﷽
جہانزیب عابدی
تاریخِ انسانی کی سب سے عجیب اور دردناک حقیقت یہ ہے کہ حق ہمیشہ پہچانا جاتا ہے، مگر اس کے اصل منبع کو اکثر جان بوجھ کر اوجھل کر دیا جاتا ہے۔ معارفِ اہلِ بیتؑ کی نورانی حکمتیں بھی یہی انجام دیکھتی رہی ہیں۔ انسان نے صدیوں سے اہلِ بیتؑ کے مکتب سے فطرت، عقل، روحانیت، اخلاق، سماجیات اور انسان سازی کے اصول سیکھے مگر کبھی اس سرچشمے کا کھل کر اعتراف نہ کیا۔ یہی نہیں بلکہ ان اصولوں کو نئے ناموں، نئے نظریات، نئی تحریکوں اور نئے فلسفوں کے ساتھ پیش کر کے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد قائم کر لی۔ اس طرزِ فکر میں ایک تاریخی تسلسل کارفرما ہے جو بنی اسرائیل کی تحریف سے شروع ہو کر مسیحی کلیسائی تحریفات تک جاتا ہے اور پھر جدید دنیا میں سیکولر، صوفی، باطنی، فلسفی اور سیاسی مکاتب میں پوری شدت کے ساتھ نظر آتا ہے۔
یہی سوال کہ کیوں مختلف اقوام، مذاہب، مکاتب اور مسالک تشیع کے خالص اور معصومانہ اصولوں کو چوری بھی کرتے ہیں، انہی سے تہذیب و اخلاق بھی سیکھتے ہیں، انہی سے انسانی حقوق، عدل، عقلانیت، اجتماعیت اور معنویت کے قوانین بھی لیتے ہیں، مگر اس کے باوجود ان اصولوں کی نسبت اہلِ بیتؑ کی طرف دینے سے گریز کرتے ہیں، بلکہ الٹا اپنے اپنے دانشوروں، فلسفیوں، صوفیوں، فقہاء، گروؤں، ریفارمرز یا قومی ہیروز کے ساتھ منسوب کر کے انہیں اصل سرچشمہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اس پر مزید ظلم یہ کہ جب دین کی تعبیر کا مسئلہ آتا ہے تو وہی بنی اسرائیل کی طرح منتخب اصولوں کو قبول کرتے ہیں،
اسلامی مسالک کی داخلی تاریخ میں وہی نفسیاتی اور فکری رجحانات دیکھے جا سکتے ہیں جو قدیم اقوام خصوصاً بنی اسرائیل میں ظاہر ہوئے تھے۔ بظاہر سب نے قرآن و سنت سے وابستگی کا دعویٰ کیا، مگر دین کی تعبیر میں وہ توازن برقرار نہ رہا جو صرف اہلِ بیتؑ کے ذریعے ممکن تھا۔ اسی عدمِ توازن نے ایسے رویے پیدا کیے جن میں تعلیمات تو اہلِ بیتؑ سے لی گئیں، مگر ان تعلیمات کی نسبت دوسرے ناموں سے جوڑی گئی، تاکہ مسلک کی اپنی شناخت مضبوط رہے اور اصل مرکزیت کی طرف رجوع کی ضرورت محسوس نہ ہو۔ یہی رویہ اسلامی دنیا میں بارہا اس صورت میں سامنے آیا کہ مختلف مکاتب نے اپنی فقہ، اصول، منہجِ تفسیر، علمِ کلام، اخلاقیات اور روحانی نظریات اہلِ بیتؑ سے اخذ کیے مگر انہیں اپنے اپنے ائمہ، فقہاء، صوفیوں اور مشائخ کی طرف منسوب کر کے پیش کیا، گویا معرفت کا سرچشمہ وہ شخصیات ہوں، نہ کہ اہلِ بیتؑ جن کے یہاں سے یہ روشنی درحقیقت پھوٹی تھی۔
یہ بھی دیکھا گیا کہ اسلامی مسالک نے جب دین کی تعبیر کو اپنے اجتماعی اور سیاسی مفادات کے مطابق ڈھال لیا تو وہ اصول جو مکتبِ اہلِ بیتؑ میں اصل تھے، کہیں پس منظر میں چلے گئے۔ ولایت کا تصور جسے اہلِ بیتؑ نے دین کا محور قرار دیا، بہت سے مکاتب میں سرے سے موضوعِ گفتگو بھی نہ بن سکا۔ اس کے بجائے انہوں نے چند اخلاقی اصول، چند فقہی قواعد یا چند روحانی نکات تو قبول کر لیے، مگر انہیں اس بنیادی حقیقت سے الگ کر دیا کہ یہ سب اجزاء ایک جامع نظامِ ہدایت کے تحت تھے، جو امامِ معصومؑ کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔ یوں مسالک نے حکمت کے ٹکڑے لیے اور اپنے ادارے مضبوط کر لیے مگر اصل نظام، اصل مقصد اور اصل منبع کو الگ کر دیا، جیسا بنی اسرائیل نے کیا تھا جب شریعت کے کچھ حصے رکھے اور کچھ کو بدل دیا۔
اسلامی مسالک کے کردار میں یہ بھی نمایاں ہے کہ انہوں نے اہلِ بیتؑ کی تعلیمات سے متاثر ہو کر اپنے اصولِ فقہ مرتب کیے، اپنے کلامی مباحث کھولے، اپنے فلسفیانہ نظام بنائے، مگر کبھی اس بات کا کھل کر اعتراف نہیں کیا کہ ان کے بڑے بڑے مفکرین نے جو کچھ سمجھا وہ اہلِ بیتؑ کے علمی ورثے سے لیا تھا۔ اسی طرح بعض مکاتب نے دعا، مناجات، تصوف، زہد اور عرفان کے عنوان سے وہ راستے اپنائے جن کی روح اہلِ بیتؑ کی دعاؤں، کلمات اور سیرت میں تھی، مگر انہوں نے اسے اپنے مشائخ اور سلسلوں سے منسوب کر کے پیش کیا، اور یوں اصل روشنی کو اپنی شناخت کی دیواروں میں قید کر لیا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسلامی مسالک نے اہلِ بیتؑ کے علمی اثر کو قبول تو کیا لیکن ان اصولوں کو اس طرح پیش کیا کہ گویا یہ ان کی اپنی فکری دریافتیں تھیں۔ امام صادقؑ کی علمی درسگاہ کا اثر پورے عالمِ اسلام پر پھیل گیا، مگر کتابوں میں اس کے اثرات کے پیچھے امامؑ کا نام اکثر معدوم ہے اور اس کی جگہ انسانی شخصیتوں کو اصل منبع بنا کر دکھایا گیا ہے۔ اسی طرح حدیث کی تدوین، قرآن کی تفسیر، فقہی استنباط اور کلامی اصولوں کی تشکیل میں اہلِ بیتؑ کا کردار اتنا بنیادی تھا کہ اس کے بغیر کوئی نظام وجود میں نہیں آ سکتا تھا، مگر بیشتر مکاتب نے اعتراف کی بجائے اپنے اپنے اکابرین کے ناموں کو نمایاں رکھا، تاکہ مسلک کی خودمختاری قائم رہے۔
