30

دینی تجرد یا    سیکیولر غیر جانبداری

  • نیوز کوڈ : 2627
  • 11 March 2026 - 23:37
دینی تجرد یا    سیکیولر غیر جانبداری

دینی تجرد یا    سیکیولر غیر جانبداری

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

تحریر : سید جہانزیب عابدی

اسلامی عرفانی روایت میں “مجرد ذہن” اور جدید فکری دنیا میں رائج “نیوٹرل” یا “غیر جانب دار ذہن” بظاہر ایک دوسرے کے قریب محسوس ہوتے ہیں، کیونکہ دونوں میں کسی نہ کسی درجے کی بے تعلقی یا غیر وابستگی کا تصور پایا جاتا ہے۔ مگر حقیقت میں دونوں کے مبانی، مقاصد اور نتائج میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ایک کا سرچشمہ وحی اور سلوکِ الی اللہ ہے، جبکہ دوسرے کی بنیاد جدید مغربی فلسفہ، خصوصاً سائنسی ابجیکٹیوٹی اور سیکولر اپسٹمولوجی میں پیوست ہے۔

انسان کے دینی اور شعوری سفر کو اگر وجودی ارتقاء کے طور پر دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ “مجرد ذہن” اور “نیوٹرل ذہن” کے درمیان فرق اچانک پیدا نہیں ہوتا بلکہ تدریجاً نمایاں ہوتا ہے۔ یہ فرق مراحل میں ابھرتا ہے، گہرا ہوتا ہے، اور بالآخر اپنی اصل نوعیت میں سمجھ آتا ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ دینی عرفانی سفر میں “غیر جانب داری” بالکل ناپید ہو جاتی ہے، درست نہیں ہوگا۔ دراصل اس کا مفہوم بدل جاتا ہے۔

بچپن میں انسان کا ذہن نہ واقعی مجرد ہوتا ہے اور نہ حقیقی معنوں میں نیوٹرل۔ وہ فطری سادگی رکھتا ہے مگر وہ شعوری سادگی نہیں ہوتی۔ وہ ماحول سے جو کچھ پاتا ہے، اسے قبول کرتا ہے۔ اس مرحلے میں نہ وہ اپنے تعصبات کو پہچانتا ہے اور نہ ہی اپنے ایمان کو تنقیدی نظر سے دیکھتا ہے۔ یہاں نہ جدید نیوٹرلٹی کا تصور موجود ہوتا ہے اور نہ عرفانی تجرد کا شعور۔ یہ ایمان کا ابتدائی، تقلیدی اور سادہ مرحلہ ہوتا ہے۔

جب شعور بیدار ہوتا ہے اور انسان سوال اٹھانا شروع کرتا ہے تو وہ پہلی بار غیر جانب داری کی خواہش محسوس کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ inherited عقائد سے الگ ہو کر خود تحقیق کرے۔ یہاں جدید فکر کا تصورِ نیوٹرلٹی اسے متاثر کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں خود کو سب وابستگیوں سے الگ کرلوں تو حقیقت تک پہنچ سکوں گا۔ یہ مرحلہ اہم ہے کیونکہ یہ تعصب شکنی کا مرحلہ ہے۔ اس میں انسان اپنی ذہنی ساخت کو ازسرِنو ترتیب دینے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں ایک بنیادی حقیقت آہستہ آہستہ واضح ہونے لگتی ہے کہ مکمل غیر جانب داری ممکن نہیں۔ انسان کا ہر سوال بھی کسی نہ کسی اقداری پس منظر سے اٹھتا ہے اور ہر تجزیہ بھی کسی نہ کسی مفروضے پر قائم ہوتا ہے۔

دینی علمی سفر جب گہرائی اختیار کرتا ہے اور انسان صرف مباحثہ نہیں بلکہ تزکیہ اور باطنی اصلاح کی طرف بڑھتا ہے تو اسے یہ سمجھ آتی ہے کہ اصل مسئلہ جانبداری کا نہیں بلکہ وابستگی کی نوعیت کا ہے۔ کیا میں نفس کے ساتھ وابستہ ہوں یا حق کے ساتھ؟ یہاں عرفانی تجرد کا مفہوم سامنے آتا ہے۔ تجرد کا مطلب اقداری خلا نہیں بلکہ نفس سے خلا ہے۔ یعنی انسان اپنے مفاد، انا، گروہی تعصب اور خواہشات کی جانبداری سے آزاد ہو جائے تاکہ حقیقت کو اس کی اصل صورت میں قبول کر سکے۔

