بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر: سید جہانزیب عابدی
اس ادراک کے ساتھ کہ سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں ایک ہی عالمی اشرافیہ کے کنٹرول میں کھیلے جانے والے کھیل ہیں، ہم انہیں آپس میں لڑتا ہوا بھی دیکھتے ہیں۔ یہ تضاد دراصل اس کنٹرولڈ نظام کا مرکزی نقطہ ہے، جسے سمجھے بغیر ہم اس کھیل کی حقیقی نوعیت نہیں پہچان سکتے۔
ان دونوں نظاموں کے درمیان ظاہری جنگ دراصل ایک احتیاط سے ترتیب دی گئی اسٹیج ڈرامے کی مانند ہے، جہاں دونوں کردار ایک دوسرے سے لڑتے نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں ایک ہی ہدایت کار کے اشاروں پر حرکت کر رہے ہوتے ہیں۔ اس جنگ کا اصل مقصد عوام کو دو حصوں میں بانٹنا اور ان کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹانا ہے۔ جب عوام سرمایہ داری کے ظلم سے تنگ آ کر بغاوت کا ارادہ کرتے ہیں، تو انہیں اشتراکیت کے نام پر ایک متبادل راستہ دکھایا جاتا ہے، اور جب اشتراکی نظام اپنی ناکامی کا منہ دکھاتا ہے تو سرمایہ داری کو واحد نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرح عوام کی توانائی ان دو نظاموں کے درمیان بحث و مباحثے میں ضائع ہو جاتی ہے اور اصل طاقت کے مراکز پردۂ اخفا میں محفوظ رہتے ہیں۔
اس ظاہری جنگ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ دونوں نظام ایک دوسرے کی بقا کے لیے ناگزیر ہیں۔ سرمایہ داری کو اپنے خلاف ایک مضبوط دشمن کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے اندرونی تضادات اور استحصالی ڈھانچے کو چھپا سکے۔ اسی طرح اشتراکیت کو بھی سرمایہ داری کے خلاف ایک مستقل جنگ کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی ناکامیوں اور عوام پر اپنے جبر کو جائز قرار دے سکے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں، ایک دوسرے کی بقا کے ضامن ہیں۔
سرد جنگ کا دور اس کھیل کا بہترین مظہر تھا۔ دنیا دو بڑے کیمپوں میں بٹ گئی، ہر طرف خوف، ہتھیاروں کی دوڑ، پراکسی جنگیں۔ مگر اس سب کے پیچھے حقیقت یہ تھی کہ دونوں بلاک ایک دوسرے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے تھے۔ ان کے درمیان خفیہ تجارتی تعلقات، ٹیکنالوجی کا تبادلہ، اور اسٹریٹجک مفادات کی ہم آہنگی اس بات کی گواہ ہے کہ یہ جنگ محض دکھاوا تھی۔ دونوں بلاک کے رہنما ایک دوسرے کو مضبوط دشمن کے طور پر پیش کر کے اپنے عوام پر اپنی گرفت مضبوط کر رہے تھے۔
آج کا دور اس کھیل کی ایک نئی شکل پیش کرتا ہے۔ چین کا ماڈل جہاں بظاہر اشتراکیت اور عملی طور پر وحشیانہ سرمایہ داری ایک ساتھ چل رہی ہے، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ دونوں نظام ایک دوسرے کے متضاد نہیں بلکہ تکمیلی ہیں۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا سب سے بڑا حصہ دار ہے، اور مغربی سرمایہ دار چین کی اشتراکی حکومت کے ساتھ مل کر اربوں کما رہے ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جو بتاتی ہے کہ نظریاتی بیانیے محض عوام کو الجھانے کے لیے ہیں، اصل کھیل کچھ اور ہے۔
