33

لفظوں سے بنتی ہوئی شخصیت

  • نیوز کوڈ : 2621
  • 11 March 2026 - 23:25
لفظوں سے بنتی ہوئی شخصیت

لفظوں سے بنتی ہوئی شخصیت

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

تحریر : سید جہانزیب عابدی

انسانی تربیت کا ایک نہایت لطیف مگر مؤثر اصول یہ ہے کہ انسان کو اس کی موجودہ کمزوری کے آئینے میں نہیں بلکہ اس کی ممکنہ خوبی کے آئینے میں دیکھا جائے۔ جب ایک بچہ جھوٹ بولتا ہے اور کوئی بزرگ یا نیا ملنے والا اس کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ “نہیں، یہ جھوٹ نہیں بول سکتا، یہ تو بہت سچا بچہ ہے”، تو بظاہر یہ ایک سادہ جملہ محسوس ہوتا ہے، مگر نفسیات کی دنیا میں یہ ایک گہرا تربیتی عمل ہے۔ اسے جدید علمِ نفسیات میں عموماً Self-Fulfilling Prophecy اور Pygmalion Effect کے تناظر میں سمجھا جاتا ہے، یعنی وہ توقع جو انسان کے بارے میں قائم کی جائے، آہستہ آہستہ اس کی شخصیت کی تشکیل میں حصہ لینے لگتی ہے۔

Pygmalion Effect کی اصطلاح یونانی اساطیر کے کردار Pygmalion سے ماخوذ ہے، جس نے اپنے تراشے ہوئے مجسمے سے اس قدر محبت اور یقین کا تعلق قائم کیا کہ وہ مجسمہ گویا زندگی پا گیا۔ نفسیات میں اس مثال کو اس حقیقت کے اظہار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ مثبت توقعات افراد کی کارکردگی اور کردار کو بہتر بنا سکتی ہیں۔ جب بچے کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ وہ سچا ہے، تو اس کے اندر ایک نئی شناخت جنم لیتی ہے۔ وہ سوچنے لگتا ہے کہ اگر سب مجھے سچا سمجھتے ہیں تو مجھے ویسا ہی ہونا چاہیے۔ یوں بیرونی توقع اندرونی عزم میں بدلنے لگتی ہے۔

اسی مفہوم کو سماجیات میں Robert K. Merton نے Self-Fulfilling Prophecy کے عنوان سے بیان کیا۔ ان کے مطابق اگر کسی فرد کے بارے میں کوئی تصور قائم کر کے اس کے مطابق برتاؤ کیا جائے تو وہ تصور بالآخر حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔ بچے کے بارے میں مسلسل یہ کہنا کہ “یہ ایماندار ہے” دراصل اس کے ذہن میں ایک خودیاتی خاکہ بنانا ہے۔ انسان اپنی شناخت کے خلاف زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔ اگر اسے اپنی پہچان “جھوٹا” ملے تو وہ لاشعوری طور پر اسی قالب میں ڈھل سکتا ہے، اور اگر اسے “سچا” کہا جائے تو وہ اس شناخت کی حفاظت کرنے کی کوشش کرے گا۔

یہی عمل Positive Labeling کہلاتا ہے، یعنی کسی فرد کو شعوری طور پر ایک مثبت لیبل دینا تاکہ وہ اس لیبل کے مطابق اپنے رویّے کو ترتیب دے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ منفی لیبلنگ بھی اسی شدت سے اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر بچے کو بار بار “جھوٹا” کہا جائے تو وہ اپنے آپ کو ویسا ہی سمجھنے لگتا ہے اور اس کے لیے جھوٹ بولنا ایک معمولی عمل بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس جب اسے سچائی سے منسوب کیا جائے تو وہ اپنے اندر ایک اخلاقی ذمہ داری محسوس کرتا ہے کہ اسے اس اعتماد کو ٹوٹنے نہیں دینا۔

رفتہ رفتہ یہ نفسیاتی حکمتِ عملی بچے کی خود آگاہی کا حصہ بن جاتی ہے۔ وہ محض سزا کے خوف سے سچ نہیں بولتا بلکہ اس لیے سچ بولتا ہے کہ اس کی خودی کا تقاضا یہی ہے۔ یوں تربیت بیرونی کنٹرول سے نکل کر اندرونی نظم میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں اخلاقی عادت کردار میں ڈھل جاتی ہے۔

