43

عصر اضطرار و انتظار  میں مومن کی ذمہ داری

  • نیوز کوڈ : 2444
  • 04 November 2025 - 15:13
عصر اضطرار و انتظار  میں مومن کی ذمہ داری

عصر اضطرار و انتظار  میں مومن کی ذمہ داری

 بسم الله الرحمن الرحیم

 تحریر : سید جہانزیب عابدی

عصر اضطرار و انتظار  دراصل وہ زمانہ ہے جس میں انسان کی اجتماعی زندگی کا ہر گوشہ فطرتِ الٰہی سے منحرف اور نظامِ باطل کی گرفت میں ہے۔ یہ دور ایک ایسے عالمی ڈھانچے کا مظہر ہے جس نے خالق کی ہدایت کو زندگی کے ہر شعبے سے نکال کر مادّہ، خواہش اور مفاد کو معیارِ حق و باطل بنا دیا ہے۔ سیاست سے لے کر تعلیم تک، ابلاغیات سے لے کر ثقافت و رسوم تک، معیشت سے لے کر عائلی رشتوں تک — ہر سمت ایک ایسا طاغوتی دباؤ موجود ہے جو انسان کے ایمان، عقل اور فطرت کو مسخ کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں مومن کے لیے سب سے بنیادی سوال یہی بنتا ہے کہ وہ اپنی دینی ذمہ داریوں، حلال و حرام کی حدود اور حیاتِ ایمانی کی منصوبہ بندی کو کس بنیاد پر استوار کرے۔

عصرِ حاضر کو اگر کسی ایک جامع اصطلاح میں بیان کیا جائے تو وہ ہے “عصر اضطرار و انتظار ” — یعنی ایسا زمانہ جس میں انسان اپنی فطری، اخلاقی اور دینی اقدار کے مطابق زندگی گزارنے سے قاصر ہے، اور ایک غیرالٰہی نظام کی گرفت میں مجبوراً سانس لے رہا ہے۔ یہ اضطرار صرف اقتصادی نہیں بلکہ فکری، روحانی اور تمدنی سطح پر بھی پھیلا ہوا ہے۔ اس نظام نے انسان کے لیے “حلال و حرام” کے درمیان موجود فاصلہ دھندلا دیا ہے، یہاں تک کہ بہت سی چیزیں جو کبھی واضح طور پر ناپسندیدہ تھیں، آج “ضرورت” اور “معمول” کے نام پر قابلِ قبول بنا دی گئی ہیں۔ ایسے میں مومن کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے ایمان، شعور، اور نیت کے دائرے میں رہ کر اپنی زندگی کی ایسی منصوبہ بندی کرے جو اسے اس فاسد عالمی نظام میں رہتے ہوئے بھی خدا سے جدا نہ کرے۔

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اضطرار، عصیان نہیں ہوتا۔ قرآنِ کریم نے خود اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ اگر کوئی شخص مجبوری میں کسی حرام شے کی طرف مائل ہوتا ہے اور نیت میں بغاوت نہیں رکھتا، تو اس پر مواخذہ نہیں۔ ارشادِ باری ہے: “فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ” (البقرہ: 173) — یعنی جو مجبوری میں ہو، نہ بغاوت کرے نہ حد سے بڑھے، اس پر گناہ نہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے انسان کی فطری کمزوریوں اور زمانی مجبوریوں کو بھی اپنے عدل کے دائرے میں جگہ دی ہے۔ چنانچہ جب عالمی نظامِ معیشت، تعلیم، سیاست اور معاشرت سب باطل اصولوں پر قائم ہوں تو ایک مومن کے لیے ان سے کلی اجتناب ممکن نہیں، لیکن اس کی نیت، احتیاط، اور ارادہ ہی اس کے ایمان کی کسوٹی بن جاتا ہے۔ اس دور میں نادانستہ غلطیوں کو بھی درگذر کریں، اپنی بھی اور دوسروں کی بھی۔

