بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
ائمہ معصومینؑ کی بعثت اور قیادت کا مقصد صرف دینی تعلیمات کی تبلیغ یا روحانی رہنمائی نہیں تھا، بلکہ ان کی ذمہ داری زمین پر عدلِ الٰہی کے نظام کو قائم کرنا، انسانوں کو طاغوتی قوتوں سے نجات دلانا اور اللہ کی حاکمیت کو عملاً نافذ کرنا تھی۔ امامت دراصل نبوت کے تسلسل میں الٰہی حکومت کا تسلسل ہے، اور امام صرف مفسرِ قرآن نہیں بلکہ مجریِ قرآن بھی ہیں۔ مگر جب تاریخ نے ان کے حقِ حکومت کو غصب کر لیا اور امت نے ساتھ نہ دیا، تو یہ سوال پیدا ہوا کہ امام کی ذمہ داری ایسی حالت میں کیا رہ جاتی ہے — کیا وہ خاموشی اختیار کریں یا کسی اور جہت سے الٰہی مقصد کو آگے بڑھائیں؟ یہی وہ نکتہ ہے جس پر امامت کی سیاسی اور تربیتی حکمتِ عملی سمجھ میں آتی ہے۔
ائمہ معصومینؑ کی ذمہ داری دراصل دو جہتوں میں تقسیم ہوتی ہے: ایک جہت الٰہی ہے اور دوسری جہت اجتماعی۔ الٰہی اعتبار سے امام کا فریضہ یہ ہے کہ وہ اللہ کی حجت، دین کی وضاحت اور مفاہیم کو کھول کر بیان کرنے والے (تبیین کرنے والے)، شریعت کے محافظ اور انسانیت کے نجات دہندہ ہوں۔ ان کا وجود بذاتِ خود نظامِ ہدایت کا مرکز ہے۔ لیکن اجتماعی جہت سے دیکھا جائے تو امام کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ انسانی معاشرے میں عدلِ الٰہی قائم کریں، ظلم کو ختم کریں، اور زمین پر اللہ کے نظام کو نافذ کریں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں “اِمَام” کا تصور صرف رہنمائی یا روحانی قیادت تک محدود نہیں، بلکہ “نظامِ قیادت” اور “حکومتِ عدل” کی اصطلاحات کے ساتھ سیاسی قیام سے وابستہ ہے۔
اب جب ہم دیکھتے ہیں کہ ائمہ علیہم السلام کے زمانے میں حکومت ان کے حق سے غصب کر لی گئی، تو ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیوں خاموش رہے یا حکومت اپنے ہاتھ میں کیوں نہ لی؟ اس کا جواب امت کے کردار میں پوشیدہ ہے۔ امت نے ان کے ساتھ اس لیے ساتھ نہ دیا کہ ان کے اندر تین بنیادی کمزوریاں تھیں:
اولاً، فکری گمراہی۔ رسولِ خدا صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ایک ایسا نظامِ فکری بنایا گیا جس نے عوام کو یہ باور کرایا کہ حکومت صرف طاقت اور سیاست کے زور پر چلتی ہے، نہ کہ حق اور امامت کے معیار پر۔ نتیجتاً عوام نے دین کے روحانی معیار کو سیاسی حقیقت سے الگ کر دیا۔ یہ وہی ذہنیت تھی جس نے سقیفہ میں سیاسی اقتدار کو “امرِ دینی” کے بجائے “امرِ قبائلی” بنا دیا۔
ثانیاً، دنیا پرستی اور خوف۔ امت کا ایک بڑا حصہ امام کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے تیار نہیں تھا کیونکہ اس کے نتیجے میں جان، مال اور عزت کا خطرہ تھا۔ دنیاوی مفادات اور وقتی آرام نے انہیں الٰہی مقصد سے دور کر دیا۔ یہی رویہ امام علیؑ کے دور میں نظر آیا جب لوگوں نے انہیں بیعت تو دی، مگر جنگ کے وقت پیچھے ہٹ گئے۔ یہی حال امام حسن ؑ کے ساتھ بھی رہا اور نام نہاد مومنین نے امام حسن ؑ کواذیت جسمانی و روحانی پہنچائی، امام حسینؑ کے وقت میں کوفیوں کا بھی یہی حال تھا — زبان سے وفاداری، مگر دل میں دنیا کی محبت یا دنیاوی گردش ایام سے خوف۔
