تحریر : سید عمار حیدر زیدی
انسانی تاریخ کے بعض ادوار ایسے ہوتے ہیں جب مادی ترقی اپنی انتہاؤں کو چھوتی ہے مگر انسان کے باطن میں خلا بڑھتا جاتا ہے۔ آج کا عالمی منظرنامہ اسی تضاد کی تصویر پیش کرتا ہے۔ ایک طرف ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، معاشی ڈھانچے اور سیاسی اتحادوں کی بھرمار ہے، دوسری طرف جنگوں کی آگ، نسل کشی، اقتصادی بحران، اخلاقی انحطاط، خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ اور انسان کے اندر بڑھتا ہوا اضطراب۔ غزہ کی سرزمین پر بہتا خون، مشرقِ وسطیٰ کی بے یقینی، یورپ و امریکہ کی ذہنی بیماریوں میں اضافہ، اور مسلم دنیا کی فکری انتشار ۔ یہ سب اس بات کے گواہ ہیں کہ مسئلہ صرف سیاسی یا اقتصادی نہیں، بلکہ بنیادی طور پر روحانی ہے۔ ایسے ماحول میں رمضان المبارک کی آمد محض ایک مذہبی موسم نہیں بلکہ “حیاتِ معنوی” کی تجدید کا الٰہی اعلان ہے۔
قرآن کریم نے ماہِ رمضان کو صرف روزوں کا مہینہ نہیں کہا بلکہ اسے ہدایت کا مہینہ قرار دیا: ﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ﴾۔ یہاں “هُدًى لِّلنَّاسِ” کی تعبیر انتہائی معنی خیز ہے۔ ہدایت صرف چند افراد یا ایک مخصوص قوم کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کی معنویت عالمی ہے، اس کا پیغام سرحدوں سے ماورا ہے، اور اس کی تاثیر صرف فردی نہیں بلکہ تمدنی ہے۔ جب دنیا اپنی سمت کھو بیٹھے تو قرآن اور رمضان انسانیت کو نئی سمت دیتے ہیں۔
عصرِ حاضر کے بحران کی ایک بنیادی وجہ “معنویت کی تحلیل” ہے۔ موجودہ نظام نے انسان کو ایک ایسی ہستی بنا دیا ہے جو جینے کے لیے نہیں، بلکہ خریدنے کے لیے جیتی ہے۔ خواہشات کو بڑھانا، لذت کو مقصد بنانا، اور کامیابی کو مادی پیمانوں سے ناپنا۔ یہ جدید تہذیب کی بنیادیں ہیں۔ نتیجتاً انسان باہر سے مطمئن اور اندر سے بے چین ہے۔ رمضان اسی تہذیبی منطق کے خلاف ایک خاموش مگر گہرا احتجاج ہے۔ روزہ انسان کو خواہش کے تسلط سے نکال کر ارادے کی حاکمیت سکھاتا ہے۔ بھوک اور پیاس محض جسمانی کیفیت نہیں بلکہ ایک شعوری تربیت ہے جو انسان کو یاد دلاتی ہے کہ انسان اپنی فطری خواہشوں اور نفس کی چاہتوں کا غلام نہیں بلکہ ان پر قابو رکھنے والا ہے۔
اسی لیے روزہ صرف عبادت نہیں، بلکہ “روحانی مزاحمت” ہے۔ جس دنیا میں اشتہارات انسان کی خواہشات کو بھڑکاتے ہوں، وہاں روزہ خواہش کو مہذب کرتا ہے۔ جس معاشرے میں طاقت اور دولت کو معیار سمجھا جاتا ہو، وہاں افطار کے وقت ایک مزدور اور ایک سرمایہ دار ایک ہی پیاس کے احساس میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ تجربہ انسان کے اندر عدل اور ہمدردی کے بیج بوتا ہے۔ اگر رمضان کی اس روح کو اجتماعی سطح پر سمجھا جائے تو یہ معاشی و سماجی انصاف کی بنیاد بن سکتا ہے۔
عالمی اضطراب کا ایک پہلو خوف اور بے یقینی ہے۔ سیاسی حالات کی تبدیلی، معاشی مندی، مستقبل کا غیر واضح ہونا ۔ یہ سب انسان کو نفسیاتی دباؤ میں مبتلا کرتے ہیں۔ قرآن نے ایمان کو اطمینان کا سرچشمہ قرار دیا: ﴿أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾۔ رمضان ذکرِ الٰہی کی کثرت کا مہینہ ہے۔ نمازِ شب، اعتکاف ، تلاوتِ قرآن، دعا اور استغفار یہ سب دل کو اضطراب سے سکون کی طرف منتقل کرتے ہیں۔ یہ سکون فرار نہیں بلکہ شعوری استحکام ہے۔ مومن رمضان میں دنیا سے کٹتا نہیں بلکہ دنیا کا سامنا کرنے کے لیے مضبوط ہوتا ہے۔
