36

تضاداتِ حیات سے اطمینانِ قلب تک

  • نیوز کوڈ : 2575
  • 15 February 2026 - 21:09
تضاداتِ حیات سے اطمینانِ قلب تک

تضاداتِ حیات سے اطمینانِ قلب تک

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

 تحریر : سید جہانزیب عابدی

انسانی زندگی بظاہر سیدھی لکیر کی طرح دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں یہ متضاد کیفیتوں، باہمی کشمکشوں اور گہرے تضادات سے بھری ہوئی ہے۔ انسان جس چیز کو کامیابی سمجھ کر اس کے پیچھے دوڑتا ہے، بعض اوقات وہی چیز اس کی بے سکونی کا سبب بن جاتی ہے۔ وہ جس آزادی کے لیے جدوجہد کرتا ہے، وہی آزادی نئے بوجھ اور نئی ذمہ داریوں کا دروازہ کھول دیتی ہے۔ یہی زندگی کا بنیادی تضاد ہے کہ ہر حصول اپنے اندر کسی نہ کسی محرومی کا بیج رکھتا ہے اور ہر محرومی کسی نہ کسی نئے امکان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

سماجی زندگی میں انسان قبولیت چاہتا ہے، مگر اپنی انفرادیت بھی کھونا نہیں چاہتا۔ وہ چاہتا ہے کہ معاشرہ اسے تسلیم کرے، اس کی تعریف کرے، اسے مقام دے؛ لیکن جب وہ مکمل طور پر معاشرتی توقعات کے مطابق خود کو ڈھال لیتا ہے تو اس کی اپنی اصل شناخت دھندلا جاتی ہے۔ یوں وہ ایک ایسے دو راہے پر کھڑا ہو جاتا ہے جہاں ایک طرف تعلقات کی گرمی ہے اور دوسری طرف اپنی ذات کی سچائی۔ اگر وہ سچ بولتا ہے تو ممکن ہے سماج اسے مسترد کر دے، اور اگر وہ سماج کی خاطر خود کو بدلتا ہے تو اندر سے ٹوٹنے لگتا ہے۔ یہ تضاد ہر اس شخص کی زندگی میں نمایاں ہوتا ہے جو سماجی سطح پر کامیاب نظر آتا ہے مگر تنہائی میں اپنے وجود سے سوال کرتا ہے۔

معاشی زندگی کی جدوجہد اس سے بھی زیادہ پیچیدہ تضادات کو جنم دیتی ہے۔ انسان دولت اس لیے کماتا ہے کہ وہ محفوظ ہو جائے، مگر جتنا زیادہ وہ کماتا ہے اتنا ہی زیادہ اسے کھونے کا خوف بڑھ جاتا ہے۔ وہ وقت بیچ کر پیسہ کماتا ہے تاکہ مستقبل میں سکون خرید سکے، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب تک وسائل جمع ہوتے ہیں، سکون اور صحت ہاتھ سے نکل چکے ہوتے ہیں۔ یہاں ایک عجیب تضاد سامنے آتا ہے کہ انسان اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اپنی زندگی ہی خرچ کرتا رہتا ہے۔

جدوجہد کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ انسان ترقی چاہتا ہے مگر استحکام بھی چاہتا ہے۔ وہ خطرہ مول لیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا، لیکن خطرہ اس کی سلامتی کو چیلنج کرتا ہے۔ کاروبار ہو یا ملازمت، ہر میدان میں یہ کشمکش جاری رہتی ہے۔ محفوظ راستہ اختیار کرے تو معمولی فائدہ ملتا ہے، اور بڑا قدم اٹھائے تو ناکامی کا اندیشہ منڈلاتا ہے۔ یوں انسان مسلسل امید اور خوف کے درمیان معلق رہتا ہے۔ یہ کیفیت بظاہر کمزوری معلوم ہوتی ہے، مگر دراصل یہی انسانی حرکت و ارتقاء کا سرچشمہ ہے۔

سماجی و معاشی میدان میں ایک اہم تضاد یہ بھی ہے کہ انسان مقابلے کے ذریعے آگے بڑھتا ہے، مگر دل کے کسی کونے میں وہ تعاون اور اخوت کا خواہاں بھی ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اسے سکھاتا ہے کہ دوسروں سے آگے نکلنا ہی کامیابی ہے، مگر فطرت اسے بتاتی ہے کہ تنہا جیت کر بھی مکمل خوشی حاصل نہیں ہوتی۔ وہ جتنا اوپر جاتا ہے، اتنا ہی تنہا ہوتا جاتا ہے۔ اس تضاد میں انسان کو یہ سیکھنا پڑتا ہے کہ کامیابی صرف انفرادی برتری نہیں بلکہ اجتماعی بھلائی سے بھی وابستہ ہے۔

