33

گدا نہیں، خلیفہ: مومن کی اصل شان

  • نیوز کوڈ : 2609
  • 11 March 2026 - 22:53
گدا نہیں، خلیفہ: مومن کی اصل شان

گدا نہیں، خلیفہ: مومن کی اصل شان

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

تحریر : سید جہانزیب عابدی

قرآنِ کریم نے انسان کو محض ایک حیوانِ ناطق یا معاشی و سماجی اکائی کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ اسے کائنات کے ایک مرکزی کردار کے طور پر متعارف کرایا ہے۔

 وہ مخلوق جس کے بارے میں فرمایا گیا: وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ“اور یقیناً ہم نے بنی آدم کو کرامت بخشی…”

 سورۂ اسراء (17:70)

، جسے “أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ” پر پیدا کیا گیا،

سورۂ تین (95:4)

لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ

ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا۔”

 جسے زمین میں خلیفہ بنایا گیا،

سورۂ بقرہ (2:30)

إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً

میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔”

 جسے اسماء کا علم عطا ہوا،سورۂ بقرہ (2:31)

وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا

 جس کے سامنے ملائکہ نے سجدہ کیا،

سورۂ بقرہ (2:34)

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا…

 اور جس نے وہ امانت اٹھائی جس سے آسمان و زمین بھی گھبرا گئے—

سورۂ احزاب (33:72)

إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ… فَحَمَلَهَا الْإِنسَانُ

ایسا انسان اگر اپنی حقیقت کو پہچان لے تو وہ نہ ذلت میں جیتا ہے، نہ پستی میں سوچتا ہے، نہ اپنی روح کو معمولی خواہشات کے بدلے فروخت کرتا ہے۔

ان آیات کی روشنی میں انسان کی حیثیت یہ ہے کہ وہ استعداد کے اعتبار سے ملائکہ سے بھی آگے بڑھ سکتا ہے اور انبیاء و اولیاء کے نقشِ قدم پر چل کر قربِ الٰہی کی منازل طے کرسکتا ہے۔ اس کے اندر عقل، ارادہ، اختیار، حیا، غیرت، محبت اور ایثار کی وہ قوتیں رکھی گئی ہیں جو اسے حیوانی سطح سے اوپر اٹھا کر ربانی مقام تک لے جا سکتی ہیں۔ امام علیؑ نے نہج البلاغہ میں فرمایا کہ تو اپنے آپ کو چھوٹا جسم سمجھتا ہے حالانکہ تیرے اندر ایک عظیم عالم پوشیدہ ہے۔ یہ تعبیر دراصل انسان کی باطنی وسعت اور اس کے وجودی وقار کی طرف اشارہ ہے۔

رسول خدا ﷺ سے منقول ہے:

إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ

“اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔”

(یعنی صفاتِ الٰہیہ کا مظہر بنایا)

حدیثِ قدسی:

يَا ابْنَ آدَمَ خَلَقْتُ الْأَشْيَاءَ لِأَجْلِكَ، وَخَلَقْتُكَ لِأَجْلِي

“اے ابنِ آدم! میں نے سب چیزیں تیرے لیے پیدا کیں اور تجھے اپنے لیے پیدا کیا۔”

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:

قَلْبُ الْمُؤْمِنِ عَرْشُ الرَّحْمٰن

“مؤمن کا دل رحمن کا عرش ہے۔”

امام علیؑ (نهج البلاغہ) میں فرماتے ہیں:

“تو سمجھتا ہے کہ تو ایک چھوٹا سا جسم ہے، حالانکہ تیرے اندر ایک بڑی کائنات پوشیدہ ہے۔”

ایسی مخلوق جب “یا علی مدد”، “یا رسول اللہ مدد”، “یا اللہ مدد” کہتی ہے تو اس کا اصل مفہوم کیا ہونا چاہیے؟ اگر یہ ندا اس معنی میں ہو کہ میں اپنی روح کی کمزوری، اپنے نفس کی سرکشی اور اپنے ایمان کی لغزشوں میں تمہارے ذریعے خدا سے مدد چاہتا ہوں تاکہ میں ہدایت پا سکوں، ثابت قدم رہ سکوں اور حق پر جان دے سکوں، تو یہ ندا انسان کی کرامت کے عین مطابق ہے۔ قرآن نے خود فرمایا: وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ، اور روایات میں اہل بیتؑ کو وسیلۂ قربِ الٰہی قرار دیا گیا ہے۔ وسیلہ کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہو جائے بلکہ یہ کہ وہ اپنی سیر الی اللہ میں ان کامل انسانوں کو رہنما اور شفیع بنائے۔

لیکن اگر یہی ندا اس ذہنیت کے ساتھ ہو کہ گویا یہ ہستیاں ہمارے دنیاوی مقاصد پوری کرنے کے لیے کسی چراغ کے جن کی طرح مقرر ہیں، اور ہم اپنی سستی، کاہلی اور بے عملی کے باوجود ان سے توقع رکھیں کہ وہ ہمیں اولادِ نرینہ، دولت، ویزا، کاروباری کامیابی یا دنیاوی آسائشیں عطا کریں، جبکہ ہم خود نہ اپنی عقل استعمال کریں، نہ محنت کریں، نہ تقویٰ اختیار کریں، تو یہ رویہ انسان کی اس قرآنی کرامت کے خلاف ہے جس کا اعلان کیا گیا تھا۔ کیونکہ قرآن کا مومن وہ ہے جو زمین میں چلتا ہے، تدبیر کرتا ہے، جہاد کرتا ہے، اور اپنے ہاتھوں سے تاریخ بناتا ہے۔

