بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
انسانی ذہن کو تجرید Abstraction کی منزل تک پہنچانا گویا اس کو ایسے مقام پر لے جانا ہے جہاں وہ محسوسات، تعصبات، ذاتی خواہشات اور وقتی اثرات سے آزاد ہوکر حقیقت کو دیکھنے اور پرکھنے کے قابل بن سکے۔ تجرید Abstraction اس کیفیت کا نام ہے جب ذہن چیزوں کو ان کے ظاہری ملمع سے ہٹا کر ان کی اصل ساخت اور حقیقت پر غور کرتا ہے۔ یہ کوئی اچانک ملنے والی نعمت نہیں بلکہ ایک تدریجی سفر ہے جس کے لیے عقل، ریاضت، علم اور روحانی طہارت کی ہم آہنگی ضروری ہے۔
سب سے پہلا مرحلہ شعور کی تربیت کا ہے۔ انسان اگر ہر واقعہ اور شے کو اپنی خواہش یا نفرت کے پردے میں دیکھے تو حقیقت اس پر کبھی آشکار نہیں ہوتی۔ اس لیے قرآن مجید نے بار بار انسان کو حکم دیا ہے کہ وہ تدبر کرے، غور کرے اور اپنے دل کو صاف رکھے تاکہ بصیرت پیدا ہو۔ دل کی صفائی ہی تجرید Abstraction کی بنیاد ہے، کیونکہ جو دل تعصب، حسد یا تکبر سے آلودہ ہو وہ کائنات کی کسی چیز کو غیر جانبداری سے دیکھنے پر قادر نہیں ہوتا۔
علم کا حصول دوسرا بنیادی ستون ہے۔ تجرید Abstraction محض مراقبے یا خلوت میں بیٹھنے سے نہیں آتی بلکہ اس کے لیے علم کی روشنی لازمی ہے۔ جب انسان مختلف علوم اور نظریات سے آشنا ہوتا ہے اور ان پر تنقیدی نظر ڈالنا سیکھ لیتا ہے تو اس کے اندر ایک ایسی صلاحیت پیدا ہوتی ہے جو چیزوں کو ان کے جزوی یا وقتی فائدے سے ماورا دیکھنے لگتی ہے۔ علم انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ کثرت میں وحدت کو اور وحدت میں کثرت کو پہچان سکے۔
تجرید Abstraction کے سفر میں عقل اور قلب کا توازن بھی ضروری ہے۔ اگر عقل خشک منطق میں محدود ہو جائے تو وہ چیزوں کو محض میکانیکی انداز میں دیکھے گی، اور اگر قلب جذبات کی آندھی میں بہہ جائے تو مشاہدہ غیر جانبدار نہیں رہ پائے گا۔ تجرید Abstraction تب پیدا ہوتی ہے جب عقل کی گہرائی اور دل کی صفائی ایک دوسرے کی تائید کرنے لگیں۔ قرآن نے بار بار عقل اور ذکر کو ایک ساتھ یاد کیا ہے، گویا انسانی شعور کے دونوں پہلو ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہیں اور ساتھ مل کر ذہن کو بلند سطح پر لے جاتے ہیں۔
تجرید Abstraction کی ایک اہم شرط خاموشی اور مراقبہ ہے۔ روزمرہ کی ہنگامہ خیزی اور دنیاوی شور ذہن کو منتشر کر دیتا ہے۔ جب انسان تھوڑی دیر کے لیے اپنی ذات کو دنیاوی مصروفیات سے الگ کرتا ہے اور خاموشی میں خود کو دیکھتا ہے تو اس کے اندر تجرید کی قوت بیدار ہوتی ہے۔ خاموشی محض بولنے سے رک جانا نہیں بلکہ دل کو بھی غیر ضروری خیالات سے خالی کرنا ہے تاکہ کائنات اور اپنے نفس کا مشاہدہ شفاف نظر سے کیا جا سکے۔
اسلامی روحانی روایت میں ذکر اور عبادت بھی تجرید Abstraction کا لازمی ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ جب انسان بار بار اپنے خالق کو یاد کرتا ہے اور اس کے ساتھ اپنے ربط کو تازہ کرتا ہے تو دنیا کی سطحی جھلکیاں اور عارضی رنگ و بو اس کے ذہن سے چھٹنے لگتے ہیں۔ تب وہ اشیاء کو ان کے اصل مقصد اور حقیقت کی طرف سے دیکھنے لگتا ہے۔ یہی کیفیت ہے جسے قرآن نے “یذکرون اللہ قیاماً و قعوداً و علی جنوبہم و یتفکرون فی خلق السماوات والارض” کہہ کر بیان کیا، یعنی کائنات پر غور و فکر تجریدی شعور Abstract consciousness کے بغیر ممکن نہیں۔
