بسم اللہ الرحمن الرحیم
تحریر : سید جہانزیب عابدی
امام ابو عبداللہ صادق علیہ السلام نے فرمایا: بے شک اللہ عزوجل جب کسی کے لیے خیر اور بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے دل میں نور کی ایک چمک ڈال دیتا ہے۔ وہ نور اس کے کان اور دل کو منور کر دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ تم سے بھی بڑھ کر مکتبِ حقائق کو سمجھنے کا خواہاں ہو جاتا ہے۔ اور جب اللہ عزوجل کسی کی بدبختی چاہتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ لکیر کھینچ دیتا ہے، اور وہ سیاہی اس کے کان اور دل کو تاریک کر دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ مذہب کی حقائق سے دور ہو جاتا ہے۔ پھر امام صادق علیہ السلام نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
“پس جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے، اور جسے گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے گویا وہ آسمان کی طرف چڑھ رہا ہو۔”
شرح: اللہ کی ہدایت اور رہبری کے متعدد مراحل ہیں۔ ہدایت کا پہلا مرحلہ رسالت کا پیغام پہنچانا اور لوگوں کو دینی پروگراموں کی طرف دعوت دینا ہے۔
اس مرحلے میں لوگوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ قومی اور ذاتی خواہشات سے ہٹ کر، انصاف اور بصیرت کے ساتھ پیغامِ رسالت میں غور کریں، اور صحیح معرفت حاصل کرنے کے بعد اہلِ ایمان کی صف میں شامل ہو جائیں۔
ہدایت کا دوسرا مرحلہ اللہ کا خاص لطف اور رحمت ہے، جس میں وہ مؤمن کے دل اور باطن کی آنکھ اور کان کو پردے کے پیچھے موجود حقائق سے آشنا کرتا ہے، قدم بہ قدم اس کا ہاتھ تھامتا ہے، اور اسے شیطانی وسوسوں اور نفسانی لغزشوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
اس مرحلے میں مؤمن کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے دل کو الٰہی لطف و کرم کے سپرد کرے اور دینی پروگراموں کی راہ سے انحراف نہ کرے۔
لیکن پہلے مرحلے کی ہدایت کے مقابلے میں لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ ایک گروہ وہ ہے جو ایمان میں سبقت لے جاتا ہے، جیسے ہی دعوتِ حق سنتا ہے فوراً ایمان اور اطاعت کا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔ دوسرا گروہ عام لوگوں کا ہے جو ابتدا میں غیر جانبدار رہتے ہیں، یہاں تک کہ دعوت کی پیش رفت سے مطمئن ہو جائیں اور مناسب وقت پر ایمان لے آئیں۔ یہ گروہ ممکن ہے بعد میں دوسرے مرحلے کی ہدایت سے بھی بہرہ مند ہو کر ایمان میں ثابت قدم ہو جائے۔
تیسرا گروہ سرکش اور متکبر لوگوں کا ہے جو دعوتِ رسالت کے مقابلے میں دشمنی اور عناد پر اتر آتے ہیں اور الٰہی پیغام کو ناکام بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف دوسرے مرحلے کی ہدایت سے محروم رہتے ہیں بلکہ اپنی سرکشی اور راہِ حق میں رکاوٹ بننے کی سزا کے طور پر صحیح فہمِ دین سے بھی محروم کر دیے جاتے ہیں۔ ان کے دل، آنکھ اور کان سیاہ ہو جاتے ہیں، تاکہ وہ مزید گمراہی کی تاریکی میں جکڑے رہیں اور ایمان سے دور ہوتے جائیں، یہاں تک کہ آخرکار عذابِ جہنم کے مستحق بنیں۔
انہی معاندین کے بارے میں قرآن مجید فرماتا ہے:
“اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے، اس لیے کہ وہ پہلی بار ایمان نہ لائے، اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیں گے۔”
ہدایت سے محرومی اور دلوں پر مہر لگنے کے بارے میں جو احادیث وارد ہوئی ہیں، وہ اسی قرآنی حقیقت کے مصادیق ہیں جو اوپر بیان ہوئی۔
ماخذ: کلینی، محمد بن یعقوب؛ بہبودی، محمد باقر، گزیدۂ کافی، جلد 1، صفحات 212 تا 214، مرکز انتشارات علمی و فرهنگی، تہران، اشاعت اول، 1363ھ ش۔
