43

برصغیر میں مسلمانوں کے فکری منہاج اور انتظامی صلاحیت

  • نیوز کوڈ : 2393
  • 17 September 2025 - 15:58
برصغیر میں مسلمانوں کے فکری منہاج اور انتظامی صلاحیت

برصغیر میں مسلمانوں کے فکری منہاج اور انتظامی صلاحیت

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

 تحریر : سید جہانزیب عابدی

متحدہ ہندوستان کے دور اور اس کے بعد جدیدیت اور قدامت پسندی کے دو بڑے رجحانات مسلمانوں میں واضح طور پر سامنے آئے۔ ایک طرف وہ طبقہ تھا جو سر سید احمد خان کی طرح مغربی علوم، جدید سائنسی فکر اور انگریزوں کے ساتھ مصالحت کو مسلمانوں کے بقا اور ترقی کا ذریعہ سمجھتا تھا۔ ان کے نزدیک 1857ء کی ناکامی نے یہ سبق دیا تھا کہ انگریز طاقت سے لڑنا ناممکن ہے، لہٰذا عملی دانش یہی ہے کہ ان کے ساتھ تعاون کیا جائے اور ان کے تعلیمی و انتظامی ڈھانچوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اس رجحان کی نمائندگی سر سید احمد خان، ان کے بعد سید محمود، چراغ علی، شبلی نعمانی اور بعد میں علامہ اقبال جیسے مفکرین نے مختلف درجوں میں کی۔ اگرچہ اقبال انگریز پرستی سے کوسوں دور تھے لیکن انہوں نے بھی مسلمانوں کو مغرب کی سائنسی اور فکری ترقی کو اپنانے کی تلقین کی۔

اس کے برعکس قدامت پسند علماء کا بڑا گروہ دارالعلوم دیوبند کے قیام کے ساتھ ابھرا۔ مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا قاسم نانوتوی اور بعد میں مولانا محمود الحسن اور مولانا حسین احمد مدنی نے یہ موقف اختیار کیا کہ اسلام کی اصل طاقت اپنی دینی، روحانی اور اخلاقی بنیادوں پر قائم رہنے میں ہے نہ کہ مغربی فکر کو قبول کرنے میں۔ ان کا زاویۂ نظر سخت ضدِ استعمار تھا اور انہوں نے انگریز کو ایک استعماری طاقت مان کر اس کے خلاف مسلسل فکری اور عملی جدوجہد جاری رکھی۔ ریشمی رومال تحریک، جمعیت علمائے ہند کی سیاست، اور ترکِ موالات کی تحریکیں اسی موقف کی علامت ہیں۔

ان دونوں رجحانات کے درمیان ایک معتدل یا درمیانی راہ کے نمائندے بھی ملتے ہیں جنہوں نے نہ تو اندھی مغرب پرستی قبول کی اور نہ ہی مکمل جمود۔ شبلی نعمانی نے قدامت اور جدیدیت کو جوڑنے کی کوشش کی، جبکہ علی گڑھ تحریک کے بعض بعد کے رہنماؤں نے یہ سمجھا کہ مسلمانوں کے لیے جدید علوم ضروری ہیں لیکن دینی تشخص کو قربان کیے بغیر۔ یہی سوچ بعض شیعہ علماء اور دانشوروں میں بھی نظر آئی جیسے علامہ سید علی نقوی اور دیگر معاصرین جنہوں نے جدید علوم کو اسلامی روایت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔

جہاں تک ضد استعمار یا حمایت استعمار کا تعلق ہے، تو سر سید احمد خان اور ان کے ہم خیال طبقے کو انگریزوں کے ساتھ مصالحت پسند اور کسی حد تک حمایتی کہا جا سکتا ہے، کیونکہ وہ براہ راست تصادم کے قائل نہیں تھے۔ البتہ ان کی نیت مسلمانوں کو جدیدیت کے ذریعے مضبوط کرنے کی تھی۔ دوسری طرف دیوبند اور قدامت پسند علماء خالص ضدِ استعمار تحریک کا مرکز تھے اور انہوں نے اپنی پوری فکری اور سیاسی قوت استعمار کے مقابلے میں صرف کی۔