کہا جا سکتا ہے کہ تجرید کی منزل تک پہنچنے کے لیے انسان کو اپنی خواہشات اور نفرتوں پر قابو پانا، اپنے دل کو تعصب سے صاف رکھنا، علم کو وسیع کرنا، عقل اور قلب میں توازن قائم رکھنا، خاموشی اور مراقبہ کو اپنانا، اور اللہ کے ذکر اور عبادت کے ذریعے اپنے شعور کو روشن کرنا ضروری ہے۔ اس کے بعد ہی انسان اشیاء، کائنات اور اپنی ذات کو اس نظر سے دیکھ پاتا ہے جو غیر جانبدار، شفاف اور حقیقت کے قریب ہو۔ یہی وہ نظر ہے جسے تجرید کی نظر کہا جاتا ہے اور یہی وہ قوت ہے جو انسان کو محض دنیاوی سطح سے اٹھا کر حقیقت کے ادراک تک لے جاتی ہے۔
تجرید (abstraction)، تجریدی بصیرت (abstract insight) اور تجریدی شعور (abstract consciousness) کے حصول میں بنیادی طور پر انسانی عقل، روح اور قلب کی صلاحیتیں کارفرما ہیں، اور یہ صلاحیتیں مرد اور عورت دونوں کو یکساں طور پر عطا کی گئی ہیں۔ قرآن و سنت میں کسی بھی مقام پر یہ فرق بیان نہیں کیا گیا کہ تجرید یا حقیقت بینی کا سفر مردوں کے لیے مخصوص ہے یا عورتوں کے لیے ممنوع یا محدود ہے۔ قرآن کہتا ہے: “إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ” (الحجرات: 13) یعنی اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ یہاں نہ جنس کی کوئی قید ہے نہ صنف کی، بلکہ تقویٰ، علم اور قلبی صفائی کو معیار بنایا گیا ہے۔
البتہ کچھ عملی فرق ضرور سامنے آتے ہیں۔ معاشرتی ذمہ داریوں اور حیاتیاتی فطرت کی بنا پر مرد و عورت کے تجریدی سفر میں راستے الگ الگ رنگ اختیار کر سکتے ہیں۔ مرد عام طور پر خارجی دنیا، معاملات، علمی اور فکری سرگرمیوں میں زیادہ مصروف رہتا ہے، اس لیے اس کا تجریدی شعور زیادہ تر نظریاتی اور فکری جہت میں نمودار ہوتا ہے۔ عورت چونکہ زندگی کے داخلی اور جذباتی پہلوؤں سے گہرا تعلق رکھتی ہے، اس لیے اس کی تجریدی بصیرت میں تعلق، رحمت، احساس اور جذبات کی پاکیزگی زیادہ شامل ہوتی ہے۔ لیکن یہ فرق اصل حقیقت کے ادراک میں کوئی رکاوٹ یا کمی نہیں ڈالتا بلکہ دونوں کے تجربات ایک دوسرے کو تکمیل فراہم کرتے ہیں۔
اسلامی عرفان کی تاریخ میں عورتوں نے بھی بلند ترین تجریدی مقامات طے کیے ہیں۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو “محدَّثہ” کہا گیا یعنی وہ فرشتوں سے ہمکلام ہوتی تھیں، جو تجریدی شعور کی بلند ترین مثال ہے۔ اسی طرح حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی بصیرت کربلا کے بعد تجریدی شعور کا عملی مظاہرہ تھی، جس میں انہوں نے حق کو تعصبات اور خوف کے پردوں کے بغیر دیکھا اور اعلان کیا۔ صوفیانہ روایات میں رابعہ بصری کا نام اسی طرح لیا جاتا ہے کہ انہوں نے عشق الٰہی کو تجریدی اور خالص صورت میں بیان کیا۔
لہذا تجریدی شعور کی راہ میں جنس کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ فرق صرف اس بات میں ہے کہ مرد اور عورت اپنی اپنی فطری اور معاشرتی حیثیت کے مطابق اس شعور کو کس انداز میں بروئے کار لاتے ہیں۔ مرد کا تجریدی شعور زیادہ تر کائناتی، فکری اور فلسفیانہ پہلوؤں میں جلوہ گر ہوتا ہے، جبکہ عورت کا تجریدی شعور زیادہ تر انسانی رشتوں، عاطفوں، اور حیات کے داخلی پہلوؤں میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ دونوں مل کر حقیقت کے مکمل اور جامع ادراک میں حصہ لیتے ہیں۔