روس بھی اسی کھیل کا حصہ ہے۔ وہ بھی مغرب کے خلاف کھڑا دکھائی دیتا ہے، مگر اس کی معیشت، اس کی توانائی کی برآمدات، اس کے امیر طبقے کے مفادات سب اسی عالمی نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔ پابندیاں، تنازعات، جنگی بیانیے یہ سب ایک خاص حد تک کنٹرول کیے جاتے ہیں تاکہ صورتحال مزید بگڑنے نہ پائے۔ یہ ایک کنٹرولڈ تصادم ہے جس سے فریقین اپنے اندرونی مسائل کو چھپاتے ہیں اور عوام کو مصروف رکھتے ہیں۔
عالمی اشرافیہ اس بظاہر متضاد دو قطبیتی نظام کو جس طرح چلاتی ہے، وہ کوئی سادہ سازش نہیں بلکہ ایک نہایت پیچیدہ، کثیر الجہتی اور مسلسل ارتقا پذیر منصوبہ ہے جو زندگی کے تمام شعبوں میں سرایت کر چکا ہے۔ اس نظام کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ خود کو ایک قدرتی اور ناگزیر ترتیب کے طور پر پیش کرتا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ ایک احتیاط سے تیار کردہ ڈھانچہ ہے جو شعوری طور پر عوامی ذہنوں اور معاشرتی رویوں کی تشکیل کرتا ہے۔ اس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ یہ اشرافیہ کن میکانزم کے ذریعے اس کھیل کو چلاتی ہے، یہ کنٹرول زندگی کے مختلف شعبوں میں کیسے ظاہر ہوتا ہے، اور سماجی علوم میں اس عمل کو کس طرح پروسس کیا جاتا ہے۔
اشرفیہ کے اس کنٹرول کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ معاشرے پر اپنی ثقافتی بالادستی کیسے قائم کرتی ہے۔ گرامسکی کے تصورِ ثقافتی بالادستی کے مطابق، اشرافیہ محض طاقت کے زور پر نہیں چلتی بلکہ وہ اپنے عالمی نظریے کو عام فہم اور ہر شخص کے لیے فائدہ مند بنا کر پیش کرتی ہے ۔ آج کل ڈیووس ایلیٹ کہلانے والی یہ طاقت گلوبلائزیشن کے نام پر ایک خاص فکری نظام فروغ دے رہی ہے۔ ڈیووس ورلڈ اکنامک فورم کے بورڈ ممبران کی تقریروں اور بیانات پر کیے گئے تجزیے بتاتے ہیں کہ وہ کس طرح مخصوص الفاظ اور جملوں کے ذریعے عوام کے ذہنوں میں ایک مخصوص تصورِ عالم تشکیل دیتے ہیں ۔ ان کے بیان کردہ چار ثقافتی جہت یعنی زندگی کے لیے ایک خاص عقیدے کا نظام، معاشرتی نظاموں کی ہیرا پھیری، مسابقت کو معاشرتی زندگی کا محرک بنانا، اور مالیات کو انسانی زندگی کے تنظیمی اصول کے طور پر پیش کرنا یہ سب اس ثقافتی بالادستی کے مختلف پہلو ہیں ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اشرافیہ اپنے آپ کو اب روایتی طور پر پوشیدہ نہیں رکھتی بلکہ ایک نئی شکل میں سامنے آئی ہے جسے “کنسپکیوس ایلیٹ” یا “پلیٹ فارم ایلیٹ” کہا جاتا ہے ۔ پہلے طاقت کا استعمال اداروں اور خفیہ فیصلہ سازی کے ذریعے ہوتا تھا، لیکن اب یہ اشرافیہ خود کو مسلسل دکھائی دینے والی، اپنی کہانی خود بیان کرنے والی اور الگورتھم کے ذریعے بڑھنے والی طاقت میں تبدیل ہو چکی ہے ۔ اب طاقت کا اظہار کمانڈ اور مشاورت سے کم اور اسپیکٹیکل، بائیوگرافی اور توجہ کے ذریعے زیادہ ہوتا ہے۔ ملز کا تصورِ “اعلیٰ بداخلاقی” آج اس شکل میں ظاہر ہوتا ہے کہ طاقت خود کو کھلم کھلا، اعتماد سے اور اکثر تدریسی انداز میں پیش کرتی ہے، جبکہ ذمہ داری نظاموں، طریقہ کاروں اور تکنیکی ضرورتوں میں تحلیل ہو جاتی ہے ۔
یہ نظام معیشت سے لے کر سیاست، تعلیم سے لے کر ثقافت تک ہر شعبے میں اپنا اثر رکھتا ہے۔ معاشی شعبے میں یہ اشرافیہ مالیات کو انسانی زندگی کے تنظیمی اصول کے طور پر پیش کرتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے ترقیاتی امداد کے نام پر مقامی سیاسی اور اقتصادی طاقت کو بتدریج ختم کرنے کا کام کرتے ہیں ۔ امپیکٹ انویسٹمنٹ جیسے جدید مالیاتی طریقے، جو بظاہر سماجی بھلائی کے لیے ہیں، دراصل عوامی شعبوں یعنی فلاح، صحت، تعلیم اور توانائی پر قبضے کا ذریعہ بنتے ہیں ۔ گڈونڈی نے سرمایہ داری کے اس طریقہ کار کو خوبصورتی سے بیان کیا ہے کہ سرمایہ دارانہ انجن دراصل بڑے پیمانے پر پیداوار کا انجن ہے، جو لامحالہ عوام کے لیے پیداوار کا مطلب رکھتا ہے، مگر یہ پیداوار صرف منافع کے لیے ہے اور رسائی کو مصنوعی طور پر محدود رکھا جاتا ہے ۔
سیاسی شعبے میں یہ اشرافیہ جمہوری عمل کو خالی کر رہی ہے۔ بھٹاچاریہ کے مطابق مالیاتی طاقت ریاستی ڈھانچوں کو کھوکھلا کر رہی ہے اور جمہوری معاہدوں کو توڑ رہی ہے ۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ طاقتور اور امیر افراد کی “اسٹیلتھ” یعنی خفیہ کارروائیوں کا پیچھا کرنا بہت مشکل ہے۔ یہ لوگ معاشرتی گروہوں سے نفرت کو واضح طریقوں (جیسے تقاریر) اور خفیہ طریقوں (جیسے ایجنڈے کو چھپانا اور منتشر کرنا) دونوں طرح استعمال کرتے ہیں ۔ ریاستی ڈھانچے اس طرح تبدیل ہو رہے ہیں کہ وہ عوام کی نمائندگی کرنے کی بجائے اس اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کریں۔
تعلیمی شعبے میں یہ اشرافیہ ایک ایسا تعلیمی نظام فروغ دیتی ہے جو اخلاقی مواد سے خالی ہو اور مسابقت کو واحد معیارِ خودی بنائے ۔ ویب نے نوٹ کیا کہ اس نظام کے بنیادی مینیجرز، معذرت خواہ اور پالیسی ساز زیادہ تر میگا کیپیٹلسٹ نہیں ہوتے بلکہ وہ ایسے تعلیمی نظام سے گزر کر آتے ہیں جو کٹ تھروٹ مسابقت کو معاشرے میں عام کرنا چاہتا ہے ۔ ثقافتی شعبے میں میڈیا اور تفریحی صنعت اس اشرافیہ کے عالمی نظریے کو فروغ دیتی ہے، جہاں “دوسرے” کو ایک بے چہرہ گمنام ماس کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو جذبات پر عمل کرتا ہے نہ کہ عقلیت پر ۔
