35

شور یا شعور؟

  • نیوز کوڈ : 2603
  • 10 March 2026 - 3:56
شور یا شعور؟

شور یا شعور؟

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

تحریر : سید جہانزیب عابدی

سنسنی خیزی انسانی اظہار کا ایک ایسا اسلوب ہے جو بظاہر بہت مؤثر اور فوری اثر رکھنے والا محسوس ہوتا ہے، مگر اس کی اصل قدر کا تعین اس کے مقصد اور نتائج سے ہوتا ہے۔ عمومی طور پر سنسنی کا تعلق غیر معمولی شدت، خوف، حیرت یا اشتعال انگیزی سے ہوتا ہے۔ یہ انسانی نفسیات کے اس حصے کو متحرک کرتی ہے جو خطرے اور بقا سے متعلق ہے۔ انسان کا دماغ ارتقائی طور پر اس طرح بنا ہے کہ وہ خطرے کی خبر پر فوراً ردِعمل دے، اس لیے جب کسی مسئلے کو ڈرامائی یا ہنگامی انداز میں پیش کیا جاتا ہے تو توجہ فوراً حاصل ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنسنی خیزی اکثر طاقتور دکھائی دیتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ طاقت ہمیشہ درست اور مفید بھی ہوتی ہے؟

اصل میں سنسنی خیزی اور توجہ انگیزی کے درمیان ایک باریک مگر بنیادی فرق ہے۔ کسی اہم مسئلے کو واضح، پراثر اور مضبوط انداز میں بیان کرنا بذاتِ خود غلط نہیں۔ اگر کوئی حقیقی خطرہ ہو اور اسے مدھم انداز میں پیش کیا جائے تو شاید لوگ اس کی سنگینی کو محسوس نہ کر سکیں۔ اس کے برعکس اگر خطرے کو اس کی اصل شدت کے مطابق نمایاں کیا جائے تو یہ ذمہ دارانہ تنبیہ کہلائے گی، سنسنی نہیں۔ فرق وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں حقیقت سے آگے بڑھ کر مبالغہ، خوف کی غیر ضروری فضا یا جذباتی ہیجان پیدا کیا جائے تاکہ توجہ، فائدہ یا اثر حاصل کیا جا سکے۔

سیاست میں سنسنی خیزی کا استعمال اکثر دیکھا جاتا ہے۔ سیاسی بیانیے کو طاقتور بنانے کے لیے بعض اوقات زبان کو اس قدر تیز اور جذباتی بنا دیا جاتا ہے کہ مخالف کو مکمل خطرہ یا دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ انداز وقتی طور پر عوام کو متحرک ضرور کر دیتا ہے، جلسے بھر جاتے ہیں، نعرے بلند ہوتے ہیں اور جوش پیدا ہو جاتا ہے، مگر طویل مدت میں یہی اسلوب معاشرے کو تقسیم، عدم برداشت اور باہمی بداعتمادی کی طرف لے جاتا ہے۔ جذبات کی بنیاد پر کیا گیا فیصلہ عموماً پائیدار نہیں ہوتا، کیونکہ وہ تحقیق اور توازن سے محروم ہوتا ہے۔

دفاعی شعبے میں بھی سنسنی خیزی اور ذمہ دارانہ اطلاع کے درمیان یہی فرق موجود ہے۔ اگر کوئی حقیقی خطرہ درپیش ہو تو عوام اور اداروں کو خبردار کرنا ضروری ہے، لیکن اگر خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے تاکہ سیاسی حمایت حاصل کی جا سکے یا خوف کے ذریعے پالیسیوں کو قبول کروایا جائے، تو یہ سنسنی خیزی بن جاتی ہے۔ خوف وقتی اطاعت پیدا کر سکتا ہے، مگر اعتماد نہیں پیدا کر سکتا۔ ایک مستحکم دفاعی نظام اعتماد اور شفافیت پر کھڑا ہوتا ہے، نہ کہ مستقل خوف کی فضا پر۔

