بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
انسانی شخصیت یا کسی معاشرے کا عروج محض اتفاقی یا وقتی نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے گہرے نفسیاتی عوامل اور باطنی محرکات کارفرما ہوتے ہیں۔ انسان کی ذات میں ایک فطری جستجو موجود ہے جو اسے بلند تر بننے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے پر مجبور کرتی ہے۔ یہی جستجو جب صحیح سمت اختیار کرتی ہے تو فرد اپنی کمزوریوں پر قابو پا کر ارتقاء کی منازل طے کرتا ہے، اور معاشرہ اجتماعی سطح پر ترقی اور کامیابی کے زینے چڑھتا ہے۔
عروج کا سب سے بنیادی نفسیاتی سبب مقصدیت ہے۔ جب فرد اپنی زندگی کے لیے ایک بلند مقصد متعین کر لیتا ہے تو اس کی تمام نفسیاتی قوتیں ایک مرکز پر مجتمع ہو جاتی ہیں۔ یہ مقصد اسے نہ صرف جدوجہد پر آمادہ کرتا ہے بلکہ مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود حوصلہ اور استقامت عطا کرتا ہے۔ اسی طرح معاشرہ بھی تب عروج حاصل کرتا ہے جب اس کے افراد ایک مشترک مقصد کے تحت اپنی توانائیوں کو یکجا کرتے ہیں اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی مفاد کو مقدم رکھتے ہیں۔
انسانی شخصیت اور معاشرتی عروج کا دوسرا اہم نفسیاتی سبب خودشناسی ہے۔ فرد جب اپنے اندر کی طاقتوں کو پہچانتا ہے تو احساسِ کمتری کی زنجیروں سے آزاد ہو جاتا ہے۔ یہ خوداعتمادی اسے نہ صرف اپنی حدود سے آگے بڑھنے پر آمادہ کرتی ہے بلکہ دوسروں کے لیے رہنمائی کا چراغ بھی بنا دیتی ہے۔ یہی کیفیت جب کسی قوم یا معاشرے میں جنم لیتی ہے تو وہاں کے افراد اپنی تہذیبی شناخت کو دریافت کر کے اسے دنیا کے سامنے فخر کے ساتھ پیش کرتے ہیں، جس سے اجتماعی شعور بلند ہوتا ہے اور ترقی کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔
عروج کے لیے ایک اور اہم نفسیاتی محرک محنت اور جدوجہد کا شوق ہے۔ انسان جب کسی مقصد کے لیے اپنی پوری توانائی صرف کرتا ہے تو اس کے اندر ایک داخلی سکون اور کامیابی کا یقین پیدا ہوتا ہے۔ یہ کیفیت اسے مسلسل آگے بڑھنے پر ابھارتی ہے۔ معاشرے بھی اسی وقت عروج پاتے ہیں جب ان کے افراد کا ذہن محنت کو عار نہیں بلکہ فخر سمجھتا ہے اور جب اجتماعی سطح پر سستی اور جمود کے بجائے سرگرمی اور حرکت کا جذبہ رائج ہوتا ہے۔
فردی اور اجتماعی عروج میں امید اور مثبت سوچ کا کردار بھی بنیادی ہے۔ وہ انسان جو مایوسی سے نکل کر اپنے اندر مستقبل کی روشنی کو محسوس کرتا ہے، وہ کسی بھی ناممکن کو ممکن بنانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ اسی طرح کوئی معاشرہ تب ترقی کرتا ہے جب اس کا اجتماعی لاشعور مایوسی کے اندھیروں میں گم ہونے کے بجائے امکانات کے چراغ روشن رکھتا ہے۔ یہ مثبت طرزِ فکر ہی ہر نئے تجربے اور ایجاد کا محرک بنتا ہے۔
عروج کا ایک اور نفسیاتی پہلو اخلاقی و روحانی توازن ہے۔ فرد اگر اپنی خواہشات کو قابو میں رکھے اور اپنی قوتوں کو اخلاقی اصولوں کے مطابق استعمال کرے تو وہ اندرونی سکون اور بیرونی کامیابی دونوں حاصل کرتا ہے۔ یہ کیفیت معاشروں میں اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ان کی اجتماعی قدریں مادیت پرستی کے بجائے انصاف، مساوات اور خیرخواہی پر مبنی ہوں۔ جب روحانی اور اخلاقی بنیادیں مضبوط ہوں تو معاشرے کے افراد میں باہمی اعتماد اور تعاون پروان چڑھتا ہے اور یہی تعاون انہیں بلندی کی طرف لے جاتا ہے۔
