بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
خدا کو واحد اور یکتا ماننے کا عقیدہ عموماً توحید کہلاتا ہے۔ انسانی تاریخ میں مختلف ادوار اور تہذیبوں میں ایسے مذاہب اور فکری نظام موجود رہے ہیں جن میں کسی نہ کسی شکل میں ایک اعلیٰ اور واحد خدا کا تصور پایا جاتا ہے۔ اگرچہ ان مذاہب کے تصورات اور عقائد میں تفصیل اور تشریح کے اعتبار سے فرق موجود ہے، لیکن اس بنیادی نکتے پر اتفاق نظر آتا ہے کہ کائنات کے پیچھے ایک اعلیٰ اور برتر ہستی موجود ہے جو اس نظام کی خالق اور حاکم ہے۔
تاریخی طور پر سب سے نمایاں مثالیں ان مذاہب کی ہیں جنہیں عموماً ابراہیمی مذاہب کہا جاتا ہے، کیونکہ ان کی فکری اور روحانی روایت حضرت ابراہیم علیہ السلام سے منسوب سمجھی جاتی ہے۔ ان میں سب سے واضح اور جامع تصور توحید کا مذہب Islam میں ملتا ہے۔ اسلام کی بنیادی تعلیم یہی ہے کہ کائنات کا خالق اور معبود صرف ایک ہے جسے اللہ کہا جاتا ہے، اور اسی کی عبادت اور اطاعت انسان کی اصل ذمہ داری ہے۔ اسلام کے عقیدۂ توحید میں خدا کی وحدانیت کو ہر قسم کی شرکت، تجسیم اور تقسیم سے بالاتر قرار دیا جاتا ہے۔
اسی سلسلے کا دوسرا مذہب Judaism ہے جس میں بھی ایک خدا پر ایمان بنیادی عقیدہ ہے۔ یہودی روایت کے مطابق خدا کو “یَہوَوَہ” یا “YHWH” کہا جاتا ہے، جو بنی اسرائیل کا رب اور پوری کائنات کا خالق سمجھا جاتا ہے۔ یہودی مذہبی متون میں خدا کی وحدانیت اور اس کی حاکمیت پر بار بار زور دیا گیا ہے۔
اسی ابراہیمی روایت سے جڑا ہوا ایک اور مذہب Christianity ہے۔ عیسائیت بھی بنیادی طور پر ایک خدا پر ایمان رکھتی ہے، لیکن اس کے عقائد میں بعد کے زمانوں میں تثلیث کا نظریہ شامل ہوگیا جس کے مطابق خدا کو باپ، بیٹا اور روح القدس کی تین شخصیات میں بیان کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود عیسائی مذہب اپنے آپ کو ایک خدا پر ایمان رکھنے والی روایت ہی سمجھتا ہے۔
ابراہیمی مذاہب کے علاوہ تاریخ میں بعض دیگر مذہبی تحریکیں بھی ملتی ہیں جن میں ایک اعلیٰ خدا کا تصور نمایاں نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر قدیم ایرانی مذہب Zoroastrianism میں “اہورا مزدا” کو ایک اعلیٰ اور برتر خدا کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو خیر، روشنی اور سچائی کا سرچشمہ سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ اس مذہب میں خیر اور شر کی قوتوں کے درمیان کشمکش کا تصور بھی موجود ہے، لیکن اس کے باوجود اہورا مزدا کو کائنات کی اعلیٰ ترین ہستی مانا جاتا ہے۔
اسی طرح قدیم مصر کی تاریخ میں ایک دلچسپ مذہبی تحریک Atenism کے نام سے ملتی ہے۔ اس تحریک کو مصر کے فرعون Akhenaten نے فروغ دیا تھا، جس میں سورج کے دیوتا “Aten” کو واحد خدا کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ اگرچہ یہ تحریک زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی، لیکن تاریخِ مذاہب میں اسے توحید کی طرف ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
