30

ظلم کے ایوان میں نورِ ایمان

  • نیوز کوڈ : 2618
  • 11 March 2026 - 23:20
ظلم کے ایوان میں نورِ ایمان

ظلم کے ایوان میں نورِ ایمان

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

تحریر : سید جہانزیب عابدی

مکتبِ تشیّع کی فکری و عملی اساس میں ظلم سے عدمِ مفاہمت ایک بنیادی قدر کی حیثیت رکھتی ہے۔ قرآنِ مجید میں بارہا ظالمین کے ساتھ میلان اور تعاون سے روکا گیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: “وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ” (سورۂ ہود 11:113) یعنی ظالموں کی طرف جھکاؤ بھی اختیار نہ کرو کہ تمہیں آگ آ لے گی۔ اسی طرح “إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ” (آلِ عمران 3:57) میں اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ ظلم اور ظالمین سے براءت ایمان کا تقاضا ہے۔ اہلِ بیتؑ کی تعلیمات میں بھی ظلم کے خلاف قیام اور ظالم کی اعانت سے اجتناب کو دین کا جوہر قرار دیا گیا ہے۔ نہج البلاغہ میں امام علی کا فرمان ہے کہ ظالم کا مددگار اور مظلوم کا دشمن نہ بنو، اور شیعہ روایت میں یہ اصول بارہا دہرایا گیا کہ جو شخص ظالم کی تقویت کا سبب بنے وہ اس کے ظلم میں شریک سمجھا جائے گا۔

لیکن اسی کے ساتھ قرآنِ حکیم ایک اور زاویہ بھی پیش کرتا ہے، جو تقیہ، حکمت اور باطنی ایمان کے ساتھ ظالم نظام کے اندر رہ کر حق کی خدمت کرنے والوں کی مثالوں پر مشتمل ہے۔ اس کی سب سے نمایاں مثال “مؤمنِ آلِ فرعون” ہے جس کا ذکر سورۂ غافر میں آیا ہے: “وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ…” (غافر 40:28)۔ یہ وہ صاحبِ ایمان تھے جو فرعون کے دربار کا حصہ تھے مگر دل سے حضرت موسیٰؑ پر ایمان رکھتے تھے اور موقع بہ موقع حکمت کے ساتھ حق کی حمایت کرتے تھے۔ انہوں نے درباریوں کے سامنے عقلی اور اخلاقی استدلال سے موسیٰؑ کی جان بچانے کی کوشش کی اور کہا کہ اگر وہ جھوٹے ہیں تو ان کا جھوٹ انہی پر لوٹے گا اور اگر سچے ہیں تو تم پر عذاب آ سکتا ہے۔ مفسرینِ شیعہ جیسے علامہ طباطبائی نے تفسیر المیزان میں لکھا ہے کہ یہ طرزِ عمل محض تقیہ نہیں بلکہ ایک حکیمانہ جہاد تھا جو باطن میں ایمان اور ظاہر میں مصلحت کے ساتھ انجام پایا۔

اسی طرح فرعون کی زوجہ، جنہیں قرآن میں مؤمنہ قرار دیا گیا، ایک عظیم مثال ہیں۔

آسیہ بنت مزاحم نے نہ صرف حضرت موسیٰؑ کو بچپن میں پناہ دی بلکہ اپنے ایمان کا برملا اظہار بھی کیا۔ سورۂ تحریم (66:11) میں ان کی دعا نقل ہوئی ہے: “رَبِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ…”۔ وہ فرعون جیسے جابر کے گھر میں رہتے ہوئے بھی قلبی اور عملی طور پر حق کے ساتھ وابستہ رہیں۔ روایات میں ہے کہ انہوں نے ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا اور بالآخر شہادت قبول کی۔ یہ نمونہ بتاتا ہے کہ ظالم کے ماحول میں رہنا بذاتِ خود معصیت نہیں، اصل معیار باطنی وفاداری اور عملی جہت ہے۔

تشیع کی تاریخ میں اسی قرآنی اسوہ کی جھلک ہمیں عباسی دور میں نظر آتی ہے، خصوصاً علی بن یقطین کی زندگی میں۔