جو انسان تجرید کی منزل پر پہنچ جاتے ہیں وہ گویا عام انسانی شعور کی سطح سے آگے بڑھ کر ایک زیادہ شفاف اور گہری بصیرت کے مالک ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اشیاء اور اپنے نفس کو تعصبات اور خواہشات کے پردوں کے بغیر دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مگر یہ مقام جتنا بلند ہے اتنا ہی نازک بھی ہے، کیونکہ یہاں شیطان اور نفس کی subtle(باریک) آزمائشیں شروع ہوتی ہیں۔ اس لیے ایسے افراد کے لیے چند بنیادی ہدایات ہیں جنہیں نظرانداز کرنا ان کے پورے سفر کو ضائع بھی کر سکتا ہے۔
جب ایک مرد اور عورت تجرید کے حصول کے سفر میں ہوتے ہیں، تو شیطان اپنی تمام تر باریکیوں کے ساتھ ان کے راستے میں آتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں انسان محسوسات اور خواہشات کے پردے ہٹا کر حقیقت تک رسائی کی کوشش کرتا ہے۔ عام حالات میں شیطان انسان کو کھلی گناہ کی دعوت دیتا ہے، لیکن جب انسان حقیقت کے قریب پہنچتا ہے تو وہ کھلی برائی کی بجائے باریک اور چھپی ہوئی رکاوٹیں ڈالتا ہے تاکہ انسان حقیقت شناسی کے راستے پر ثابت قدم نہ رہ سکے۔
مرد کے راستے میں شیطان کا سب سے پہلا حربہ تکبر اور فکری غرور ہے۔ مرد چونکہ اپنی عقل، منطق اور تجزیاتی قوت پر زیادہ انحصار کرتا ہے، لہٰذا جب وہ حقیقت کے قریب پہنچتا ہے تو شیطان اس کے دل میں یہ وہم ڈالتا ہے کہ اس کی بصیرت سب سے اعلیٰ اور برتر ہے۔ یہ وہم مرد کو دوسروں سے افضل سمجھنے پر مجبور کرتا ہے، اور یوں وہ حقیقت کو غیر جانبداری سے دیکھنے کے بجائے اپنی برتری کے خول میں قید ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ شیطان مرد کو خشک منطق میں الجھا دیتا ہے۔ عقل کی حرارت جب دل کی روشنی کے ساتھ نہ ملے تو وہ محض سرد تجزیہ بن جاتی ہے، اور حقیقت صرف ایک فلسفہ یا تھیوری کی شکل میں محدود ہو جاتی ہے۔ اسی طرح چونکہ مرد عمومی طور پر معاشرتی اختیار کا حامل سمجھا جاتا ہے، شیطان اس پہلو کو بھی استعمال کرتا ہے اور اسے یہ ترغیب دیتا ہے کہ اپنی تجریدی بصیرت کو دوسروں پر حکمرانی یا فکری جبر کے لیے استعمال کرے۔ یوں حقیقت کا شعور بندگی اور خدمت میں ڈھلنے کے بجائے طاقت اور اختیار کی خواہش میں ضائع ہو جاتا ہے۔
عورت کے راستے میں شیطان کی حکمت عملی مختلف انداز رکھتی ہے۔ عورت چونکہ جذبات، تعلقات اور باطنی کیفیت سے زیادہ جڑی ہوئی ہوتی ہے، اس لیے شیطان اس کے دل کی نرمی کو افراط میں بدل دیتا ہے۔ وہ محبت اور جذبے کو اس قدر بڑھا دیتا ہے کہ عورت حقیقت کو جذبات کی دھندلاہٹ میں دیکھنے لگتی ہے اور حقیقت کا غیر جانبدار مطالعہ مشکل ہو جاتا ہے۔ کبھی شیطان عورت کے دل میں یہ خوف ڈال دیتا ہے کہ وہ حقیقت کا سامنا نہیں کر سکتی یا یہ سفر صرف مردوں کے لیے مخصوص ہے۔ یہ وسوسہ عورت کی فطری قوت کو دبانے کا حربہ ہے تاکہ وہ اپنی روحانی صلاحیتوں کو استعمال ہی نہ کر سکے۔ اسی طرح عورت کے قلبی اور وجدانی تجربات میں شیطان الجھاؤ پیدا کر دیتا ہے۔ وہ جھوٹے مکاشفات یا خواب اس کے ذہن میں داخل کرتا ہے تاکہ وہ انہیں حقیقت سمجھ بیٹھے اور اصل حقیقت سے بھٹک جائے۔
