا۔

غیر جانب دارانہ جانچ کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ضدی یا خود پسند بن جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے شعور کو اجتماعی بہاؤ میں بہنے نہ دے۔ ہر فکر کو دلیل، انصاف اور حقیقت کے معیار پر پرکھا جائے۔ اگر گروہ درست سمت میں ہو تو اس کی تائید شعوری اطمینان کے ساتھ کی جائے، اور اگر اس میں انحراف نظر آئے تو کم از کم اپنے باطن میں اس انحراف کو پہچانا جائے۔ انسان کا ضمیر اس کی اصل پناہ گاہ ہے؛ اگر وہ وہاں بھی مصلحت کا شکار ہو جائے تو پھر اس کی شخصیت محض ہجوم کا ایک بے چہرہ حصہ بن کر رہ جاتی ہے۔

اجتماعی دباؤ اکثر اس خوف سے پیدا ہوتا ہے کہ اختلاف کرنے والا تنہا رہ جائے گا یا ناپسندیدہ قرار پائے گا۔ مگر فکری دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے ذہن میں کم از کم اتنی آزادی محفوظ رکھے کہ وہ سچ کو سچ اور غلط کو غلط سمجھ سکے، چاہے وقتی طور پر وہ خاموشی اختیار کرے۔ ذہنی تصدیق دراصل داخلی استقامت کی بنیاد ہے۔ جب انسان حقیقت کو خود اپنے اندر تسلیم کر لیتا ہے تو وہ گروہی دباؤ کے باوجود مکمل طور پر تحلیل نہیں ہوتا۔

اجتماعی دباؤ اور ہجوم کی نفسیات کے مقابلے میں انبیاء علیہم السلام اور معصومین علیہم السلام کی سیرت انسانی تاریخ کا سب سے روشن اور واضح نمونہ پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کبھی اکثریت کو معیارِ حق نہیں بنایا بلکہ حق کو معیار بنا کر اکثریت کو پرکھا۔ جب معاشرے کا عمومی رجحان باطل کی طرف مائل تھا، تب بھی انہوں نے اپنی فکری و اخلاقی استقلال کو برقرار رکھا اور اس بات کی پروا نہ کی کہ ان کے ساتھ کتنے لوگ ہیں۔ ان کا اعتماد عدد پر نہیں بلکہ حقیقت پر تھا۔

حضرت نوحؑ کی طویل دعوت اس حقیقت کی گواہ ہے کہ انہوں نے صدیوں تک اجتماعی انکار کے باوجود اپنے موقف میں کوئی لچک پیدا نہیں کی۔ اکثریت کی تمسخر آمیز فضا، سماجی بائیکاٹ اور نفسیاتی دباؤ کے باوجود انہوں نے اپنی دعوت کو اس لیے نہیں بدلا کہ لوگ ناراض نہ ہوں۔ اسی طرح حضرت ابراہیمؑ نے پورے معاشرے بلکہ اپنے قبیلے اور خاندان کے غالب عقیدے کے خلاف کھڑے ہو کر توحید کا اعلان کیا۔ وہ اکیلے تھے مگر ان کا باطن حق کے ساتھ مطمئن تھا۔ ان کے لیے ہجوم کی طاقت فیصلہ کن نہ تھی بلکہ حقیقت کی روشنی فیصلہ کن تھی۔

خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرت میں بھی یہی اصول نمایاں ہے۔ مکہ کی اجتماعی فضا شرک، طبقاتی تفاخر اور قبائلی عصبیت سے عبارت تھی۔ اس ماحول میں حق کی آواز بلند کرنا محض فکری اختلاف نہ تھا بلکہ سماجی بغاوت کے مترادف تھا۔ آپؐ پر دباؤ ڈالا گیا کہ کچھ اصولوں میں نرمی کر لیں تاکہ تصادم کم ہو جائے، مگر آپؐ نے اصولی موقف پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ اس استقلال کی بنیاد یہ تھی کہ حق کو وقتی مصلحت پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔

اہل بیت علیہم السلام کی سیرت اس باب میں اور بھی گہری بصیرت فراہم کرتی ہے۔ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ نے خلافت کے ایام میں بارہا اکثریت کے دباؤ کا سامنا کیا۔ بعض مواقع پر لوگ ایسے فیصلے چاہتے تھے جو وقتی طور پر مقبول ہوں مگر اصولی اعتبار سے درست نہ ہوں۔ آپؑ نے واضح فرمایا کہ حق کو لوگوں کی کثرت یا قلت سے نہیں پہچانا جاتا بلکہ لوگوں کو حق کے ذریعے پہچانا جاتا ہے۔ یہ جملہ دراصل اجتماعی نفسیات کے مقابلے میں فکری خود مختاری کا اعلان ہے۔

امام حسینؑ کی قیام گاہ کربلا اس حقیقت کی معراج ہے۔ ایک طرف سیاسی طاقت، اکثریت کی خاموشی اور خوف کا ماحول تھا، دوسری طرف ایک محدود قافلہ جو ظاہری اعتبار سے کمزور تھا۔ اگر معیار صرف گروہی طاقت ہوتا تو فیصلہ مختلف ہوتا، مگر وہاں معیار حق تھا۔ امامؑ نے یہ دکھایا کہ فرد اگر اپنے باطن میں حق کی تصدیق کر لے تو وہ تنہا ہو کر بھی تاریخ کا دھارا بدل سکتا ہے۔ انہوں نے اجتماعی دباؤ کے سامنے سر جھکانے کے بجائے اپنی انفرادی شناخت کو حق کے ساتھ وابستہ رکھا۔

یہ سیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان کو اجتماعیت سے فرار اختیار نہیں کرنا چاہیے، مگر اسے اپنی بصیرت کو گروہ کے سپرد بھی نہیں کرنا چاہیے۔ انبیاء اور معصومینؑ معاشرے میں رہے، لوگوں کے ساتھ رہے، ان کی اصلاح کی کوشش کی، مگر کبھی اپنی داخلی بصیرت اور الٰہی معیار کو اجتماعی خواہشات کے تابع نہیں کیا۔ ان کا طرزِ عمل اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ حق کی پہچان کے لیے غیر جانب دارانہ شعور، باطنی طہارت اور اخلاقی جرات ضروری ہے۔

ان کی سیرت ہمیں یہ تعلیم دیتی ہے کہ گروہ عارضی حقیقت ہے، مگر حق ابدی حقیقت ہے۔ جو شخص اپنے باطن میں حق کی تصدیق کر لیتا ہے، وہ ہجوم میں رہ کر بھی ہجوم کا اسیر نہیں بنتا۔ یہی انبیائی و معصومانہ طرزِ فکر انسانی شخصیت کو اس درجے پر لے جاتا ہے جہاں وہ اجتماعیت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی اپنی فکری آزادی اور اخلاقی ذمہ داری کو محفوظ رکھتا ہے۔

یوں بالغ اور باخبر شخصیت وہ ہے جو اجتماعیت سے فائدہ اٹھاتی ہے مگر اس میں گم نہیں ہو جاتی۔ وہ رفاقت کو قبول کرتی ہے مگر اپنی بصیرت کو گروی نہیں رکھتی۔ وہ اکثریت کا احترام کرتی ہے مگر اسے معیارِ حق نہیں بناتی۔ کیونکہ گروہ آج ہے اور کل نہیں، مگر انسان کی انفرادی شناخت، اس کا ضمیر اور اس کی فکری ذمہ داری اس کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2633

ٹیگز

تبصرے