سماجی علوم میں اس نظام کو پروسس کرنے کا طریقہ بھی بہت اہم ہے۔ اکیڈمی میں اس موضوع پر دو بنیادی نقطہ نظر موجود ہیں۔ ایک طرف مارکسی نقطہ نظر ہے جو طبقے پر مبنی طاقتوں اور سرمایہ دارانہ معاشرتی تعلقات کو مرکزی حیثیت دیتا ہے ۔ گڈنس نے نوٹ کیا کہ مارکس کے ہاں یہ بات واضح نہیں ہے کہ اقتصادی کنٹرول کس طرح سیاسی طاقت میں ترجمہ ہوتا ہے، اور اسی وضاحت کی کمی نے ایلیٹ تھیوریسٹوں کو یہ کہنے کا موقع دیا کہ سوشلزم میں بھی وہی ہو گا جو کیپٹلزم میں ہے ۔ تھوربورن کی کتاب “What Does the Ruling Class Do When it Rules؟” اسی سوال کا جواب دینے کی کوشش کرتی ہے کہ حکمران طبقہ جب حکومت کرتا ہے تو کرتا کیا ہے ۔
دوسری طرف وہ نقطہ نظر ہے جو طبقے کی بنیاد پرستی پر سوال اٹھاتا ہے اور اس میں نسل اور جنس جیسے دیگر عوامل کو شامل کرتا ہے ۔ روپرٹ کہتے ہیں کہ کلاسیکل مارکسی زمرے خود بخود عالمی نظم کی جدوجہد کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں، کیونکہ طبقے پر مبنی تعلقات اور شناختیں دوسروں جیسے جنس اور نسل سے بھی مل کر بنتی ہیں ۔ اس سے ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا یہ اشرافیہ صرف معاشی مفاد سے چلتی ہے یا اس سے زیادہ کچھ ہے؟ ویب کا کہنا ہے کہ اسے صرف مادی، منافع پر مبنی مقاصد میں دیکھنا کافی نہیں، بلکہ اس کی ایک بنیادی نظریاتی اور سماجی ثقافتی بنیاد بھی ہے ۔ منافع ایلیٹ کی لت کا مقصد اس لیے ہے کیونکہ یہ بعض اخلاقی حساسیتوں اور خوبیوں کو ظاہر اور ذریعہ بناتا ہے۔
دونوں نقطہ نظر کے باوجود، ایک حقیقت مشترکہ ہے: سماجی علوم میں اس نظام کو “پروسس” کرنے کا مطلب اکثر اسے ایک ناگزیر ترقی کے طور پر پیش کرنا ہے۔ گلوبلائزیشن کو ایک قدرتی عمل کے طور پر دکھایا جاتا ہے جس کا کوئی متبادل نہیں، حالانکہ یہ ایک مخصوص طبقے کے مفادات کو آگے بڑھانے کا ذریعہ ہے ۔ چینی اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے مطابق، اس عالمی کشمکش میں سرمایہ دارانہ گلوبلائزیشن اور ابھرتی ہوئی سوشلسٹ گلوبلائزیشن کے درمیان جدوجہد جاری ہے، اور اس میں ماحولیاتی حالات اور بحران کا کردار بڑھتا جا رہا ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سوشلسٹ گلوبلائزیشن بھی اسی نظام کا حصہ تو نہیں؟
اس سارے تجزیے سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ کہ عالمی اشرافیہ نے ایک ایسا نظام تشکیل دیا ہے جو ظاہری تضادات کے باوجود اندرونی طور پر متحد ہے۔ یہ نظام سرمایہ داری اور اشتراکیت کے جھوٹے تضاد کو استعمال کرتے ہوئے عوام کو دو حصوں میں بانٹتا ہے اور ان کی توانائی کو آپس کی لڑائی میں ضائع کر دیتا ہے ۔ اس دوران حقیقی طاقت کے مراکز پردۂ اخفا میں محفوظ رہتے ہیں۔ یہ اشرافیہ اب خود کو چھپاتی نہیں بلکہ کھلم کھلا سامنے آتی ہے، اپنی کہانی خود بیان کرتی ہے، اور اپنی طاقت کو ایک مثالی اور قابل تقلید شکل میں پیش کرتی ہے ۔