معیشت اور کاروبار میں بھی یہی صورتحال ہے۔ اشتہارات میں کسی چیز کو پرکشش انداز میں پیش کرنا جائز حکمتِ عملی ہو سکتی ہے، مگر جب دعوے حقیقت سے آگے نکل جائیں اور گاہک کو غیر حقیقی توقعات دی جائیں تو اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔ مارکیٹنگ میں ڈرامائی پیشکش اور دھوکہ دہی کے درمیان فاصلہ بہت کم ہوتا ہے۔ جو کاروبار وقتی سنسنی سے فائدہ اٹھاتے ہیں وہ عموماً دیرپا اعتبار کھو دیتے ہیں، جبکہ جو سچائی اور معیار پر زور دیتے ہیں وہ آہستہ مگر مضبوط بنیاد قائم کرتے ہیں۔

میڈیا میں سنسنی خیزی شاید سب سے زیادہ واضح ہوتی ہے۔ خبر کو اس انداز میں پیش کرنا کہ وہ فوری توجہ حاصل کرے میڈیا کی فطری ضرورت ہے، مگر جب ریٹنگ یا کلکس کے لیے خبر کو بڑھا چڑھا کر، سیاق و سباق سے ہٹا کر یا ادھورے حقائق کے ساتھ پیش کیا جائے تو اجتماعی شعور متاثر ہوتا ہے۔ عوامی رائے جذباتی موجوں پر سوار ہو جاتی ہے اور سنجیدہ مباحث پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرہ معلوماتی طور پر بظاہر بیدار مگر فکری طور پر غیر متوازن ہو جاتا ہے۔

اگر ہم زندہ اور جاندار مثالوں کی بات کریں تو یہ سنسنی خیزی کا اثر انسانوں اور اجتماعی رویوں پر واضح طور پر دیکھنے کو ملتا ہے، کیونکہ یہاں مبالغہ، خوف یا جذباتی تحریک کا فوری اثر حقیقت کے ساتھ ٹکرا کر ظاہر ہوتا ہے۔ میڈیا، سیاست، مذہب اور معیشت و کاروبار میں یہ زندہ مثالیں درج ذیل ہیں۔

میڈیا میں سب سے جاندار مثال وہ رپورٹر یا اینکر ہیں جو براہِ راست خطرے کی صورت حال کو دکھاتے ہیں۔ مثلاََ زلزلے یا طوفان کے دوران وہ مقام پر پہنچ کر لوگوں کی چیخ و پکار، عمارتوں کے ملبے اور پانی میں پھنسے افراد کی تصاویر پیش کرتے ہیں۔ اس عمل میں اگر حقیقت سے زیادہ خوفناک یا ڈرامائی انداز اپنایا جائے، تو عوام میں فوری سنسنی پیدا ہوتی ہے، لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات حقیقت کا درست انداز چھپ جاتا ہے۔ کرونا وبا کے آغاز میں میڈیا میں ہسپتالوں کی بھرمار، لوگ آکسیجن کی کمی میں پریشان، اور موبائل فون پر مریضوں کی تصاویر نشر کرنا بھی اس کی مثال ہے۔ یہ سب زندہ حالات ہیں جو سنسنی پیدا کرتے ہیں، اور وقتی توجہ حاصل کر لیتے ہیں، مگر اگر ہر واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے تو معاشرتی خوف بڑھتا ہے۔

سیاست میں زندہ مثالیں ووٹرز کی تحریک، جلسوں اور احتجاجات کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ جب کوئی رہنما عوام کے سامنے کسی مخالف جماعت یا دشمن ریاست کو “وجودی خطرہ” کے طور پر پیش کرتا ہے، تو لوگوں کے جذبات فوراً متحرک ہو جاتے ہیں۔ عوامی جلسوں میں نعروں، جوش و خروش اور ہاتھوں کی آوازیں ایک زندہ سنسنی پیدا کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر کسی الیکشن مہم میں یہ کہا جائے کہ اگر یہ لیڈر نہ آیا تو ملک تباہ ہو جائے گا، تو ہر فرد فوری طور پر ردعمل دکھاتا ہے۔ یہ زندہ انسانی رویہ سنسنی کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے، مگر اس سے معاشرتی توازن متاثر ہو سکتا ہے۔

مذہبی شعبے میں زندہ مثالیں زیارات، جشن اور تقاریب میں نظر آتی ہیں۔ جب عوام کسی مقدس شخصیت کے گرد جمع ہوتے ہیں، تو عقیدت اور جذباتی وابستگی کی شدت سنسنی پیدا کر دیتی ہے۔ مثال کے طور پر عاشورہ یا میلاد النبی ﷺ کے جلوس میں لوگ شدید جذبات کے ساتھ مظاہر کرتے ہیں، بینرز اٹھاتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں اور اپنے دل کی کیفیت کو عملی اظہار میں لاتے ہیں۔ یہاں سنسنی خیزی زندہ انسانی تجربے کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے، اور بعض اوقات یہ خوف یا عاجزی کے بجائے جذبے اور اشتعال کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