مزید برآں بعض نسبتاً جدید مذاہب بھی ایک خدا کے تصور پر قائم ہیں۔ مثال کے طور پر Sikhism میں “واہگرو” کو ایک واحد اور بے مثال خدا کے طور پر مانا جاتا ہے جو پوری کائنات کا خالق اور مالک ہے۔ اسی طرح Baháʼí Faith میں بھی ایک خدا پر ایمان بنیادی عقیدہ ہے اور اس مذہب کے مطابق مختلف زمانوں میں آنے والے انبیاء اور پیغمبر دراصل اسی ایک خدا کے پیغامبر تھے۔
ان تمام مثالوں کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسانی تاریخ میں ایک خدا کے تصور نے مختلف صورتوں میں خود کو ظاہر کیا ہے۔ بعض مذاہب میں یہ تصور نہایت خالص اور واضح شکل میں موجود ہے جبکہ بعض میں اس کے ساتھ دیگر عقائد اور تصورات بھی شامل ہو گئے ہیں۔ تاہم اگر خالص اور مکمل توحید کی بات کی جائے تو اس کی سب سے واضح اور جامع شکل اسلام میں نظر آتی ہے، جہاں خدا کی وحدانیت کو مذہب کی بنیاد اور انسانی زندگی کی اصل حقیقت قرار دیا گیا ہے۔
تاریخِ مذاہب میں ایک اہم اور بنیادی سوال یہ بھی رہا ہے کہ انسانی مذہبی شعور کی ابتدا کس طرح ہوئی: کیا انسان نے سب سے پہلے ایک خدا کو مانا اور بعد میں شرک پیدا ہوا، یا ابتدا میں متعدد خداؤں اور روحوں کا تصور تھا اور بعد میں توحید وجود میں آئی؟ اس مسئلے کے بارے میں عمومی طور پر دو بڑے نقطۂ نظر سامنے آتے ہیں: ایک مذہبی، خصوصاً اسلامی روایت کا موقف، اور دوسرا جدید مغربی علمِ بشریات کا نظریہ۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق انسان کی ابتدا ہی توحید سے ہوئی تھی۔ اسلام کے مطابق پہلے انسان اور پہلے نبی Adam تھے، جنہوں نے انسانوں کو ایک خدا کی عبادت کی تعلیم دی۔ قرآن کے مطابق تمام انبیاء کی دعوت کا مرکزی پیغام یہی تھا کہ انسان صرف ایک خدا کی عبادت کرے اور اسی کو اپنا رب مانے۔ Qur’an میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ابتدا میں انسان ایک ہی امت تھے، پھر اختلافات اور انحرافات پیدا ہوئے جس کے بعد اللہ نے ہدایت کے لیے انبیاء بھیجے۔ اسلامی روایات کے مطابق حضرت آدمؑ کے بعد کئی نسلیں توحید پر قائم رہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں میں انحراف پیدا ہوا۔ روایت میں بیان کیا جاتا ہے کہ Noah کے زمانے سے پہلے لوگوں نے نیک اور صالح افراد کی یاد میں مجسمے بنانا شروع کیے، جو بعد میں بتوں کی صورت اختیار کر گئے اور یوں آہستہ آہستہ شرک کا آغاز ہوا۔
اس کے مقابلے میں جدید مغربی علمِ بشریات میں بعض محققین نے مذہب کی ابتدا کے بارے میں ایک مختلف نظریہ پیش کیا۔ ان کے مطابق ابتدائی انسان کا مذہبی شعور بہت سادہ اور ابتدائی نوعیت کا تھا۔ اس نظریے کے مطابق پہلے مرحلے میں انسان animism کا قائل تھا، یعنی وہ یہ سمجھتا تھا کہ فطرت کی ہر چیز، جیسے درخت، دریا اور پہاڑ، کسی نہ کسی روح کے حامل ہیں۔ اس کے بعد مذہبی تصور نے ترقی کی اور polytheism یعنی متعدد خداؤں کے عقیدے کی شکل اختیار کر لی۔ آخرکار ایک طویل فکری ارتقاء کے بعد انسان نے monotheism یا ایک خدا کے عقیدے تک رسائی حاصل کی۔ تاہم اس نظریے پر بعد میں کئی اعتراضات بھی سامنے آئے، کیونکہ قدیم ترین تہذیبوں اور قبائلی معاشروں میں بھی بعض جگہ ایک اعلیٰ اور برتر خدا کا تصور موجود ملتا ہے۔ اسی بنیاد پر کچھ مغربی محققین، جیسے Wilhelm Schmidt، نے یہ موقف پیش کیا کہ ابتدائی انسانی معاشروں میں بھی کسی نہ کسی شکل میں ایک اعلیٰ خالق خدا کا تصور پایا جاتا تھا۔