آج جب مظلوم اقوام ظلم کے شکنجے میں ہیں، رمضان انہیں صرف صبر کی تلقین نہیں کرتا بلکہ “صبرِ فعال” کی تعلیم دیتا ہے۔ صبر قرآن میں انفعال نہیں بلکہ استقامت ہے۔ روزہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ وقتی تکلیف دائمی شکست نہیں ہوتی۔ جب ایک فرد سحر سے مغرب تک بھوک برداشت کر سکتا ہے تو ایک امت بھی مشکلات کے دور سے گزر سکتی ہے۔ اس تناظر میں رمضان امید کا مہینہ ہے، کیونکہ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ سختی عارضی ہے اور رحمت دائمی۔
رمضان کی سب سے بڑی تجدیدی قوت قرآن سے تعلق ہے۔ موجودہ دور میں معلومات کی کثرت ہے مگر حکمت کی کمی۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا نے انسان کو مسلسل مصروف رکھا ہے مگر اس کی فکر کو منتشر کر دیا ہے۔ رمضان میں قرآن کی طرف رجوع دراصل فکر کی تنظیم ہے۔ قرآن انسان کو کائنات، تاریخ اور اپنے نفس کے بارے میں متوازن بصیرت دیتا ہے۔ جب امت قرآن کو صرف تلاوت نہیں بلکہ تدبر کے ساتھ پڑھے تو فکری انتشار کی جگہ وحدت اور بصیرت پیدا ہوتی ہے۔
لیلۃ القدر اس تجدید کا نقطۂ عروج ہے۔ یہ رات انسان کو یاد دلاتی ہے کہ تاریخ کے دھارے میں بھی الٰہی مداخلت ممکن ہے۔ تقدیر جامد نہیں بلکہ دعا، توبہ اور اجتماعی شعور سے متأثر ہو سکتی ہے۔ جب ایک امت اجتماعی طور پر استغفار اور دعا کرتی ہے تو وہ دراصل اپنی سرنوشت کی تشکیل میں حصہ لے رہی ہوتی ہے۔ اس پہلو سے رمضان محض عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ تقدیر سازی کا مہینہ ہے۔
اگر ہم عالمی منظرنامے کو دیکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ انسانیت کو صرف سیاسی اتحادوں یا اقتصادی منصوبوں سے نجات نہیں ملے گی، بلکہ اسے اخلاقی اور معنوی بیداری کی ضرورت ہے۔ رمضان اسی بیداری کا موسم ہے۔ یہ انسان کو اپنے اندر جھانکنے، اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے، اور نئی ابتدا کرنے کا موقع دیتا ہے۔ یہ مہینہ یاد دلاتا ہے کہ تہذیبیں اس وقت زندہ رہتی ہیں جب ان کے افراد اپنے باطن کو زندہ رکھیں۔
آج کے اس مشکل وقت میں رمضان مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے پیغام رکھتا ہے: اضطراب کے مقابل سکون، ناامیدی کے مقابل امید، خواہش کے مقابل تقویٰ، اور انتشار کے مقابل قرآن۔ اگر ہم اس مہینے کو محض رسمی عبادات تک محدود نہ کریں بلکہ اسے اجتماعی و تمدنی تجدید کا موقع سمجھیں تو رمضان واقعی عالمی اضطراب کے دور میں “حیاتِ معنوی” کی نئی صبح ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ مہینہ ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ تاریخ کے اندھیروں میں بھی نورِ الٰہی کا دروازہ بند نہیں ہوتا، اور جب انسان اپنے باطن کو زندہ کر لے تو دنیا کے بحران بھی اس کی امید کو شکست نہیں دے سکتے۔ رمضان اسی زندہ امید کانام ہے۔