اہل بیتؑ کی سیرت پر نگاہ ڈالیں تو وہ خود امت سے نصرت طلب کرتے نظر آتے ہیں۔ رسول اکرم ﷺ نے بارہا فرمایا: “کون ہے جو خدا کے دین کی مدد کرے؟” قرآن میں ہے۔

سورۂ محمد (47)، آیت 7

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ

ترجمہ:

“اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا۔”

اس آیت میں “اللہ کی مدد” سے مراد دینِ الٰہی کی نصرت، حق کے قیام، باطل کے مقابلے، اور شریعت کے نفاذ میں عملی جدوجہد ہے۔ یعنی جب بندہ اپنی توانائیاں، صلاحیتیں اور وسائل حق کے لیے وقف کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے تائید، ثبات اور کامیابی عطا فرماتا ہے۔

 امام حسینؑ نے میدانِ کربلا میں پکارا: “هَلْ مِن نَاصِرٍ يَنصُرُنِي؟” یہ پکار محض اس لمحے کے لیے نہ تھی بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے تھی کہ کیا کوئی ہے جو حق کی نصرت کرے؟ امام حسین کی اس صدا میں دراصل انسان کی غیرتِ ایمانی کو جگایا گیا تھا۔ اسی طرح غیبت کے زمانے میں امام مہدی کے بارے میں روایات میں آیا ہے کہ وہ اپنے حقیقی انصار کے منتظر ہیں، ایسے افراد کے جو اپنے نفس پر غالب، تقویٰ میں راسخ اور عمل میں ثابت قدم ہوں۔ دعائے عہد میں ہم پڑھتے ہیں کہ خدایا مجھے ان کے انصار و اعوان میں قرار دے۔ اس دعا کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر ان کی آمد کا انتظار کریں اور صرف اپنی نجی حاجات کی فہرست پیش کرتے رہیں، بلکہ یہ کہ ہم اپنے وجود کو اس قابل بنائیں کہ جب حق کا پرچم بلند ہو تو ہم اس کے سچے سپاہی ہوں۔

جب کوئی شخص خود کو “گدائے درِ اہل بیتؑ” کہتا ہے تو اگر اس کا مطلب یہ ہو کہ میں اپنی انا کو توڑ کر، اپنی خود پسندی کو ختم کر کے، ان کے در پر بندگی سیکھنے آیا ہوں، تو یہ روحانی انکسار ہے۔ لیکن اگر اس کا مطلب یہ ہو کہ میں اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کر کے ایک دائمی محتاجی کی نفسیات میں جینا چاہتا ہوں، تو یہ مومن کی شان کے خلاف ہے۔ اہل بیتؑ نے ہمیں غیرت، عزت اور قیام کا درس دیا ہے۔ امام علی نے فرمایا کہ خدا نے مومن کے تمام معاملات اسے خود سونپ دیے ہیں سوائے اس کے کہ وہ خود کو ذلیل کرے۔ یہ جملہ مومن کی خودی اور وقار کا اعلان ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ ہم ان مقدس ہستیوں سے کیا مانگتے ہیں؟ اگر ہم ان سے یہ مانگیں کہ ہمیں نفس کے جہاد میں کامیابی دے دو، ہمیں صداقت پر قائم رکھو، ہمیں ظلم کے مقابل کھڑا ہونے کی ہمت دو، ہمیں علم، حکمت اور بصیرت عطا کرو، تو ہم اپنی قرآنی حیثیت کے مطابق مانگ رہے ہیں۔ لیکن اگر ہم اپنی سستی کے باوجود دنیاوی آسائشوں کی فہرست لے کر بیٹھ جائیں تو ہم اپنی اس قوت کو فراموش کر رہے ہیں جو خدا نے ہمیں دی ہے۔ رزق کے اسباب زمین میں پھیلے ہیں، علم کے دروازے کھلے ہیں، ہجرت اور محنت کی راہیں موجود ہیں۔ خدا نے انسان کو اختیار اور تدبیر دی ہے تاکہ وہ اپنے بازوؤں کی طاقت سے دنیا میں عزت حاصل کرے اور پھر اس عزت کو دین کی خدمت میں لگائے۔

انسان کی اصل عظمت یہ ہے کہ وہ مانگنے والا نہیں بلکہ عطا کرنے والا بنے۔ وہ صرف لینے کی نفسیات سے نکل کر دینے کی سطح پر آئے۔ اہل بیتؑ سے تعلق کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی کمزوریوں کو تقدیس کا لبادہ پہنا دیں، بلکہ یہ کہ ہم اپنی کمزوریوں کو طاقت میں بدلنے کے لیے ان کے راستے پر چلیں۔ وہ ہمیں سہارا دینے کے لیے ضرور وسیلہ ہیں، مگر وہ ہمیں خود مختار، باعزت اور مجاہد انسان دیکھنا چاہتے ہیں، نہ کہ دائمی محتاج۔

لہٰذا قرآن و حدیث کی روشنی میں انسان کی حیثیت ایک باکرامت، بااختیار اور باصلاحیت خلیفہ کی ہے۔ اگر وہ اس مقام کو پہچان لے تو اس کی دعائیں بھی بلند ہو جاتی ہیں، اس کی تمنائیں بھی پاکیزہ ہو جاتی ہیں، اور اس کا تعلق بھی اولیائے الٰہی سے ایک فعال، مجاہدانہ اور ذمہ دارانہ تعلق بن جاتا ہے۔ یہی تعلق اسے دنیا میں عزت اور آخرت میں قربِ الٰہی عطا کرتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2609

ٹیگز

تبصرے