یوں انسانی شخصیت یا معاشرے کے عروج کے پیچھے دراصل وہ نفسیاتی قوتیں ہوتی ہیں جو مقصدیت، خودشناسی، محنت، امید، مثبت سوچ اور اخلاقی توازن پر قائم ہوں۔ یہ وہ عناصر ہیں جو انسان کو محدود دائرے سے نکال کر وسعتِ فکر اور عمل عطا کرتے ہیں اور معاشرے کو انتشار اور کمزوری سے نکال کر اتحاد اور طاقت بخشتے ہیں۔ عروج محض ظاہری کامیابی نہیں بلکہ ایک ایسی نفسیاتی کیفیت ہے جس میں فرد یا قوم اپنی اصل صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں ایک بلند مقصد کے لیے بروئے کار لاتے ہیں اور یوں تاریخ میں ایک روشن مثال قائم کرتے ہیں۔
جس طرح عروج ہوتا ہے اسی طرح زوال کے بھی اسباب ہوتے ہیں جن کی شناخت ضروری ہے تاکہ اس سے بچا جاسکے۔ انسانی شخصیت ہو یا ایک پورا معاشرہ، ان دونوں کو ترقی اور عروج دراصل اندرونی نفسیاتی قوتوں اور خارجی عوامل کے باہمی امتزاج کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جب کوئی فرد یا قوم اپنے اندرونی محرکات کو درست سمت میں بروئے کار لاتی ہے تو اس کا عروج یقینی ہوتا ہے، لیکن جب یہی قوتیں کمزور پڑ جاتی ہیں یا غلط راہوں پر استعمال ہونے لگتی ہیں تو زوال شروع ہو جاتا ہے۔ شخصیت اور معاشرے کے زوال کی نفسیاتی جڑیں بہت گہری ہیں اور ان کا تعلق بنیادی طور پر اس امر سے ہے کہ فرد اپنی داخلی دنیا کو کس طرح سنبھالتا ہے اور اجتماع اپنی اجتماعی شعور کو کس نہج پر لے کر چلتا ہے۔
سب سے بنیادی نفسیاتی سبب یہ ہے کہ فرد یا معاشرہ اپنی اصل پہچان اور مقصدِ حیات سے کٹ جائے۔ جب انسان یہ بھول جائے کہ اس کی زندگی کا اصل مرکز کیا ہے اور وہ کیوں جیتا ہے تو اس کی توانائیاں بکھر جاتی ہیں۔ مقصدیت کی جگہ لذت پسندی، خودنمائی اور وقتی کامیابی کے تصورات لے لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ فرد میں سنجیدگی اور بصیرت کی جگہ سطحیت پیدا ہو جاتی ہے اور معاشرہ اجتماعی سطح پر بے سمت ہو کر اپنے نظامِ اقدار کو کھو بیٹھتا ہے۔
ایک اور نفسیاتی وجہ غرور اور تکبر ہے۔ عروج کے بعد اکثر انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اب وہ ناقابلِ شکست ہے۔ یہ احساس اس کی فکر کو جمود میں مبتلا کر دیتا ہے اور وہ اپنی اصلاح اور ترقی کی کوشش ترک کر دیتا ہے۔ اسی طرح معاشرے بھی جب اپنے تمدنی یا سائنسی ارتقاء پر مغرور ہو جاتے ہیں تو وہ نئی تبدیلیوں اور تنبیہات کو نظرانداز کرنے لگتے ہیں۔ یہ رویہ زوال کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے کیونکہ اس میں خوداحتسابی اور لچک باقی نہیں رہتی۔
زوال کی ایک بڑی نفسیاتی جڑ یہ بھی ہے کہ فرد یا قوم اپنے مسائل کو وقتی تسکین اور دکھاوے کے ذریعے دبانے لگے۔ انسان اگر اپنی کمزوریوں کا سامنا کرنے کے بجائے انکار یا فرار کی راہ اختیار کرے تو وہ دھیرے دھیرے اپنی باطنی طاقت کھو دیتا ہے۔ یہی حال معاشروں کا بھی ہے کہ جب ان کے اندر بگاڑ اور کرپشن بڑھنے لگے اور وہ اصل اسباب کے علاج کے بجائے محض نمائشی اقدامات کریں تو ان کے اندرونی ڈھانچے کمزور ہوتے جاتے ہیں۔