قیام پاکستان کے بعد بھی یہ دونوں رجحانات جاری رہے۔ پاکستان میں جدیدیت پسند طبقہ ایوب خان جیسے حکمرانوں اور بعض سیکولر دانشوروں کے ذریعے سامنے آیا، جبکہ قدامت پسند مذہبی قوتیں جمعیت علمائے اسلام، جمعیت علمائے پاکستان اور دیگر مدارس کے نیٹ ورک کے ذریعے سرگرم رہیں۔ بھارت میں بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جدیدیت کی نمائندہ رہی جبکہ دارالعلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء قدامت پسند مگر قومی سیاست میں سرگرم ادارے بن گئے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ متحدہ ہندوستان اور اس کے بعد برصغیر میں مسلمانوں کے فکری اور عملی رویے انہی دو دھاروں کے گرد گھومتے رہے، ایک طرف مغرب سے اخذ و استفادہ کے قائل جدیدیت پسند اور دوسری طرف مغرب سے سخت مزاحمت کرنے والے قدامت پسند، جبکہ ان دونوں کے درمیان ایک معتدل دھارا بھی مسلسل موجود رہا جو اسلام کی اصل روح کو محفوظ رکھتے ہوئے جدید دنیا سے رشتہ قائم کرنے کا خواہاں تھا۔

قدامت پسندی اور جدیدیت کے ان دونوں انتہاؤں کے بیچ ایک معتدل طبقہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے جو نہ تو روایت پسندی کی ایسی شدت چاہتا ہے جس میں جدید تقاضوں کو بالکل رد کردیا جائے اور نہ ہی مغرب پرستی کی اس قدر پیروی کرتا ہے کہ اپنی تہذیبی و دینی اساس کو بھلا دیا جائے۔ اس معتدل رجحان نے زیادہ تر اس بات کو سمجھا کہ اسلام کی اصل روح ابدی ہے مگر اس کی تطبیق اور اجتہاد کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ یہی سوچ ایسے علما، دانشوروں اور سماجی شخصیات میں ملتی ہے جو قرآن و سنت اور اہل بیتؑ و صحابہؓ کی تعلیمات کو بنیاد مانتے ہیں لیکن ساتھ ہی عقل، تجربہ اور زمانے کے بدلتے حالات کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔

یہ طبقہ زیادہ تر مکالمے، برداشت اور امت کے اتحاد پر زور دیتا ہے۔ ان کے نزدیک نہ مغربی علوم کو اندھا دھند قبول کرنا دانشمندی ہے اور نہ انہیں محض کفر کہہ کر رد کر دینا۔ وہ اس بات پر قائل ہیں کہ مغرب نے سائنسی و فکری میدان میں جو ترقی کی ہے اس سے استفادہ کیا جائے لیکن اخلاقی، روحانی اور دینی شناخت کو برقرار رکھا جائے۔ اسی طرح وہ مدارس اور دینی اداروں کی روایت کو اہم مانتے ہیں مگر یہ بھی سمجھتے ہیں کہ جدید تعلیمی ڈھانچے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

اہلسنت میں اس سوچ کے نمائندہ بعض ایسے علما اور مفکرین رہے ہیں جنہوں نے جدید تعلیم اور دینی روایت کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کی، جیسے شبلی نعمانی اور بعد کے کئی اصلاحی علما۔ شیعہ حلقوں میں بھی ایسے مجتہدین اور دانشور سامنے آئے ہیں جنہوں نے فقہ و اصول کو زمانے کے تقاضوں سے جوڑنے پر زور دیا لیکن مغرب کی فکری غلامی سے اجتناب کیا۔ ایران میں امام خمینیؒ کی تحریک بھی ایک حد تک اسی معتدل رویے کی مثال ہے جس نے نہ روایت کو چھوڑا اور نہ جدید سیاسی و سماجی شعور سے گریز کیا، بلکہ دونوں کو جمع کرنے کی کوشش کی۔

یہ معتدل طبقہ اگرچہ کبھی کبھی دونوں انتہاؤں کی زد میں آتا رہا ہے، یعنی روایت پسند اسے مغرب زدہ کہہ کر رد کرتے رہے اور جدیدیت پسند اسے قدامت پسند کہہ کر نظرانداز کرتے رہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کی بقا اور فکری ارتقا زیادہ تر اسی بیچ کی راہ سے ممکن ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی یہ معتدل سوچ تعلیمی اداروں، سماجی تحریکوں اور علمی مباحث میں ایک توازن پیدا کرنے کی جدوجہد کررہی ہے تاکہ نہ دینی شناخت کمزور ہو اور نہ ہی زمانے کے تقاضے نظرانداز ہوں۔