آج کی دنیا میں روزگار، تجارت، مالی لین دین، حتیٰ کہ تعلیم اور طب کے شعبے بھی سامراجی سرمایہ دارانہ نظام کے تابع ہیں۔ سودی نظام معیشت، غیرشرعی مالی ادارے، غیرالٰہی اخلاقی معیارات اور حرام آمیز کاروباری ڈھانچے — ان سب کے بیچ میں مومن وہی ہے جو اپنے دل، ارادے اور نیت کو خدا سے وابستہ رکھے، چاہے عمل کی سطح پر اسے نظام کے ساتھ چلنے کی مجبوری ہو۔ شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان جہاں ممکن ہو حرام سے اجتناب کرے، اور جہاں اجتناب ممکن نہ ہو، وہاں اضطرار کی حد سے آگے نہ بڑھے۔ یہی تقویٰ کا حقیقی معیار ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ مومنین اس دور میں اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کیسے کریں؟ سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ زندگی کی بنیاد ایمان پر ہو، نہ کہ معیشت پر۔ اگر نیت اور مقصد خدا کی رضا اور آخرت کی کامیابی ہے، تو دنیاوی وسائل خود بخود ان کے تابع ہو جائیں گے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیم، روزگار، اور خاندانی منصوبہ بندی میں یہ دیکھے کہ اس کے فیصلے اسے خدا کے قریب کر رہے ہیں یا نظامِ باطل میں مزید الجھا رہے ہیں۔ دنیاوی ترقی بذاتِ خود بری نہیں، مگر جب یہ خدا کی بندگی سے غافل کرے تو یہی ترقی گمراہی بن جاتی ہے۔

دوسرا اصول یہ ہے کہ مومن اپنی روزی میں “پاکیزگی” کو “کثرت” پر ترجیح دے۔ رسولِ اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “قلیل یُغنیٰ عن کثیرٍ فیہ اثم” — تھوڑا پاک رزق اُس زیادہ رزق سے بہتر ہے جس میں گناہ شامل ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر موجودہ نظام میں مکمل حلال کمائی ممکن نہیں، تو کم از کم انسان اپنے حصہ کا تقویٰ، نیت کی پاکیزگی، اور کوشش کی صداقت کو برقرار رکھے۔ حلال کی طلب میں نیت کی صداقت ایک عبادت ہے، اور مجبوری میں حرام سے بچنے کی کوشش بھی جہادِ اکبر کی صورت رکھتی ہے۔

تیسرا نکتہ یہ ہے کہ مومن کو اپنی زندگی کے فیصلے “استقلالِ ایمانی” کے ساتھ کرنے چاہییں، نہ کہ تقلیدی سماجی دباؤ میں۔ موجودہ معاشرہ عورت اور مرد دونوں کو اس طرح کے معاشی کرداروں میں دھکیل رہا ہے جو نہ فطری ہیں نہ روحانی۔ مومن کو یہ شعور زندہ رکھنا ہوگا کہ وہ اگر اس نظام کا حصہ بھی بن رہا ہے، تو دراصل وہ “بقا کے مجاہدے” میں ہے، “قبولیتِ باطل” میں نہیں۔ اپنی نیت میں وہ اس نظام کے ساتھ نہیں بلکہ اس کے خلاف کھڑا ہے، حتیٰ کہ وہ اپنی جدوجہد، عبادت، اور انتظار کے ذریعے ایک ایسے معاشرے کی تیاری کر رہا ہے جو امامِ زمانہؑ کے ظہور کا زمینہ بنے۔

عصر اضطرار و انتظار  میں مومن کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ باطل کے نظام میں رہ کر بھی باطل کا شعوری انکار کرتا رہے۔ وہ اپنے دل، گھر، تربیت، اور گفتگو میں حق کے اصولوں کو زندہ رکھے۔ وہ یہ جانے کہ یہ زمانہ اصل امتحان کا زمانہ ہے، جہاں ایمان محض نماز، روزے، یا ظاہری اعمال میں نہیں بلکہ شعور، بصیرت، اور وفاداریِ حق میں پرکھا جائے گا۔ اگر مومن اس نظام میں رہتے ہوئے بھی اپنی نیت، اخلاق، رزق، اور تعلقات کو الٰہی توازن پر قائم رکھے، تو وہ دراصل اسی “انتظارِ فعال” کی حالت میں ہے جسے روایات میں سب سے افضل عمل کہا گیا ہے۔

سب سے پہلے سیاست کے میدان کو دیکھیں۔ عصر اضطرار و انتظار  کی سیاست وہ سیاست ہے جس میں اقتدار، طاقت، قوم پرستی اور سرمایہ ہی سب کچھ ہیں۔ یہ سیاست عدل کی نہیں بلکہ غلبہ و تسلط کی بنیاد پر قائم ہے۔ جب سیاست سے مقصدِ الٰہی اور خدمتِ خلق ختم ہوجائے تو وہ فسادِ فی الارض بن جاتی ہے۔ مومن کے لیے ایسی سیاست میں براہِ راست شریک ہونا ایک اضطراری عمل ہے، اختیاری نہیں۔ اگر وہ کسی نظام میں رہتا ہے یا کسی سطح پر کام کرتا ہے تو اس کا فریضہ یہ ہے کہ وہ دل میں اس نظامِ باطل کی مشروعیت کو تسلیم نہ کرے بلکہ اصلاح، عدل اور خیر کی نیت سے اپنے کردار کو متعین کرے۔ امام جعفر صادقؑ نے فرمایا کہ اگر کوئی فاسق حکومت میں ہے تو مومن کا فرض ہے کہ وہ اس کے باطل نظام کے اندر رہ کر بھی حق کے لیے روشنی کا چراغ بنے، مگر خود اندھیروں کا حصہ نہ بنے۔