اسی طرح عزت اور دولت کا پیچھا کرنے والا انسان اکثر سادگی اور سکون کی تعریف کرتا ہے۔ وہ سادہ زندگی کی باتیں کرتا ہے مگر پیچیدہ خواہشات کا اسیر رہتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تعلقات دولت سے زیادہ اہم ہیں، مگر عملاً وقت اور توانائی دولت کے حصول پر صرف کرتا ہے۔ اس دوہری کیفیت میں زندگی کا بڑا حصہ گزر جاتا ہے اور انسان کبھی مکمل طور پر مطمئن نہیں ہو پاتا۔ گویا انسان جس چیز کو حاصل کرتا ہے، وہی چیز ایک نئی کمی کو جنم دیتی ہے۔

انسانی جدوجہد کا ایک گہرا تضاد یہ بھی ہے کہ ناکامی اکثر کامیابی کی بنیاد بنتی ہے، مگر انسان ناکامی سے شدید خوف کھاتا ہے۔ وہ ٹھوکر سے بچنا چاہتا ہے، حالانکہ ٹھوکر ہی اسے سنبھلنا سکھاتی ہے۔ معاشی میدان میں خسارہ کبھی تجربہ بن کر آئندہ فائدے کا سبب بنتا ہے، اور سماجی میدان میں ردّیابی کبھی شخصیت کو نکھار دیتی ہے۔ لیکن جب تک انسان اس حقیقت کو نہیں سمجھتا، وہ ہر نقصان کو اپنی ہستی کا خاتمہ سمجھ بیٹھتا ہے۔

ازدواجی زندگی بظاہر دو افراد کے باہمی ساتھ کا نام ہے، مگر درحقیقت یہ دو الگ دنیاؤں، دو مختلف تربیتوں، دو نفسیاتی ساختوں اور دو جدا تجربات کے ملاپ کا عمل ہے۔ یہاں سب سے پہلا تضاد یہی جنم لیتا ہے کہ انسان محبت میں مکمل قرب چاہتا ہے، مگر اپنی ذات کی آزادی بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ میاں بیوی ایک دوسرے کے قریب آنا چاہتے ہیں، مگر اتنے قریب نہیں کہ سانس گھٹنے لگے۔ وہ ایک دوسرے کی زندگی میں شامل ہونا چاہتے ہیں، مگر مکمل انضمام کے نتیجے میں اپنی شناخت مٹ جانے سے بھی ڈرتے ہیں۔ یہی کشمکش کبھی خاموشی میں بدل جاتی ہے اور کبھی بے جا مطالبات میں۔ اگر قربت کم ہو تو شکایت جنم لیتی ہے، اور اگر بہت زیادہ ہو تو گھٹن پیدا ہوتی ہے۔ اس توازن کو قائم رکھنا ہی ازدواجی حکمت ہے۔

ازدواجی زندگی کا ایک اور گہرا تضاد توقعات اور حقیقت کے درمیان ہوتا ہے۔ انسان شادی سے پہلے محبت کو مثالی تصور کرتا ہے، مگر شادی کے بعد اسے انسان کی کمزوریاں، عادات اور حدود بھی قبول کرنا پڑتی ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ شریکِ حیات اسے مکمل طور پر سمجھے، مگر خود بھی مکمل طور پر سمجھے جانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ وہ وفاداری کا تقاضا کرتا ہے، مگر اپنی انا کو کم کرنے میں تامل کرتا ہے۔ یہاں ایک عجیب کیفیت پیدا ہوتی ہے کہ دونوں محبت چاہتے ہیں، مگر دونوں ہی کبھی کبھی محبت کے اظہار میں بخل کر جاتے ہیں۔ وہ تعریف کے خواہاں ہوتے ہیں، مگر تعریف کرنے میں پہل نہیں کرتے۔ یہ تضاد ازدواجی رشتے کو آزماتا بھی ہے اور نکھارتا بھی ہے۔