اہلسنت اور شیعہ دونوں میں ایسے نمایاں معتدل نمائندے نظر آتے ہیں جنہوں نے روایت اور جدیدیت کے بیچ ایک متوازن راستہ اپنانے کی کوشش کی۔

اہلسنت میں شبلی نعمانی ایک نمایاں مثال ہیں جنہوں نے مدرسہ اور کالج دونوں کی روایت کو ملانے کی کوشش کی، ان کی سیرت النعمان اور المامون جیسی کتابیں دینی و علمی روایت اور جدید تاریخی تحقیق دونوں کو یکجا کرنے کی علامت ہیں۔ مولانا حسین احمد مدنی نے دیوبندی روایت سے جڑے رہنے کے باوجود سیاسی میدان میں ایک عملی و اعتدال پسند نقطۂ نظر اختیار کیا اور ہندو مسلم اتحاد کی وکالت کی۔ علامہ اقبال نے بھی مغربی فلسفے اور اسلامی فکر کے درمیان ایک پُل بنانے کی جدوجہد کی، انہوں نے مغرب کے سائنسی و فکری سرمایے کو تسلیم کیا لیکن مسلمانوں کو اپنی روحانی و اخلاقی بنیادوں پر قائم رہنے کی نصیحت کی۔

شیعہ حلقوں میں بھی ایسے معتدل علما اور مفکرین سامنے آئے ہیں۔ ہندوستان میں سید علی نقوی المعروف نقن صاحب نے جدید تعلیمی اداروں سے وابستہ رہتے ہوئے شیعہ فکر کو علمی و سائنسی میدان سے جوڑنے کی کوشش کی۔ ایران میں امام خمینیؒ کی تحریک ایک نمایاں نمونہ ہے جس نے اجتہاد کو عصری سیاسی و سماجی ضرورتوں کے مطابق وسعت دی، مگر مغرب پرستی سے اجتناب کیا۔ اسی سلسلے میں شہید مرتضیٰ مطہری نے اپنی تصانیف کے ذریعے اسلامی روایت کو فلسفہ، علم کلام، سماجیات اور جدید سوالات سے جوڑنے کا اعتدال پسند راستہ دکھایا۔ عراق میں آیت اللہ سید محمد باقر الصدر بھی اسی طرز فکر کے حامل تھے جنہوں نے اقتصادنا اور فلسفتنا جیسی کتابوں میں مغربی نظام فکر و معیشت کا تجزیہ کرتے ہوئے اسلامی متبادل پیش کیا۔

یوں کہا جاسکتا ہے کہ یہ معتدل طبقہ دونوں مکاتب میں ہمیشہ ایک علمی، فکری اور سماجی پل کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ وہ روایت کو محض ماضی پرستی نہیں سمجھتے اور جدیدیت کو اندھی تقلید نہیں مانتے، بلکہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ اسلام کی ابدی روح اور انسانی عقل کی ترقی یافتہ صورتیں ساتھ چل سکیں تاکہ امت اپنے تشخص کو بھی محفوظ رکھے اور زمانے کی دوڑ میں پیچھے بھی نہ رہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کا فکری منہاج ہمیشہ دو متوازی دھاروں کے درمیان حرکت کرتا رہا ہے، ایک طرف جدیدیت پسند طبقہ جو مغرب سے استفادہ کو ترقی کی شرط سمجھتا تھا اور دوسری طرف قدامت پسند علما جو مغرب کی فکری و تہذیبی یلغار کے مقابلے میں اسلامی روایت کی حفاظت کو اصل فریضہ مانتے تھے۔ ان دونوں انتہاؤں کے بیچ ایک معتدل اور مصلحانہ دھارا بھی موجود رہا جس نے اسلام کی ابدی روح کو زمانے کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔ یہی معتدل رجحان درحقیقت امت کے فکری و تہذیبی بقا کا ضامن ہے کیونکہ اسی کے ذریعے نہ صرف ماضی کی دینی اساس محفوظ رہتی ہے بلکہ حال اور مستقبل کی علمی و عملی ضرورتیں بھی پوری ہوتی ہیں۔ یہ توازن آج بھی برصغیر اور عالم اسلام کے لیے سب سے زیادہ کارآمد راستہ ہے۔