مسالکی نفسیات نے بھی اس تحریف میں بڑا کردار ادا کیا۔ ہر مسلک اپنی شناخت کو اس قدر عزیز رکھتا ہے کہ اسے خوف رہتا ہے کہ اگر وہ اصل سرچشمے کا اعتراف کر لے تو اس کی مذہبی اتھارٹی کم ہو جائے گی۔ اسی خوف نے اُن گروہی تعصبات کو جنم دیا جن میں سچائی کو ماننے سے زیادہ ضروری یہ سمجھا گیا کہ مسلک کی عمارت نہ ہلے۔ اسی وجہ سے اہلِ بیتؑ کی جامع اور ہمہ گیر ولایت کو کبھی مرکزی جگہ نہ دی گئی، حالانکہ انہی کی تعلیمات سے فقہ، اخلاق، معرفت اور عدل کے اصول لیے جاتے رہے۔
اسلامی مسالک کے کردار کا خلاصہ یہی ہے کہ انہوں نے اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کو اپنی علمی ساختوں میں جذب تو کیا، مگر اصل مقصد یعنی انسان کو حجتِ خدا کے ذریعے خدا تک پہنچانا، نظر سے اوجھل کر دیا۔ یوں دین کا ڈھانچہ تو باقی رہا لیکن اس کی روح جو امامِ معصومؑ سے وابستہ تھی، غیر محسوس طریقے سے کمزور ہوتی گئی۔ یہ وہی طریقہ ہے جو بنی اسرائیل کی تحریف میں نظر آتا ہے، اور یہی اسلامی مسالک کے کردار میں ایک بار پھر سامنے آ کر تاریخ کو دہراتا ہے۔
بنی اسرائیل کی تاریخ میں سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے مسلسل نعمتوں، معجزوں اور براہِ راست نشانیوں کے باوجود اپنے نفسانی میلان، تعصبات اور دنیا پرستی کی گرفت سے آزاد نہ ہو سکے۔ ان کی اجتماعی نفسیات میں یہ کمزوری بار بار ظاہر ہوتی رہی کہ دین کے اصل مقصد یعنی بندگی، شعور، عدل اور ربّانی اطاعت کے بجائے مذہب کو ایک شناخت، ایک سیاسی طاقت اور ایک سماجی امتیاز کے طور پر استعمال کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ وحی کی طرف نسبت رکھنے کے باوجود وحی کی حقیقی روح سے دور ہوتے گئے، اور نتیجہ یہ ہوا کہ جس شریعت کو وہ اپنے لیے عزت اور بقا کا سبب بنا سکتے تھے اسی میں ایسے تغیرات داخل کرنے لگے جن سے دین کے اصل خدایی رنگ پر پردہ پڑتا گیا۔
بنی اسرائیل کا سب سے بڑا امتحان یہ تھا کہ اللہ نے انہیں واضح نشانیوں کے ساتھ بارہا یاد دہانی کرائی مگر وہ ہر مرتبہ خدا کے حکم کو اپنی خواہشات کے مطابق بدلنے کی کوشش کرتے۔ بچھڑے کی پرستش ہو یا احکام میں تاویلات کے ذریعے تسہیل طلبی، پیغمبرانہ رہنمائی کو ذاتی سہولت یا قومی فخر کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش ان کے مزاج کا حصہ بن گئی۔ تورات کے واضح فرامین کو بھی وہ کبھی اپنی خواہش کے خلاف دیکھتے تو یا تو اس پر عمل ترک کرتے یا ایسے معنی و مفاہیم پیدا کرتے جو اصل حکم کا وزن کم کر دیتے۔ اس رویے نے رفتہ رفتہ انہیں اس مقام پر پہنچایا کہ وہ حق کے امین کی جگہ حق کے صارف بن گئے، یعنی دین کو وہ اپنی خدمت کے لیے استعمال کرنے لگے نہ کہ وہ خود دین کی خدمت اور اطاعت میں رہیں۔
ایک اور پہلو یہ تھا کہ بنی اسرائیل نے اُن تعلیمات میں تحریف کرنا شروع کیں جو ان کے لیے ہدایت کا سرچشمہ تھیں۔ یہ تحریف صرف متن کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ سب سے زیادہ خطرناک تحریفِ معنوی تھی، یعنی وہ احکام اور اخلاقی اصول جو روحانی ارتقا اور اجتماعی عدل کے لیے نازل ہوئے تھے انہیں ایسے معانی دے دیے گئے جن سے ان کی اجتماعی ذمہ داری ہلکی ہو جائے اور ان کی مذہبی برتری کا تاثر باقی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ان کے اس کردار کو بار بار بے نقاب کیا کہ وہ اللہ کے کلمات کو ان کی جگہ سے ہٹا دیتے، ایک دوسرے سے مشورہ کر کے مصلحتاً نئی تعبیرات گھڑ لیتے، اور جب کوئی نبی ان کے اس رجحان کو چیلنج کرتا تو وہ یا تو اس کی مخالفت کرتے یا اسے جھٹلا دیتے۔
بنی اسرائیل کے کردار میں ایک اور گہری لکیریں یہ تھیں کہ وہ تعلیمات کو اس وقت تک قبول کرتے جب تک وہ ان کے قومی مفاد اور طبقاتی حیثیت سے ٹکراتی نہیں تھیں۔ جیسے ہی کوئی الٰہی حکم ان سے قربانی، عدل، مساوات یا اجتماعی اصلاح کا تقاضا کرتا تو وہ اس کا بوجھ محسوس کر کے یا تو اس سے راہِ فرار نکالتے یا پھر اس حکم کے اطلاق کو محدود کر دیتے۔ اس کے مقابلے میں جو چیز ان کے مفاد کو مضبوط کرتی، وہ اسے دین کی اصل روح قرار دے کر بڑھا چڑھا کر پیش کرتے۔ یوں دین ایک زندہ روحانی نظام کے بجائے ایک رسمی، ظاہری اور قوم پرستانہ روایت کی شکل اختیار کر گیا۔
ان کی تمام انحرافات کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اپنی کتاب کے اصل مقصود، اپنے انبیا کے اصل پیغام اور اپنی اجتماعی ذمہ داری سے دور ہو گئے۔ خدا نے انہیں “افضل” اسی لیے قرار دیا تھا کہ وہ عدل، تقویٰ، شعور اور بندگی کے نمائندہ بنیں، مگر جب انہوں نے اس فضیلت کو ایک موروثی فخر میں بدل دیا اور وحی کو حکمت کے بجائے طاقت کے آلے میں تبدیل کرنا شروع کیا تو ان کی اخلاقی قوت کمزور اور سیاسی وحدت متزلزل ہوتی گئی۔ قرآن کی نظر میں ان کا سب سے بنیادی جرم یہی تھا کہ انہوں نے دین کو اپنایا ضرور مگر اس کی اصل روح سے بےوفائی کی۔ یہی بےوفائی ان کی انحطاط، ذلت اور مسلسل آزمائشوں کا سبب بنی۔
