29

انفرادی مسائل کا حل یا نظامی اصلاح؟

  • نیوز کوڈ : 2606
  • 10 March 2026 - 4:04
انفرادی مسائل کا حل یا نظامی اصلاح؟

انفرادی مسائل کا حل یا نظامی اصلاح؟

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

تحریر : سید جہانزیب عابدی

انسانی معاشرہ بظاہر افراد سے بنتا ہے، لیکن اس کی سمت متعین کرنے والی قوتیں اکثر انفرادی نہیں بلکہ نظامی ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ہم ہر شخص کے ذاتی مسائل حل کرنے میں اپنی ساری توانائی صرف کر دیں تو بھی مجموعی صورت حال میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آتی۔ ایک شخص کا قرض ادا کر دینا، کسی ایک طالب علم کی فیس بھر دینا یا کسی ایک ملازم کا مسئلہ حل کر دینا وقتی طور پر مفید ضرور ہے، مگر اگر معاشی ڈھانچہ، تعلیمی نظام یا ادارہ جاتی ناانصافی اپنی جگہ برقرار رہے تو مسائل کی پیداوار جاری رہتی ہے۔ اس لیے وقت اور توانائی کو اس انداز سے استعمال کرنا ضروری ہے کہ وہ جڑ پر اثر انداز ہو، نہ کہ صرف شاخوں کی تراش خراش تک محدود رہے۔

معاشرتی سطح پر سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ ہم علامات کو بیماری سمجھ لیتے ہیں۔ غربت کو محض فرد کی سستی قرار دینا، نوجوانوں کی بے راہ روی کو صرف اخلاقی کمزوری سمجھنا یا اداروں میں بدعنوانی کو چند افراد کی خرابی مان لینا دراصل مسئلے کی گہرائی سے فرار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر ذاتی مسائل کسی بڑے نظامی خلل کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اگر تعلیم کا نظام اقدار سے خالی ہو تو خودغرضی عام ہوگی، اگر معیشت چند ہاتھوں میں مرکوز ہو تو طبقاتی فرق بڑھے گا، اور اگر قیادت کا معیار کردار کے بجائے مفاد ہو تو ادارے کمزور ہوں گے۔ ایسے میں ہر فرد کو الگ الگ درست کرنے کی کوشش ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ بن جاتی ہے۔

یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ جو لوگ نظامی سطح پر اصلاح کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں، وہ دراصل زیادہ توجہ اور مدد کے مستحق ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ وقتی سکون کے بجائے پائیدار تبدیلی کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ایک استاد جو نصاب کی اصلاح کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، ایک محقق جو فکری انحراف کی جڑوں پر کام کر رہا ہے، یا ایک سماجی کارکن جو قانون اور پالیسی میں بہتری کی کوشش کر رہا ہے، ان کے اپنے ذاتی مسائل بھی ہوتے ہیں۔ اگر ایسے افراد تنہا چھوڑ دیے جائیں تو اصلاح کا عمل کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس لیے دانش مندی یہ ہے کہ ان افراد کی پشت پناہی کی جائے جو مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان کی کامیابی ہزاروں افراد کے مسائل کو خود بخود کم کر سکتی ہے۔

مسئلے کی جڑ پر کام کرنا صبر، بصیرت اور طویل المدتی سوچ کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ فوری نتائج نہیں دیتا، اس میں داد و تحسین کم ملتی ہے اور مزاحمت زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ پائیدار تبدیلی ہمیشہ اسی راستے سے آئی ہے۔ جب تعلیم کا نظریہ بدلا تو نسلیں بدل گئیں، جب قانون کا ڈھانچہ درست ہوا تو معاشرے میں انصاف بڑھا، اور جب قیادت کے معیار میں اخلاق کو مرکزی حیثیت ملی تو ادارے مضبوط ہوئے۔ اس کے برعکس وقتی اور سطحی حل اکثر وقتی سکون تو دیتے ہیں مگر مسئلے کو جوں کا توں برقرار رکھتے ہیں۔

