98

خدا سزا و عذاب کیوں دیتا ہے؟!

  • نیوز کوڈ : 2372
  • 10 September 2025 - 18:07
خدا سزا و عذاب کیوں دیتا ہے؟!

خدا سزا و عذاب کیوں دیتا ہے؟!

 بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

 تحریر : سید جہانزیب عابدی

انسان کی تخلیق اور اس کا زمین پر نزول دراصل ایک عظیم ربانی حکمت کا حصہ ہے۔ قرآن مجید نے واضح طور پر بیان کیا ہے کہ آدمؑ اور ان کی ذریت کو جنت سے زمین پر بھیجا گیا تاکہ یہاں وہ امتحان و آزمائش سے گزریں، اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور اپنی فطرتِ نوری اور عقلِ سلیم کی روشنی میں حق و باطل کو پہچانیں۔ یہ دنیا کسی اندھی طاقت کے حوالے نہیں کی گئی بلکہ خدا نے اس کے اندر ایسے قوانین اور سنتیں جاری کر رکھی ہیں جو انسان کو لازماً اپنی اصلی منزل یعنی جنت کی طرف پلٹنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان قوانین میں سب سے بنیادی سنت “مکافاتِ عمل” ہے۔ اس سنت کا تعلق براہ راست انسان کے اعمال سے ہے۔ جو نیک اعمال اور خدا کی اطاعت میں بسر ہونے والی زندگی گزارے گا وہ اسی سنت کے تحت سکون، معرفت اور قربِ الٰہی کے مراتب پائے گا، اور جو غفلت اور گناہ میں ڈوبا رہے گا وہ بھی اسی سنت کے تحت مشکلات، محرومیت اور باطنی تنگی میں مبتلا ہوگا تاکہ بیدار ہو اور اپنی اصل راہ کی طرف لوٹے۔

یہی اصل فلسفہ ہے سزا و عقاب کا۔ خدا کسی کو محض اذیت دینے کے لیے سزا نہیں دیتا بلکہ اس کی رحمت کا تقاضا ہے کہ جو انسان اپنی ہٹ دھرمی یا خواہشاتِ نفسانی کے تحت گمراہ ہو رہا ہے اسے مشکلات، حادثات، محرومیوں اور باطنی اذیت کے ذریعے جھنجھوڑ کر واپس اپنی فطری منزل کی طرف موڑ دے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے بارہا تاکید کی کہ “اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ بندے خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں”۔ ظلم کا نتیجہ خود انسان پر پلٹتا ہے اور اس کے ذریعے وہ آہستہ آہستہ اپنی اصلاح کی طرف بڑھایا جاتا ہے۔ یوں سمجھنا چاہیے کہ دنیا کی ہر پریشانی، ہر دکھ، ہر محرومی، اور ہر آزمائش دراصل ایک مخفی نصیحت ہے، ایک پکار ہے کہ انسان اپنی غفلت سے جاگے اور خدا کی طرف پلٹے۔

خدا نے اپنی ربوبیت میں عدل اور رحمت کو یکجا کر دیا ہے۔ اگر وہ محض عدل کرتا تو گناہگار انسانوں کے لیے نجات کا کوئی راستہ نہ ہوتا، اور اگر وہ محض رحمت دکھاتا تو انسان کبھی سنجیدہ نہ ہوتا اور زندگی کا مقصد فوت ہو جاتا۔ لہٰذا سزا و عقاب کو تربیت کا ایک وسیلہ بنا دیا گیا تاکہ رحمت اور عدل دونوں ساتھ ساتھ جلوہ گر ہوں۔ سزا کا مقصد نابودی نہیں بلکہ تطہیر ہے، اور عقاب کا فلسفہ ہلاکت نہیں بلکہ ہدایت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مومنین جب مشکلات اور مصائب میں مبتلا ہوتے ہیں تو وہ انہیں محض دکھ نہیں سمجھتے بلکہ انہیں اپنی تربیت اور ارتقاء کا ذریعہ جانتے ہیں۔ اور گناہگار جب تکلیف میں گرفتار ہوتا ہے تو وہ بھی کسی نہ کسی موڑ پر اپنی زندگی کا محاسبہ کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔

یوں پوری زمینی زندگی کو ایک تعلیمی و تربیتی مدرسہ قرار دیا جا سکتا ہے جس میں استاد خود خدا ہے، نصاب خدا کی کتاب اور انبیاء و اولیاء کی تعلیمات ہیں، اور میدانِ عمل یہی دنیا ہے۔ ہر امتحان اور ہر مشکل ایک نیا سبق ہے جو انسان کو اس کی منزلِ حقیقی یعنی جنت کی طرف دھکیل رہا ہے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو جہنم کا وجود بھی خدا کی رحمت کے منافی نہیں بلکہ عین اس کی حکمت اور عدل کا حصہ ہے، کیونکہ جہنم ان لوگوں کے لیے ہے جو ہر نصیحت، ہر آزمائش، ہر مکافات اور ہر سزا کے باوجود اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے اور اپنے نفس کو زنجیروں میں جکڑنے کو ترجیح دی۔