یوں بنی اسرائیل کا کردار ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب کوئی امت دین کو اپنے اوپر حاکم بنانے کے بجائے اپنے مفادات کی تابع بنا دیتی ہے، اور جب وحی سے ملی ہوئی حکمت کو دنیاوی مصلحتوں کے لیے مسخ کرتی ہے تو اس امت کا زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بنی اسرائیل کی کہانی صرف ایک تاریخی قصہ نہیں بلکہ ہر اس امت کے لیے آئینہ ہے جو خدا کی نشانیوں کے باوجود حق کو اپنی خواہشات کی ترازو میں تولنا شروع کر دے۔
بنی اسرائیل کی یہ روش پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت سے بھی یہی رہی کہ جیسے سنن الہی یعنی خدا کے قوانین جس میں دنیاوی و اخروی دنیا کی مشترکہ سعادتوں و کامیابی کے قوانین ہیں جو ثقلین میں موجود ہیں، جن کو جدید سائنس سائنسی قوانین کہتی ہے یہ وہی کائناتی قوانین ہیں جو ثقلین میں موجود ہیں۔ مگر یہ بنی اسرائیلی احمق اصل وحیانی ہدف، توحیدی نظام اور معصومانہ تفسیر کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں، اخروی کامیابی کے تناظر میں قوانین کو شعوری نظر انداز کرکے صرف دنیاوی زندگی کے عروج و کامیابی کے قوانین سیکھ لیتے ہیں اور پھر انہی تحریف شدہ اصولوں کے ذریعے پوری انسانیت کو گمراہ کرتے ہیں۔ جب کہ قرآن کہتا ہے کہ دین میں پورے کے پورے داخل ہو، یعنی صرف اپنے دنیاوی مفاد کے قوانین نہیں بلکہ آخرت میں کامیابی کیلئے بھی جو قوانین دنیا میں سیکھنے ضروری ہیں وہ بھی سیکھو اور عمل کرو۔۔۔
آج کے دور میں یہ روش چند نئے زاویوں سے چیلنج بنتی ہے۔ ایک پہلو یہ ہے کہ جدید مسلم معاشروں میں علمی سرقہ یا معنوی تحریف براہِ راست “متن” میں تبدیلی کی صورت میں نہیں بلکہ تعبیر کے اختیار کے ذریعے ہوتی ہے۔ یعنی اہلِ بیتؑ کی تعلیمات، ان کی دعائیں، ان کے اقوال، ان کی اخلاقیات، اور ان کے تاریخی کردار کو قبول بھی کیا جاتا ہے مگر ان کے اصل محور یعنی ولایت، حقِ امامت، علمی مرکزیت اور ہدایتی مرجعیت کو شعوری طور پر ناپید کر دیا جاتا ہے۔ یوں ایک مکمل، متصل، اور منظم مکتب جس کے بغیر اسلام کی روح مکمل نہیں ہوتی، اسے محض ایک اخلاقی یا روحانی ذوق میں بدل دیا جاتا ہے۔ یہ وہی روش ہے جس کا قرآن نے بنی اسرائیل کے بارے میں ذکر کیا تھا کہ وہ اللہ کے کلمات کو ان کی جگہ سے ہٹا دیتے تھے، یعنی اصل مراکزِ معنی کو بدل کر دین کے مجموعی ڈھانچے کو خالی کر دیتے تھے۔
سیاسی سطح پر یہ چیلنج اس لیے بڑھ جاتا ہے کہ مسلمانوں کے مختلف مکاتب سیاست کو دینی تعبیرات کے انتخاب میں استعمال کرتے ہیں۔ اہلِ بیتؑ کی تعلیمات میں قیادت کا تصور عدل، امانت، عصمت، اور نصِ الٰہی پر قائم ہے، جبکہ جدید سیاسی مکاتب اس قیادت کو انتخاب، اکثریت، قبیلہ، فوجی طاقت، یا فقہی اجتہاد کے سہارے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں اہلِ بیتؑ کا اصل سیاسی فلسفہ یکسر غیرسیاسی یا ہامشی بنا دیا جاتا ہے، حالانکہ ان کی تعلیمات میں ہی نظامِ عدل قائم ہو سکتا ہے۔ جب ایک مکتب اپنے نظریات کی تقویت کے لیے اہلِ بیتؑ کی روایات سے منتخب جملے اور فضائل اٹھاتا ہے مگر ان کے اصل مقصد یعنی ولایتِ حق کو نظرانداز کرتا ہے تو اس عمل سے عالمی سطح پر شیعہ مکتب کی فکری مرکزیت کمزور ہوتی ہے۔
علمی میدان میں یہ چیلنج یوں بڑھتا ہے کہ بڑی تعداد میں علمی ذخیرہ، فقہی نتائج، اخلاقی مباحث، عرفانی متون، اور تاریخی تجزیے اہلِ بیتؑ کے مکتب سے ماخوذ ہو کر دوسرے مسالک میں “ری برانڈ” ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ عالمی علمی فضا میں اہلِ بیتؑ کے نام کے بغیر گردش کرتے ہیں، جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰؑ کے احکام میں سے وہ حصے لے لیے جو ان کے لیے فائدہ مند تھے لیکن پوری شریعت کے تسلسل کو قبول نہ کیا۔ اس علمی احسان فراموشی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اہلِ بیتؑ کے فکری امتیاز کا شعور مٹ جاتا ہے اور دنیا کو یہ سمجھا دیا جاتا ہے کہ یہ سب تعلیمات ایک عمومی اسلامی ورثہ ہیں، حالانکہ ان کی اصل روح اور حفاظت صرف اہلِ بیتؑ کے مدرسہ میں رہی ہے۔
جدید دور میں سائنسی طاقت اور ٹیکنالوجی کی مرکزیت کو اگر گہرے علمی زاویے سے دیکھا جائے تو ایک عجیب حقیقت سامنے آتی ہے کہ علم کے بڑے بڑے دھارے، خواہ وہ طبیعیات ہوں، فلکیات ہوں، طب، ریاضی، منطق، انجینئرنگ یا نظمِ زندگی کے نظریاتی اصول، سب کے سب اپنے ابتدائی اور بنیادی فلسفی و منطقی ڈھانچے میں انہی تعلیمی بنیادوں سے ابھرے جنہیں اہلِ بیتؑ نے اپنے دور میں انسانیت کے سامنے رکھا تھا۔ یہ وہ بنیادیں تھیں جنہوں نے علم کو عقلیت، تجربیت، مشاہدے، اخلاقِ تحقیق، اور حقیقت کی وحدت جیسے اصول دیے۔ مگر جدید دور میں ان اصولوں کو ان کے اصل مرکز سے کاٹ کر ایک ایسے نیٹ ورک میں منتقل کردیا گیا جہاں علم کا مقصد حقیقت تک رسائی نہیں رہا بلکہ طاقت، کنٹرول، معیشت، اور سیاسی بالادستی بن گیا۔