مرد اور عورت دونوں کے لیے شیطان کے کچھ مشترکہ حربے بھی ہیں۔ جب انسان حقیقت کے قریب پہنچنے لگتا ہے تو شیطان اس کے نفس کے باریک جال بُنتا ہے۔ وہ انسان کے دل میں یہ گمان پیدا کرتا ہے کہ وہ اللہ کا خاص منتخب ہے اور اس کا تجربہ مطلق حقیقت ہے۔ یہ احساس انسان کو غرور اور خودپسندی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ کبھی شیطان انہیں یہ فریب دیتا ہے کہ حقیقت کا راستہ صبر اور ریاضت کا تقاضا نہیں کرتا بلکہ فوری طور پر شارٹ کٹ کے ذریعے حقیقت تک پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ عجول پن انسان کو سطحی تجربات میں الجھا دیتا ہے۔ ایک اور بڑا حربہ یہ ہے کہ شیطان انسان کو تنہائی کی افراط میں ڈال دیتا ہے۔ وہ یہ باور کراتا ہے کہ حقیقت صرف کٹ کر اور دنیا سے الگ رہنے میں ہے، یا یہ احساس دلاتا ہے کہ تمہیں کوئی نہیں سمجھ سکتا، تم اکیلے ہو۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان یا تو غرور میں مبتلا ہو جاتا ہے یا شدید مایوسی میں ڈوب جاتا ہے۔
سب سے خطرناک جال یہ ہے کہ شیطان انسان کو قائل کر دیتا ہے کہ اب چونکہ وہ بلند شعور کی منزل پر پہنچ گیا ہے، اس لیے وحی اور شریعت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بڑے بڑے فلسفیانہ اور باطنی مکاتب گمراہی کی طرف نکل گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ خواہ انسان کی بصیرت کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو، وہ قرآن و سنت اور وحی کے دائرے سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ جب شیطان یہ وہم پیدا کرتا ہے کہ انسان کا ذاتی شعور وحی سے بھی بالا ہو گیا ہے تو وہ دراصل اس کے سفر کو مکمل طور پر برباد کر دیتا ہے۔
یوں مرد اور عورت کے تجریدی سفر میں شیطان کی رکاوٹیں ان کی نفسیاتی اور فطری ساخت کے مطابق مختلف ہوتی ہیں۔ مرد کو وہ عقل اور طاقت کے غرور میں پھنسا دیتا ہے اور عورت کو جذباتی غلو، کمزوری کے وہم اور جھوٹے مکاشفات کے جال میں الجھا دیتا ہے۔ دونوں کے لیے اس کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے، یعنی حقیقت کو دھندلانا یا حقیقت پانے کے بعد اس کو ضائع کر دینا۔ اس لیے جو بھی اس راستے پر چل رہا ہے اسے سب سے زیادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کہ شیطان کی باریک آزمائشیں کھلے گناہوں سے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔
اسی تسلسل کے ساتھ کچھ ہدایات یاد رکھنا ضروری ہیں، سب سے پہلی ہدایت یہ ہے کہ تکبر اور خود پسندی سے بچیں۔ جب انسان تجرید کی قوت حاصل کر لیتا ہے تو اسے یہ گمان ہونے لگ سکتا ہے کہ وہ دوسروں سے افضل اور زیادہ روشن فکر ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نفس امّارہ چھپ کر اپنی حکمرانی قائم کرنا چاہتا ہے۔ قرآن بار بار یاد دلاتا ہے کہ علم اور بصیرت اللہ کی عطا ہے، لہٰذا غرور کی بجائے شکرگزاری اختیار کرنا چاہیے۔
دوسری ہدایت یہ ہے کہ عملی زندگی سے کٹنے سے بچیں۔ بعض اوقات تجریدی شعور Abstract consciousness انسان کو دنیا سے بے تعلق کر دیتا ہے اور وہ صرف نظریات یا مشاہدے میں کھو کر رہ جاتا ہے۔ اسلام نے معرفت کو عمل سے جوڑا ہے، یعنی جتنا زیادہ حقیقت کا ادراک ہو اتنا ہی زیادہ ذمہ داری اور بندگی کا تقاضا ہے۔ جو لوگ تجرید کی منزل پر پہنچ کر صرف خلوت میں قید ہو جائیں وہ اپنی قوت کو ضائع کرتے ہیں، کیونکہ اصل کمال یہ ہے کہ تجریدی بصیرت Abstract insight کو معاشرتی عدل، خدمتِ خلق اور بندگیِ الٰہی میں ڈھالا جائے۔