معاشی ذمہ داریوں کے میدان میں بھی میاں بیوی ایک تضاد سے گزرتے ہیں۔ وہ مالی استحکام چاہتے ہیں تاکہ گھر محفوظ رہے، مگر اسی استحکام کی دوڑ میں وقت اور جذباتی قربانی دے بیٹھتے ہیں۔ شوہر اگر زیادہ وقت کام کو دے تو بیوی تنہائی محسوس کرتی ہے، اور اگر کمائے بغیر گھر پر رہے تو معاشی دباؤ بڑھتا ہے۔ بیوی اگر خود مختار بنے تو توازن کا نیا سوال کھڑا ہوتا ہے، اور اگر مکمل انحصار کرے تو خود اعتمادی کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ گویا ہر انتخاب اپنے ساتھ ایک نیا سوال لے کر آتا ہے۔

بطور والدین زندگی کا تضاد اور بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ والدین بچوں کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، مگر یہ بھی چاہتے ہیں کہ وہ مضبوط اور خود مختار بنیں۔ وہ انہیں ہر تکلیف سے بچانا چاہتے ہیں، مگر جانتے ہیں کہ تکلیف کے بغیر شخصیت نہیں بنتی۔ وہ بچوں کے لیے فیصلے کرتے ہیں، مگر چاہتے ہیں کہ بچے فیصلہ سازی سیکھیں۔ یہ ایک نازک تضاد ہے کہ رہنمائی بھی ضروری ہے اور آزادی بھی۔ اگر نگرانی زیادہ ہو تو بچے بغاوت یا کمزوری کا شکار ہو سکتے ہیں، اور اگر مکمل آزادی دی جائے تو گمراہی یا غلطی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

والدین اپنے بچوں کے لیے خواب دیکھتے ہیں، مگر وہی خواب کبھی بچوں پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد ان سے بہتر مقام حاصل کرے، مگر اس خواہش میں کبھی ان کی اپنی نامکمل امنگیں شامل ہو جاتی ہیں۔ بچے اپنی انفرادیت کے ساتھ جینا چاہتے ہیں، مگر والدین کا خوف اور محبت مل کر انہیں محدود کرنے لگتے ہیں۔ یہ تضاد اس وقت شدت اختیار کرتا ہے جب نسلوں کے درمیان فکری فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ والدین اپنے تجربے کو معیار سمجھتے ہیں اور بچے اپنے دور کو حقیقت۔ دونوں اپنی جگہ درست ہوتے ہیں، مگر دونوں ایک دوسرے کی جگہ کو مکمل طور پر نہیں دیکھ پاتے۔

والدین کی زندگی کا ایک اور گہرا تضاد ایثار اور خودی کے درمیان ہے۔ وہ اپنی خواہشات قربان کرتے ہیں تاکہ بچوں کا مستقبل روشن ہو، مگر کبھی کبھی یہی قربانی ان کے اندر خلا پیدا کر دیتی ہے۔ وہ بچوں کے لیے جیتے ہیں، مگر جب بچے بڑے ہو کر اپنی دنیا بنا لیتے ہیں تو والدین کو اپنی ذات سے دوبارہ تعارف کرنا پڑتا ہے۔ گویا وہ جن کے لیے سب کچھ کیا، وہی ایک دن اپنی راہ لے لیتے ہیں۔ یہاں محبت کا سب سے بڑا تضاد سامنے آتا ہے کہ حقیقی محبت وابستگی کے ساتھ جدائی کو بھی قبول کرنا سکھاتی ہے۔

ازدواجی اور والدینی زندگی کا مجموعی تضاد یہی ہے کہ انسان مکمل سکون چاہتا ہے، مگر یہ رشتے اسے مسلسل حرکت اور تبدیلی میں رکھتے ہیں۔ وہ استحکام چاہتا ہے، مگر بچوں کی پرورش اور شریکِ حیات کے ساتھ تعلق اسے ہر روز نئے حالات سے ہم آہنگ ہونے پر مجبور کرتے ہیں۔ وہ کنٹرول چاہتا ہے، مگر حقیقت اسے سکھاتی ہے کہ سب کچھ اس کے اختیار میں نہیں۔ اسی بے اختیاری میں دراصل تربیت کا راز پوشیدہ ہے۔

 اگر انسان ان تضادات کو دشمن سمجھنے کے بجائے فطری حقیقت تسلیم کر لے تو ازدواجی اور والدینی زندگی بوجھ نہیں بلکہ ارتقاء کا سفر بن جاتی ہے۔ یہاں ہر اختلاف سمجھ کا دروازہ کھول سکتا ہے، ہر قربانی نئی وسعت دے سکتی ہے، اور ہر آزمائش رشتے کی گہرائی کو بڑھا سکتی ہے۔ زندگی کے یہ تضاد دراصل انسان کو خود غرضی سے نکال کر ایثار، صبر اور توازن کی طرف لے جاتے ہیں، اور یہی وہ مقام ہے جہاں رشتہ صرف سماجی معاہدہ نہیں رہتا