بالائی مطالب کی روشنی میں اگر ان تینوں گروہوں کا جائزہ لیا جائے کہ ایک ریاست کی انتظامیہ کون بہتر انداز میں چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہر گروہ کی اپنی طاقت اور کمزوری ہے، لیکن جب ریاست کے کلیدی اداروں اور عوام دوست اقدامات کی بات آتی ہے تو معاملہ محض فکری رجحان کا نہیں رہتا بلکہ انتظامی حکمت عملی، عملی تجربہ اور اجتماعی مصلحتوں کو سمجھنے کی صلاحیت اہم ہوجاتی ہے۔ جدیدیت پسند طبقہ بلاشبہ مغربی ماڈلز اور ادارہ جاتی نظم و نسق سے فائدہ اٹھانے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے، وہ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدید قانون کی روشنی میں ریاستی ڈھانچے کو استوار کرسکتا ہے۔ ان کے ہاں ادارہ جاتی تعمیر کی سوچ زیادہ منظم ہے لیکن ان کے ہاں ایک بنیادی کمزوری یہ رہی ہے کہ وہ اکثر عوامی جذبات اور مذہبی وابستگیوں کو نظرانداز کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے اقدامات عوامی سطح پر مزاحمت اور بےاعتمادی پیدا کرتے ہیں۔

قدامت پسند علما کا طبقہ عوامی جذبات کو سمجھنے اور ان سے جڑنے کی بڑی طاقت رکھتا ہے، وہ معاشرتی سطح پر عوام کو متحرک کرنے اور ان کے مذہبی و اخلاقی شعور کو جگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے ہاں عوام دوست رویے زیادہ دیکھنے کو ملتے ہیں کیونکہ وہ اپنی قوت کا سرچشمہ عوام کے اعتماد اور دینی وابستگیوں سے لیتے ہیں۔ لیکن ان کی کمزوری یہ ہے کہ جدید ریاست کے پیچیدہ ادارہ جاتی نظام اور بین الاقوامی تعلقات کو چلانے کے لیے جو فنی اور تکنیکی مہارت چاہیے، وہ ان کے ہاں عمومی طور پر کم پائی جاتی ہے۔ اس لیے وہ اگرچہ عوامی سطح پر اثر انگیزی رکھتے ہیں لیکن ریاستی انتظامی مشینری میں ان کی کارکردگی اکثر محدود رہتی ہے۔

ان دونوں انتہاؤں کے درمیان معتدل طبقہ زیادہ متوازن اور موزوں دکھائی دیتا ہے۔ یہ گروہ جدید علوم اور دینی روایت دونوں سے استفادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس لیے یہ نہ تو ادارہ جاتی ڈھانچوں سے نابلد ہے اور نہ ہی عوامی جذبات اور مذہبی تشخص سے غافل۔ ریاست کے کلیدی ادارے جیسے عدلیہ، انتظامیہ، تعلیم، خارجہ پالیسی اور معیشت میں معتدل سوچ رکھنے والا طبقہ زیادہ کامیاب ہوسکتا ہے کیونکہ وہ اصولی بنیادوں کو بھی سامنے رکھتا ہے اور عملی لچک کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ ان کے ہاں عوام دوست اقدامات کے امکانات زیادہ ہیں کیونکہ وہ عوام کو مذہبی اور اخلاقی سطح پر مطمئن بھی کرسکتے ہیں اور عملی سطح پر سہولتیں بھی فراہم کرسکتے ہیں۔

یوں کہا جاسکتا ہے کہ جدیدیت پسند اگرچہ تکنیکی صلاحیت میں آگے ہیں اور قدامت پسند عوامی ربط میں طاقتور ہیں، لیکن ان دونوں کی کمزوریوں کو متوازن کرنے اور ریاست کے تمام اہم اداروں کو ایک ہم آہنگ طریقے سے چلانے کی صلاحیت معتدل طبقے میں زیادہ ہے۔ یہی وہ گروہ ہے جو ایک طرف جدید ریاستی تقاضوں کو سمجھ سکتا ہے اور دوسری طرف عوام کے مذہبی و تہذیبی جذبات کو نظرانداز نہیں کرتا۔ اس لیے ریاست کی بہتر انتظامی صلاحیت، کلیدی اداروں کی کارکردگی اور عوام دوست پالیسیوں کے اعتبار سے معتدل رجحان ہی سب سے زیادہ موزوں اور دیرپا نتائج دینے والا دکھائی دیتا ہے۔

تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو برصغیر میں تینوں گروہوں کی کامیابیاں اور ناکامیاں ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ کس کے پاس ریاستی انتظام، کلیدی اداروں میں خدمات اور عوام دوست اقدامات کے زیادہ امکانات رہے ہیں۔

