رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے حالیہ خطاب میں اسلامی وحدت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا:
اگر ہم کہتے ہیں کہ شیعہ اور سنی کو ایک ساتھ ہونا چاہیے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی اپنا مذہب چھوڑ دے۔ ہر مسلک اپنی جگہ باقی رہے، لیکن دشمن کو ان اختلافات کا فائدہ نہ اٹھانے دیں۔ ہفتۂ وحدت کا جشن اسی مقصد کے لیے ہے۔
انہوں نے مزید فرمایا:
اسلامی وحدت صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ قرآن کا اصول ہے۔ دشمن اسلام کے قلب پر وار کرنے کے لیے ہمارے اختلافات کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔ ہمیں اس کے منصوبوں کو ناکام بنانا ہوگا۔
آج کے حالات میں جب امتِ مسلمہ فلسطین، یمن اور کشمیر جیسے مسائل سے دوچار ہے، ہفتۂ وحدت صرف ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ ایک اجتماعی عہد ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں، مشترکہ دشمن کو پہچانیں اور اپنے مسائل کے حل کے لیے متحد ہو کر عمل کریں۔
