مولانا سید عمار حیدر زیدی قم
اسلامی تاریخ اور عقائد میں سب سے بنیادی مسئلہ “قیادت اور خلافت” کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا امت کا رہبر اور امام انسانوں کے انتخاب سے معین ہوتا ہے یا یہ حق صرف خدا کے پاس ہے؟
تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ آخری زمانے میں امام مہدی علیہ السلام آئیں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ یہ عقیدہ اہل سنت اور اہل تشیع دونوں میں متفقہ ہے۔ لیکن یہاں ایک اہم نکتہ ہے:
اگر قیادت و امامت عوامی ووٹ یا شورٰی کے ذریعے متعین ہوتی ہے تو پھر آج ہم سب جمع ہو کر ووٹنگ کے ذریعے امام مہدی کو کیوں نہیں منتخب کر لیتے تاکہ دنیا کا امن فوراً قائم ہو جائے؟ اس سوال کا جواب سبھی اہل سنت علما یہی دیں گے کہ:
“امام مہدی کا انتخاب انسانوں کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ یہ خدا کی طرف سے معین شدہ ہے۔”
تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے:
👉 جب آخری امام کا انتخاب اللہ نے کیا ہے تو پہلے امام کا انتخاب انسانوں پر کیسے چھوڑا جا سکتا ہے؟
👉 یہ کیسی منطق ہے کہ ابتدا کے ائمہ اور خلفا کو عوام منتخب کریں، لیکن آخری امام کو خدا خود منتخب کرے؟
عقل اور قرآن دونوں یہ واضح کرتے ہیں کہ امامت اور ولایت عوامی رائے یا ووٹ سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے معین ہوتی ہے۔
جیسا کہ قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو امامت عطا کرتے وقت فرمایا گیا:
انی جاعلک للناس اماما
(البقرہ: 124)
یہ آیت بتاتی ہے کہ امام کا انتخاب اور تقرر صرف اور صرف خدا کی ذمہ داری ہے، انسانوں کی نہیں۔
پس نتیجہ یہ ہے کہ:
امام علی علیہ السلام کا انتخاب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا۔
غدیر خم کا اعلان اسی الٰہی منصوبے کا عملی اظہار تھا۔
اور یہ ایسا اصول ہے جسے کوئی فرقہ یا مذہب عقلاً اور نقلاً رد نہیں کر سکتا، کیونکہ خود سب کے نزدیک امام مہدیؑ کا انتخاب انسانوں کے اختیار میں نہیں بلکہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔
جب آخری ولی و امام کے بارے میں سب کا اجماع ہے کہ وہ منتخبِ الٰہی ہیں تو یہی اصول آغاز میں بھی ثابت ہے۔ لہٰذا امام علی علیہ السلام کی ولایت و خلافت بھی خدا کا انتخاب ہے، نہ کہ انسانوں کا فیصلہ۔