جدید سائنس اپنے ظاہر میں غیرجانب دار اور عالمی لگتی ہے لیکن اس کی سمت تعین ہمیشہ طاقتور طبقے کرتا ہے۔ آج جو ادارے، لیبارٹریاں، ٹیکنالوجی کمپنیاں، ملٹی نیشنل کارپوریشنز، یونیورسٹیاں اور تحقیقاتی سینٹرز جدید سائنس کے بڑے بڑے منصوبے چلاتے ہیں، ان کے پس منظر میں وہی استعمار ہے جو سیاسی میدان میں دنیا کو تقسیم کرتا ہے۔ جدید تحقیق کی اکثریت انہی فنڈنگ ماڈلز کے تحت آگے بڑھتی ہے جو عالمی سرمایہ دارانہ اور صہیونی طرزِ فکر سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سائنس کی سمت وہ نہیں رہتی جو انسان اور کائنات کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے بلکہ وہ حیثیت اختیار کر لیتی ہے جو عالمی طاقتوں کو فائدہ پہنچائے۔
جدید ٹیکنالوجی کی مثال لیجیے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، سوشل انجینئرنگ، نیورو سائنس، جینیٹکس، بائیو انجینئرنگ، سٹریٹجک سٹڈیز، خلائی تحقیق، اور دفاعی سائنس جیسے میدانوں کو جن نظریات پر استوار کیا جا رہا ہے وہ بظاہر انسانیت کی خدمت کے نام پر ہیں لیکن عملی طور پر یہ تحقیق ان طاقتوں کے مفادات میں ڈھل جاتی ہے جو دنیا پر ذہنی، معاشی، عسکری، اور ثقافتی تسلط چاہتی ہیں۔ یوں ایک ایسا عالمی سائنسی نظام وجود میں آ گیا ہے جس کا مرکز علم نہیں بلکہ کنٹرول ہے، اور جس کا مقصد ترقی نہیں بلکہ طاقت کا حفاظتی حصار مضبوط کرنا ہے۔
نئی دواؤں کی تحقیق سے لے کر خوراک کی جینیاتی تبدیلی تک، انرجی سائنس سے لے کر متبادل معاشی اسرار تک، ہر بڑے نظریے کے پیچھے وہی مفروضے اور مقاصد کار فرما ہیں جو مخصوص گروہوں کی سیاسی اور معاشی بالادستی کو بڑھاتے ہیں۔ جدید فلسفۂ ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا تضاد یہی ہے کہ سچائی کی تلاش اس کا اصل مقصد نہیں رہی، بلکہ وہ منظم طور پر انسانیت کو ایک مخصوص طرزِ فکر کی طرف لے جا رہی ہے جہاں اللہ، روح، غایت، اخلاق، اور آخری جواب دہی کا تصور غیرضروری سمجھا جاتا ہے۔ یہ وہی راستہ ہے جس پر علم کو اس کے اصل مقام سے ہٹا کر ایسی سمت موڑ دیا گیا ہے جہاں طاقت کا حصول علم کا سب سے بڑا استعمال بن جاتا ہے۔
مزید یہ کہ جدید تحقیق میں استعمال ہونے والے تھنک ٹینک، یونیورسٹی نصابات، عالمی تحقیقی جریدے، اور پالیسی ادارے سب کسی نہ کسی طریقے سے ان عالمی سرمایہ دارانہ مفادات سے جڑے ہیں جو دنیا کی سیاسی سمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اس طرح علم ایک آزاد قوت کے بجائے سرمایہ اور طاقت کے تابع بن کر رہ گیا ہے۔ اس تابعیت نے تحقیق کو حقیقت سے زیادہ نظریاتی بنا دیا ہے، اور نظریات کو طاقتور کے مفادات کے مطابق ڈھالا جانے لگا ہے۔
یہ پورا ماڈل اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ علم کی بنیادیں اگرچہ اہلِ بیتؑ کی حکمت اور ان کے بیان کردہ اصولوں سے اخذ کی گئیں، مگر جدید دور میں اسے ایسے ہاتھوں میں دے دیا گیا ہے جہاں اسے انسان کی نجات کے بجائے انسان پر تسلط کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ علم جو کبھی حق کی طرف ہدایت کا وسیلہ تھا، آج عالمی نظامِ طاقت کا ایک اوزار بن چکا ہے۔ اور جب علم کو طاقت اور منافع کے پیمانے پر ناپا جائے تو وہ فطری طور پر انہی طاقتوں کی خدمت کرتا ہے جو فنڈنگ کرتی ہیں، سمت مقرر کرتی ہیں، اور نتائج کو عالمی سطح پر نافذ کرتی ہیں۔
یوں جدید علوم کا رعب دراصل علم کا رعب نہیں بلکہ ایک مخصوص سیاسی و اقتصادی مفاد کا رعب ہے۔ اور یہ رعب اسی وقت ٹوٹے گا جب علم کو اس کی اصل بنیاد یعنی وحی کی روشنی، عقل کی حاکمیت، انسان کی غایت، اور اخلاقِ تحقیق کی پاکیزگی کی طرف واپس لایا جائے، وہ بنیاد جو فقط مکتبِ اہلِ بیتؑ نے قائم کی تھی اور جس کے بغیر علم ہمیشہ طاقت کے ہاتھوں میں ایک کھلونا ہی رہے گا۔
جدید عالمی ورلڈ آرڈر، جو سیاسی، معاشی، فکری اور تہذیبی سطح پر صہیونی سرمایہ دارانہ مفادات کے تحت چل رہا ہے، اس میں اسلامی مسالک کی شمولیت ایک نہایت پیچیدہ، مگر تاریخی تسلسل رکھنے والا معاملہ ہے۔ یہ شرکت کبھی شعوری ہے، کبھی لاشعوری، اور کبھی حالات کی مجبوری کے نتیجے میں ایک بہاؤ کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ مگر اس پورے عمل کی جڑیں تاریخ کے اسی رویے سے جڑی ہوئی ہیں جس میں مختلف اسلامی مسالک نے اہلِ بیتؑ کے علم سے استفادہ تو کیا مگر اعتراف نہیں کیا، ان کی حکمتوں سے فائدہ اٹھایا مگر ان کو اپنا نہیں بنایا، ان کے مقام کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنے اپنے مفسرین، محدثین اور فقہاء کے چراغوں سے اپنی راہیں روشن کرنے کی کوشش کی، اور حق کے مرکز سے جڑے رہنے کے بجائے اپنی تہذیبی اور مسلکی خود پسندی کی بنیاد پر الگ راستے کھول لیے۔ یہی تاریخی رویہ جدید دنیا میں ایک نئے سیاسی اور فکری بحران کی صورت میں سامنے آ چکا ہے جہاں اسلامی دنیا اپنی اصل روحی بنیاد سے دور ہو کر عالمی طاقتوں کے مفادات کے بوجھ تلے دب گئی ہے۔
