تاریخ اسلام میں حضرت فاطمہ معصومہ سلاماللہعلیہا کی ذات ایک روشن چراغ ہے جن کی ہجرت اور رحلت نے نہ صرف قم کو نئی پہچان دی بلکہ اسے صدیوں تک شیعہ معارف کا سب سے بڑا مرکز بنا دیا۔
ولیعہدی امام رضا علیہ السلام اور حضرت معصومہ (س) کا سفر
جب امام رضا علیہ السلام مأمون عباسی کے دباؤ میں ولایعہدی قبول کر کے خراسان کی طرف روانہ ہوئے تو آپ کی بہن حضرت فاطمہ معصومہ سلاماللہعلیہا بھائی کی جدائی برداشت نہ کر سکیں۔ سنہ ۲۰۱ ہجری میں آپ اپنے بھائیوں اور رشتہ داروں کے ہمراہ مدینہ سے خراسان کی طرف روانہ ہوئیں۔ راستے میں ساوہ کے قریب عباسی فوج نے قافلے پر حملہ کیا جس میں کئی عزیز شہید ہوئے اور حضرت شدید بیماری یا زہر کے باعث مزید سفر نہ کر سکیں۔
اسی دوران قم کے بزرگ موسی بن خزرج نے آپ کو ساوہ سے قم منتقل کیا۔ آپ نے “بیت النور” میں ۱۷ دن عبادت و مناجات میں گزارے اور پھر اسی شہر میں رحلت فرمائی۔ آپ کا مزار آج پوری شیعہ دنیا کے لیے مرکز علم و معرفت ہے۔
زیارت کی اہمیت
حوزہ علمیہ قم کے استاد حجت الاسلام سید حسین مؤمنی کے مطابق زیارت حضرت معصومہ (س) کی خاص اہمیت ائمہ اطہار علیہم السلام نے بیان کی ہے۔ امام رضا علیہ السلام نے خود زیارت نامہ تعلیم دیا اور ارشاد فرمایا کہ جو شخص حضرت معصومہ (س) کی زیارت کرے گا، اس کے لیے جنت واجب ہے۔
اہلبیت علیہم السلام کی اولاد میں صرف تین ہستیوں کے لیے خاص زیارت نامے وارد ہوئے ہیں: حضرت عباس علیہ السلام، حضرت علی اکبر علیہ السلام، اور حضرت فاطمہ معصومہ سلاماللہعلیہا۔ یہ آپ کے بلند مقام کی دلیل ہے۔
قم: حرم اہلبیت (ع)
ائمہ اطہار (ع) نے قم اور اس کے لوگوں کی بارہا تعریف فرمائی ہے۔ امام صادق (ع) اور امام رضا (ع) نے اسے “حرم اہلبیت” قرار دیا۔ تاریخی طور پر قم کے لوگوں نے حضرت معصومہ (س) کا غیر معمولی احترام کیا اور ان کی آمد کو عزت و افتخار کا سبب سمجھا۔
زیارت اور شفاعت
روایات کے مطابق حضرت معصومہ (س) کی زیارت کا ثواب ایسا ہے جیسے تمام ائمہ (ع) کی زیارت کی گئی ہو۔ روزِ قیامت آپ شفاعت فرمائیں گی اور مؤمنین کو جنت میں داخلہ نصیب ہوگا۔ آیت اللہ مرعشی نجفی جیسی بزرگ ہستیاں روزانہ صبح حرم کی زیارت کرتیں اور انہوں نے وصیت کی تھی کہ ان کا جنازہ ضریحِ حضرت معصومہ (س) کے نزدیک رکھا جائے۔
علمی و معنوی برکات
تاریخ گواہ ہے کہ علماء و مفکرین جیسے ملا صدرا اور علامہ طباطبائی نے اپنی فکری مشکلات کے وقت حضرت معصومہ (س) کے روضے سے توسل کیا۔ کہا جاتا ہے کہ خدا نے جو شرافت قبر حضرت زہرا (س) کے لیے رکھی تھی مگر وہ مزار پوشیدہ رہا، اس عظمت کو حضرت معصومہ (س) کی قبر کے ذریعے ظاہر فرمایا۔
نتیجہ
حضرت فاطمہ معصومہ سلاماللہعلیہا کی ہجرت اور رحلت نے قم کو اہل ایمان کے لیے پناہ گاہ اور علم و معنویت کا روشن چراغ بنا دیا۔ آج بھی یہ بارگاہ نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا کے شیعیانِ علی (ع) کے دلوں کا مرکز ہے اور قیامت کے دن ان کی شفاعت مؤمنین کے لیے نجات کا سبب ہوگی۔