تعلیم کے شعبے میں بھی یہی کشمکش جاری ہے۔ آج کی تعلیم کا مقصد انسان سازی نہیں بلکہ پیداوار بڑھانا اور سرمایہ دارانہ نظام کے لیے کارگر مشین تیار کرنا ہے۔ دینی ذمہ داری یہ ہے کہ مومن اپنے علم کو “معرفتِ الٰہی” سے جوڑے۔ خواہ وہ سائنسی تعلیم حاصل کرے یا عصری پیشہ، اسے اپنی نیت میں یہ طے رکھنا چاہیے کہ یہ علم اللہ کے دین کے لیے، انسانیت کی اصلاح کے لیے اور عدلِ فطری کے قیام کے لیے استعمال ہوگا۔ یہی تعلیم کو عبادت میں بدلنے کا راز ہے۔ اگر کوئی مومن درس و تدریس کے نظام کا حصہ ہے تو وہ اس میں بھی فکری جہاد کا فریضہ ادا کرے — یعنی حق کی نمائندگی، فطرت کی بحالی، اور روحانی اقدار کی ترویج۔

ابلاغیات کے شعبے میں آج انسان سب سے زیادہ گمراہ ہے۔ میڈیا، سوشل نیٹ ورکس، تفریحی صنعت، اور اشتہار سازی — سب شعور کے قتل اور نفس کے بیدار رکھنے کا کام کر رہے ہیں۔ یہ وہ میدان ہے جہاں حق و باطل کی سرحدیں دھندلا دی گئی ہیں۔ مومن کے لیے اس میں دو ذمہ داریاں ہیں: ایک یہ کہ وہ خود جھوٹ، فحاشی، منافقت اور پراپیگنڈا کا حصہ نہ بنے؛ اور دوسری یہ کہ جہاں ممکن ہو وہ حق کی آواز، قرآنی فکر، اور اخلاقی روشنی کو پھیلانے کا ذریعہ بنے۔ اگر وہ لکھتا ہے، بولتا ہے یا کوئی سماجی پلیٹ فارم استعمال کرتا ہے تو اس کی نیت تبلیغِ حق ہو، نہ کہ شہرت یا نفع۔ عصر اضطرار و انتظار  میں ابلاغ ہی وہ تلوار ہے جس سے یا تو فطرت کو مسخ کیا جاتا ہے یا پھر ایمان کو زندہ رکھا جاتا ہے۔

ثقافت و تہذیبی رسوم بھی اس زمانے میں دینی اور فطری معیاروں سے بہت دور جا چکی ہیں۔ شادی بیاہ، میل جول، تقریبات، حتیٰ کہ روزمرہ کے لباس اور زبان تک — سب غیرالٰہی ذوق اور مغربی نظامِ حیات کے اثر میں ہیں۔ مومن کے لیے یہاں سب سے بڑی آزمائش یہ ہے کہ وہ سماجی تعلقات کو قائم رکھتے ہوئے بھی اپنی شناخت کو محفوظ رکھے۔ اس کی ثقافت کا محور “ولایت” اور “عبودیت” ہو، نہ کہ فیشن، رسم یا طبقاتی نمائش۔ اگر وہ کسی تقریب میں شریک ہوتا ہے تو نیت عزتِ رشتہ اور صلہ رحم کی ہو، نہ کہ دکھاوا یا نفس کی خوشنودی۔ یہی وہ دینی شعور ہے جو ثقافتی آلودگی میں بھی انسان کو پاک رکھتا ہے۔

عائلی زندگی میں عصر اضطرار و انتظار  نے مرد و عورت کے توازن کو توڑ دیا ہے۔ مغربی فکر نے مساوات کے نام پر فطرت کی تفریق کو مٹا دیا، جس سے نہ مرد مرد رہا نہ عورت عورت۔ مومن کے لیے گھر کا نظام وہی ہونا چاہیے جو قرآن نے بتایا — مرد قوام ہے، عورت سکون کا منبع۔ اگر دونوں کام بھی کریں تو یہ مجبوری کی بنیاد پر ہو، مسابقت یا برابری کے نعرے پر نہیں۔ مرد کی ذمہ داری ہے کہ کفالت کو اپنی عزت سمجھے، اور عورت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی نسوانیت، رحمت اور حیا کو محور بنائے۔ اگر دونوں کا تعلق خدا کے لیے ہو تو معیشتی تنگی بھی برکت میں بدل جاتی ہے۔