اس طرح مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس مسئلے پر مکمل اتفاق موجود نہیں ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق تاریخ کی ابتدا توحید سے ہوئی اور بعد میں انسانوں کے انحراف سے شرک پیدا ہوا، جبکہ بعض مغربی نظریات کے مطابق مذہب کا ارتقاء شرک سے توحید کی طرف ہوا۔ تاہم جدید تحقیقات نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ ابتدائی انسانوں کے مذہبی شعور میں کسی نہ کسی صورت میں ایک اعلیٰ خدا کا تصور موجود رہا ہے، جس سے یہ بحث مزید پیچیدہ اور دلچسپ ہو جاتی ہے۔
جدید “Anthropology” (علمِ بشریات) بظاہر انسان، ثقافت اور معاشروں کے مطالعے کا ایک غیر جانب دار علمی شعبہ دکھائی دیتا ہے، لیکن تاریخ کا گہرا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ اس کی تشکیل اور ارتقاء مکمل طور پر خالص علمی ماحول میں نہیں ہوا۔ انیسویں اور بیسویں صدی کے دوران جب یورپی طاقتیں دنیا کے مختلف خطوں پر استعماری قبضہ جما رہی تھیں تو اسی زمانے میں علم بشریات ایک باقاعدہ تعلیمی مضمون کی صورت میں ابھرا۔ اس پس منظر میں کئی محققین نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس علم کی ابتدائی ساخت میں استعماری مفادات اور عالمی طاقتوں کی سیاسی حکمت عملیوں کا اثر بھی شامل رہا۔
برطانوی اور یورپی سامراج نے جب ایشیا، افریقہ اور امریکہ کے خطوں پر قبضہ کیا تو ان کے لیے ضروری تھا کہ وہ مقامی معاشروں، قبائل، مذاہب اور ثقافتوں کو سمجھیں تاکہ ان پر زیادہ مؤثر طریقے سے حکومت کر سکیں۔ اسی ضرورت کے تحت کئی ماہرین بشریات کو استعماری حکومتوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ مثال کے طور پر “Bronisław Malinowski” اور “A. R. Radcliffe-Brown” جیسے نامور محققین نے جن علاقوں میں تحقیق کی وہ زیادہ تر وہی علاقے تھے جو اس وقت برطانوی یا یورپی کنٹرول میں تھے۔ اس طرح علم بشریات صرف ایک نظریاتی علم نہیں رہا بلکہ کئی مواقع پر استعماری انتظامیہ کے لیے ایک عملی آلہ بھی بن گیا۔
اسی پس منظر میں مذہب کی ابتدا کے بارے میں جو نظریات پیش کیے گئے، جیسے کہ “Edward Burnett Tylor” کا animism کا نظریہ یا “Émile Durkheim” کا مذہب کو محض سماجی علامت قرار دینا، بعض ناقدین کے نزدیک ایک فکری فریم ورک کا حصہ تھے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وحی اور الٰہی ہدایت کے تصور کو تاریخی طور پر کمزور دکھایا جائے۔ جب مذہب کو صرف سماجی ارتقاء یا انسانی تخیل کی پیداوار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو اس سے ان مذاہب کی فکری بنیاد متاثر ہوتی ہے جو اپنے ماخذ کو آسمانی وحی قرار دیتے ہیں، جیسے “Islam” یا “Judaism”۔