اسلامی مسالک کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ انہوں نے دین کو ایک مکمل، زندہ اور ہدایت دینے والے نظام کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ اسے فقہی اور ظاہری احکام کے محدود دائرے میں قید کر دیا۔ اس بدلے ہوئے زاویے نے انہیں فکری خلا میں مبتلا کیا جسے بعد میں مغربی استعمار اور صہیونی فکری نظام نے پُر کیا۔ جب اسلام کا اصل مرکز، یعنی توحید کے عملی نظام اور ولایتِ معصومؑ کا تسلسل، نظر سے اوجھل ہو گیا، تو دنیا کے سیاسی اور علمی دھاروں نے مسلم معاشرے کی فکری کمزوری کو استعمال کرتے ہوئے انہیں اپنے عالمی بیانیے کا خاموش حصہ بنا لیا۔ آج اسلامی دنیا کے بیشتر علمی ادارے، نصاب، میڈیا، سیاسی ڈھانچے اور معیشتی ماڈلز ایسے سانچوں میں ڈھل چکے ہیں جن میں سوچ اور زاویہ نگاہ وہی ہے جو عالمی طاقتوں نے مقرر کیا ہے، چاہے ان اداروں کے باہر مذہبی نعرے ہی کیوں نہ لگ رہے ہوں۔
یہ شراکت اس لیے بھی بڑھ گئی کہ اسلامی مسالک نے قرآن اور سنت کی اصل روح یعنی معصومؑ کی ہدایت کو ترک کر دیا۔ جب اصل قیادت چھوڑ دی جاتی ہے تو معاشرہ نظریاتی انتشار میں چلا جاتا ہے، اور پھر وہ ہر اس طاقت کے لیے تیار ہوجاتا ہے جو اسے کوئی نیا فکری سہارا دے سکے۔ جدید صہیونی ورلڈ آرڈر نے اسی کمزوری سے فائدہ اٹھایا۔ مسلم دنیا کے اندر ایسے گروہ اور ادارے وجود میں آئے جنہوں نے جدیدیت، سیکولرازم، قومیّت، فرقہ واریت، سیاست، فقہی جمود، صوفیانہ جذباتیت، یا ظاہریت کو دین کی اصل تعبیر سمجھ لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دین کی بنیاد کمزور ہوگئی اور وہی خلا پیدا ہو گیا جسے عالمی طاقتیں اپنے بیانیے سے پُر کرتی رہیں۔
لاکھوں مسلمان لاشعوری طور پر اس ورلڈ آرڈر کا حصہ اس لیے ہیں کہ ان کا ذہنی ڈھانچہ، خواہشات، معاشی انفراسٹرکچر، تعلیم، معاشرتی اقدار اور سیاسی وفاداریاں اسی عالمی نظام کی تشکیل کردہ ہیں۔ وہ انٹرنیٹ کے ذریعے جو سوچ اختیار کرتے ہیں، وہ میڈیا سے جو دنیا دیکھتے ہیں، یونیورسٹیوں سے جو فلسفے پڑھتے ہیں، اور ریاستی اداروں سے جو قوانین اور ضابطے اختیار کرتے ہیں، وہ سب انہی مراکز سے نکلے ہیں جن پر عالمی طاقتوں کا قبضہ ہے۔ یوں ایک مسلمان فکری طور پر اپنے آپ کو اہلِ بیتؑ کے مکتب سے منسوب تو سمجھتا ہے مگر اس کا ذہن غیر شعوری طور پر اس عالمی بیانیے کی زبان بولتا ہے جسے وہ پہچان بھی نہیں پاتا۔
جہاں تک شعوری شراکت کی بات ہے تو یہ زیادہ خطرناک ہے۔ کچھ سیاسی، مذہبی اور فکری گروہ براہِ راست عالمی طاقتوں کے ایجنڈوں کو اپنے مسلکی فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تاریخ میں بھی ایسا ہوا کہ کچھ فرقے اپنے مسلکی وجود کو بچانے کے لیے حکمرانوں اور ظالم طاقتوں کا سہارا لیتے رہے، اور آج بھی ایسا ہوتا ہے کہ کچھ مذہبی طبقے اپنے فرقے کی مقبولیت کے لیے عالمی طاقتوں کی پالیسیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔ وہ دین کی بجائے اپنی برادری، اپنے لیڈر، اور اپنے مکتب کی برتری کو اصل مقصد سمجھ لیتے ہیں۔
یہ ساری صورتحال اصل میں اس تاریخی بیماری کا جدید چہرہ ہے جسے ”احسان فراموشی“ کہا جا سکتا ہے۔ وہی روش جس میں اہلِ بیتؑ سے علم لیا مگر ان کی ولایت نہیں لی گئی، آج اس صورت میں بدل گئی ہے کہ جدید دنیا سے ٹیکنالوجی اور فلسفے لیے جاتے ہیں مگر اس کے سیاسی اور تہذیبی اثرات سے نہ صرف بچا نہیں جاتا بلکہ ان کا حصہ بن جایا جاتا ہے۔ اس طرح اسلامی مسالک غیر محسوس طریقے سے عالمی طاقتوں کے بیانیے کے محافظ بن جاتے ہیں، چاہے وہ زبان سے اسے رد ہی کیوں نہ کرتے ہوں۔
اس صورتحال کا مقابلہ اسی وقت ممکن ہے جب دین اپنی اصل بنیاد یعنی ثقلین کی طرف لوٹے۔ جب تک معصومؑ کی تعلیمات کو دین کی اصل روح اور اصل نظام کے طور پر قبول نہیں کیا جاتا، مسلم دنیا ہر طاقتور کے سائے میں کمزور ہی رہے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کو مذہبی خانوں، فقہی مناظروں اور سیاسی جذبات سے نکال کر اس کے حقیقی الٰہی نظام کی طرف واپس لایا جائے، وہ نظام جو انسان کو نہ صرف نجات دیتا ہے بلکہ اس کی فکری آزادی اور اخلاقی بیداری کی ضمانت بھی بنتا ہے۔ یہ وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر مسلم دنیا اس عالمی ورلڈ آرڈر کی فکری غلامی سے نکل سکتی ہے اور اپنے حقیقی مقام تک پہنچ سکتی ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ یہ سب کیوں ہوتا ہے اور اس کا حل کیا ہے؟