ثالثاً، منافقین اور مکار حکمرانوں کی فریب کاری۔ ظاہری اسلام کے پردے میں بنو امیہ و بنو عباس جیسے حکمرانوں نے بنی اسرائیلی یہودیوں کی (پراکسی بن کر)حوصلہ افزائی پر اور تعاون کے ساتھ دین کی تعبیر کو بگاڑا، روایت سازی کے ذریعے عوام کے ذہنوں میں ائمہ کی امامت کو محدود، اور اپنی بادشاہت کو مقدس بنا کر پیش کیا۔ نتیجتاً لوگوں نے اصل امام کو پہچانا ہی نہیں، بلکہ ان کے مقابل میں ظاہری امن اور طاقت کے زیرِ سایہ جینے کو ترجیح دی۔
ایسی صورت میں ائمہ علیہم السلام کا فریضہ تبدیل نہیں ہوا، بلکہ اس کی نوعیت بدل گئی۔ چونکہ امام کا مقصد اقتدار برائے اقتدار نہیں بلکہ عدلِ الٰہی کا نفاذ ہے، اس لیے جب امت ساتھ نہ دے تو امام کی ذمہ داری یہ رہ جاتی ہے کہ وہ امت کے اندر وہ فکری، ایمانی، اور روحانی بنیادیں قائم کریں جو مستقبل میں حکومتِ عدل کی راہ ہموار کریں۔ یہی وجہ ہے کہ ائمہ نے اپنی تمام تر توانائیاں “تربیتِ انسان” اور “حکومتِ فکری” میں صرف کیں۔ امام باقرؑ اور امام صادقؑ کے ادوار میں علومِ دین کی ترویج، فقہ و تفسیر کی تدوین، اور ہزاروں شاگردوں کی تربیت دراصل اسی مقصد کے لیے تھی کہ وہ ایک ایسی فکری امت تیار کریں جو امامِ وقت کے قیام کے لیے تیار ہو۔
یہی ذمہ داری غیبتِ کبریٰ کے بعد فقہا پر منتقل ہوئی۔ فقیہ، امام کے نائب کے طور پر، اسی دوہری ذمہ داری کے حامل ہیں: ایک طرف دین کی حفاظت اور اس کی تبیین، دوسری طرف معاشرے کو اس سطح تک لے جانا کہ وہ عدلِ الٰہی کے نظام کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو۔ لیکن جب امت کا عمومی مزاج غفلت، مادیت، یا ظلم کے خوف میں جکڑا ہو، تو فقیہ کا پہلا فریضہ حکومت قائم کرنا نہیں بلکہ قوم کی فکری اور اخلاقی اصلاح کرنا ہے، تاکہ “قبولیتِ حق” کی اجتماعی صلاحیت پیدا ہو۔
یہی وہ منہج ہے جو امام خمینیؒ نے عملی طور پر زندہ کیا۔ انہوں نے فقہاء کی ولایت کو صرف فتووں کے دائرے میں محدود نہ رکھا بلکہ اسے “نظامِ قیادت” کی صورت دی، مگر ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ اگر قوم آمادہ نہ ہو تو ظاہری حکومت قائم کرنا محض سیاسی اقدام ہوگا، دینی نہیں۔ ولایتِ فقیہ کا حقیقی مقصد امت کی تربیت، ظلم کے خلاف شعور، اور عدلِ الٰہی کے لیے اجتماعی آمادگی ہے۔
اس لیے جب امت ساتھ نہ دے تو امام یا فقیہ کا فریضہ “حکومت قائم کرنا” نہیں بلکہ “امت کو حکومت کے لائق بنانا” ہوتا ہے۔ وہ فکری، روحانی، اور تعلیمی انقلاب کی بنیاد رکھتے ہیں، تاکہ جب حالات سازگار ہوں تو عدلِ الٰہی کی حکومت خودبخود ایک اجتماعی مطالبہ بن جائے، نہ کہ ایک فرد کی دعوت۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ ائمہؑ کا صبر، خاموشی، اور علمی جہاد دراصل مستقبل کے ظہورِ عدل کی تیاری تھی۔ وہ خود منتظر نہیں تھے، بلکہ منتظَر امت کو تربیت دے رہے تھے۔ اور آج فقیہ کی ذمہ داری بھی یہی ہے — امت کے دل میں عدل کی تڑپ پیدا کرنا، ان کے ذہن میں طاغوت کی پہچان بٹھانا، اور ان کے عمل میں ایمان کو زندہ کرنا، تاکہ جب امامِ عصرؑ ظہور کریں تو انہیں وہی امت ملے جو ساتھ دینے کے قابل ہو، نہ کہ وہی جو تاریخ میں مکرر ناکام ہوئی۔