زوال کا ایک اور نفسیاتی پہلو اجتماعی یا فردی ذمہ داری سے فرار ہے۔ جب کوئی شخص اپنے کردار اور فیصلوں کی جوابدہی کو محسوس نہیں کرتا تو وہ اپنی غلطیوں کو دوسروں پر ڈال دیتا ہے۔ یہی کیفیت معاشروں میں اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اجتماعی شعور ختم ہو جائے اور ہر طبقہ اپنی ناکامی کا الزام کسی دوسرے طبقے پر ڈالنے لگے۔ اس رویے کے نتیجے میں اعتماد کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے اور وحدت کی بجائے انتشار پیدا ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ عروج کے بعد انسان یا معاشرہ اکثر خوف اور بے یقینی کا شکار بھی ہو جاتا ہے۔ کامیابی کے بعد یہ وسوسہ دل میں بیٹھ جاتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چھن نہ جائے۔ یہ خوف انسان کو یا تو غیر معمولی احتیاط میں مبتلا کر دیتا ہے یا پھر اسے لاپرواہی اور بے پروائی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ دونوں صورتوں میں تخلیقی صلاحیتیں مرجھا جاتی ہیں اور آگے بڑھنے کا جذبہ ماند پڑ جاتا ہے۔
مزید برآں نفسیاتی طور پر عروج کے بعد زوال کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ فرد یا معاشرہ اپنی کامیابی کو صرف ظاہری وسائل اور طاقت کا مرہونِ منت سمجھنے لگتا ہے اور اس روحانی و اخلاقی سرمایہ کو نظر انداز کر دیتا ہے جو اصل میں اس عروج کا سبب تھا۔ جب روحانی اقدار پس منظر میں چلی جائیں اور مادی خواہشات مرکزی حیثیت اختیار کر لیں تو اندرونی خلا بڑھتا جاتا ہے۔ یہ خلا پہلے بے سکونی میں اور پھر بگاڑ میں تبدیل ہوتا ہے۔
یوں انسانی شخصیت اور معاشرتی نظام دونوں کے زوال کے پیچھے اصل میں وہ نفسیاتی کمزوریاں کارفرما ہوتی ہیں جو انسان کو اس کے اصل مقصد سے غافل کرتی ہیں، اسے غرور اور غفلت میں مبتلا کرتی ہیں، اسے فرار اور بے ذمہ داری کی عادت ڈالتی ہیں اور اسے اخلاقی بنیادوں سے محروم کر دیتی ہیں۔ عروج کو دوام دینے کے لیے ضروری ہے کہ فرد اپنی ذات کے اندر مسلسل خوداحتسابی، مقصدیت، تواضع، بصیرت اور روحانی و اخلاقی توازن قائم رکھے، اور معاشرے بھی اپنے اجتماعی شعور کو بیدار رکھتے ہوئے انہی اقدار کی بنیاد پر اپنے نظام کو قائم کریں۔ ورنہ تاریخ کا قانون یہی ہے کہ ہر عروج کے بعد اگر یہ اقدار کھو جائیں تو زوال یقینی ہے۔
قرآن اور روایات معصومینؑ میں عروج و زوال کو محض اتفاقی یا وقتی حالات کا نتیجہ نہیں کہا گیا بلکہ اسے ایک مقررہ سنتِ الٰہی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ قرآن مجید انسان اور اقوام کے عروج و زوال کو اخلاقی، ایمانی اور عملی بنیادوں سے جوڑتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ جب کوئی فرد یا قوم ایمان، تقویٰ، عدل اور صبر جیسے اصولوں کو اختیار کرتی ہے تو اللہ کی نصرت ان کے شاملِ حال ہوتی ہے اور جب وہ ظلم، تکبر، غفلت اور فساد میں مبتلا ہو جاتی ہے تو ان کے زوال کا وقت قریب آ جاتا ہے۔ سورہ رعد میں ارشاد ہے کہ اللہ کسی قوم کی حالت کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے، یہ قانون بتاتا ہے کہ ترقی اور تنزلی انسان کے اپنے ارادوں اور اجتماعی رویوں سے جڑی ہوئی ہے۔ اسی طرح سورہ انفال میں کہا گیا ہے کہ اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عروج صرف مادی اسباب سے نہیں بلکہ الٰہی سنتوں سے وابستہ ہے۔