سب سے پہلی حقیقت یہ ہے کہ انسان اس اصول کو کبھی قبول نہیں کرتا جو اس کے نفس پر ذمہ داری ڈالے۔ معصومینؑ کی تعلیمات کا جوہر ذمہ داری، عدل، تقویٰ، قربِ خدا، اطاعتِ حق، نفس کی پاکیزگی، لالچ اور خود پرستی سے جنگ، اور سوسائٹی کے کمزور ترین فرد تک اپنی ذمہ داری کو سمجھنے سے متعلق ہے۔ یہ تعلیمات انسان کے نفس کے لیے سخت ہیں۔ مغرب یا دیگر مذاہب و فرقے انہی تعلیمات میں سے وہ حصہ لے لیتے ہیں جو انسانی معاشرے کو فائدہ تو دیتا ہے مگر ان کے نفس پر خدا کی اطاعت، شریعت، ولایت، بندگی اور روحانی اصلاح کی ذمہ داری نہیں ڈالتا۔ یوں وہ اخلاق تو لے لیتے ہیں، مگر اس اخلاق کے پیچھے موجود خدا اور حجتِ خدا سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ یہ نفسیات کا بنیادی قانون ہے کہ انسان وہ اصول پسند کرتا ہے جس سے اس کا نفس محفوظ رہے اور اس کا اختیار برقرار رہے۔ اہل بیتؑ کے اصول اختیار کو خدا کے تابع کرتے ہیں، جبکہ مغربی یا دیگر غیر شیعی دھارے انہی اصولوں کو خواہش کے تابع دوبارہ ڈھال لیتے ہیں۔ اسی لیے وہ فطرت کے اصول لے کر انہیں اپنی تہذیب میں جذب کر لیتے ہیں لیکن اصل منبع کا ذکر نہیں کرتے تاکہ ان پر کوئی اخلاقی بوجھ نہ آئے۔
ایک دوسری نفسیاتی حقیقت یہ ہے کہ انسان کبھی یہ قبول نہیں کرنا چاہتا کہ اس کی فکری بنیادیں کسی ایسی قوم یا گروہ سے لی گئی ہیں جس کو وہ خود کمتر سمجھتا ہے یا جس کے سامنے سر جھکانا اس کے قومی، مذہبی یا فکری انا کے خلاف جاتا ہے۔ یہودیوں نے انبیاء کی تعلیمات کو تحریف اس لیے کیں کہ اصل تعلیمات میں ان کے قبائلی غرور کے خلاف حق پسندی تھی۔ اہل کتاب نے اسی لیے توحید کو تو لیا مگر اس کے تقاضوں سے بھاگ کر تثلیث گھڑ لی۔ یہی نفسیات آج کے اہلِ مذاہب، مسالک اور مغربی تہذیب میں بھی کارفرما ہے۔ وہ تسلیم ہی نہیں کر سکتے کہ انہیں علم، عقل، حکمت، آزادی، انسانی حقوق، ایثار، اجتماعیت، برابری اور تہذیب اہل بیتؑ کے دربار سے ملی ہے، کیونکہ اگر وہ یہ مان لیں تو پھر انہیں اسی دربار کی اطاعت بھی قبول کرنا پڑے گی۔ اصول لینا آسان ہے، اطاعت قبول کرنا مشکل ہے۔ لوگ اصول چاہتے ہیں مگر امام نہیں چاہتے۔ وہ اخلاق چاہتے ہیں مگر ولایت نہیں چاہتے۔ وہ آزادی چاہتے ہیں مگر حدود نہیں چاہتے۔
ایک تیسرا پہلو تہذیبی خودپرستی کا ہے۔ ہر قوم اپنی تہذیب کو برتر ثابت کرنا چاہتی ہے۔ اگر وہ یہ مان لے کہ اس کے بہترین اصول کسی دوسرے سرچشمے سے لیے گئے ہیں تو اس کی تہذیبی برتری ختم ہو جاتی ہے۔ مغربی تہذیب نے فلسفۂ یونان، علمِ طب، ریاضی، سائنس اور حقوقِ انسانی تک بیشتر چیزیں اسلامی تہذیب (خاص طور پر شیعہ فلسفہ و عرفان) سے لی ہیں، مگر اسے کبھی تسلیم نہیں کیا، کیونکہ تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مغرب نے علم نہیں پیدا کیا بلکہ علم لیا ہے۔ یہی معاملہ مذہبی فرقوں کا ہے۔ بہت سے فرقے علمِ اصول، فقہ، حدیث، کلام، فلسفہ، عرفان، اور اخلاق کے بنیادی ڈھانچے اہل بیتؑ سے لیتے ہیں، مگر پھر انہیں اپنے اکابرین کے کارنامے بنا کر پیش کرتے ہیں تاکہ ان کی اپنی مذہبی عمارت محفوظ رہے۔ اگر وہ اصل ماخذ کا اعتراف کر لیں تو ان کی پوری خود ساختہ عمارت زمین بوس ہو جائے۔
یہ مسئلہ روحانی بیماری سے بھی جڑا ہوا ہے، یعنی حسد۔ انسان کسی ایسے مقام کو کبھی کھلے دل سے قبول نہیں کرتا جس تک وہ خود نہ پہنچ سکتا ہو۔ اہل بیتؑ کی عظمت، طہارت، نورانیت، علم اور الٰہی اتصال وہ مقام ہے جہاں تک نہ کوئی عالم پہنچ سکتا ہے، نہ کوئی فلسفی، نہ کوئی پیر اور نہ کوئی سیاست دان۔ لہٰذا وہ ان کی تعلیمات سے فائدہ تو اٹھاتے ہیں مگر ان کو ماننے کی جس ہمت، جس سچائی اور جس تذلل کی ضرورت ہے، وہ نفس کو گوارا نہیں ہوتی۔ یہ بھی انسان کے نفس کی وہی بیماری ہے جس نے قابیل سے لے کر ہر دور کے طغیان تک کو جنم دیا۔
جہاں تک حل کی بات ہے تو ایک طرف تو قدرت خداوندی کے قوانین ایسے سرقہ بازوں کو خود ذلیل و رسواء کرتی ہے جیسے تاریخ بھی شاید ہے کہ آسمانی تعلیمات کو جس نے بھی ان اہداف اور طریقہ کار و نظام کے ساتھ پورے کا پورا نہیں اپنایا جو دنیا کے ساتھ آخرت میں بھی کامیاب کرتے ہیں تو وہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا کے مصداق زوال یافتہ ہو کر عبرت بن جاتے ہیں۔ بنی اسرائیل کے خود کے ایسے تجربے تاریخ میں موجود ہیں، مگر یہ ابھی تک سمجھنے پر تیار نظر نہیں آتے۔ نیز خود اہل حق کیلئےاس کا علاج و حل بھی وہی ہے جو معصومینؑ نے بتایا۔ سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ اہل حق اپنے اصولوں کو علمی قوت، اخلاقی ظاہر اور تہذیبی عمل کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کریں۔ جب تک اہل تشیع اپنی تعلیمات کو صرف اپنے حلقوں میں محدود رکھیں گے، دنیا دوسروں سے لے کر خود اپنا نام لگاتی رہے گی۔ علم کو اگر آپ نہیں پھیلائیں گے تو کوئی اور پھیلا کر اس پر اپنا نام لکھ دے گا۔ اہل بیتؑ کا پیغام آفاقی ہے، اسے دلیل، اخلاق، خدمت، شفافیت اور کردار کے ذریعے انسانی معاشرے تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔
ایک دوسرا حل یہ ہے کہ پیروانِ اہل بیتؑ خود اپنے کردار میں وہ عظمت پیدا کریں جسے دیکھ کر دنیا اعتراف پر مجبور ہو جائے۔ دنیا ہمیشہ اصولوں سے زیادہ کردار سے متاثر ہوتی ہے۔ اگر شیعہ مکتب دنیا کو عدل، خدمت، علم، اخلاق، حکمت، امن اور روحانیت کا عملی نمونہ دے دے، تو پھر کوئی تہذیب اہل بیتؑ کے اثر کو چھپا نہیں سکے گی۔
تیسرا حل علمی میدان میں ہے۔ فلسفے، سماجیات، نفسیات، سیاست، تعلیم، اخلاق اور قانون کے میدانوں میں اہل بیتؑ کی تعلیمات کو جدید علمی زبان میں پیش کیا جائے۔ جب دنیا دیکھے گی کہ ان کے بڑے بڑے مفکرین کے اصول اصل میں معصومینؑ کی تعلیمات کا عکس ہیں، تو سچائی آہستہ آہستہ خود سامنے آ جائے گی۔
اصل نسخہ درحقیقت نفسیاتی بھی ہے اور روحانی بھی۔ جب تک انسان خود حق کو حق سمجھنے کی استعداد پیدا نہ کرے، وہ دوسروں میں حق نہ پہچان سکے گا۔ دنیا معصومینؑ کی روشنی سے اس لیے دور بھاگتی ہے کہ وہ روشنی انسان پر ذمہ داری ڈالتی ہے، اور لوگ ذمہ داری کے بغیر روشنی چاہتے ہیں جو کبھی ممکن نہیں۔ حل یہ ہے کہ انسانوں کے دلوں میں وہ بصیرت پیدا کی جائے جو انہیں اصل اور نقل کے فرق کو سمجھا سکے، اور یہ بصیرت صرف ثقلین سے ہی مل سکتی ہے، کیونکہ وہی انسان کے نفس کو بھی سمجھاتے ہیں اور عقل کو بھی روشن کرتے ہیں۔
اس لیے اصل حل یہ ہے کہ حق کو اتنی قوت کے ساتھ زندہ کیا جائے کہ باطل اس کا قرض دار محسوس ہو، اور یہ تب ہوتا ہے جب پیغام بھی بلند ہو اور کردار بھی بلند۔ مکتبِ اہلِ بیتؑ کو ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سب سے پہلے اپنی علمی و فکری خود اعتمادی کو بحال کرنا ضروری ہے۔ جب تک شیعہ معاشرے اپنے علمی مراکز، حوزات، جامعات، تحقیقی اداروں اور نشر و اشاعت کے نظام کو ازسرِنو مضبوط نہیں کریں گے، اہلِ بیتؑ کا علمی سرمایہ دوسروں کے ہاتھ میں معنوی تحریف کے ساتھ گردش کرتا رہے گا۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اہلِ بیتؑ کے مکتب کو محض ایک مسلک نہیں بلکہ ایک زندہ تہذیبی و فکری نظام کے طور پر پیش کیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ، اخلاقیات، سیاسیات، تعلیم، نفسیات، سماجیات، فلسفہ، اور جدید علوم کے میکانزم میں اہلِ بیتؑ کی حکمت کو اس طرح داخل کیا جائے کہ دنیا خود یہ پہچان لے کہ اس علم کا اصل مرکز کہاں ہے۔
انسانی تاریخ میں دھوکہ ہمیشہ چند بااثر طبقات نے کیا، مگر اس دھوکے کو نسلوں تک جاری رکھنے والی چیز ”بے خبری“ ہوتی ہے، اور یہی آج کی دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اکثر اسلامی مسالک آج خود دھوکہ باز نہیں، بلکہ اپنے ماضی کے اکابرین کی غلط تعبیرات، سیاسی مصلحتوں، جعلی روحانی بیانیوں اور تاریخی مسخ شدہ روایات کے اسیر ہیں۔ وہ وہی راستہ چل رہے ہیں جو انہیں وراثت میں ملا، اور انہیں معلوم بھی نہیں کہ ان کی فکر کا سرچشمہ اہلِ بیتؑ نہیں بلکہ ان کے اپنے مؤرخین، محدثین، سلاطین، صوفی سلاسل یا سیاسی حکمران ہیں جنہوں نے اپنے اپنے مفادات کے مطابق دین کو پیش کیا۔ یہی بے خبری آج عالمِ انسانیت کا بھی حال ہے۔ پوری دنیا borrowed wisdom پر چل رہی ہے، مگر اصل سرچشمے تک پہنچنا بھول چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس پوری انسانیت کو کیسے بیدار کیا جا سکتا ہے، اور انہیں اس راستے کی طرف کیسے لایا جائے جو براہِ راست پیغامِ نبوت اور حکمتِ اہلِ بیتؑ تک جاتا ہے؟
سب سے پہلی حقیقت یہ سمجھنی ہوگی کہ انسان کو حقائق بتانے سے وہ حق قبول نہیں کرتا، بلکہ تب قبول کرتا ہے جب اس کے اندر سوال اٹھتا ہے۔ لوگ دین یا حق کی طرف دعوت دینے سے نہیں بدلتے بلکہ اس وقت بدلتے ہیں جب ان کے اپنے ذہن میں خلش پیدا ہوتی ہے، جب وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی موجودہ تعبیرات زندگی کو وہ معنویت اور سکون نہیں دے رہیں جو وہ چاہ رہے ہیں۔ لہٰذا پہلا کام یہ نہیں کہ لوگوں کو جھنجھوڑ کر کہا جائے کہ تم غلط ہو، بلکہ یہ ہے کہ ان کے ذہن میں وہ خلش پیدا کی جائے جو انہیں خود سچ تک لے جائے۔ اس کے لیے دلیل، اخلاق، کردار اور عملی نمونے سے بڑھ کر کوئی ہتھیار نہیں۔ اہلِ بیتؑ نے ہمیشہ یہی کیا کہ پہلے انسان کے دل کو سوال کی طرف لے کر گئے، پھر حق کا دروازہ کھولا۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ لوگوں کو ان کے اکابرین کے خلاف نہیں کیا جا سکتا جب تک ان کے اندر علمی اعتماد پیدا نہ ہو۔ اگر ان سے سیدھے الفاظ میں کہا جائے کہ تمہارے بزرگ غلط تھے تو وہ فوراً دفاعی حالت میں چلے جائیں گے، کیونکہ انسان کا ذہن اپنی مذہبی شناخت پر حملہ برداشت نہیں کرتا۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کو براہ راست ان کے اکابرین سے متصادم کیے بغیر اہلِ بیتؑ کے نور اور حکمت سے روشناس کرایا جائے۔ جب وہ اس نور کو چکھیں گے تو خود بخود ان کے ذہن میں یہ سوال اٹھے گا کہ یہ روشنی مجھے پہلے کیوں نہیں دی گئی۔ جب ذہن خود سوال پیدا کرتا ہے تو انسان اپنے ماضی کی غلطیوں کو بھی قبول کر لیتا ہے، اور پھر خود فیصلہ کرتا ہے کہ اسے کہاں جانا ہے۔