وہ عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے وزیر تھے مگر دل سے امامِ وقت امام موسیٰ کاظم کے مخلص صحابی تھے۔ روایاتِ شیعہ، خصوصاً رجال کشّی میں مذکور ہے کہ انہوں نے امامؑ کی اجازت سے منصبِ وزارت قبول کیا تاکہ شیعیانِ اہلِ بیتؑ کی مدد کر سکیں، قیدیوں کو رہا کرا سکیں اور ظلم کی شدت کو کم کر سکیں۔ ایک روایت کے مطابق جب ان پر اہلِ بیتؑ سے تعلق کا شبہ ہوا تو امامؑ نے انہیں ظاہری طور پر درباری طریقۂ وضو اختیار کرنے کی ہدایت کی تاکہ ان کی جان محفوظ رہے اور وہ اپنے منصب کے ذریعے مؤمنین کی خدمت جاری رکھ سکیں۔ یہ تقیہ محض ذاتی بقا کے لیے نہ تھا بلکہ اجتماعی مصلحت اور دینی غلبے کے لیے تھا۔

اسی طرح دیگر اصحاب جیسے محمد بن اسماعیل بن بزیع اور عبداللہ بن سنان بھی عباسی نظام میں رہ کر شیعوں کے لیے سہارا بنے۔ ائمہؑ نے اصولی طور پر ظالم کی اعانت سے منع فرمایا، جیسا کہ امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ ظالم کے لیے قلم کی سیاہی تک فراہم کرنا جائز نہیں؛ لیکن ساتھ ہی جہاں کسی باایمان شخص کی موجودگی ظلم کو کم کرنے اور اہلِ حق کی مدد کا ذریعہ بنے، وہاں حکمت اور تقیہ کی راہ کھلی رکھی گئی۔

یہ تمام مثالیں اس قرآنی توازن کو واضح کرتی ہیں کہ ایک طرف ظلم سے قلبی و عملی براءت لازم ہے اور دوسری طرف حالات کی نزاکت کے مطابق حکمتِ عملی بھی دین کا حصہ ہے۔ مومنِ آلِ فرعون ہو یا آسیہ بنت مزاحم، یا علی بن یقطین جیسے اصحاب، سب نے یہ دکھایا کہ اصل معیار دل کی وابستگی، نیت کی پاکیزگی اور عمل کی سمت ہے۔ اگر کوئی شخص ظالم کے ایوان میں رہ کر ظالم کی تقویت کرے تو وہ قرآن کی وعید کا مصداق ہے، لیکن اگر وہی مقام حق کی نصرت، مظلوم کی اعانت اور دین کی بقا کا ذریعہ بن جائے تو وہی مقام عبادت اور جہاد بن جاتا ہے۔

مکتبِ تشیع میں اس توازن کو “براءت” اور “تقیہ” کے اصولوں کے ذریعے سمجھا جاتا ہے۔ براءت کا مطلب ظلم سے نظری اور عملی لاتعلقی ہے، جبکہ تقیہ کا مقصد ایمان اور اہلِ ایمان کی حفاظت ہے، نہ کہ ظلم کی تائید۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا میں امام حسین نے علانیہ قیام کا راستہ اختیار کیا کیونکہ وہاں خاموشی ظلم کی تائید بن جاتی، اور دوسری طرف بعض ادوار میں ائمہؑ نے باطنی جدوجہد اور فکری تربیت کو ترجیح دی کیونکہ وہی دین کے تحفظ کا مؤثر راستہ تھا۔

یوں قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ مکتبِ تشیع ظلم سے مفاہمت کا نہیں بلکہ حکمت کے ساتھ مقابلے کا قائل ہے۔ کبھی یہ مقابلہ کربلا کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور کبھی مومنِ آلِ فرعون یا علی بن یقطین کی خاموش مگر مؤثر جدوجہد میں۔ دونوں صورتوں میں مقصد ایک ہی ہے: حق کی سربلندی اور باطل کی بیخ کنی، خواہ میدانِ جہاد میں ہو یا ایوانِ اقتدار کے اندر حکمت کے ساتھ۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2618

ٹیگز

تبصرے