اس مرحلے پر جدید نیوٹرلٹی کا تصور اپنی محدودیت ظاہر کرتا ہے۔ جدید غیر جانب داری اکثر یہ دعویٰ کرتی ہے کہ انسان اقدار سے ماورا ہو کر سوچ سکتا ہے۔ مگر عرفانی تجربہ یہ بتاتا ہے کہ انسان اقدار سے ماورا نہیں ہو سکتا، البتہ وہ اقدار کے انتخاب میں شعوری ہو سکتا ہے۔ عرفان میں غیر جانب داری کا مطلب یہ نہیں کہ حق و باطل دونوں کے مقابل لاتعلق رہا جائے، بلکہ یہ ہے کہ نفس کے تعصب سے آزاد ہو کر حق کے سامنے سر تسلیم خم کیا جائے۔

دینی اور عرفانی سفر میں “نیوٹرلٹی” بطور اقداری لاتعلقی بتدریج تحلیل ہو جاتی ہے، لیکن “غیر جانب داری” بطور تزکیہ باقی رہتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ ابتدائی مرحلے میں غیر جانب داری کا تصور حقیقت سے فاصلہ پیدا کرتا ہے، جبکہ پختہ عرفانی مرحلے میں غیر جانب داری انسان کو نفس سے فاصلہ دلاتی ہے تاکہ وہ حقیقت سے قریب ہو سکے۔

یہ فرق مراحل میں نمایاں ہوتا ہے۔ ابتدا میں انسان تعصب کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے، پھر وہ غیر جانب داری کی تلاش میں تعصب کو توڑتا ہے، اور آخرکار وہ جان لیتا ہے کہ اصل کمال لاتعلقی میں نہیں بلکہ صحیح وابستگی میں ہے۔ اس مقام پر نیوٹرلٹی ایک عارضی سیڑھی ثابت ہوتی ہے، منزل نہیں۔ عرفان کی پختگی میں انسان بے رنگ نہیں ہوتا بلکہ وہ حق کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ اس لیے مطلق غیر جانب داری دینی عرفانی سفر میں ناپید ہو جاتی ہے، لیکن نفس سے غیر جانب داری باقی رہتی ہے اور یہی تجرد کا حقیقی مفہوم ہے۔

اسلامی عرفان میں “مجرد ذہن” کا تصور دراصل روحانی تزکیہ اور تطہیرِ باطن کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ یہ وہ ذہن ہے جو خواہشاتِ نفس، تعصبات، مادی وابستگیوں اور نفسانی آلائشوں سے پاک ہو کر حقیقت کو دیکھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس کا مقصد محض معلومات کا غیر جانب دار تجزیہ نہیں بلکہ حق تک رسائی ہے۔ قرآنِ کریم میں “تزکیہ” اور “تقویٰ” کو علم کے نور کا مقدمہ قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید کی روشنی میں دل کی پاکیزگی علم کے ادراک کو بڑھاتی ہے۔ اسی طرح امام علی بن ابی طالب کے کلمات میں دل کو آئینہ قرار دیا گیا ہے جسے گناہ زنگ آلود کر دیتے ہیں۔ لہٰذا مجرد ذہن دراصل وہ قلب و عقل ہے جو ریاضت، ذکر، مجاہدہ اور عبودیت کے ذریعے شفاف ہو چکا ہو اور جس میں حقائق الٰہیہ کا انعکاس ممکن ہو۔

اس کے برعکس جدید “نیوٹرل ذہن” کا تصور یورپی روشن خیالی کے بعد ابھرا، جہاں علم کو مذہب اور ماورائیت سے الگ کرکے خالصتاً تجرباتی اور عقلی بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش کی گئی۔ René Descartes نے شک کو نقطۂ آغاز بنایا اور شعور کو خود بنیاد مانا۔ بعد میں سائنسی طریقۂ کار نے یہ دعویٰ کیا کہ محقق کو اپنی ذاتی اقدار، عقائد اور رجحانات کو تحقیق سے الگ رکھنا چاہیے تاکہ نتائج غیر جانب دار ہوں۔ یہاں غیر جانب داری کا مطلب ہے value-neutrality، یعنی علم کو اخلاقی یا مذہبی اقدار سے آزاد کرنا۔ اس تصور میں ذہن ایک مشاہدہ کرنے والی مشین کی طرح ہے جو ڈیٹا کو جمع کرکے تجزیہ کرتی ہے، مگر اس کا کسی حتمی مابعد الطبیعی حقیقت سے کوئی التزام نہیں ہوتا۔