دانشمندانہ حکمت عملی یہ ہے کہ ہم اثرات کے بجائے اسباب کو ہدف بنائیں۔ اگر درخت کے پتے بار بار زرد ہو رہے ہوں تو ہر پتے کو سبز رنگنے کے بجائے مٹی، پانی اور جڑوں کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ یہی اصول معاشرتی اور فکری مسائل پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ جب ہم جڑ کو درست کرتے ہیں تو شاخیں خود بخود درست ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس طرح نہ صرف وسائل کی بچت ہوتی ہے بلکہ نتائج بھی دیرپا ہوتے ہیں۔

سورۂ بقرہ کی آیت 273 ہے:

لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ ۚ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ ۚ تَعْرِفُهُم بِسِيمَاهُمْ ۚ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا ۗ وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ

ترجمہ: صدقات اُن فقراء کے لیے ہیں جو اللہ کی راہ میں (دین کے قیام کیلئے جدوجہد کرنے میں) ایسے گھر گئے ہیں کہ زمین میں چل پھر کر (روزگار حاصل کرنے کی) قدرت نہیں رکھتے۔ ناواقف شخص ان کی خودداری کی وجہ سے انہیں مالدار سمجھتا ہے۔ تم انہیں ان کی نشانی سے پہچان سکتے ہو۔ وہ لوگوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔ اور تم جو کچھ بھی خیر میں خرچ کرو گے، بے شک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔

یہ آیت دراصل اسی اصول کو واضح کرتی ہے کہ سب سے زیادہ مدد کے مستحق وہ لوگ ہیں جو دینِ خدا کے نفاذ میں اس قدر مشغول اور محصور ہو جائیں یعنی جو بنیادی کاموں، معاشرے کے مسائل کی جڑوں پر کام کررہے ہوں اس طرح کہ اپنی معاشی کفالت کا موقع نہ پا سکیں، مگر اس کے باوجود عزتِ نفس کے ساتھ زندگی گزاریں اور سوال در سوال نہ کریں۔ ایسے افراد کی سرپرستی درحقیقت ایک بڑے مقصد کی سرپرستی ہے۔

اب اگر سوال یہ ہو کہ معاشرے میں وہ کون سا شعبہ ہے جو استعماری سازشوں سے پیدا ہونے والے نظامی مسائل کی جڑ تک پہنچ سکتا ہے، تو اس کا جواب محض معیشت، سیاست یا عسکری قوت نہیں ہے، بلکہ سب سے بنیادی اور فیصلہ کن شعبہ “تعلیم و فکری تشکیل” کا ہے۔ یہی وہ میدان ہے جہاں انسان کا ذہن بنتا ہے، اقدار تشکیل پاتی ہیں، ترجیحات طے ہوتی ہیں اور مستقبل کی قیادت پروان چڑھتی ہے۔ استعمار کبھی صرف زمینوں پر قبضہ نہیں کرتا، وہ ذہنوں پر قبضہ کرتا ہے۔ جب ذہن غلام ہو جائے تو نظام خود بخود غلامی کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے۔

تاریخی طور پر دیکھا جائے تو نوآبادیاتی قوتوں نے سب سے پہلے مقامی تعلیمی ڈھانچے کو بدلنے کی کوشش کی۔ برصغیر میں Thomas Babington Macaulay کی تعلیمی پالیسی اس کی واضح مثال ہے جس کا مقصد ایک ایسا طبقہ پیدا کرنا تھا جو رنگ و نسل میں مقامی ہو مگر فکر و ذوق میں سامراج کا نمائندہ ہو۔ اسی طرح الجزائر میں France نے صرف زمینوں پر قبضہ نہیں کیا بلکہ زبان، نصاب اور شناخت کو بدلنے کی منظم کوشش کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ استعمار جانتا تھا کہ اگر فکری بنیادیں تبدیل کر دی جائیں تو سیاسی اور معاشی ڈھانچے خود بخود اس کے تابع ہو جائیں گے۔

