33

قرآن کی گمشدہ آواز اور مسلمان معاشرے کی عملی تحریف

  • نیوز کوڈ : 2463
  • 24 November 2025 - 13:53
قرآن کی گمشدہ آواز اور مسلمان معاشرے کی عملی تحریف

قرآن کی گمشدہ آواز اور مسلمان معاشرے کی عملی تحریف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

جنوبی ایشیا خصوصاً پاکستان اور افغانستان میں ایک ایسا المیہ مسلسل دہرایا جا رہا ہے جو محض سماجی جہالت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا دینی و تہذیبی تضاد بھی ہے۔ وہ یہ کہ قرآن اسلوبِ دعوت، حکمت، صبر، اعراض، تعلیم، اور درگزر کے پیغام کے ساتھ سامنے آتا ہے، اور توہینِ خدا، قرآن یا رسول کے مقابلے میں بھی نرم رویہ، حکیمانہ نصیحت اور پرامن فاصلے کو ترجیح دینے کا حکم دیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہے یا ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو ایسے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ کوئی اور بات نہ کرنے لگیں (سورۂ نساء، آیت 140)۔ ایک اور مقام پر قرآن واضح ہدایت دیتا ہے کہ جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات کے بارے میں بے ادبی یا تمسخر سے گفتگو کر رہے ہیں تو ان سے کنارہ کش ہو جاؤ، یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں مشغول ہو جائیں (سورۂ انعام، آیت 68)۔ نہ صرف یہ، بلکہ قرآن رحمان کے بندوں کی پہچان یہ بتاتا ہے کہ وہ زمین پر نرم چلتے ہیں اور جب جاہل انہیں سختی سے مخاطب کرتے ہیں تو وہ جواب میں سلام کہتے ہیں (سورۂ فرقان، آیت 63)۔ رسول سے کہا گیا کہ خوبصورت طریقے سے درگزر کیجیے (سورۂ حجر، آیت 85) اور اہلِ ایمان کو تعلیم دی گئی کہ وہ معاف کریں اور درگزر کریں، کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ بھی تمہیں معاف کر دے؟ (سورۂ نور، آیت 22)۔ قرآن دعوتِ دین کا اسلوب یہ قرار دیتا ہے کہ اپنے رب کے راستے کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت سے بلاؤ اور ان سے بہترین انداز سے گفتگو کرو (سورۂ نحل، آیت 125)۔ ساتھ ہی قرآن یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا یہ لوگ قرآن میں تدبر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں؟ (سورۂ محمد، آیت 24)۔ اور یہ بھی اعلان کرتا ہے کہ یہ قرآن تمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے (سورۂ بقرہ، آیت 185)۔

