39

منتظرین کی توبہ کے لیے قیمتی فرصت: ماہِ رمضان / استاد مہدویت علی اصغر سیفی

  • نیوز کوڈ : 2597
  • 19 February 2026 - 16:17
منتظرین کی توبہ کے لیے قیمتی فرصت: ماہِ رمضان / استاد مہدویت علی اصغر سیفی

منتظرین کی توبہ کے لیے قیمتی فرصت: ماہِ رمضان / استاد مہدویت علی اصغر سیفی

 پہلا درس: خود احتسابی کی ضرورت

امام سجاد کے خطبۂ شام کی روشنی میں استادِ محترم علی اصغر سیفی نے درس کا آغاز ان الفاظ سے کیا:

“ماہِ رمضان صرف بھوکا اور پیاسا رہنے کا نام نہیں ہے۔ یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹ آنے، اپنے باطن کا محاسبہ کرنے اور اپنے آپ کو امامِ زمانؑ کی نصرت کے قابل بنانے کا موقع ہے۔”

اس کے بعد آپ نے امام سجاد کے خطبۂ شام کا یہ جملہ پڑھا:

 فَتَدَبَّرُوا فِيمَا مَضَى مِنْ عُمُرِكُمْ وَمَا بَقِيَ وَافْعَلُوا فِيهِ مَا سَوْفَ يُنْجِيكُمْ

پھر فرمایا:

“امامؑ ہمیں ماضی میں الجھانے کے لیے نہیں کہہ رہے، بلکہ بیدار کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ اپنی گزری ہوئی زندگی پر غور کرو۔ دیکھو ہم نے کیا کھویا؟ کیا پایا؟ کن مواقع کو ضائع کیا؟ اور ابھی جو عمر باقی ہے، کیا ہم اسے بھی اسی غفلت میں گزار دیں گے؟”

توبہ کیا ہے؟

استاد نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:

“توبہ صرف زبان سے استغفار پڑھ لینے کا نام نہیں ہے۔ اگر خدا کا کوئی حق باقی ہے تو اسے ادا کرنا ہوگا۔ اگر کسی بندے کا حق ضائع کیا ہے تو اسے واپس کرنا ہوگا۔ محض آنسو بہانا کافی نہیں، عملی جبران ضروری ہے۔”

آپ نے تاکید کی کہ منتظر وہ نہیں جو صرف ظاہری شعار رکھے، بلکہ وہ ہے جو اپنے باطن کو پاک کرے۔

توبہ کے تین مراحل

اس موقع پر استاد نے مرحوم آیت اللہ شبر کا قول نقل کیا کہ توبہ تین چیزوں پر مشتمل ہے:

علم

حالت

فعل

پھر اس کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا:

1- علم

“پہلے انسان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ گناہ کیا ہے۔ گناہ کوئی معمولی لغزش نہیں، یہ ایسا زہر ہے جو انسان کے دین کو کھوکھلا کر دیتا ہے اور آخرت کو برباد کر دیتا ہے۔ جب تک انسان گناہ کی حقیقت نہیں سمجھے گا، اس کے دل میں درد پیدا نہیں ہوگا۔”

2- حالت

“جب انسان کو شعور ہو جاتا ہے کہ میں نے اپنی سعادتِ ابدی کو خطرے میں ڈال دیا ہے، تو دل میں ایک کیفیت پیدا ہوتی ہے — ندامت، افسردگی، شرمندگی۔ یہی کیفیت توبہ کی روح ہے۔”

 3- فعل

“یہ کیفیت اگر سچی ہو تو انسان کو عمل پر مجبور کر دیتی ہے۔ وہ اللہ کی بارگاہ میں جھک جاتا ہے، گناہوں کا جبران کرتا ہے، اور آئندہ کے لیے پختہ ارادہ کرتا ہے کہ دوبارہ اس راستے پر نہیں چلے گا۔”

توبہ اور علاج کی مثال

استاد نے نہایت خوبصورت مثال دیتے ہوئے فرمایا:

“گناہ بیماری ہے۔ نیک اعمال دوا ہیں۔ لیکن دوا اسی وقت اثر کرے گی جب مریض پرہیز بھی کرے۔ اگر کوئی شخص دوائی بھی کھائے اور ساتھ وہی چیز کھاتا رہے جو بیماری کا سبب ہے، تو وہ شفا کیسے پائے گا؟ اسی طرح اگر ہم توبہ بھی کریں اور دوبارہ اسی گناہ کی طرف پلٹ جائیں، تو یہ حقیقی توبہ نہیں۔”

آخر میں آپ نے فرمایا:

“ماہِ رمضان منتظرین کے لیے تجدیدِ عہد کا مہینہ ہے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم امامؑ کے سامنے پیش ہونے کے قابل بن رہے ہیں یا نہیں۔”

 جاری ہے…

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2597

ٹیگز

تبصرے