تعلیم صرف معلومات کی منتقلی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک تہذیبی و نظریاتی عمل ہے۔ اگر نصاب میں تاریخ کو اس زاویے سے پڑھایا جائے کہ قوم اپنی مزاحمتی روایت بھول جائے، اگر معیشت کو محض سرمایہ دارانہ حرص کے اصولوں پر سمجھایا جائے، اگر مذہب کو نجی زندگی تک محدود کر کے اجتماعی نظام سے کاٹ دیا جائے، تو نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے گا جو اپنی ہی جڑوں سے بیگانہ ہوگا۔ ایسے معاشرے میں استعماری مفادات کے لیے راستہ ہموار ہو جاتا ہے، کیونکہ مزاحمت کی فکری بنیاد ہی کمزور ہو چکی ہوتی ہے۔

اس کے برعکس جب تعلیم اپنی تہذیبی روح کے ساتھ جڑی ہو، جب وہ انسان کو محض صارف نہیں بلکہ ذمہ دار اخلاقی ہستی کے طور پر تشکیل دے، جب وہ تاریخ کو شعور کے ساتھ اور معیشت کو انصاف کے تناظر میں پڑھائے، تو وہ نظامی تبدیلی کی بنیاد بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد سب سے زیادہ توجہ نصاب، جامعات اور فکری مراکز کی تشکیل پر دی گئی، کیونکہ قیادت کو معلوم تھا کہ پائیدار تبدیلی بندوق سے نہیں بلکہ فکر سے آتی ہے۔

معاشرے میں سیاست دان، سرمایہ دار اور افسران سب اسی تعلیمی نظام کی پیداوار ہوتے ہیں۔ اگر ان کی فکری تشکیل کسی بیرونی بیانیے کے تحت ہوئی ہو تو وہ غیر محسوس طور پر اسی بیانیے کے مفادات کو آگے بڑھائیں گے، چاہے وہ خود کو محب وطن ہی کیوں نہ سمجھتے ہوں۔ اس لیے اصل ترجیح اس میدان کو دینی چاہیے جہاں انسان کی سوچ کی سمت طے ہوتی ہے۔ اس شعبے میں کام کرنے والے اساتذہ، محققین، نصاب ساز اور فکری راہنما دراصل وہ معمار ہیں جو مستقبل کے نظام کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اگر انہیں نظرانداز کر دیا جائے اور صرف سیاسی نعروں یا معاشی اصلاحات پر توجہ دی جائے تو تبدیلی سطحی رہے گی۔

تعلیم و فکری تشکیل کا شعبہ ہی وہ جڑ ہے جہاں سے باقی تمام شاخیں پھوٹتی ہیں۔ اگر جڑ صحت مند ہو تو سیاست میں دیانت، معیشت میں انصاف اور معاشرت میں توازن پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اگر جڑ ہی بیرونی مفادات کے مطابق ڈھال دی جائے تو پورا درخت اسی سمت جھک جاتا ہے۔ اس لیے دانشمندانہ حکمت عملی یہی ہے کہ سب سے پہلے اس شعبے کو مضبوط کیا جائے، اس میں کام کرنے والوں کی سرپرستی کی جائے، اور اسے محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیبی بقا اور خودمختاری کی بنیاد سمجھا جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں استعماری نظامی مسائل کا اصل توڑ موجود ہے، اور یہی وہ میدان ہے جسے ترجیح دینا ناگزیر ہے۔