اس نظام سے نکلنے کا راستہ بھی شاید اسی تضاد کو سمجھنے میں ہے۔ جب عوام یہ جان لیں گے کہ مشرق و مغرب کی جنگ محض دھوکہ ہے اور دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، تو وہ کسی حقیقی منجی کی تلاش میں نکلیں گے۔ بھٹاچاریہ کا کہنا ہے کہ ہمیں جمہوریت کے بارے میں اپنے تصورات کو بھولنا ہوگا اور دوبارہ سے سوچنا ہوگا کہ سیاسی ثقافت کیا ہو سکتی ہے ۔ ان کا مشورہ ہے کہ ہمیں سوشل میڈیا کی قطبیت کو چھوڑ کر ادھورے پڑھنے (incomplete readings) کی طرف جانا ہوگا تاکہ ہم درمیان میں مل سکیں ۔ شاید اسی ادھورے پن میں، اس نامکمل علم میں جو ہم مل کر حاصل کرتے ہیں، حقیقی آزادی کا راستہ پوشیدہ ہے۔
فلسطین کا معاملہ بھی اس تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ یہاں بھی ظاہری جنگ تو اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہے، مگر اصل کھیل کہیں اور کھیلا جا رہا ہے۔ عالمی طاقتیں اس تنازعے کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ ایک طرف اسرائیل کو مضبوط کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف فلسطینیوں کی مزاحمت کو ایک خاص حد تک برداشت کیا جاتا ہے تاکہ یہ تنازعہ ختم نہ ہو۔ کیونکہ اگر یہ تنازعہ ختم ہو گیا تو ان عالمی طاقتوں کے پاس مشرق وسطیٰ میں موجودگی کا جواز ختم ہو جائے گا۔
ایران اور مزاحمتی محاذ کی صورت حال قدرے مختلف ہے۔ یہاں حقیقی مزاحمت موجود ہے، ایک نظریاتی اور ایمانی جنگ ہے جو اس کنٹرولڈ کھیل کا حصہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ محاذ عالمی طاقتوں کے لیے حقیقی خطرہ ہے۔ وہ اسے اپنے کنٹرول میں نہیں لا سکتے، نہ ہی اسے اپنے مفاد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اسی لیے اسے ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔ مگر یہ وہ چنگاری ہے جو حقیقی تبدیلی کی نوید دیتی ہے۔
امام زمانہؑ کا ظہور اسی تناظر میں معنی خیز ہو جاتا ہے۔ جب انسانیت ان دونوں نظاموں کی حقیقت سے پردہ اٹھتا دیکھ لے گی، جب وہ سمجھ لے گی کہ مشرق و مغرب کی جنگ محض دھوکہ ہے، اور دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، تو وہ ایک حقیقی منجی کی تلاش میں نکلے گی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ظہور کا وعدہ پورا ہوتا ہے۔ اس لیے آج کا ہر بحران، ہر جنگ، ہر فریب دراصل اس عظیم حقیقت کی تمہید ہے کہ انسانیت اپنے نجات دہندہ کے لیے تیار ہو رہی ہے۔
یوں ان نظاموں کے درمیان ظاہری جنگ دراصل انسانیت کو اس کی حقیقی پہچان دلانے کا ذریعہ ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ کوئی بھی مادی نظام انسانیت کا مسئلہ حل نہیں کر سکتا، اور نہ ہی کوئی طاقت عدل قائم کر سکتی ہے جب تک کہ وہ الٰہی منبع سے متصل نہ ہو۔ یہ جنگ ہمارے لیے سبق ہے کہ ہم سطحی چمک دمک سے دھوکہ نہ کھائیں، گہرائی میں دیکھیں، اور اصل حقیقت کو پہچانیں جو ہمیں امام زمانہؑ کے منتظر ہونے کا درس دیتی ہے۔