معیشت اور کاروبار میں زندہ مثالیں مارکیٹ اور صارفین کے ردِعمل میں واضح ہوتی ہیں۔ جب کسی نئی پروڈکٹ کے لانچ کے موقع پر لوگ قطار میں کھڑے ہو کر پہلی خریداری کے لیے مقابلہ کرتے ہیں، یا کسی کمپنی کے حصص میں تیزی سے اضافہ یا کمی کی خبر سن کر سرمایہ کار فوری فیصلے کرتے ہیں، تو یہ بھی زندہ سنسنی کی مثال ہے۔ مثال کے طور پر بلیک فرائیڈے یا نئے فون کی ریلیز پر لوگ رات بھر انتظار کرتے ہیں، اور مارکیٹ میں جوش و خروش پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح اسٹاک مارکیٹ میں غیر یقینی حالات یا مالی بحران کی خبر سن کر تیزی سے خرید و فروخت کرنا بھی زندہ انسانی ردِعمل ہے، جو سنسنی کے اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ سب مثالیں اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ سنسنی خیزی کب زندہ اور حقیقی اثر پیدا کرتی ہے۔ یہ جذبات اور ردِعمل کے ذریعے فوری توجہ اور عمل پیدا کرتی ہے، مگر اگر حقیقت سے تجاوز کر جائے یا مبالغہ آمیز ہو جائے تو اجتماعی اعتماد، شعور اور استحکام متاثر ہو جاتا ہے۔ زندہ انسانی مثالیں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ سنسنی خیزی کے اثرات حقیقی ہیں، لیکن ان کا مقصد اور توازن برقرار رکھنا لازم ہے، ورنہ وقتی جوش طویل مدتی نقصان میں بدل سکتا ہے۔

نفسیاتی اعتبار سے سنسنی فوری کیمیائی ردِعمل پیدا کرتی ہے۔ خوف اور حیرت ایڈرینالین کو متحرک کرتے ہیں، جس سے انسان کو فوری حرکت یا ردِعمل کی تحریک ملتی ہے۔ مگر یہ کیفیت مستقل نہیں رہ سکتی۔ مسلسل سنسنی ذہنی تھکن، اضطراب اور بداعتمادی پیدا کرتی ہے۔ جب معاشرہ ہر روز کسی نئے ہنگامی اعلان، نئی تباہی کی پیش گوئی یا نئے خطرے کی خبر سنتا ہے تو رفتہ رفتہ یا تو وہ خوف زدہ ہو جاتا ہے یا بے حس۔ دونوں حالتیں صحت مند نہیں۔

لہٰذا یہ کہنا درست ہوگا کہ کسی بھی شعبے میں سنسنی خیزی بطورِ اصول نہ مطلوب ہے نہ مفید۔ ہاں، اگر شدتِ بیان حقیقت کے مطابق ہو، مبالغہ سے پاک ہو اور اس کا مقصد اصلاح، حفاظت یا بیداری ہو تو وہ حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ لیکن جیسے ہی شدت حقیقت سے تجاوز کرے اور مقصد سچائی کے بجائے اثر یا فائدہ حاصل کرنا بن جائے، وہ سنسنی خیزی میں بدل جاتی ہے اور بالآخر اعتماد کو مجروح کرتی ہے۔

مضبوط معاشرے اور ادارے جذباتی طوفانوں پر نہیں بلکہ استحکام، شفافیت اور معقولیت پر قائم ہوتے ہیں۔ سنسنی آگ کی لپٹ کی طرح ہے جو لمحہ بھر کو روشنی بھی دے سکتی ہے، مگر اگر اسے معیار بنا لیا جائے تو وہ جلانے لگتی ہے۔ پائیدار ترقی اور اجتماعی صحت کا راستہ ہمیشہ توازن، صداقت اور سنجیدہ مکالمے سے گزرتا ہے، نہ کہ وقتی شور اور جذباتی ہیجان سے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2603

ٹیگز

تبصرے