کچھ مفکرین اس پورے فکری رجحان کو وسیع تر مغربی اور صہیونی علمی بیانیے سے بھی جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق جدید علمی اداروں، یونیورسٹیوں اور پالیسی ساز مراکز میں ایسے نظریات کو فروغ دیا گیا جن کے ذریعے مذہب کو ایک تاریخی یا سماجی مظہر کے طور پر محدود کر دیا جائے، تاکہ انسانی معاشروں کی شناخت مذہب کے بجائے جدید سیکولر قومی یا تہذیبی تصورات کے گرد تشکیل پائے۔ اس تناظر میں بعض ناقدین کا خیال ہے کہ جب مذہب کی اصل کو شرک یا ابتدائی جاہلیت سے جوڑا جاتا ہے اور توحید کو بعد کی ارتقائی منزل بتایا جاتا ہے تو اس سے انبیاء کی دعوتِ توحید کی تاریخی صداقت کو ایک طرح سے چیلنج کیا جاتا ہے۔
تاہم علمی دیانت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ یہ بات واضح رکھی جائے کہ خود علم بشریات کے اندر بھی اس موضوع پر شدید اختلافات موجود ہیں۔ بیسویں صدی میں “Wilhelm Schmidt” جیسے محققین نے یہ نظریہ پیش کیا کہ قدیم قبائل میں ایک اعلیٰ خدا کا تصور پایا جاتا تھا اور ممکن ہے کہ انسانی مذہبی تاریخ کا آغاز کسی نہ کسی شکل کی توحید سے ہوا ہو۔ اس طرح علم بشریات کے اندر بھی ایک ہی موقف نہیں بلکہ مختلف نظریاتی رجحانات پائے جاتے ہیں۔
اس مجموعی منظرنامے کو دیکھنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ علم بشریات محض ایک غیر جانبدار سائنسی علم نہیں بلکہ ایک ایسا علمی میدان بھی ہے جس کی تشکیل تاریخی، سیاسی اور تہذیبی عوامل سے متاثر رہی ہے۔ اسی لیے جب اس علم کے نظریات کو سمجھا جاتا ہے تو ان کے پس منظر میں موجود استعماری دور، عالمی طاقتوں کی فکری حکمت عملیوں اور جدید علمی اداروں کے نظریاتی جھکاؤ کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
مغربی علمِ مذاہب اور “Anthropology” میں اگرچہ ایک زمانے تک یہ نظریہ غالب رہا کہ مذہب کا آغاز “animism اور polytheism” سے ہوا، لیکن بیسویں صدی میں کئی مغربی محققین نے اس کے برعکس موقف اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی مذہبی تاریخ کے آغاز میں کسی نہ کسی شکل میں ““High God” یا واحد اعلیٰ خدا” کا تصور موجود تھا۔ جیسے کہ پہلے بھی ذکر ہوا کہ اس مکتبِ فکر کی سب سے نمایاں شخصیت “Wilhelm Schmidt” تھی، لیکن وہ اکیلے نہیں تھے؛ چند دوسرے مغربی محققین نے بھی اسی سمت کی تحقیق پیش کی۔
مثلاً جرمن ماہرِ مذاہب “Andrew Lang” نے قبائلی مذاہب کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ دکھایا کہ بہت سے قدیم قبائل ایسے ایک خدا پر ایمان رکھتے تھے جو آسمان کا خالق اور اخلاقی قانون دینے والا سمجھا جاتا تھا۔ اپنی کتاب The Making of Religion میں انہوں نے آسٹریلیا، افریقہ اور امریکہ کے کئی قبائل کی مثالیں دی جن میں ایک ایسے خدا کا تصور پایا جاتا ہے جو کائنات کا خالق ہے لیکن روزمرہ عبادت میں زیادہ شامل نہیں ہوتا۔ لینگ کے مطابق یہ تصور اس خیال کے خلاف جاتا ہے کہ مذہب صرف بتوں اور روحوں کی عبادت سے شروع ہوا تھا۔