اسلامی تربیتی روایت میں بھی اس اصول کی گہری جھلک ملتی ہے۔ معصومینؑ کی سیرت میں بچوں کو عزت دینا، ان کی مثبت صفات کو نمایاں کرنا اور ان کے مستقبل کے بارے میں خیر کی توقع ظاہر کرنا عام تھا۔ یہ محض اخلاقی نرمی نہیں بلکہ ایک عمیق نفسیاتی بصیرت تھی۔ جب کسی انسان کو اس کے امکانِ خیر کے ساتھ جوڑا جاتا ہے تو وہ اپنے اندر اسی امکان کو حقیقت بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ گویا تربیت کا اصل ہدف غلطی کو پکڑنا نہیں بلکہ شخصیت کے اندر خیر کے بیج کو پانی دینا ہے۔

البتہ اس اصول کے استعمال میں حکمت ضروری ہے۔ اگر مثبت لیبل حقیقت سے بالکل منقطع ہو اور بچہ اس تضاد کو شدت سے محسوس کرے تو اس کا الٹا اثر بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مثبت نسبت کے ساتھ تدریجی اصلاح اور عملی رہنمائی بھی ہو۔ یعنی بچے کو سچا کہا جائے اور ساتھ ہی ایسے مواقع دیے جائیں جہاں وہ سچ بول کر اس شناخت کو مضبوط کر سکے۔

لہذا یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ انسان اپنے بارے میں جو کہانی سنتا ہے، آہستہ آہستہ وہی کہانی بننے لگتا ہے۔ اگر ہم بچوں کو ان کی خطاؤں کی کہانی سناتے رہیں گے تو وہ خطا کی داستان میں جکڑ جائیں گے، اور اگر ہم انہیں ان کے ممکنہ حسن کی داستان سنائیں گے تو وہ اس حسن کو حقیقت بنانے کی کوشش کریں گے۔ نفسیات کی زبان میں یہ Pygmalion Effect اور Self-Fulfilling Prophecy ہے، مگر تربیت کی زبان میں یہ امید، حسنِ ظن اور شخصیت سازی کا وہ لطیف ہنر ہے جو انسان کو اس کی موجودہ کمزوری سے اٹھا کر اس کے ممکنہ کمال تک لے جا سکتا ہے۔

اب اگر اسی اصول کو عملی مثالوں کے ذریعے سمجھا جائے تو بات مزید واضح ہو جاتی ہے،

فرض کریں ایک سات سالہ بچہ مہمانوں کے سامنے کوئی بات چھپا دیتا ہے یا سچ کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے۔ والد فوراً ڈانٹنے کے بجائے مسکرا کر کہتے ہیں، “مجھے معلوم ہے میرا بیٹا سچ بولنے والا ہے، شاید ابھی گھبرا گیا ہوگا۔” یہ جملہ دو کام کرتا ہے۔ ایک طرف وہ بچے کی غلطی کو نرم انداز میں نمایاں کرتا ہے، دوسری طرف اس کی بنیادی شناخت “سچا” ہونے کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ اگلی بار جب وہ کسی مشکل صورت حال میں ہوگا تو اس کے ذہن میں یہ آواز آئے گی کہ “میں تو سچا بچہ ہوں”، اور یہی اندرونی مکالمہ اسے سچ کی طرف دھکیل دے گا۔

اس کے برعکس اگر اسی لمحے کہا جائے، “تم ہمیشہ جھوٹ بولتے ہو، تم پر کبھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا”، تو بچہ دو راستوں میں سے ایک اختیار کرے گا۔ یا تو وہ خوف کی وجہ سے وقتی سچ بولے گا مگر اندر سے خود کو جھوٹا مان لے گا، یا پھر وہ سوچے گا کہ جب مجھے جھوٹا سمجھا ہی جاتا ہے تو جھوٹ بولنے میں کیا حرج ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مثبت لیبل اور منفی لیبل اپنی الگ الگ تقدیریں لکھتے ہیں۔