قرآن مجید میں سابقہ اقوام کے قصے بھی اسی مقصد کے لیے بیان کیے گئے ہیں کہ انسان عبرت حاصل کرے۔ قومِ عاد، ثمود، فرعون اور بنی اسرائیل کے عروج اور پھر زوال کے تذکرے یہ حقیقت نمایاں کرتے ہیں کہ جب انسان کفرانِ نعمت، سرکشی اور غرور میں مبتلا ہو جائے تو خواہ کتنی ہی طاقت حاصل کر لے، آخرکار اس کی بنیادیں ہل جاتی ہیں اور وہ زوال کا شکار ہوتا ہے۔ سورہ قصص میں فرعون کے انجام کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ زمین میں سرکشی کرنے لگا اور اپنے لوگوں کو گروہوں میں بانٹ دیا، پس اللہ نے اس کو اور اس کے لشکروں کو دریا میں غرق کر دیا۔ یہ اصول بتاتا ہے کہ ظلم و ناانصافی کے ساتھ کوئی سلطنت یا نظام دیرپا نہیں رہ سکتا۔
معصومینؑ کی روایات میں بھی عروج و زوال کے قوانین کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ امام علیؑ نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں کہ عدل سے معاشرے مضبوط ہوتے ہیں اور ظلم سے سلطنتیں گر جاتی ہیں۔ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ کفری حکومت باقی رہ سکتی ہے مگر ظلم کی حکومت باقی نہیں رہتی۔ یہ جملہ دراصل اس الٰہی سنت کی وضاحت ہے کہ ظلم کے نتیجے میں زوال حتمی ہے، خواہ وہ فرد ہو یا معاشرہ۔ اسی طرح ایک اور جگہ امام علیؑ فرماتے ہیں کہ لوگوں کی اطاعت اور اتحاد ہی ان کے عروج کا سبب ہے اور ان کا اختلاف اور بے اطاعتی ان کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عروج کا راز اجتماعی ہم آہنگی اور قائد کی اطاعت میں ہے۔
امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ جس قوم میں تین چیزیں رائج ہو جائیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی: خیانت، فریب اور قطع رحم۔ یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اخلاقی بنیادیں اگر ٹوٹ جائیں تو اجتماعی زوال یقینی ہے۔ امام محمد باقرؑ نے بھی یہی نکتہ فرمایا کہ جس معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ترک کر دیا جائے وہاں برکتیں ختم ہو جاتی ہیں اور ظلم و ستم غالب آ جاتا ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عروج کے بعد انحطاط آتا ہے۔
ائمہؑ نے یہ بھی سمجھایا کہ عروج کے لیے صرف مادی وسائل کافی نہیں بلکہ روحانی بیداری بھی ضروری ہے۔ امام علیؑ نے فرمایا کہ دل کی بیداری سب سے بڑی بیداری ہے، اور جب قومیں غفلت میں سو جاتی ہیں تو ان کا مقدر زوال ہوتا ہے۔ امام حسینؑ کا قیام بھی دراصل اس سنت الٰہی کی تفسیر ہے کہ جب ظلم عام ہو جائے تو خاموشی زوال کی راہ ہے اور ظلم کے مقابل قیام ہی عروج کی ضمانت ہے۔
یوں قرآن اور روایات معصومینؑ یہ واضح کرتی ہیں کہ عروج و زوال کا قانون اٹل ہے۔ ایمان، عدل، تقویٰ، صبر، شجاعت، اطاعت اور اتحاد فرد اور معاشرے کو بلند کرتے ہیں، جبکہ ظلم، کفرانِ نعمت، غرور، غفلت، تفرقہ اور بے عدالتی ان کے زوال کا سبب بنتے ہیں۔ یہ اصول تاریخ کے ہر دور میں یکساں طور پر نافذ ہوتے ہیں اور کوئی فرد یا قوم ان سے مستثنیٰ نہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ تم اللہ کی سنت میں تبدیلی نہیں پاؤ گے، اور یہی سنت انسانیت کے عروج اور زوال کا سب سے بنیادی قانون ہے۔