لہذا ایسی امت کو عدلِ الٰہی کے نظام کے لیے آمادہ کرنے کا عمل ایک لمحاتی یا یکدم تبدیلی نہیں، بلکہ صبر، حکمت اور منظم تعمیرِ نفوس و سماج کا تسلسل ہے۔ سب سے پہلے دلوں اور ذہنوں کی جڑوں تک پہنچنے کی ضرورت ہے: عوامِ عامہ کو دین کے اصول، مقاصدِ شریعت اور امامت کے فلسفے کا ایسا واضح اور مربوط فہم دیا جائے جو ان کے روزمرّہ مسائل ذاتی و عائلی زندگی سے جڑا ہو، تاکہ دین کو نظریاتی محکمات کے ساتھ ساتھ عملی زندگی کا رہنما بنایا جائے۔ اس کے لیے مدرسۂ علوم، عوامی لیکچرز، اور مقامی مسجدیں محافلِ فہم و فکر بنیں جہاں فقہ، اخلاق، سیاسی شوریٰ اور شریعت کے عمومی مقاصد کو سادہ اور معنوی انداز میں سمجھایا جائے؛ یوں دین کا پیغام صرف عبادات تک محدود نہ رہے بلکہ معاشرتی انصاف، شراکتِ اجتماعی، اور ذمّہ داری کی بات ہو۔
تعلیم و تربیت کے نصاب میں تبدیلی لازمی ہے؛ بچوں، نوجوانوں اور بڑوں کے لیے ایسا جامع تعلیمی پروگرام تیار کیا جائے جو علمی معلومات کے ساتھ عملی صلاحیتیں بھی دے، یعنی تنقیدی سوچ، اخلاقی قوت، معاشی خود انحصاری، اور اجتماعی نظم و تعاون سکھائے۔ اس میں خواتین اور نوجوانوں کی شرکت خاص طور پر ضروری ہے کیونکہ وہ خاندان اور معاشرہ کے بنیادی ستون ہیں۔ تعلیمی اصلاحات صرف مدارس تک محدود نہ رہیں بلکہ یونیورسٹیاں، ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹس اور پیشہ ورانہ تربیتی مراکز بھی اس نئے نصاب کو اپنائیں تاکہ ہر طبقہ معاشی اور فکری طور پر مضبوط ہو سکے۔
عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے ثقافتی اور فکری میدان میں بھی فعال مہم چاہیے۔ ادب، ڈرامہ، مقبول میڈیا، اور سوشل میڈیا کے ذریعے ایسے پیغامات دیے جائیں جو عدل، ایثار، اور طاغوتی رویوں کی نفی کو عام فہم صورت میں پیش کریں؛ حقیقت پر مبنی دستاویزی مواد، زندگیوں کی تبدیلیاں دکھانے والی کہانیاں اور علمی مباحث عوام کو قائل کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس میں علماء اور روشن خیال فکری طبقہ مل کر محتاط مگر مؤثر گفت و شنید شروع کریں، شہرت یا فرقہ وارانہ جھگڑوں کو پیچھے رکھ کر حق کے معانی کو عام کریں۔
معاشی انصاف کی تشکیل بھی آمادگی کا بنیادی ستون ہے؛ جب غربت، بے روزگاری اور معاشی استحصال ختم نہ ہوں تو نظریاتی تبدیلی کے بیج بھی زمیں میں پنپ نہیں سکتے۔ معاشرتی فلاح و بہبود کے پروگرام، چھوٹے پیشہ ورانہ قرضے، کمیونٹی بینکنگ، اور مقامی صنعتوں کو فروغ دے کر لوگوں کی بقا اور عزت نفس کو مستحکم کیا جائے۔ یہ اقدامات نہ صرف عوام کا اعتماد بڑھائیں گے بلکہ ظاہری نظامِ عدل کے لیے عملی مثال بھی فراہم کریں گے۔
قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے شفافیت، احتساب اور انصاف کے معیارات قائم کیے جائیں۔ مقامی سطح پر شوریٰ یا عوامی کونسلیں بنائی جائیں جو تنازعات کے حل، مقامی پالیسیوں کی نگرانی اور ریاستی اداروں کے ساتھ رابطے کا کام کریں؛ اس طرح لوگوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں براہِ راست شراکت ملے گی اور انہیں عدل کے نظام کی عملی تصویر نظر آئے گی۔ علماء اور فقہا قانون سازی اور پالیسی مشاورت میں معاونت کریں تاکہ قوانین شریعت کے مقاصد سے ہم آہنگ رہیں اور عملدرآمد ممکن بن سکے۔
