قم، دفترِ معارفِ قرآن کریم — آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی دامت برکاتہ نے اپنی تفسیر میں فیضِ ربّانی اور ہدایتِ الٰہی کے بارے میں اہم نکات بیان فرمائے۔ آپ کے مطابق قرآن مجید میں مذکور ہدایت کی دو قسمیں ہیں: ہدایتِ تشریعی اور ہدایتِ تکوینی۔
ہدایتِ تکوینی کی قرآنی بنیاد
آپ نے آیتِ کریمہ:
﴿وَلَهَدَيْنَاهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا﴾
کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ اس آیت میں بیان ہونے والی ہدایت ہدایـتِ تکوینی ہے، جو انسان کے دل میں خاص میلان اور رجحان کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔
مزید براں آپ نے قرآن کریم کی دو دیگر آیات کا حوالہ دیا:
﴿إِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا﴾ — سورۂ نور
﴿مَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ﴾ — سورۂ تغابن
آپ نے وضاحت کی کہ یہاں مذکور “دل کی ہدایت” سے مراد محض ہدایتِ تشریعی نہیں، بلکہ وہ خاص الٰہی توفیق ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے فرمانبردار بندوں کے قلوب میں القا فرماتا ہے۔
ہدایتِ تشریعی اور ہدایتِ تکوینی کا فرق
آیت اللہ جوادی آملی کے مطابق ، ہدایتِ تشریعی اللہ نے سب انسانوں کے لیے عام طور پر نازل فرمائی ہے۔
لیکن ہدایتِ تکوینی صرف اُن لوگوں کو ملتی ہے جو:
خدا کی ہدایتِ تشریعی کو قبول کریں،
اس پر عمل کریں،
اور حقیقی ایمان اختیار کریں۔
ایسے افراد کے دلوں میں اللہ کی طرف سے ایک خاص قسم کا نور، رغبت اور میلان پیدا ہو جاتا ہے۔
اطاعت اور میلان: الٰہی لطف کی علامت
آیت اللہ جوادی آملی نے اس فرق کی عملی مثال دیتے ہوئے فرمایا:
بعض لوگ نماز کے وقت بے تابی سے منتظر رہتے ہیں۔
بعض کے دل اطاعتِ الٰہی کے لیے خود بخود مائل ہوتے ہیں۔
کچھ نماز کو بھاری محسوس کرتے ہیں۔
اور کچھ خوشی و شوق کے ساتھ اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔
آپ کے مطابق یہ اندرونی میلان اور بے رغبتی دراصل اس بات کی علامت ہے کہ اللہ کا خاص لطف دل میں شامل ہے یا نہیں، ورنہ ہدایتِ تشریعی تو سب کے لیے یکساں موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق آیت اللہ جوادی آملی نے زور دیا کہ:
اللہ کی تشریعی ہدایت سب تک پہنچتی ہے،
لیکن تکوینی ہدایت اُس شخص کے حصے میں آتی ہے جو اپنے عمل اور ایمان سے خود کو اس کے لائق بنا لے۔
یہ تکوینی ہدایت ہی انسان کے دل میں وہ نورِ شوق، روحانی لذت اور اطاعت کا پیارا میلان پیدا کرتی ہے۔