سب سے پہلے جدیدیت پسند طبقے کی مثال لیں۔ سر سید احمد خان اور ان کے ہم خیال لوگوں نے براہِ راست ریاست نہیں چلائی لیکن انہوں نے علی گڑھ تحریک کے ذریعے ایسے افراد تیار کیے جو برطانوی ہندوستان کے انتظامی ڈھانچے میں خدمات سرانجام دے سکے۔ ان کے تربیت یافتہ بیوروکریٹس، وکلاء اور ماہرین بعد میں پاکستان اور ہندوستان دونوں میں کلیدی اداروں میں آئے۔ پاکستان کے اوائل میں ایوب خان جیسے جدیدیت پسند حکمران نے ریاستی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی کوشش کی اور ترقیاتی منصوبے شروع کیے لیکن چونکہ عوامی سطح پر مذہبی جذبات سے فاصلہ تھا، ان اصلاحات کو دیرپا قبولیت نہ ملی۔ اس سے یہ سبق ملا کہ جدیدیت پسند طبقہ ادارہ جاتی اور تکنیکی مہارت رکھتا ہے مگر عوامی سطح پر گرفت کمزور رہتی ہے۔

قدامت پسند طبقے کی مثال دیوبند اور جمعیت علمائے ہند سے لی جا سکتی ہے۔ یہ طبقہ عوامی سطح پر سب سے زیادہ جڑت رکھنے والا تھا۔ ریشمی رومال تحریک، ترکِ موالات اور آزادی کی جدوجہد میں عوام کو منظم کرنے میں ان کا کردار نمایاں ہے۔ مگر جب آزادی کے بعد ریاستی ڈھانچے کے پیچیدہ مسائل آئے تو ان کی صلاحیتیں وہاں محدود ثابت ہوئیں۔ پاکستان میں بھی مذہبی جماعتیں عوامی دائرے میں اثرانداز رہیں مگر ریاست کے کلیدی اداروں کو چلانے میں مؤثر کردار ادا نہ کر سکیں، کیونکہ یہ زیادہ تر احتجاجی اور عوامی تحریکوں تک محدود رہ گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عوام دوست اقدامات کے حامی تو ہیں لیکن جدید ریاستی مشینری کے ساتھ ہم آہنگی میں مشکلات رکھتے ہیں۔

اب معتدل طبقے کو دیکھیں تو اس کی کامیاب مثال علامہ شبلی نعمانی کی فکری روایت اور بعد میں علامہ اقبال کے افکار میں نظر آتی ہے۔ شبلی نے قدامت اور جدیدیت کو جوڑنے کی کوشش کی، جبکہ اقبال نے مغرب کے سائنسی و فکری سرمایے کو تسلیم کیا لیکن مسلمانوں کی روحانی اساس پر زور دیا۔ پاکستان کے قیام کے بعد لیاقت علی خان نے اگرچہ مختصر عرصہ حکومت کی مگر ان کی پالیسیوں میں یہ اعتدال نمایاں تھا، وہ جدید ریاستی اداروں کو چلانا چاہتے تھے مگر اسلامی شناخت کو بھی نظرانداز نہیں کرتے تھے۔ ایران میں امام خمینیؒ کی قیادت بھی ایک مثال ہے کہ کس طرح ایک معتدل مگر اصولی موقف نے نہ صرف عوام کو منظم کیا بلکہ جدید ریاستی ادارے بھی اسلامی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ کیے گئے۔ شہید مطہری اور باقر الصدر جیسے مفکرین نے یہ راستہ فکری سطح پر واضح کیا کہ نہ روایت کو رد کیا جائے اور نہ جدیدیت کو اندھا دھند اپنایا جائے بلکہ دونوں کا امتزاج کیا جائے۔

یہ تاریخی مثالیں بتاتی ہیں کہ جدیدیت پسند ریاستی اداروں میں تکنیکی مہارت تو پیدا کر سکتے ہیں مگر عوامی ربط میں کمزور رہتے ہیں، قدامت پسند عوام کو متحرک کر سکتے ہیں مگر جدید اداروں کے نظم میں پیچھے رہ جاتے ہیں، اور معتدل طبقہ دونوں کی کمزوریوں کو پورا کر کے نسبتاً زیادہ دیرپا اور متوازن نظام پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کے کلیدی اداروں کی کارکردگی اور عوام دوست اقدامات کے اعتبار سے سب سے زیادہ امکانات معتدل رجحان کے حق میں نظر آتے ہیں۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2393

ٹیگز

تبصرے