بلکہ ایک شعوری، اخلاقی اور روحانی سفر بن جاتا ہے۔ زندگی کا سب سے بڑا تضاد شاید یہ ہے کہ انسان دائمی اطمینان کی تلاش میں عارضی دنیا میں بھٹکتا رہتا ہے۔ وہ مستقل خوشی چاہتا ہے مگر ایسے ذرائع سے جو خود غیر مستقل ہیں۔ اس کشمکش میں اگر وہ شعور حاصل کر لے کہ جدوجہد خود زندگی کا حصہ ہے اور تضاد دراصل توازن کی دعوت ہے، تو وہ ان تضادات کو مسئلہ نہیں بلکہ رشد و بلوغ کا ذریعہ سمجھنے لگتا ہے۔ تب وہ یہ جان لیتا ہے کہ کامیابی اور ناکامی، خوف اور امید، تنہائی اور تعلق—یہ سب ایک ہی انسانی تجربے کے مختلف رخ ہیں، اور زندگی کی اصل حکمت ان متضاد قوتوں کے درمیان متوازن سفر میں پوشیدہ ہے۔

 جیسا کہ انسانی زندگی کے مختلف ڈومینز—سماجی، معاشی، ازدواجی، نفسیاتی اور فکری—اپنے اندر تضادات اور تضادات کا ایک جال رکھتے ہیں اور انسان آزادی بھی چاہتا ہے اور تعلق بھی، دولت بھی چاہتا ہے اور سکون بھی، عزت بھی چاہتا ہے اور عاجزی کی تعریف بھی کرتا ہے، دنیا میں کامیابی بھی چاہتا ہے اور آخرت کی نجات بھی۔ ان متضاد خواہشات کے درمیان اس کا دل مسلسل کشمکش میں رہتا ہے۔ اگر کوئی اعلیٰ معیار اور مرکز نہ ہو جو ان قوتوں کو ترتیب دے، تو انسان یا تو افراط کا شکار ہو جاتا ہے یا تفریط کا۔ دین اسی مقام پر رہنمائی فراہم کرتا ہے اور ان بظاہر متضاد میلانات کو ایک بامعنی توازن میں ڈھالتا ہے۔

ان ڈومینز میں دین سب سے پہلے انسان کو اس کی حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ انسان محض مادی وجود نہیں بلکہ روح اور جسم کا مجموعہ ہے، اس لیے اس کی ضروریات بھی دوہری ہیں۔ اگر وہ صرف دنیا کی دوڑ میں لگ جائے تو روح پیاسی رہ جاتی ہے، اور اگر صرف روحانیت میں غرق ہو کر دنیا سے منہ موڑ لے تو معاشرتی ذمہ داریاں متاثر ہوتی ہیں۔ دین اس تضاد کو یوں حل کرتا ہے کہ وہ دنیا کو مقصد نہیں بلکہ ذریعہ قرار دیتا ہے۔ یوں معاشی جدوجہد عبادت کا رنگ اختیار کر سکتی ہے، بشرطیکہ نیت درست ہو اور حدود کا خیال رکھا جائے۔ اس نقطۂ نظر سے دولت اور زہد کا تضاد کم ہو جاتا ہے، کیونکہ اصل معیار دل کی وابستگی ہے نہ کہ ہاتھ میں موجود وسائل۔

سماجی زندگی میں قبولیت اور سچائی کا جو تضاد ہے، دین اسے تقویٰ کے اصول سے منظم کرتا ہے۔ وہ سکھاتا ہے کہ اصل معیار لوگوں کی رائے نہیں بلکہ خدا کی رضا ہے۔ جب انسان کا مرکزِ فیصلہ خدا کی خوشنودی بن جائے تو وہ نہ تو اندھی سماجی مقبولیت کے پیچھے بھاگتا ہے اور نہ ہی بے جا بغاوت میں پڑتا ہے۔ وہ حق بات کہنے کی جرات بھی رکھتا ہے اور حکمت کے ساتھ تعلق نبھانے کی صلاحیت بھی۔ یوں اس کی شخصیت اندرونی یکسوئی حاصل کرتی ہے، کیونکہ اس کا معیار بدلتا نہیں رہتا۔