البتہ ایک خطرہ ہے وہ یہ کہ چونکہ تعلیم و فکری تربیت کا شعبہ بظاہر مقدس عنوانات سے مزین ہوتا ہے۔ “علم”، “تحقیق”، “آزادیِ فکر”، “ترقی” جیسے الفاظ ایک تقدس اور کشش رکھتے ہیں۔ مگر تاریخ یہ بتاتی ہے کہ صرف عنوانات کی چمک پر اعتماد کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ بہت سے تعلیمی نظام ایسے رہے ہیں جو ظاہراً علم اور ترقی کے داعی تھے مگر درحقیقت وہ استحصالی سیاسی و معاشی ڈھانچوں کے محافظ ثابت ہوئے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم تعلیم کو صرف مقدس نعروں کی بنیاد پر قبول نہ کریں بلکہ اس کے فکری منبع، نظریاتی سمت اور عملی نتائج کا گہرا تجزیہ کریں۔

دائیں اور بائیں، دونوں اطراف کی انحرافی تعلیمی تحریکیں اپنے اپنے انداز میں افراط و تفریط کا شکار رہی ہیں۔ ایک طرف ایسا سرمایہ دارانہ تعلیمی ماڈل ہے جو انسان کو محض “ہیومن ریسورس” بنا دیتا ہے، جہاں کامیابی کا معیار صرف معاشی پیداوار اور منافع ہوتا ہے۔ یہاں اخلاق، روحانیت اور اجتماعی ذمہ داری ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ دوسری طرف بعض اشتراکی یا مادّی نظریات پر مبنی تعلیمی ڈھانچے ہیں جو مذہب، روح اور ماورائیت کو محض سماجی ساخت یا نفسیاتی فریب قرار دے کر انسان کی باطنی جہت کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں انسان کی تکمیل نہیں بلکہ اس کی جزوی تعریف سامنے آتی ہے۔

استعماری اور طاغوتی نظاموں کی ایک بڑی چال یہ رہی ہے کہ وہ تعلیم کو نظریاتی غیرجانبداری کے پردے میں پیش کرتے ہیں، حالانکہ ہر نصاب کسی نہ کسی فلسفۂ حیات پر مبنی ہوتا ہے۔ جب تاریخ کو اس انداز سے پڑھایا جائے کہ مزاحمتی تحریکیں شدت پسندی اور سامراجی قوتیں مہذب و ترقی یافتہ دکھائی دیں، جب معیشت کو اس طرح سکھایا جائے کہ سودی ڈھانچہ “فطری” محسوس ہو، اور جب مذہب کو نجی عبادات تک محدود کر دیا جائے، تو یہ سب غیر محسوس انداز میں ایک مخصوص عالمی نظام کو تقویت دیتے ہیں۔ یوں تعلیم استحصال کا نرم ہتھیار بن جاتی ہے۔

اس پس منظر میں متبادل نظام کی ضرورت محض ایک نظریاتی خواہش نہیں بلکہ تہذیبی بقا کا تقاضا ہے۔ ایسا نظام جو دین و دنیا کو متضاد نہ سمجھے بلکہ دونوں کو ایک ہی حقیقت کے دو رُخ قرار دے۔ جس میں علم کا مقصد صرف معاشی برتری نہیں بلکہ انسان کی اخلاقی و روحانی تکمیل بھی ہو۔ جہاں دنیا کی ترقی آخرت کی جواب دہی سے جدا نہ ہو، اور جہاں کامیابی کا مفہوم محض مادی آسائش نہیں بلکہ عدل، خدمت اور رضائے الٰہی سے جڑا ہو۔

متبادل تعلیمی نظام کی بنیاد توحیدی تصورِ کائنات پر ہونی چاہیے، جس میں انسان کو نہ تو محض حیوانِ معاش سمجھا جائے اور نہ ہی صرف روحانی مخلوق۔ وہ ایک ذمہ دار خلیفۂ خدا ہے جسے زمین پر عدل قائم کرنا ہے۔ اس تصور کے تحت تعلیم کا مقصد ایسے افراد کی تیاری ہوگا جو فکری طور پر آزاد، اخلاقی طور پر مضبوط اور سماجی طور پر ذمہ دار ہوں۔ وہ سائنس پڑھیں تو اسے تسخیرِ کائنات کے ساتھ امانت بھی سمجھیں، معیشت پڑھیں تو اسے عدل و انصاف کے اصولوں کے ساتھ جوڑیں، اور سیاست پڑھیں تو اسے اقتدار نہیں بلکہ خدمت کا میدان جانیں۔