روزگار اور معیشت میں آج کا انسان سب سے زیادہ اضطرار کا شکار ہے۔ سود، استحصال، اور غیرالٰہی مالی ڈھانچے نے حلال و حرام کی لکیر مٹا دی ہے۔ مومن کے لیے یہاں سب سے بڑا جہاد “تقویٰ معیشتی” ہے۔ یعنی جہاں تک ممکن ہو حرام سے اجتناب کرے، اگر مجبوری پیش آئے تو ضرورت کی حد تک لے، مگر دل میں اسے جائز نہ سمجھے۔ نبی اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب حلال روزی تلاش کرنا جنگِ عظیم کے برابر ہوگا۔ یہی زمانہ ہے، اور یہی مومن کے ایمان کا امتحان۔ اس امتحان میں نجات کی کلید یہ ہے کہ انسان نیت میں صداقت رکھے، رزق میں حلال کو ترجیح دے، اور دولت کو مقصد نہیں بلکہ وسیلہ سمجھے۔

اختلافات اور سماجی رویوں کے باب میں بھی یہی آزمائش ہے۔ آج دنیا میں جھگڑے، حسد، انا، اور خود غرضی نے اخوت اور عدل کو مٹا دیا ہے۔ مومن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اختلاف میں بھی انصاف کا دامن نہ چھوڑے، اور حق کے لیے نرم خو مگر ثابت قدم رہے۔ امام علیؑ نے فرمایا: “تمہارا بھائی وہ ہے جو تمہیں تمہاری غلطی پر ٹوکے، نہ کہ وہ جو تمہاری چاپلوسی کرے۔” لہٰذا عصر اضطرار و انتظار  میں مومن کا رویہ عدل، حلم، اور وقار کا ہونا چاہیے، چاہے باقی دنیا فریب اور مفاد کے کھیل میں ڈوبی ہو۔

ان تمام شعبوں میں ایک مشترک اصول ہے — نیت کی الٰہیت، تقویٰ کی حد، اور شعورِ باطل سے انکار۔ مومن کو اپنی زندگی کی منصوبہ بندی اس طرح کرنی چاہیے کہ وہ اپنے گھر، تعلیم، کام، اور تعلقات میں ظاہراً دنیا کے ساتھ رہے مگر باطناً خدا کے نظامِ عدل کے ساتھ جڑا رہے۔ یہ شعور، یہ نیت، اور یہ مزاحمت ہی عصر اضطرار و انتظار  میں “عبادت” بن جاتی ہے۔

یہی اضطرار دراصل “امتحانِ وفاداری” ہے۔ یہاں دین دار کے لیے نہ سیاست صاف ہے، نہ معیشت حلال کے قالب میں مکمل محفوظ، نہ ابلاغ و ثقافت پاکیزہ ہیں۔ ایسے میں مومن کی ذمہ داری یہ نہیں کہ وہ دنیاوی کامل نظام بنائے بلکہ یہ ہے کہ ہر نامکمل، فاسد یا مشتبہ دائرے کے اندر وہ “نیت، نُکتۂ نظر، اور عمل” کو الٰہی خط پر استوار رکھے۔ سیاست میں اس کی ذمہ داری حق و باطل کی تمییز باقی رکھنا ہے، چاہے نتیجہ اس کے ہاتھ میں نہ ہو۔ تعلیم میں اس کا فریضہ یہ ہے کہ وہ علم کے حصول کو مادّی طاقت نہیں بلکہ الٰہی امانت سمجھے۔ ابلاغیات میں وہ سچائی کے قافلے کا پیامبر بنے، چاہے سچ کی آواز دب جائے۔ معیشت میں وہ رزقِ حلال کی جستجو کو اپنی اخلاقی اور عرفانی شناخت بنائے، چاہے دنیاوی معیار پر ناکام ٹھہرے۔