اس طرح انسانی زندگی کی تمام تر جہتیں، چاہے وہ کامیابیاں ہوں یا ناکامیاں، نعمتیں ہوں یا مصیبتیں، خوشیاں ہوں یا غم، سب ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں: انسان کو واپس اس جنت کی طرف پلٹنا ہے جہاں سے وہ آیا تھا۔ خدا نے اپنی رحمت اور ربوبیت سے یہ نظام بنایا ہے کہ کوئی انسان جہنم کو اپنی لازمی منزل نہ سمجھے بلکہ ہر حال میں کسی نہ کسی شکل میں اسے جنت کی طرف دھکیلا جائے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کوئی بامعرفت اور باعمل ہو کر اپنی مرضی اور شعور کے ساتھ جنت کی طرف سبقت لے جاتا ہے، اور کوئی دوسرا سختیوں اور آزمائشوں کے کوڑوں سے سنبھل کر اس طرف مائل ہوتا ہے۔ یہی خدا کی مہربانی ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو بھٹکنے نہیں دیتا بلکہ ہر صورت انہیں ان کے اصل مقام کی طرف واپس لے جانے کے اسباب فراہم کرتا ہے۔

انسان کے زمین پر آنے کی اصل حکمت قرآن مجید میں یوں بیان ہوئی ہے:

 ﴿قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾ (البقرة: 38)

 یعنی “ہم نے کہا: تم سب یہاں سے اتر جاؤ، پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو اس ہدایت کی پیروی کرے گا ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔”

 یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ زمین پر نزول کا مقصد محض سزا نہیں بلکہ ایک تربیتی مرحلہ ہے، جہاں ہدایت کی پیروی کے ذریعے انسان کو دوبارہ سکون و امن کی منزل یعنی جنت تک پہنچایا جانا ہے۔

اسی طرح مکافاتِ عمل کے اصول کو قرآن نے کئی مقامات پر بیان کیا ہے:

 ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْئًا وَلَـٰكِنَّ النَّاسَ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ﴾ (یونس: 44)

 “اللہ لوگوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔”

 یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان پر جو مشکلات اور تکالیف آتی ہیں وہ دراصل اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں، اور ان کے ذریعے اس کو متنبہ کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی اصلاح کرے۔

امام علیؑ نے بھی نہج البلاغہ میں اسی حقیقت کو بیان کیا ہے کہ “مصیبتیں مومن کے لیے تنبیہ اور نصیحت کا درجہ رکھتی ہیں۔” یعنی خدا انہیں محض دکھ دینے کے لیے نہیں بھیجتا بلکہ یہ بیداری کے وسائل ہیں۔

رسول خدا ﷺ کی حدیث ہے:

 «إذا أحبَّ اللهُ عبداً ابتلاهُ، فإن صبرَ اجتباهُ، وإن رضِي اصطفاهُ»

 “جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے آزمائش میں ڈالتا ہے، اگر وہ صبر کرے تو اسے چن لیتا ہے اور اگر راضی رہے تو اسے اپنے مقربین میں شامل کر لیتا ہے۔”

 یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ آزمائش اور مشکلات حقیقت میں عذاب نہیں بلکہ خدا کی محبت کا ایک پہلو ہیں، تاکہ بندہ اپنی روحانی تربیت کے اعلیٰ مدارج تک پہنچے۔

اسی تناظر میں امام جعفر صادقؑ نے فرمایا:

 «إنّ أشدَّ الناس بلاءً الأنبياءُ، ثمّ الأمثل فالأمثل»

 “لوگوں میں سب سے زیادہ آزمائش میں انبیاء ڈالے جاتے ہیں، پھر ان کے بعد جو ان کے درجے کے قریب تر ہوتے ہیں۔”

 یہ روایت بتاتی ہے کہ جتنی بڑی ہستی ہو، اتنی ہی بڑی آزمائش اس کے حصے میں آتی ہے، اور اس آزمائش کا مقصد اس کے روحانی کمالات کو آشکار کرنا ہے۔

ان قرآنی و حدیثی دلائل سے یہ حقیقت مزید روشن ہو جاتی ہے کہ زمین پر انسان کی زندگی کا فلسفہ سزا یا ہلاکت نہیں بلکہ تربیت، ارتقاء اور بازگشت ہے۔ ہر مشکل اور ہر مکافات انسان کو یا تو بیداری کی طرف لے جاتی ہے یا درجات کی بلندی کی طرف۔ جہنم صرف ان کے لیے ہے جو ان سب مراحل کے باوجود اپنی ہٹ دھرمی میں قائم رہیں، ورنہ خدا کی اصل چاہت یہی ہے کہ تمام انسان اپنی فطری منزل جنت تک واپس پہنچ جائیں۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2372

ٹیگز

تبصرے