تیسری حکمت عملی یہ ہونی چاہیے کہ دنیا کو وہ علمی، فکری اور روحانی سرمایہ دکھایا جائے جو اہلِ بیتؑ نے دیا اور جسے دنیا نے بغیر حوالہ استعمال کیا۔ جب یہ حقیقت علمی اسلوب میں پیش کی جائے گی تو انسان سمجھنے لگے گا کہ جسے وہ مغربی فلسفہ، جدید سائنس، اخلاقی ترقی، انسانی حقوق یا روحانی ترقی سمجھتا ہے، اس کے اصول پہلے دن سے اہلِ بیتؑ کے علمی میراث میں موجود تھے۔ یہ کام جذباتی یا مناظرانہ انداز میں نہیں بلکہ جدید علمی زبان میں ہونا چاہیے، تاکہ انسان اپنے تعصبات کے خول سے باہر نکل سکے۔
چوتھی بات یہ ہے کہ مکتبِ اہلِ بیتؑ کو اپنے کردار سے وہ بلندی حاصل کرنی ہوگی جسے دیکھ کر دنیا متاثر ہو جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ دلیل سے کم اور کردار سے زیادہ تبدیل ہوتے ہیں۔ اگر شیعہ معاشرے خدمت، عدل، صداقت، شفافیت، علمی ایمانداری، روحانی سنجیدگی، سماجی انصاف اور اخلاق کے ایسے نمونے پیش کریں جو دنیا میں کہیں نہ ملیں، تو انسان خود پوچھے گا کہ یہ روشنی کہاں سے آئی ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں لوگ اپنی وراثتی عقیدت چھوڑ کر سچائی کی طرف رخ کرتے ہیں۔
پانچویں بات یہ ہے کہ عالمی ورلڈ آرڈر کی دھوکے بازی کو بے نقاب کرنے کے لیے ایک متبادل فکری نظام موجود ہونا چاہیے۔ لوگ باطل کو ترک اسی وقت کرتے ہیں جب انہیں حق کا ایک واضح اور بہتر نظام نظر آئے۔ صرف یہ کہہ دینا کہ وہ غلط ہیں، کافی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مکتبِ اہلِ بیتؑ کے عالمی، سیاسی، فلسفیانہ، تہذیبی اور معاشی ماڈل کو جدید دنیا میں عملی زبان میں پیش کیا جائے۔ جب انسان دیکھے گا کہ اس مکتب میں وہ عدل ہے جس سے دنیا محروم ہے، وہ روحانیت ہے جو دل کو سکون دیتی ہے، وہ عقلانیت ہے جو جدیدیت کو بھی جواب دیتی ہے، اور وہ اخلاق ہے جو انسانیت کو سعادتمند کر سکتا ہے، تو لوگ خود اس طرف بڑھیں گے۔
آخر میں حل وہی ہے جو ہر نبی نے دیا اور ہر امام نے سکھایا: لوگوں کو زبردستی حق پر نہیں لایا جاتا، بلکہ ان کے دلوں میں روشنی پیدا کی جاتی ہے۔ حق کو اتنا واضح، بلند اور حسین بنا دیا جائے کہ باطل خود بے رنگ ہو جائے۔ حق کو اتنی قوت سے پیش کیا جائے کہ لوگ صرف دلیل سے نہیں بلکہ تجربہ اور مشاہدے سے قائل ہوں۔ جب مکتبِ اہلِ بیتؑ دنیا میں عدل، علم، اخلاق اور ایمان کی سب سے روشن مثال بن جائے گا تو لوگ نہ صرف اپنے اکابرین کی غلطیاں چھوڑ دیں گے بلکہ خود اس دروازے تک آئیں گے جسے خدا نے دنیا کے لیے ہدایت کا واحد دروازہ قرار دیا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے نہ صرف حق کے پیروکار بڑھیں گے بلکہ باطل کا عالمی نظام اپنے اندر سے ٹوٹنے لگے گا، جیسے ہر باطل ہمیشہ ٹوٹا ہے۔
مکتبِ تشیع کو اس دور میں سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ علمی جنگ کو دفاعی انداز میں نہیں بلکہ اقدامی انداز میں لڑے، یعنی اہلِ بیتؑ کی حکمت کو اس قوت سے دنیا کے سامنے لایا جائے کہ تحریف کرنے والوں کو اپنی تحریف غیرموثر لگنے لگے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر شیعہ فکری بیانیہ کو مضبوط کرنا ضروری ہے، جس کے لیے جدید زبان، عالمی ڈسکورس، علمی تحقیق، میڈیا، اور مواد کی پیشکش کو نئے انداز میں ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ جب مکتبِ اہلِ بیتؑ اپنی اصل قوت یعنی عقل، حکمت، عدل، معنویت، اور نصِ امامت کے امتزاج کو خود پیش کرنا شروع کرے گا تو نہ صرف تحریف کی چالیں کمزور ہوں گی بلکہ علمی سرقہ کرنے والے بھی مجبور ہوں گے کہ وہ اس مرکزیت کو تسلیم کریں جسے وہ صدیوں سے نظرانداز کرتے رہے ہیں۔
یوں بنی اسرائیل کے طرزِ فکر کی موجودہ شکلیں مکتبِ اہلِ بیتؑ کے لیے چیلنج ضرور ہیں مگر یہ چیلنج ایسے نہیں جن کا جواب ممکن نہ ہو۔ اصل قوت حق کے ساتھ رہتی ہے، اور حقیقت کا نور ہمیشہ تحریف کے اندھیروں کو چیر کر نکلتا ہے، بشرطیکہ اہلِ حق خود اپنی روشنی کو پورے یقین اور پوری حکمت کے ساتھ دنیا کے سامنے رکھنے کا حوصلہ رکھیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو معصومینؑ کا ہے اور جو آخرالزمان میں امام عصرؑ کے ذریعے اپنی کامل صورت میں ظاہر ہوگا، جب دنیا کو یہ دیکھنا پڑے گا کہ اصل علم، اصل تہذیب اور اصل انسانیت کا سرچشمہ وہی تھا جسے صدیوں تک چھپایا گیا۔
