تحریر : سید عمار حیدر زیدی
موجودہ عالمی نظام کی بنیاد خواہش کی توسیع پر قائم ہے۔ جدید معیشت کا پہیہ اسی وقت تیزی سے چلتا ہے جب انسان زیادہ چاہے، زیادہ خریدے اور زیادہ خرچ کرے۔ اشتہارات انسان کے ذہن میں یہ احساس پیدا کرتے ہیں کہ خوشی چیزوں میں ہے، کامیابی دولت میں ہے اور وقار ظاہری آسائش میں ہے۔ نتیجتاً انسان کی قدر اس کے کردار سے نہیں بلکہ اس کی خریداری کی قوت سے ناپی جانے لگتی ہے۔ ایسے ماحول میں روزہ ایک غیر معمولی اور خاموش انقلاب ہے؛ ایسا انقلاب جو نعرے نہیں لگاتا مگر انسان کے باطن میں نظام بدل دیتا ہے۔
قرآن کریم نے روزے کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ… لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾۔ یہاں تقویٰ محض ایک روحانی کیفیت نہیں بلکہ ایک شعوری نظم ہے۔ تقویٰ کا مطلب ہے انسان کا اپنے نفس، خواہشات اور ردِّ عمل پر کنٹرول حاصل کرنا۔ سرمایہ دارانہ منطق انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ جو دل چاہے وہ فوراً حاصل کرو؛ روزہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ جو دل چاہے وہ فوراً حاصل کرنا ضروری نہیں۔ یہی فرق تہذیبوں کے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے۔
روزہ دراصل خواہش کے خلاف بغاوت نہیں بلکہ خواہش کی تنظیم ہے۔ بھوک اور پیاس انسان کی فطری ضرورتیں ہیں، مگر روزہ یہ ثابت کرتا ہے کہ انسان ان ضرورتوں کا غلام نہیں بلکہ ان پر قابو رکھنے والا ہے۔ جب ایک شخص شدید گرمی میں پانی موجود ہونے کے باوجود صرف خدا کے حکم کی وجہ سے اسے نہیں پیتا تو وہ دراصل یہ اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ اس کا ارادہ اس کی خواہش سے زیادہ مضبوط ہے۔ یہ کیفیت اگر اجتماعی شعور بن جائے تو معاشرہ صرف منڈی نہیں رہتا بلکہ اخلاقی برادری میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
آج دنیا میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ایک طبقہ فضول خرچی میں ڈوبا ہوا ہے اور دوسرا بنیادی ضروریات سے محروم۔ روزہ اس فاصلے کو کم از کم احساس کی سطح پر ختم کرتا ہے۔ جب خوشحال انسان بھی بھوک کا ذائقہ چکھتا ہے تو اسے محروم طبقے کی تکلیف کا اندازہ ہوتا ہے۔ اسی لیے رمضان میں زکوٰۃ، صدقہ، فطرانہ اور انفاق کی روح مضبوط ہوتی ہے۔ یہ محض مالی ادائیگی نہیں بلکہ معاشی عدل کی تربیت ہے۔ روزہ انسان کو یہ یاد دلاتا ہے کہ دولت امانت ہے، مطلق ملکیت نہیں۔
سرمایہ دارانہ کلچر کی ایک اور خصوصیت مسلسل مصروفیت ہے۔ انسان کے پاس خاموشی کے لیے وقت نہیں، فکر کے لیے فرصت نہیں۔ سوشل میڈیا، مارکیٹنگ اور ڈیجیٹل دنیا ہر لمحہ انسان کی توجہ کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ روزہ اس ہنگامے میں توقف پیدا کرتا ہے۔ سحر و افطار کے اوقات، نماز، تلاوتِ قرآن اور دعا انسان کو اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتے ہیں۔ یہ روحانی توقف دراصل فکری آزادی کی بنیاد ہے۔ جو شخص اپنی توجہ پر قابو پا لے وہ اشتہار اور پروپیگنڈے کا آسان شکار نہیں بنتا۔
مزید برآں، روزہ طاقت اور لذت کے تصور کو بھی بدل دیتا ہے۔ جدید ثقافت میں طاقت کا مطلب زیادہ وسائل اور زیادہ اثر و رسوخ ہے، جبکہ روزہ سکھاتا ہے کہ اصل طاقت اپنے اوپر اختیار ہے۔ جو شخص اپنے غصے کو روک سکتا ہے، اپنی زبان کو قابو میں رکھ سکتا ہے اور اپنی خواہش کو مؤخر کر سکتا ہے وہی حقیقی معنوں میں طاقتور ہے۔ یہ اندرونی طاقت بیرونی نظاموں کے مقابل ایک خاموش مگر مؤثر مزاحمت ہے۔
عالمی سطح پر جب مسلمان مختلف سیاسی اور اقتصادی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، روزہ انہیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ان کی اصل قوت مادی وسائل میں نہیں بلکہ معنوی استحکام میں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ معاشرے باقی رہے جنہوں نے اخلاقی بنیادوں کو مضبوط رکھا۔ رمضان اسی اخلاقی بنیاد کی تجدید کا مہینہ ہے۔ یہ انسان کو کم خرچ کرنے، زیادہ سوچنے، کم بولنے اور زیادہ سننے کی تربیت دیتا ہے۔ یہی اوصاف کسی بھی صحت مند معاشرے کی اساس ہیں۔
روزہ کا انقلابی پہلو اس کی خاموشی میں پوشیدہ ہے۔ یہ بندوق نہیں اٹھاتا، نعرہ نہیں لگاتا، مگر انسان کے اندر ایک نئی ترجیح پیدا کر دیتا ہے۔ وہ سیکھتا ہے کہ ضرورت اور خواہش میں فرق کیا ہے، عزت اور نمائش میں کیا امتیاز ہے، اور زندگی کا مقصد صرف جمع کرنا نہیں بلکہ سنورنا ہے۔ جب یہ شعور فرد سے معاشرے تک منتقل ہوتا ہے تو ایک نئی تمدنی سمت جنم لیتی ہے۔
آج کے پرآشوب دور میں رمضان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصلاح کا آغاز ہمیشہ اندر سے ہوتا ہے۔ اگر انسان اپنی خواہشات پر قابو پا لے تو وہ کسی بھی ظالمانہ یا استحصالی نظام کے سامنے فکری طور پر آزاد رہ سکتا ہے۔ روزہ اسی آزادی کی مشق ہے؛ ایک ایسی تربیت جو انسان کو صارف سے انسان، اور خواہش کے پیروکار سے اصول کے حامل فرد میں تبدیل کر دیتی ہے۔
یوں روزہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ایک خاموش انقلابی تربیت ہے — ایسا انقلاب جو سب سے پہلے دل میں برپا ہوتا ہے اور پھر معاشرے کی صورت بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