یہ متبادل نظام استحصالی ڈھانچوں کو پروموٹ نہیں کرے گا بلکہ ان کی جڑ کاٹے گا۔ وہ نوجوانوں کو صرف مقابلے کی دوڑ میں نہیں دھکیلے گا بلکہ تعاون اور اجتماعی فلاح کی روح بھی پیدا کرے گا۔ وہ انہیں محض عالمی منڈی کا پرزہ نہیں بنائے گا بلکہ انہیں اپنی تہذیب، اپنی شناخت اور اپنی ذمہ داری کا شعور دے گا۔ ایسے نظام میں تعلیم عبادت بھی ہوگی، خدمت بھی اور تعمیرِ تمدن کا ذریعہ بھی۔

اصل چیلنج یہ ہے کہ ہم سطحی تعلیمی تقدس کے فریب سے نکل کر تعلیم کو ایک نظریاتی و تہذیبی معرکہ سمجھیں۔ جب تک ہم اس معرکے کی حقیقت کو نہیں پہچانیں گے، تب تک ہم غیر محسوس انداز میں انہی ڈھانچوں کو مضبوط کرتے رہیں گے جو ہمارے فکری و معاشی استحصال کا سبب ہیں۔ لیکن جب ہم ایک جامع، متوازن اور توحیدی بنیاد پر مبنی متبادل نظام کی تشکیل کی طرف بڑھیں گے تو یہی شعبہ معاشرتی احیاء اور حقیقی سعادت کا سب سے بڑا ذریعہ بن جائے گا۔

آخرکار اصل سوال ترجیح کا ہے۔ کیا ہم وقتی ہمدردی کے جذبات میں بہہ کر ہر چھوٹے مسئلے میں الجھ جائیں، یا حکمت کے ساتھ ان اسباب کو تلاش کریں جو مسائل کو جنم دیتے ہیں؟ اجتماعی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب توجہ نظامی اصلاح پر مرکوز ہو، اور ایسے لوگوں کی مدد کی جائے جو اس سمت میں سنجیدہ کوشش کر رہے ہیں۔ یہی راستہ وقت کی بچت بھی ہے، توانائی کا درست مصرف بھی اور پائیدار تبدیلی کی ضمانت بھی۔ چنانچہ فیصلہ کن مرحلہ یہ ہے کہ ہم انفرادی ہمدردیوں سے آگے بڑھ کر فکری اور نظامی بیداری کی سطح تک پہنچیں۔ اگر تعلیم کو واقعی تبدیلی کا مرکز بنانا ہے تو اسے محض ڈگریوں، ملازمتوں اور عالمی درجہ بندیوں کے پیمانے سے نکال کر تہذیبی خودمختاری، اخلاقی استحکام اور الٰہی جواب دہی کے شعور سے جوڑنا ہوگا۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے ایک ایسی نسل تیار ہو سکتی ہے جو نہ استعماری بیانیوں سے مرعوب ہو، نہ مادّی افراط و تفریط کا شکار ہو، بلکہ دین و دنیا اور دنیا و آخرت کے توازن کے ساتھ ایک عادلانہ اور باوقار معاشرہ تشکیل دے۔ جب جڑ درست ہوگی تو شاخیں خود سنور جائیں گی، اور جب فکر آزاد اور توحیدی بنیاد پر استوار ہوگی تو کوئی طاغوتی نظام زیادہ دیر تک مسلط نہیں رہ سکے گا۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2606

ٹیگز

تبصرے