تیسری ہدایت یہ ہے کہ تجرید کو وحی اور شریعت کے تابع رکھیں۔ بعض لوگ بلند شعور کی منزل پر پہنچ کر یہ وہم کر لیتے ہیں کہ اب انہیں کسی بیرونی ہدایت کی ضرورت نہیں رہی۔ یہ وہی خطرہ ہے جو کئی باطنی اور فلسفیانہ مکاتب کو گمراہی کی طرف لے گیا۔ اسلام واضح کرتا ہے کہ خواہ انسان کتنا ہی بلند شعور رکھتا ہو، وہ وحی کے دائرے سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا کہ “میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: قرآن اور اہل بیت، جب تک ان سے وابستہ رہو گے ہرگز گمراہ نہ ہو گے”۔ یہ ہدایت خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ہے جو تجریدی بصیرت Abstract insight رکھتے ہیں تاکہ ان کی نگاہ قرآن و سنت کے دائرے سے نہ ہٹے۔
چوتھی ہدایت یہ ہے کہ تجرید کو دوسروں پر تھوپنے سے بچیں۔ بعض لوگ اپنے تجربات اور مشاہدات کو مطلق حقیقت سمجھ کر دوسروں کو مجبور کرنے لگتے ہیں کہ وہ بھی انہیں اسی نظر سے دیکھیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص اپنی فکری اور روحانی سطح کے مطابق حقیقت کا ادراک کرتا ہے۔ تجریدی شعور رکھنے والوں پر لازم ہے کہ وہ نرم گفتاری اور حکمت کے ساتھ دوسروں کی رہنمائی کریں، نہ کہ ان پر اپنی بصیرت مسلط کریں۔
پانچویں ہدایت یہ ہے کہ مستقل ذکر اور عبادت کو ترک نہ کریں۔ تجرید کی قوت power of abstraction اگر مسلسل ذکر اور عبادت سے جڑی نہ رہے تو وہ خشک فلسفہ بن جاتی ہے، جو انسان کو حقیقت کے قریب کرنے کے بجائے دور لے جاتی ہے۔ اس لیے اولیاء اور عرفاء ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ جتنا بھی مشاہدہ ہو، اس کی بنیاد نماز، دعا، ذکر اور تلاوتِ قرآن پر ہونی چاہیے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ جو افراد تجرید کی منزل پر پہنچ جاتے ہیں ان کے لیے سب سے بڑی ہدایت یہ ہے کہ تکبر اور خودغرضی سے بچیں، دنیا سے بے تعلق نہ ہوں بلکہ اپنی بصیرت کو خدمت اور عدل میں استعمال کریں، وحی اور شریعت کو اپنی روشنی کا مرکز بنائے رکھیں، دوسروں پر اپنی بصیرت مسلط نہ کریں بلکہ حکمت اور نرمی سے رہنمائی کریں، اور اپنی روحانی قوت کو ذکر و عبادت سے جڑ کر قائم رکھیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو تجرید کو نجات اور قربِ الٰہی کا ذریعہ بناتا ہے۔
تکبر اور خود پسندی سے بچنے کے بارے میں قرآن کہتا ہے: “وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّكَ لَن تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَن تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا” (بنی اسرائیل: 37) یعنی زمین پر گھمنڈ سے نہ چلو، تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو۔ اسی طرح حدیث قدسی ہے: “الکبریاء ردائی، فمن نازعنی ردائی قصمته” یعنی کبریائی میری چادر ہے، جو اس میں میرا شریک بننا چاہے میں اسے توڑ دیتا ہوں۔ تجریدی بصیرت رکھنے والے کو خاص طور پر یاد رکھنا چاہیے کہ علم اور مشاہدہ اللہ کا عطا ہے، غرور نہیں بلکہ شکر اس کی شان ہے۔