راہِ عمل میں قیادت کی تیاری لازمی ہے۔ قابل، متقی اور علمی تربیت یافتہ نوجوانوں کو کمیونٹی لیڈرز، اساتذہ، اور انتظامی عہدوں پر لایا جائے تاکہ جب صحیح وقت آئے تو یکدم تبدیلی کی جگہ منظم اور ذمہ دار قیادت سامنے آئے۔ قیادت کا مطلب صرف اقتدار تک پہنچنا نہیں بلکہ نمونۂ عمل بننا، شفافیت دکھانا اور لوگوں کی خدمت کرنا ہے؛ جب عام لوگ قائدین میں صداقت اور اہلیت دیکھیں گے تو اُن کے ساتھ کھڑے ہونے کا جوش پیدا ہوگا۔
اجتماعی عمل کی آمادگی میں تنظیم سازی کا کردار اہم ہے۔ بعض علاقوں میں مقامی انجمنیں، خیراتی ادارے، اور سول سوسائٹی کے گروپس بنائے جائیں جو روزمرّہ مسائل حل کریں، انسانی خدمات پہنچائیں اور اعتماد کی فضا بنائیں۔ یہ ادارے عوام کو خود مختاری اور اجتماعی نظم کا تجربہ دیں گے، اور جب انہیں نظریاتی سطح پر بھی آمادہ کیا جائے گا تو وہ جلد ہی larger systemic changes کے لیے تیار ہو جائیں گے۔
فکری آزادی اور مکالمہ کی فضا قائم رکھی جائے تاکہ مختلف آراء کا احترام ہو اور صحتمند مباحثے سے سچائی سامنے آئے۔ کسی بھی تبدیلی کی کامیابی کے لیے غلط فہمیوں کا ازالہ لازم ہے؛ کھلے مکالمے، مؤثر نشر و اشاعت اور علمی مباحثے سے لوگوں کی شک و شبہات دور کیے جائیں۔ اس میں سننے اور قائل کرنے کی مہارت پر زور دیا جائے، کبڈی و تنقید سے دور رہ کر دلیل اور ثبوت کے ذریعے قائل کرنا ترجیح دی جائے۔
سائنس، ٹیکنالوجی اور جدید انتظامی طریقوں کو اپنانے سے اصلاحی عمل تیزی سے اثر انداز ہوتا ہے؛ ڈیجیٹل تعلیم، موبائل سروسز کے ذریعے قضائی شفافیت، آن لائن ٹرانسپیرنسی پورٹلز اور ڈیٹا بیس عوامی شمولیت کو آسان بناتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جدیدیت مذہب سے علیحدہ ہو، بلکہ جدید آلات کو شریعت کے اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے بروئے کار لایا جائے تاکہ عملی نتائج بھی لوگوں کے سامنے آئیں۔
عوامی خدمت اور اخلاقی نمونہ سازی ہمیشہ عملی آمادگی کو مضبوط کرتی ہے؛ علماء، فقہا اور قائدین کو اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں وہ رویے دکھانے چاہئیں جو وہ دوسروں سے توقع رکھتے ہیں۔ عدل، سادگی، راستبازی اور قربانی کے مظاہرے لوگوں کے دل جیتتے ہیں اور اجتماعی پیغام کو معتبر بناتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ محاسبہ اور شفافیت کے معیار طے کیے جائیں تاکہ غلطیوں کی روک تھام ہو اور اعتماد قائم رہے۔
صبر، حکمت اور وقت کی ضرورت کو بار بار یاد رکھنا چاہیے؛ تبدیلیاں عموماً تدریجی ہوتی ہیں اور ان میں شکست و رجوع کا امکان رہتا ہے۔ اس لیے طویل المدت منصوبہ بندی، مرحلہ وار اہداف، اور ہر کامیابی کا اندازہ لگانے والے میٹرکس بنائے جائیں تاکہ عمل میں معمولی مگر مستحکم پیش رفت ممکن ہو۔ سب سے آخر میں، ہر قدم میں محبتِ الٰہی اور اصلاحِ نفس کو مرکز میں رکھا جائے کیونکہ حقیقی آمادگی صرف بیرونی اصلاحات سے نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی اور ایمان کی قوت سے جنم لیتی ہے۔