اسی اصول کو تعلیمی ماحول میں دیکھیں۔ ایک استاد کسی اوسط درجے کے طالب علم سے کہتا ہے، “مجھے معلوم ہے تم میں غیر معمولی صلاحیت ہے، تم بس تھوڑی توجہ دو تو سب سے آگے آ سکتے ہو۔” یہ جملہ محض حوصلہ افزائی نہیں بلکہ ایک شناخت کی پیشکش ہے۔ طالب علم اب خود کو کمزور نہیں بلکہ “صلاحیت رکھنے والا” سمجھنے لگتا ہے۔ نتیجتاً وہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ عمل ہے جسے نفسیات میں Pygmalion کے نام سے منسوب اثر یعنی Pygmalion Effect کہا جاتا ہے، جہاں توقع کارکردگی کو بدل دیتی ہے۔

اسی طرح دفاتر میں بھی یہی اصول کام کرتا ہے۔ ایک منیجر اگر کسی ملازم کے بارے میں یہ رائے قائم کر لے کہ “یہ ذمہ دار انسان ہے”، تو وہ اسے اہم ذمہ داریاں سونپتا ہے، اس پر اعتماد ظاہر کرتا ہے، اور لاشعوری طور پر اس سے سنجیدہ رویّے کی توقع رکھتا ہے۔ ملازم بھی خود کو اسی معیار پر پورا اتارنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اگر شروع ہی سے اسے “لاپرواہ” سمجھ لیا جائے تو نگرانی سخت ہو جاتی ہے، اعتماد کم ہو جاتا ہے، اور بالآخر وہ واقعی غیر ذمہ دار دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جسے Robert K. Merton نے Self-Fulfilling Prophecy کہا تھا، یعنی وہ تصور جو حقیقت میں بدل جائے۔

ازدواجی زندگی میں بھی یہ اصول حیرت انگیز طور پر مؤثر ہے۔ اگر بیوی کو بار بار یہ کہا جائے کہ “تم بہت سمجھدار ہو، تمہاری رائے متوازن ہوتی ہے”، تو وہ اپنے فیصلوں میں سنجیدگی اور توازن بڑھانے کی کوشش کرے گی کیونکہ اس کی شناخت اسی وصف سے جڑ چکی ہے۔ اگر شوہر کو کہا جائے، “تم ذمہ دار انسان ہو، گھر تمہارے فیصلوں سے سنبھلا ہوا ہے”، تو وہ اس اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے مزید ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گا۔ لیکن اگر مسلسل یہ کہا جائے کہ “تم سے کوئی کام ٹھیک نہیں ہوتا”، تو رفتہ رفتہ انسان کی عملی توانائی بھی ماند پڑنے لگتی ہے۔

روحانی اور اخلاقی میدان میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ اگر کسی نوجوان کو بار بار یہ کہا جائے کہ “تم پاکیزہ فطرت رکھتے ہو، تم گناہ کے لیے نہیں بنے”، تو وہ اپنے نفس کے مقابلے میں ایک اعلیٰ شناخت کو یاد رکھے گا۔ لیکن اگر اسے یہ باور کرایا جائے کہ “آج کل کے نوجوان تو ایسے ہی ہوتے ہیں”، تو وہ اسی عمومی تصور میں خود کو گم کر سکتا ہے۔

یہ تمام مثالیں اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں کہ انسان اپنے بارے میں سنائی جانے والی کہانی کو اندر جذب کر لیتا ہے۔ بچہ ہو یا بڑا، شاگرد ہو یا استاد، ملازم ہو یا سربراہ، سب کی نفسیاتی ساخت میں یہ اصول مشترک ہے کہ شناخت رویّے کو جنم دیتی ہے۔ جب ہم کسی کو اس کی ممکنہ خوبی سے منسوب کرتے ہیں تو ہم اس کے اندر ایک اخلاقی ذمہ داری جگاتے ہیں۔ وہ صرف دوسروں کو خوش کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی خودی کے تحفظ کے لیے بہتر بننے کی کوشش کرتا ہے۔

یوں تربیت کا راز یہ نہیں کہ ہم ہر غلطی کو سختی سے پکڑیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم انسان کو اس کے ممکنہ حسن کی یاد دہانی کراتے رہیں۔ جب شناخت بلند ہو جائے تو رویّہ خود بخود اس کی پیروی کرنے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں لفظ کردار کو تراشتے ہیں اور نسبت تقدیر کو بدل دیتی ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2621

ٹیگز

تبصرے