خدا سے عشق! یعنی کیا؟!
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
تحریر : سید جہانزیب عابدی
خدا سے عشق دراصل وہ سب سے اعلیٰ اور عظیم تعلق ہے جو انسان کو اپنی تخلیق کے حقیقی مقصد تک پہنچاتا ہے۔ یہ عشق صرف عبادت کے محدود دائرے میں نہیں رہتا بلکہ انسانی وجود کے ہر پہلو میں سرایت کرتا ہے اور ہر تعمیری، مثبت اور تخلیقی عمل اس عشق کا عکس بن جاتا ہے۔ قرآن نے بارہا اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ جو کچھ خیر، عدل، نیکی، ایثار اور خدمتِ خلق میں کیا جائے وہ دراصل خدا کے لیے کیا جاتا ہے۔ ارشاد ہے: ﴿وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾ (البقرۃ: 195) یعنی نیکی کرو کہ اللہ نیکوکاروں سے محبت کرتا ہے۔ اس آیت میں نیک عمل اور احسان کو براہ راست خدا کی محبت سے جوڑا گیا ہے۔ پس یہ ثابت ہوا کہ ہر فعلِ احسن دراصل خدا سے عشق کی عملی صورت ہے۔
سماجی امور کی اہمیت اسی زاویے سے سمجھی جا سکتی ہے۔ اگر انسان خدا سے محبت کرتا ہے تو وہ اس کی مخلوق سے بھی محبت کرے گا، کیونکہ خالق سے عشق کا تقاضا یہ ہے کہ مخلوق کے حقوق ادا کیے جائیں۔ رسولِ اکرمؐ نے فرمایا: “الخلق عیال اللہ، فأحبّ الخلق إلى الله أنفعهم لعياله” (وسائل الشیعہ، ج۱۶، ص۳۷۵)۔ یعنی مخلوق خدا کا کنبہ ہے اور خدا کے نزدیک سب سے محبوب وہ ہے جو اس کے کنبے کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے۔ یہ حدیث اس بات کو واضح کرتی ہے کہ سماجی خدمت اور معاشرتی عدل دراصل خدا سے عشق کا عملی اظہار ہے۔
ظلم اور بے عدالتی سے نفرت بھی اسی عشق کا تقاضا ہے، کیونکہ خدا نے اپنے آپ کو عدل اور قسط کا رب متعارف کروایا ہے۔ قرآن میں فرمایا گیا: ﴿إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ﴾ (النحل: 90)۔ عدل اور احسان کا حکم خدا کی طرف سے ہے، پس جو شخص عدل قائم کرتا ہے وہ گویا خدا کی صفت کو اپنی زندگی میں منعکس کرتا ہے۔ اسی طرح امام علیؑ نے نہج البلاغہ میں فرمایا: “العدل یضع الأمور مواضعها” یعنی عدل ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھ دیتا ہے۔ جب انسان سماجی عدل کے قیام کے لیے کوشاں ہوتا ہے تو وہ دراصل خدا کے ساتھ اپنے عشق کو ثابت کر رہا ہوتا ہے، کیونکہ وہ اس کی صفات کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔
یہ عشق جب انسان کے اندر جاگزین ہو جاتا ہے تو وہ تمام اعمال جو دنیا داروں کے لیے سخت اور دشوار معلوم ہوتے ہیں، ایسے عاشق کے لیے خوشگوار اور لذت بخش ہو جاتے ہیں۔ روزہ، نماز شب، جہاد، خدمتِ خلق، سچائی پر ڈٹ جانا، مظلوموں کا دفاع کرنا—یہ سب اعمال اہلِ دنیا کو کٹھن نظر آتے ہیں لیکن عاشقِ خدا کے لیے یہ راحت و سرور کا باعث ہوتے ہیں۔ امام حسینؑ کا کربلا میں کردار اسی عشق کا عظیم شاہکار ہے۔ جہاں تلواریں اور ظلم کی شدت تھی، وہاں آپؑ کے لبوں پر ذکرِ خدا اور دل میں لذتِ عبادت تھی۔ یہ وہی کیفیت ہے جسے قرآن نے ﴿إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (الانعام: 162) میں بیان کیا ہے کہ میری نماز، قربانی، زندگی اور موت سب اللہ کے لیے ہیں۔