اسلامی عرفانی مجرد ذہن اور جدید نیوٹرل ذہن کے درمیان بنیادی فرق ان کے ontological اور epistemological مبانی میں ہے۔ اسلامی عرفان میں کائنات ایک ذومعنی حقیقت ہے، جس کا ہر ذرہ خدا کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ذہن کا تجرد اسے اس قابل بناتا ہے کہ وہ ظواہر کے پیچھے باطن کو دیکھ سکے۔ یہ ذہن حقیقت سے بے تعلق نہیں بلکہ حقیقتِ مطلقہ یعنی خدا کے ساتھ گہری وابستگی رکھتا ہے۔ اس کے لیے غیر جانب داری کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حق و باطل کے درمیان لاتعلق ہو جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ نفس کی طرف داری سے نکل کر حق کی طرف داری اختیار کرے۔

جدید نیوٹرل ذہن میں غیر جانب داری اکثر اقداری لاتعلقی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ وہ خیر و شر، حق و باطل، مقدس و غیر مقدس کو تحقیق کے دائرے سے باہر رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ نتیجتاً وہ اخلاقی فیصلوں کو subjective یا سماجی معاہدہ قرار دیتا ہے۔ اسلامی عرفان کے نزدیک یہ ممکن ہی نہیں کہ ذہن مکمل طور پر غیر اقداری ہو، کیونکہ انسان کی فطرت خود اقداری ساخت رکھتی ہے۔ ہر شعور کسی نہ کسی جہت کی طرف مائل ہوتا ہے۔ لہٰذا “مکمل نیوٹرلٹی” ایک مفروضہ ہے، حقیقت نہیں۔

عرفانی مجرد ذہن میں مجاہدہ اور سلوک کا عنصر مرکزی ہے۔ یہ ذہن عبادت، ذکر، تلاوت اور فکر کے ذریعے تدریجاً صفا حاصل کرتا ہے۔ اس کا علم حضوری اور ذوقی بھی ہوتا ہے، صرف حصولی نہیں۔ وہ حقائق کو صرف تصورات کی سطح پر نہیں بلکہ وجودی تجربے کی سطح پر بھی جانتا ہے۔ اس کے برعکس جدید نیوٹرل ذہن کا علم زیادہ تر حصولی، تجزیاتی اور مقداری ہوتا ہے۔ وہ مشاہدہ، تجربہ اور منطق کے ذریعے نتائج اخذ کرتا ہے، مگر باطنی کشف یا شہود کو علمی معیار نہیں مانتا۔

ایک اور اہم فرق مقصدیت کا ہے۔ عرفانی ذہن کا مقصد قربِ الٰہی اور کمالِ انسانی ہے۔ اس کے لیے علم عبادت کا حصہ ہے۔ جبکہ جدید نیوٹرل ذہن کا مقصد عموماً پیش گوئی، کنٹرول اور ٹیکنالوجیکل ترقی ہے۔ وہ کائنات کو سمجھ کر اس پر غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہاں علم طاقت کا ذریعہ بن جاتا ہے، جبکہ عرفان میں علم نور بن جاتا ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ اسلامی عرفانی مجرد ذہن دراصل “تزکیہ یافتہ وابستگی” کا نام ہے، یعنی نفس سے بے تعلقی اور حق سے وابستگی۔ جبکہ جدید نیوٹرل ذہن “اقداری لاتعلقی” کا دعویٰ کرتا ہے، جو عملاً ممکن نہیں اور اکثر کسی مخفی نظریاتی پس منظر کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ ایک ذہن حق کی تلاش میں خود کو بدلتا ہے، دوسرا ذہن دنیا کو سمجھنے اور بدلنے کی کوشش میں خود کو غیر متعلق ظاہر کرتا ہے۔

آخرکار، عرفانی نقطۂ نظر سے حقیقی غیر جانب داری وہ ہے جو انسان کو نفس کی غلامی سے آزاد کرے، نہ کہ اسے حقیقتِ مطلق سے کاٹ دے۔ کیونکہ جب ذہن خدا سے خالی ہو جاتا ہے تو وہ خالی نہیں رہتا، بلکہ کسی اور نظریے، مفاد یا طاقت کے زیرِ اثر آ جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلامی عرفانی مجرد ذہن اور جدید نیوٹرل ذہن کے درمیان اصل فاصلہ نمایاں ہو جاتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2627

ٹیگز

تبصرے