ثقافت، رسم و رواج، عائلی زندگی، سماجی تعلقات — ان سب میں مومن کی ذمہ داری کمال پیدا کرنا نہیں بلکہ “خلوص” اور “حق کے ساتھ وفاداری” باقی رکھنا ہے۔ اگر بیوی شوہر کے ساتھ یا والدین اولاد کے ساتھ مکمل سمجھوتہ نہ کر پائیں، اگر نظامِ روزگار ناانصافی پر کھڑا ہو، اگر سچ بولنے پر رسوائی ملے — تب بھی مومن کا کام “نظام” کی تبدیلی کیلئے حسب استطاعت عمل کرنا اور  “خود کو بھی” الٰہی نظام کے تابع رکھنا ہے۔ یہی حقیقی انتظار ہے۔ انتظار، کمال کے ظہور کا نام نہیں بلکہ کمال کی جستجو میں اپنے ایمان کو سالم رکھنے کا نام ہے۔

لہٰذا عصر اضطرار و انتظار  میں حلال و حرام کی کیفیت بھی اضطراری ہے، مگر ایمان کی ذمہ داری مستقل ہے۔ مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس دور میں اپنی زندگی کو تین بنیادوں پر قائم کرے: نیتِ خالص، تقویٰ کی حد تک اجتناب، اور امامِ عدلؑ کے ظہور کی فکری تیاری۔ یہی وہ توازن ہے جو مومن کو اس نظامِ باطل میں بھی خدا کے قریب رکھتا ہے، اور یہی وہ منصوبہ بندی ہے جو اس کے ہر عمل کو عبادت اور جہاد میں بدل دیتی ہے۔

جب تک زمین پر عدلِ مہدیؑ قائم نہیں ہوتا، تب تک مومنین کے لیے سب سے بڑی ذمہ داری یہی ہے کہ وہ خود کو “فساد کے اندر رہ کر فطرت کے وفادار” بنائے رکھیں اور اپنی اور دوسروں کی نادانستہ غلطیوں، کوتاہیوں اور خطاوں کو معاف کریں ، درگذر کریں۔۔ یہی عصر اضطرار و انتظار  کا ایمان ہے، اور یہی منتظرِ حق کی اصل پہچان۔ اس زمانے میں “perfect life” یا “perfect family” کا خواب دراصل “دنیا کو آخرت کا قائم مقام” سمجھنے کی ایک نادان کوشش ہے۔ امامؑ کے انتظار کا مفہوم یہی ہے کہ جب تک ظہور نہیں ہوا، عدلِ کامل بھی قائم نہیں ہو سکتا۔ اس لیے جو مومن اس دنیا میں کامل زندگی کے خواب دیکھتا ہے، وہ حقیقتِ غیبت اور امتحانِ زمانے کو نہیں سمجھتا۔ یہاں کمال فرد کے صبر، استقامت، ایمان، اور شعورِ ظلمت میں روشنی کی تلاش میں ہے۔

زندگی کی منصوبہ بندی اس دور میں اسی حقیقت پر ہونی چاہیے: کہ ہم “کامل دنیا” نہیں، بلکہ “کمالِ ایمان” کے طالب ہیں۔ ہم نظامِ الٰہی کے ظہور کے لیے “زمینہ سازی” کرتے ہیں، نہ کہ ظاہری خوشحالی کے قلعے۔ یہ زمانہ مومن کے لیے ریاضت، ضبط، اور فکری مزاحمت کا زمانہ ہے — جہاں عمل کا محور “اللہ کی خوشنودی” ہے، اور معیارِ کامیابی “باطن کی سلامتی”۔

یوں عصرِ اضطرار و انتظار میں کامل انسان، کامل زندگی، یا کامل خاندان کا تصور ایک فریب ہے؛ مگر “اللہ کی طرف کامل رجوع” ہی وہ حقیقت ہے جو انسان کو اس فریب سے نجات دلاتی ہے۔ یہی رجوع، یہی ایمان، اور یہی وفاداری دراصل عصرِ اضطرار کا اصل کمال ہے۔ پس خلاصہ یہی ہے کہ اس فاسد نظام کے اندر رہتے ہوئے مومن کی ذمہ داری یہ نہیں کہ وہ دنیا سے بھاگے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس میں رہ کر بھی اس کے رنگ میں نہ رنگے۔ اس کی معیشت، سیاست، تعلیم، ابلاغ، ثقافت، اور گھر — سب ظاہراً عام لگیں مگر باطن میں سب کا مرکز “اللہ” ہو۔ یہی مومن کی منصوبہ بندی ہے، یہی اس کا جہاد ہے، اور یہی انتظارِ مہدیؑ کی حقیقی حالت۔ جب وہ ہر قدم میں فطرت سے وفادار رہے تو وہ اس ظلمانی دور میں بھی روشنی کا حصہ ہے، چاہے دنیا اسے معمولی سمجھے۔ یہی عصر اضطرار و انتظار  میں مومن کی اصل کامیابی ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2444

ٹیگز

تبصرے