سماجی اطلاقات میں یہ عشق سب سے زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ والدین کی خدمت کرنا، یتیموں اور مسکینوں کا سہارا بننا، مظلوموں کی حمایت کرنا، علم پھیلانا، اور لوگوں کے درمیان صلح و عدل قائم کرنا یہ سب وہ اعمال ہیں جنہیں روایات میں افضل ترین عبادات کہا گیا ہے۔ امام صادقؑ نے فرمایا: “من قضى لأخيه المؤمن حاجة، قضى الله له مائة حاجة في الدنيا والآخرة” (الکافی، ج۲، ص۱۹۱)۔ یعنی جو اپنے مومن بھائی کی ضرورت پوری کرے، خدا اس کے لیے دنیا و آخرت میں سو حاجتیں پوری کرے گا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سماجی خدمت براہ راست خدا کی قربت اور اس کے عشق کا وسیلہ ہے۔
خدا سے عشق کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انسان ظلم اور فساد سے نفرت کرے۔ یہ نفرت جہاں ایک سیاسی یا سماجی موقف ہے وہیں ایمانی رویہ ہے۔ قرآن نے اہل ایمان کو یوں متعارف کروایا: ﴿أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ﴾ (الفتح: 29)۔ یعنی وہ کافروں کے سامنے سخت اور آپس میں رحم دل ہیں۔ اس آیت میں واضح کیا گیا کہ خدا سے عشق رکھنے والے افراد عدل و حق کے مقابل کھڑے ہونے والوں کے خلاف سختی دکھاتے ہیں اور اہلِ ایمان کے لیے سراپا رحمت ہوتے ہیں۔
یوں خدا سے عشق کا سماجی رخ یہی ہے کہ انسان اپنی پوری توانائی اور زندگی کو مخلوق کے حقوق کی ادائیگی اور ظلم کے خلاف جدوجہد میں صرف کرے۔ جب یہ عشق پیدا ہو جائے تو پھر ایثار، قربانی، جہاد، خدمت اور عدل محض ذمہ داری نہیں رہتے بلکہ محبوب کے قرب کا ذریعہ اور لذتِ روحانی بن جاتے ہیں۔ یہی وہ کمال کا راستہ ہے جسے قرآن نے “صراطِ مستقیم” کہا ہے اور جو بہشت تک لے جاتا ہے۔ قرآن کا وعدہ ہے: ﴿إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ﴾ (البقرۃ: 222)۔ خدا محبت کرتا ہے پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے۔ جب سماج کی تطہیر، ظلم کا خاتمہ، اور عدل کا قیام عشقِ خدا کے ساتھ جڑ جائے تو انسان اس راستے پر چلتا ہے جو اسے نہ صرف دنیا میں کمال تک لے جاتا ہے بلکہ آخرت میں بہشت کی دائمی نعمتوں کا وارث بنا دیتا ہے۔
یہی وہ باکمال اور ہمہ گیر عشق ہے جو فرد کے باطن سے نکل کر پورے معاشرے کو نور سے روشن کر دیتا ہے، اور یہی وہ عشق ہے جسے خدا نے انسان کے مقصدِ وجود کا حقیقی لبِ لباب قرار دیا ہے۔ اب یہ عشق کبھی تعلیم و تربیت میں، ازدواجی تعلقات میں، روزگار میں، سیاست میں، ثقافت میں، معیشت کہیں بھی اپنے اثرات دکھائے تو اس کی بنیاد و ہدف وہی ہے جو خدا نے خود سے عشق کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