ازدواجی اور خاندانی زندگی کے تضادات کو دین مودّت، رحمت اور عدل کے اصولوں سے متوازن کرتا ہے۔ وہ محبت کو محض جذباتی وابستگی نہیں بلکہ ذمہ داری اور امانت قرار دیتا ہے۔ اس زاویے سے میاں بیوی کا تعلق صرف حقوق کا مطالبہ نہیں رہتا بلکہ فرائض کی ادائیگی بن جاتا ہے۔ جب دونوں کا مرکز اپنی ذات کے بجائے خدا کی رضا ہو تو انا کا تصادم کم ہوتا ہے۔ اسی طرح والدین کو اولاد کے بارے میں یہ شعور دیا جاتا ہے کہ وہ محض ان کی ملکیت نہیں بلکہ ایک امانت ہیں۔ یہ تصور والدین کو حد سے زیادہ کنٹرول یا بے جا غفلت دونوں سے بچاتا ہے۔ وہ تربیت کرتے ہیں مگر یہ بھی جانتے ہیں کہ ہدایت کا اصل منبع خدا ہے، اس لیے ان کا دل نتائج کی بے چینی سے نسبتاً آزاد رہتا ہے۔

معاشی میدان میں خوف اور حرص کا تضاد بھی ایمان کے ذریعے اعتدال میں آتا ہے۔ رزق کو خدا کی طرف منسوب کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ کوشش ترک کر دی جائے، بلکہ یہ شعور دیا جاتا ہے کہ کوشش انسان کی ذمہ داری ہے اور نتیجہ خدا کے اختیار میں۔ یہ یقین انسان کو اضطراب سے بچاتا ہے۔ وہ محنت کرتا ہے مگر لالچ کا غلام نہیں بنتا، وہ منصوبہ بندی کرتا ہے مگر ناکامی کی صورت میں ٹوٹتا نہیں۔ قناعت اور شکر جیسے تصورات انسان کے دل میں ایک ایسا اطمینان پیدا کرتے ہیں جو محض مادی کامیابی سے حاصل نہیں ہو سکتا۔

روحانی راستہ دراصل انسان کے اندر مرکزیت پیدا کرتا ہے۔ تضاد اس وقت شدت اختیار کرتے ہیں جب انسان کے اندر کوئی مستقل مرکز نہ ہو اور وہ ہر لمحہ بدلتے ہوئے معیارات کے تابع ہو۔ عبادت، ذکر، دعا اور محاسبۂ نفس انسان کو اپنے باطن سے جوڑتے ہیں۔ وہ اپنی خواہشات کو دیکھتا ہے، ان کی درجہ بندی کرتا ہے اور انہیں ایک اعلیٰ مقصد کے تابع کرتا ہے۔ یوں تضادات کی شدت کم ہو جاتی ہے کیونکہ ہر خواہش کو مطلق اہمیت حاصل نہیں رہتی۔ کچھ چیزیں وقتی سمجھی جاتی ہیں اور کچھ ابدی۔ یہ ترجیحی شعور ہی اطمینان کی بنیاد بنتا ہے۔

دین انسان کو یہ بھی سکھاتا ہے کہ زندگی مکمل سکون کا مقام نہیں بلکہ آزمائش کا میدان ہے۔ جب وہ اس حقیقت کو قبول کر لیتا ہے تو ہر تضاد کو مسئلہ نہیں بلکہ تربیت سمجھنے لگتا ہے۔ دنیا اور آخرت کا تصور انسان کو وسیع تناظر دیتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ ہر محرومی حتمی نہیں اور ہر کامیابی دائمی نہیں۔ یہ شعور اسے اعتدال اور صبر کی طرف لے جاتا ہے۔ صبر کا مطلب جمود نہیں بلکہ حکمت کے ساتھ استقامت ہے، اور توکل کا مطلب بے عملی نہیں بلکہ کوشش کے بعد قلبی سکون ہے۔

آخرکار دینی و روحانی راستہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ اصل اطمینان بیرونی حالات کے مکمل موافق ہونے میں نہیں بلکہ دل کے خدا سے جڑ جانے میں ہے۔ جب دل اپنے خالق سے مطمئن ہو جائے تو تضادات ختم نہیں ہوتے، مگر ان کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ انسان جان لیتا ہے کہ زندگی کی کشمکش اس کی تکمیل کا حصہ ہے، اور یہی شعور اسے ایک ایسے سکون سے آشنا کرتا ہے جو حالات کے اتار چڑھاؤ سے ماورا ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تضاد حل نہیں ہوتے بلکہ معنی خیز بن جاتے ہیں، اور انسان کی جدوجہد اضطراب کے بجائے عبادت کا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2575

ٹیگز

تبصرے