موجودہ زمانے پر قرآن اور معصومینؑ کے بتائے ہوئے عروج و زوال کے قوانین کو منطبق کریں تو صورتِ حال نہایت واضح ہو جاتی ہے۔ قرآن نے بتایا تھا کہ کسی قوم کی حالت اللہ اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ جو معاشرے تعلیم، محنت، اتحاد اور انصاف کو اپنی بنیاد بناتے ہیں وہ ترقی کر رہے ہیں، جبکہ وہ اقوام جو ظلم، کرپشن، ناانصافی اور انتشار میں مبتلا ہیں وہ کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔ یہ سیدھا سیدھا وہی قرآنی قانون ہے جو ہمیں عاد، ثمود اور فرعون کی مثالوں سے سمجھایا گیا تھا۔
مثال کے طور پر جدید مغربی معاشروں نے علم، تحقیق اور اجتماعی نظم کو اپنایا تو وہ دنیا پر اثرانداز ہو گئے۔ ان کا عروج صرف مادی اسباب کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کی اجتماعی ذہنیت، محنت اور مقصدیت بھی اس میں شامل تھی۔ لیکن جیسے جیسے یہ معاشرے اخلاقی بنیادوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور حرص، لذت پرستی اور خاندانی نظام کے انہدام کی طرف بڑھ رہے ہیں، ان کے اندرونی زوال کے آثار بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن کا اصول اٹل ہے: ظلم اور فساد چاہے کسی بھی صورت میں ہو، وہ زوال کی طرف لے جاتا ہے۔
اسی طرح عالمِ اسلام کی تاریخ کو دیکھیں تو جب مسلمان عدل، علم اور روحانی بیداری کے ساتھ آگے بڑھے تو دنیا کی قیادت ان کے ہاتھ میں تھی۔ لیکن جیسے ہی آپس کا تفرقہ، دنیا طلبی اور طاقت کی جنگیں غالب آئیں، وہی امت جسے قرآن نے بہترین امت کہا تھا، ٹکڑوں میں بٹ گئی اور دوسروں کی محکوم ہو گئی۔ یہ ٹھیک وہی سنت الٰہی ہے جسے امام علیؑ نے نہج البلاغہ میں بیان فرمایا تھا کہ اختلاف اور اطاعتِ قیادت سے روگردانی قوموں کو زوال میں دھکیل دیتی ہے۔
اگر موجودہ مسلم معاشروں کو دیکھیں تو بہت سے ممالک میں ظلم، کرپشن، اقربا پروری اور طاقت کے غلط استعمال نے ان کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ غربت، ناانصافی اور عوامی حقوق کی پامالی اس بات کا اعلان کر رہی ہے کہ اگر یہ معاشرے اصلاح کی طرف نہ پلٹے تو ان کے زوال کو کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ امام صادقؑ کی حدیث کہ جس قوم میں خیانت اور قطع رحم عام ہو جائیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی، آج ہمارے حالات پر بالکل منطبق ہوتی ہے۔
اس کے برعکس جہاں کہیں انصاف، جدوجہد، تعلیم اور اخلاقی بیداری کو اہمیت دی جا رہی ہے وہاں عروج کے آثار نمایاں ہیں۔ کچھ مسلم معاشرے جنہوں نے جدید سائنس کو اپنانے کے ساتھ ساتھ اپنے دینی و اخلاقی ورثے کو سنبھالا ہے، وہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مستحکم ہیں۔ یہی وہ توازن ہے جسے قرآن نے نصرتِ الٰہی کی شرط قرار دیا تھا کہ اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا۔
یوں موجودہ دنیا کے حالات اس بات کے کھلے ثبوت ہیں کہ عروج و زوال کا قانون آج بھی اسی طرح نافذ ہے جیسے پچھلی اقوام پر تھا۔ جس معاشرے میں عدل، علم، اخلاق، مقصدیت اور اتحاد ہو گا وہ ترقی کرے گا، اور جس میں ظلم، تفرقہ، غفلت اور مادیت پرستی غالب ہو گی وہ خواہ بظاہر کتنا ہی طاقتور ہو، اندر سے کھوکھلا ہو کر زوال پذیر ہو جائے گا۔ قرآن کے الفاظ آج بھی اسی قوت کے ساتھ گونجتے ہیں کہ اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔
