تحریر: تصور حسین
ایک طالب علم کی حکومتِ پاکستان سے اپیل
دنیا آج ایک نئے انقلاب سے گزر رہی ہے یہ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کا انقلاب ہے۔ آج کے زمانے میں ترقی صرف انہی قوموں کو نصیب ہو رہی ہے جو علم کے ساتھ ٹیکنالوجی کو بھی سمجھتی ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کو اسکول کی ابتدائی جماعتوں سے ہی مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور پروگرامنگ کی تعلیم دی جا رہی ہے تاکہ وہ مستقبل کے تقاضوں کے مطابق خود کو تیار کر سکیں۔
مگر افسوس کہ ہمارے ملک پاکستان میں آج بھی کمپیوٹر کی تعلیم پرانے زمانے میں اٹکی ہوئی ہے۔ اب بھی کتابوں میں صرف ونڈو کھولنے اور بند کرنے جیسے اسباق شامل ہیں وہ بھی ایسی ونڈو جو دنیا میں کب کی بند ہو چکی ہے۔ ہمارے نصاب کو وقت کے تقاضوں کے مطابق جدید بنانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
اگر ہماری قوم، خصوصاً نوجوان نسل کو، مصنوعی ذہانت کے بارے میں صحیح شعور نہ دیا گیا تو اس کے غلط استعمال کے خطرات بڑھ جائیں گے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ بعض لوگ AI کو منفی اور غیر اخلاقی کاموں کے لیے استعمال کر رہے ہیں جیسے کسی کی تصویر کو بگاڑ کر معیوب انداز میں بدل دینا، جعلی ویڈیوز بنانا، یا جھوٹی معلومات پھیلانا۔ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں AI کے درست استعمال کی تربیت شامل نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ حکومتِ پاکستان سے ہماری مؤدبانہ درخواست ہے کہ:
1. قومی نصاب میں مصنوعی ذہانت (AI) کو بطور مستقل مضمون شامل کیا جائے۔
2. موجودہ کمپیوٹر نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔
3. اسکولوں اور کالجوں میں AI لیبارٹریز قائم کی جائیں۔
4. اساتذہ کو جدید تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ طلبہ کو اس نئے علم سے روشناس کرا سکیں۔
5. AI کے اخلاقی استعمال کے اصول نصاب کا لازمی حصہ بنائے جائیں تاکہ طلبہ جان سکیں کہ ٹیکنالوجی کا مقصد بگاڑ نہیں، اصلاح ہے۔
اگر آج ہم نے یہ قدم نہ اٹھایا تو آنے والا وقت ہمیں پچھتاوے میں مبتلا کر دے گا۔ لیکن اگر آج ہی سے ہم نے تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کیا، تو یہی نوجوان پاکستان کو ترقی یافتہ اقوام کی صف میں شامل کر سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کو روکنا ممکن نہیں،مگر اسے درست سمت دینا ہمارے نصاب کی ذمہ داری ہے۔
میری درخواست ہے کہ میری آواز بنیں
اس پیغام کو اتنا شیئر کریں کہ یہ بات حکومتِ پاکستان تک پہنچ سکے۔
اپنا حق ادا کریں، اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے آواز اٹھائیں۔
ادنیٰ سا طالب علم: تصور حسین