اسی طرح آسٹریا کے ماہر بشریات “Wilhelm Schmidt” نے اپنی مشہور تصنیف Der Ursprung der Gottesidee (“خدا کے تصور کی ابتدا”) میں دنیا کے درجنوں قبائل کا تقابلی مطالعہ پیش کیا۔ ان کا بنیادی دعویٰ یہ تھا کہ سب سے قدیم اور نسبتاً سادہ معاشروں میں اکثر ایک ایسے خدا کا تصور ملتا ہے جو خالق، آسمان کا مالک اور اخلاقی نظم کا نگہبان سمجھا جاتا ہے۔ شمٹ نے اس نظریے کو ““Urmonotheism”” یعنی ابتدائی توحید کہا۔
برطانوی محقق “R. R. Marett” بھی اس بحث میں شامل رہے۔ اگرچہ انہوں نے مذہب کے ابتدائی مرحلے کے لیے “pre-animism” کی اصطلاح استعمال کی، لیکن انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بہت سے قبائلی معاشروں میں ایک بلند و برتر خدا کا تصور پایا جاتا ہے جو دیگر روحانی ہستیوں سے مختلف سمجھا جاتا ہے۔
اسی طرح امریکی ماہرِ مذاہب “Mircea Eliade” نے بھی اپنی تحریروں میں یہ نکتہ اٹھایا کہ دنیا کے بہت سے قدیم قبائل میں ایک “Sky God” یا آسمانی خدا کا تصور ملتا ہے جو تخلیق کا سرچشمہ سمجھا جاتا ہے۔ اپنی کتاب Patterns in Comparative Religion میں انہوں نے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ مختلف تہذیبوں میں یہ تصور حیرت انگیز طور پر مشترک ہے۔
ان محققین کے دلائل بنیادی طور پر تین قسم کے تھے۔ پہلی دلیل تقابلی بشریاتی مشاہدہ تھا؛ یعنی افریقہ، آسٹریلیا اور امریکہ کے ابتدائی قبائل میں ایک ایسے اعلیٰ خدا کا تصور ملنا جو کائنات کا خالق اور اخلاقی نظم کا نگہبان سمجھا جاتا ہے۔ دوسری دلیل یہ تھی کہ ان قبائل کے مذہبی نظام میں یہ اعلیٰ خدا اکثر بتوں یا روحوں سے الگ اور زیادہ بلند مقام رکھتا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل تصور زیادہ خالص تھا اور بعد میں مختلف روحانی ہستیوں کا اضافہ ہوا۔ تیسری دلیل تاریخی و ارتقائی تنقید تھی؛ یعنی انہوں نے کہا کہ اگر مذہب صرف بتوں سے شروع ہوا ہوتا تو قدیم ترین معاشروں میں کسی ایک اعلیٰ خدا کا تصور نہیں ملنا چاہیے تھا، جبکہ عملی طور پر یہ تصور بار بار سامنے آتا ہے۔
اس طرح مغربی علمی دنیا کے اندر بھی یہ بات متفق علیہ نہیں رہی کہ مذہب کی ابتدا لازماً شرک سے ہوئی تھی۔ کچھ محققین کے نزدیک ابتدائی انسان کے مذہبی شعور میں کسی نہ کسی شکل میں “واحد اعلیٰ خدا” کا تصور موجود تھا، جسے بعد کے ادوار میں مختلف مذہبی اور ثقافتی عوامل نے پیچیدہ بنا دیا۔
جب دونوں مکاتبِ فکر کو “تحقیقی منہج (methodology)، دائرۂ مطالعہ (scope) اور استدلالی طریقۂ کار (process of inference)” کے لحاظ سے دیکھا جائے تو یہاں بنیادی طور پر دو نظریے سامنے آتے ہیں: ایک وہ جس کی نمائندگی “Edward Burnett Tylor” اور “Émile Durkheim” جیسے ماہرین کرتے ہیں، جو مذہب کی ابتدا “animism اور polytheism” سے مانتے ہیں؛ اور دوسرا وہ جس کی نمائندگی “Wilhelm Schmidt” اور “Andrew Lang” کرتے ہیں، جو ابتدائی توحید (Urmonotheism) کا نظریہ پیش کرتے ہیں۔
پہلے نظریے کی تحقیقی بنیاد بنیادی طور پر انیسویں صدی کے “ارتقائی ماڈل” پر تھی۔ اس دور میں “Charles Darwin” کے نظریۂ ارتقاء سے متاثر ہو کر بہت سے سماجی علوم میں یہ مفروضہ عام ہوگیا تھا کہ انسانی ثقافت اور مذہب بھی سادہ سے پیچیدہ کی طرف ایک خطی ارتقاء سے گزرتے ہیں۔ اس پس منظر میں “Edward Burnett Tylor” نے اپنی کتاب Primitive Culture میں یہ نتیجہ نکالا کہ مذہب کی ابتدا animism سے ہوئی۔ تاہم ان کی تحقیق کا بڑا حصہ “second-hand reports” پر مبنی تھا، یعنی وہ خود اکثر قبائل کے درمیان نہیں رہے بلکہ مشنریوں، سیاحوں اور نوآبادیاتی افسران کی رپورٹس پر انحصار کرتے تھے۔ اسی طرح “Émile Durkheim” نے آسٹریلوی قبائل کے محدود مواد کی بنیاد پر مذہب کو ایک سماجی مظہر قرار دیا۔ اس طریقۂ تحقیق پر بعد میں یہ تنقید کی گئی کہ اس میں “پہلے سے قائم نظریاتی مفروضہ” (evolutionary progression) کو بنیاد بنا کر شواہد کی تشریح کی گئی۔
اس کے مقابلے میں “Wilhelm Schmidt” کا منہج نسبتاً زیادہ “تقابلی اور وسیع ڈیٹا” پر مبنی تھا۔ انہوں نے اپنی ضخیم تصنیف Der Ursprung der Gottesidee میں دنیا کے درجنوں قبائل کے مذہبی عقائد کا تقابلی مطالعہ کیا اور خاص طور پر ان قبائل کو اہمیت دی جو ثقافتی طور پر نسبتاً کم پیچیدہ تھے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ اگر ابتدائی انسان صرف animism کا قائل ہوتا تو سب سے قدیم معاشروں میں “اعلیٰ خالق خدا” کا تصور نہیں ملنا چاہیے تھا، جبکہ حقیقت میں افریقہ، آسٹریلیا اور امریکہ کے کئی ابتدائی قبائل میں ایک آسمانی خالق خدا کا تصور موجود ہے۔ اسی طرح “Andrew Lang” نے بھی مختلف قبائلی معاشروں کے بیانات کو جمع کرکے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ “High God” کا تصور بہت قدیم ہے۔
اگر دونوں اپروچز کے تحقیقی دائرے اور استدلال کا تقابل کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ animism والا نظریہ زیادہ تر “نظریاتی ارتقائی مفروضے” پر کھڑا تھا، جبکہ Urmonotheism والے محققین نے زیادہ “ethnographic comparison” اور متعدد معاشروں کے ڈیٹا سے استدلال کرنے کی کوشش کی۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ دونوں طرف مکمل اتفاق نہیں ہے اور جدید “Anthropology” میں ان دونوں نظریات پر تنقید بھی موجود ہے۔ بعض ماہرین کہتے ہیں کہ ابتدائی قبائل میں “High God” کا تصور ضرور تھا لیکن اس کا مطلب لازماً خالص فلسفیانہ توحید نہیں تھا، جبکہ دوسرے ماہرین کہتے ہیں کہ مذہبی ارتقاء کا سادہ خطی ماڈل بھی حقیقت کی پوری وضاحت نہیں کرتا۔
اس لیے خالص علمی معیار کے مطابق دیکھا جائے تو انیسویں صدی کے ارتقائی نظریات آج پہلے جتنے مضبوط نہیں سمجھے جاتے، جبکہ “ابتدائی توحید” کا نظریہ کم از کم اس لحاظ سے زیادہ وزنی سمجھا جاتا ہے کہ اس نے زیادہ وسیع تقابلی مواد کو سامنے رکھا اور یہ دکھایا کہ ابتدائی انسانی معاشروں میں بھی ایک “اعلیٰ خالق خدا” کا تصور غیر معمولی حد تک عام تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جدید مذہبی مطالعات میں اب یہ بات زیادہ تسلیم کی جاتی ہے کہ مذہب کی تاریخ کو کسی ایک سادہ ارتقائی فارمولے میں بند نہیں کیا جا سکتا۔
