لاحول ولاقوۃ الاباللہ
سید جہانزیب عابدی
ابراہیم اکارڈ کی چمک دمک، اس کے نعروں کی دلکشی، اور اس کے نام میں لپٹی ہوئی ’’ابراہیمی‘‘ نسبت درحقیقت ایک بڑی فریب کاری ہے جس کے پیچھے عالمی صہیونیت کا نہایت منظم، گہرا اور دور رس ایجنڈا پوشیدہ ہے۔ ظاہری طور پر اسے مشرقِ وسطیٰ میں امن، اقتصادی ترقی، بین المذاہب ہم آہنگی اور علاقائی استحکام کے معاہدے کے طور پر پیش کیا گیا، مگر درحقیقت یہ اُس عالمی منصوبے کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد اسرائیل کے وجود کو مذہبی، اخلاقی اور سیاسی جواز دینا اور دنیا کے مظلوم و مستضعف طبقات کو مزید غلامی کے شکنجے میں جکڑ دینا ہے۔
یہ اکارڈ اُس بیانیے کی توسیع ہے جس کے ذریعے صہیونی طاقتیں چاہتی ہیں کہ فلسطین کے مسئلے کو ’’معاشی ترقی‘‘، ’’سرمایہ کاری‘‘ اور ’’تجارتی مفاد‘‘ کی زبان میں دفن کردیا جائے۔ عرب ممالک کو معاشی لالچ دے کر، سرمایہ کاری کے وعدوں سے بہلا کر، اور امریکی پشت پناہی کے بل پر اس معاہدے میں شامل کیا گیا تاکہ اسرائیل کو خطے میں بطور مرکزی طاقت قبول کرلیا جائے۔ یہ دراصل “سیاسی ابراہیمیت” کا ایک مصنوعی تصور ہے جو اس امر کو چھپانے کے لیے تراشا گیا کہ اصل ہدف امتِ مسلمہ کے قلب میں پیوست خنجر، یعنی اسرائیل، کو دائمی قانونی حیثیت فراہم کی جائے۔
عالمی صہیونیت کا بنیادی ہدف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ دنیا کے وسائل، تعلیم، معیشت، ذرائع ابلاغ اور ثقافت پر اپنی گرفت مضبوط کرے۔ ابراہیم اکارڈ اسی ہدف کے لیے ایک نرم ہتھیار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف اسرائیل کو عرب دنیا کے ساتھ تجارتی اور ٹیکنالوجیکل پارٹنرشپ کے بہانے داخل کیا جارہا ہے بلکہ علمی اور تعلیمی میدانوں میں بھی وہ اثر و نفوذ بڑھایا جارہا ہے جو رفتہ رفتہ اسلامی فکر، وحدتِ امت اور مزاحمت کے نظریے کو ختم کردے گا۔ یہ معاہدے دراصل ’’نئے مشرقِ وسطیٰ‘‘ کے خواب کی عملی صورت ہیں، جہاں اسرائیل علمی و اقتصادی مرکز ہوگا اور باقی مسلم ممالک محض اس کے مارکیٹ کے خریدار، مزدور یا تابع ریاستیں۔
معاشی میدان میں اس منصوبے کا مقصد عالمی مالیاتی نظام کے ذریعے کمزور ممالک کو قرضوں، درآمدی انحصار اور سرمایہ دارانہ معاہدوں میں جکڑنا ہے، تاکہ ان کی داخلی خودمختاری ہمیشہ مغرب اور اسرائیل کے رحم و کرم پر رہے۔ ’’پرامن تجارت‘‘ کے نام پر اسرائیلی کمپنیاں توانائی، پانی، زراعت، ڈیجیٹل سیکورٹی، حتیٰ کہ تعلیم جیسے حساس شعبوں میں داخل کی جارہی ہیں۔ نتیجتاً ان ممالک کے تعلیمی نصاب، فکری سمت اور نوجوانوں کے ذہن رفتہ رفتہ ایک ایسے عالمی بیانیے کے تابع ہوجائیں گے جو مظلوموں کی مزاحمت کو ’’انتہاپسندی‘‘ اور اسرائیل کے وجود کو ’’امن‘‘ قرار دیتا ہے۔
سیاسی اعتبار سے یہ اکارڈ مسلم ممالک کو ’’مشترکہ خطرات‘‘ یعنی ایران، مزاحمتی تحریکوں اور اسلامی بیداری کے مراکز کے خلاف متحد کرنے کا حربہ ہے۔ اس کے پس پردہ ایک عالمی اتحاد کی تشکیل ہے جس کا مقصد طاقت کے توازن کو مکمل طور پر اسرائیل کے حق میں موڑنا اور ملتِ اسلامیہ کے مرکزِ مزاحمت کو کمزور کرنا ہے۔ اس اتحاد کے ذریعے وہ چاہتے ہیں کہ فلسطینی تحریکیں تنہا رہ جائیں، اور اسرائیل کے خلاف ہر آواز عالمی امن کے خلاف تصور کی جائے۔
ابراہیم اکارڈ کی تعلیمی جہت بھی نہایت خطرناک ہے۔ اس کے تحت ’’ابراہیمی اقدار‘‘ کے نام پر نصاب میں ایسی اصطلاحات داخل کی جارہی ہیں جن کے ذریعے نئی نسل کے ذہنوں سے استعمار اور صہیونیت کے خلاف شعور کو ختم کیا جائے۔ بین المذاہب رواداری کے عنوان سے ایسا ماحول تیار کیا جارہا ہے جس میں حق و باطل کی سرحدیں مٹ جائیں، ظلم کے خلاف قیام ’’نفرت انگیزی‘‘ بن جائے، اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات ’’مہذب انسانیت‘‘ کی علامت قرار پائیں۔
یوں ابراہیم اکارڈ دراصل مستضعفین کے خلاف ایک جدید صہیونی منصوبہ ہے۔ یہ اس عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا اگلا مرحلہ ہے جو پہلے ہی افریقہ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے غریب ممالک کو معاشی غلامی میں مبتلا کرچکا ہے۔ اب یہ اکارڈ اس غلامی کو ’’امن‘‘ اور ’’ترقی‘‘ کے نام پر مستقل اور اخلاقی رنگ دینے کی کوشش ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے کمزور اور پسے ہوئے طبقات مزید حاشیے پر چلے جائیں گے، جبکہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے لیے زمین، علم، دولت اور اقتدار کی راہیں مزید کھل جائیں گی۔
یہ وہ نیا عالمی نظام ہے جو خدا کے مستضعف بندوں کو نہیں بلکہ عالمی استکبار کے منصوبہ سازوں کو طاقت دینا چاہتا ہے۔ مگر تاریخ کی گواہی ہے کہ جب بھی فرعون، نمرود یا بنی اسرائیل نے اپنے غرور میں خدائی نظام کے مقابلے پر مصنوعی نظام کھڑا کیا، تو آخرکار خدا نے اسی زمین سے وہ طاقت اٹھائی جو مستکبرین کے محلوں کو زمین بوس کر دیتی ہے۔ ابراہیم اکارڈ بھی اسی باطل کا ایک نیا چہرہ ہے، اور اہلِ ایمان پر لازم ہے کہ وہ اس کے فریب کو پہچانیں، اپنی فکری و معاشی خودمختاری کو محفوظ کریں، اور اس نئے استعماری جال کے مقابلے میں قرآن و عترت کے نظامِ عدلِ الٰہی کی بنیاد پر اپنی صفیں منظم کریں۔