مگر انہی معاشروں میں ایسے واقعات عام ہیں جہاں کسی فرد کو بلا تحقیق، بلا گواہی، بلا عدالتی عمل، محض ایک الزام کی بنیاد پر اذیتیں دی جاتی ہیں، زندہ جلایا جاتا ہے، تشدد کرکے ہلاک کیا جاتا ہے یا جھوٹے مقدمے میں پھنسا دیا جاتا ہے۔ اس فضا کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہی ہے کہ وہی قرآن جسے یہ لوگ اعلیٰ ترین تقدس کا حامل کہتے ہیں، ان کے اخلاق، رویوں اور طرزِ عمل سے سب سے زیادہ غائب ہے۔ قرآن نے کہا کہ جب اس کی آیات کا مذاق اڑایا جائے تو ان لوگوں سے کنارہ کش ہو جاؤ، ان کے ساتھ نہ بیٹھو، انہیں سلام کہہ کر چھوڑ دو۔ قرآن نے حکم دیا کہ جاہلوں کی سخت کلامی کا جواب امن اور وقار کے ساتھ دیا جائے، اور حق کے مخالف یا گستاخ فرد کو حکمت و موعظہ حسنہ کے ذریعے تعلیم دی جائے۔ قرآن نے حکم دیا کہ معاف کرو، درگزر کرو اور برداشت کو اپنا شعار بناو۔ مگر انہی معاشروں میں اکثر ہجومی تشدد، مذہبی جوش اور جذباتی بے قابو پن کو دین سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ رویہ اس اجتماعی ذہنی ساخت کی پیداوار ہے جو دین کی اصل روح سے یکسر بے خبر ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں حفاظِ قرآن کی تعداد لاکھوں میں ہے، مگر قرآن فہمی، تدبر، اور سمجھ کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ حفظ کیا جانے والا متن تو زبانِ عربی میں ہے مگر اسے پڑھنے والے اکثر وہ لوگ ہیں جنہیں عربی کا بنیادی مفہوم بھی معلوم نہیں ہوتا۔ قرآن کا مقصد لفظ یاد کرنا نہیں بلکہ اس کے اخلاقی، فکری اور انسانی فلسفے کو سمجھنا تھا، مگر جب قرآن ایک سمجھے بغیر دہرایا جانے والا مقدس نغمہ بن جائے تو پھر اس کے حقیقی پیغام کی جگہ رسوماتی تقدس لے لیتا ہے۔ یوں دین کا جوہر بے روح ہو جاتا ہے اور لوگ الفاظ سے وابستہ ہوجاتے ہیں مگر اخلاق سے محروم رہتے ہیں۔ اسی خلا نے اس فضا کو جنم دیا جس میں ذاتی رنجش، دشمنی، قبائلی عناد، زمین کے جھگڑے، کاروباری رقابت، یا خاندانی حسد کو مذہبی جذبات کے لبادے میں پیش کرکے کسی بے گناہ پر توہینِ مذہب کا الزام لگا دینا ایک آسان انتقامی راستہ بن گیا ہے۔ ایسے الزامات کی آڑ میں معصوموں کو مار دینا نہ صرف مذہبی شدت پسندی کے نام پر ظلم ہے بلکہ قرآن کے ہر حکم اور رسول کے ہر اسوہ کے بالکل الٹ ہے۔ اس تلخ حقیقت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ محض عوامی جہالت نہیں بلکہ ایک منظم سماجی، سیاسی اور بعض اوقات معاشی ڈھانچے کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ امر بارہا سامنے آیا ہے کہ بعض عناصر نے توہینِ مذہب کو ایک کاروبار بنا رکھا ہے۔ باقاعدہ گروہ، کچھ مذہبی شدت پسند نیٹ ورکس، اور کچھ ریاستی اداروں کے افراد تک ایسے واقعات میں ملوث پائے گئے ہیں۔ الزام کی بنیاد پر گرفتاری، عدالتی دباؤ، خوف، رشوت، زمینیں چھیننا، سیاسی مخالفین کو خاموش کرانا، یہ سب کچھ توہین کے مقدس عنوان کے تحت کیا جاتا ہے۔ عوام کے جذبات بھڑکانا آسان ہے، اور جب مذہبی غصہ اکسانے والوں کے لیے عوام ایک تیار ہجوم کی صورت موجود ہوں تو قانون، قرآن اور انصاف سب پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ یہ پورا فینا مینا واضح کرتا ہے کہ جب دین فہم سے خالی ہو جائے، جب قرآن محض آواز بن جائے اور معنویت کھو بیٹھے، جب مذہب حکمت کے بغیر جذبات کا آلہ کار بن جائے، تو پھر اسلام کے نام پر بھی وہی ظلم جنم لیتا ہے جس سے اسلام نے انسانیت کو نکالنے کے لیے خود جنگ کی تھی۔ قرآن کی عملی غیر موجودگی نے مذہبی تقدس کو خوف اور دہشت کے ہتھیار میں بدل دیا ہے، اور قرآن کے پیغامِ امن و حکمت کو وہی لوگ روند رہے ہیں جو اس کتاب کے محافظ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ایسے معاشروں میں اصلاح اسی وقت آئے گی جب قرآن کی صحیح تفہیم، اس کے اخلاقی نظام، اس کے حکیمانہ اصول اور اس کی دعوتی روش دوبارہ زندہ کی جائے، اور مذہب کو اس کے اصل فہم کے ساتھ عوامی زندگی میں واپس لایا جائے۔ اس کے بغیر یہ سلسلہ رکے گا نہیں بلکہ مزید تباہ کن شکلیں اختیار کرے گا۔ پاکستان اور افغانستان میں قرآن کے misuse کا سبب یہی مجموعی جہالت، مذہبی طبقاتی ساخت، سیاسی مفادات، اور سماجی عدمِ تحفظ ہے۔ قرآن کی تلاوت کو نیکی سمجھا گیا مگر قرآن کی سمجھ کو غیر ضروری قرار دے دیا گیا۔ لوگ عربی الفاظ یاد کرتے رہے، ان کی معنویت سے محروم رہے، اور پھر انہی الفاظ کے تقدس کو اپنی مرضی سے استعمال کرتے رہے۔ جس وقت قرآن فہم کا دروازہ بند ہوا، اس وقت قرآن کی آیات لوگوں کے ہاتھ میں ایک سادہ کاغذ کی طرح آ گئیں جسے وہ اپنے غصے، دشمنی، تعصب، سیاست اور مفادات کے مطابق موڑنے لگے۔

قرآن کے misuse کی جڑیں خوف، سیاسی دھونس، اور مذہبی اجارہ داری میں ہیں۔ ایسے معاشروں میں لوگ اللہ اور رسول کے نام کو اپنے مخالفین کے خلاف ایک ہتھیار بنا لیتے ہیں کیونکہ جانتے ہیں کہ عوام جذباتی ہیں، سوچنے کی عادت نہیں رکھتے، اور کسی علمی معیار کو نہیں پرکھتے۔ یوں توہین کے الزام ایک سماجی ہتھیار بن جاتے ہیں جس سے لوگ ظلم کرتے ہیں، ذاتی دشمنیاں نکالتے ہیں، یا حالات کو کنٹرول کرتے ہیں۔ چونکہ اصل قرآن فہمی، اخلاقی تربیت، اور عقلی شعور کا فقدان ہے، اس لیے مذہبی جذبات کو بھڑکانا سب سے آسان راستہ بن جاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ یہ مقدس کتاب جس کا مقصد امن، حکمت، صبر اور علم ہے، معاشرے میں خوف، تشدد، اور ظلم کا جواز بننے لگتی ہے۔

اس تمام بحران کی بنیاد ایک ہی حقیقت ہے: قرآن کی اصل تعلیم سے دوری۔ جب تک قرآن کو اس کے متن، سیاق، عقل، اخلاق اور حکمت کے ساتھ نہیں پڑھا جائے گا، اس وقت تک قرآن کے نام پر ظلم جاری رہے گا، اور یہ لوگ اپنے تعصب، جہالت اور خوف کو دینداری سمجھتے رہیں گے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2463

ٹیگز

تبصرے