عملی زندگی سے کٹنے کے بارے میں قرآن کہتا ہے: “وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا” (القصص: 77) یعنی جو کچھ اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کی طلب رکھ، اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھول۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ تجریدی مشاہدہ Abstract observation انسان کو دنیا سے غافل نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے دنیا کو درست طور پر برتنا سکھانا چاہیے۔
وحی اور شریعت کے تابع رہنے کے لیے قرآن کہتا ہے: “فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ” (النساء: 59) یعنی اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ۔ یہ اصول تجریدی شعور رکھنے والوں کے لیے انتہائی اہم ہے تاکہ وہ اپنی ذاتی بصیرت کو مطلق نہ سمجھیں بلکہ اسے قرآن و سنت کے تابع رکھیں۔ رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ نے بھی فرمایا: “ترکت فیکم الثقلین کتاب اللہ و عترتی” (حدیثِ ثقلین) یعنی میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑ رہا ہوں، اللہ کی کتاب اور اپنی عترت۔
دوسروں پر اپنی بصیرت مسلط نہ کرنے کی ہدایت کے لیے قرآن کہتا ہے: “ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ” (النحل: 125) یعنی لوگوں کو اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت سے بلاؤ، اور ان سے بحث بہترین طریقے سے کرو۔ تجریدی شعور رکھنے والے کو چاہیے کہ وہ نرمی اور حکمت کے ساتھ رہنمائی کرے، جبر یا فوقیت کے ساتھ نہیں۔
ذکر اور عبادت کو ترک نہ کرنے کی ہدایت قرآن میں بار بار ملتی ہے، جیسا کہ فرمایا گیا: “الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ” (الرعد: 28) یعنی ایمان والے وہ ہیں جن کے دل اللہ کے ذکر سے سکون پاتے ہیں، آگاہ ہو جاؤ کہ اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان ملتا ہے۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے: “مثل الذي يذكر ربه والذي لا يذكر ربه مثل الحي والميت” یعنی اللہ کو یاد کرنے والا زندہ کی طرح ہے اور جو یاد نہ کرے وہ مردہ کی مانند ہے۔
یوں قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ تجرید کی منزل پر پہنچنے والے افراد کے لیے سب سے بڑی ہدایت یہ ہے کہ وہ غرور اور خود پسندی سے بچیں، دنیا سے لاتعلق نہ ہوں بلکہ عمل کے ساتھ حقیقت کا ربط قائم رکھیں، اپنی بصیرت کو وحی اور شریعت کے تابع رکھیں، دوسروں کو حکمت اور نرمی سے رہنمائی کریں، اور اپنی نظر کو ہمیشہ ذکر اور عبادت سے تازہ رکھیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ان کے مقام کو محفوظ رکھتا ہے اور ان کے تجریدی شعور کو گمراہی کے بجائے قربِ الٰہی کا ذریعہ بناتا ہے۔
جب معاشرتی سطح پر اجتماعی صورت میں اس کیفیت کو دیکھتے ہیں تو چونکہ انسان حقیقت کا متلاشی ہے اور یہ تلاش کسی خاص طبقے کی میراث نہیں بلکہ ہر انسان کے باطن میں رکھی گئی ایک صدا ہے جو اسے اپنی اصل کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔ مگر یہ بات بھی حقیقت ہے کہ معاشرتی حیثیت، معاشی حالات اور طبقاتی تقسیم اس سفر کو مختلف انداز میں ڈھال دیتی ہے۔ تجرید کے مراحل میں عقل کا رشتہ معرفت سے اور قلب کا تعلق عشق سے ہے۔ اس سفر میں طبقے کی حیثیت اس لیے اہم ہے کہ ہر طبقہ اپنی مخصوص آزمائشوں، سہولتوں اور محدودیتوں کے ساتھ حقیقت کے قریب ہونے یا اس سے دور ہونے کی راہ طے کرتا ہے۔
معاشرے کا بالائی یا امیر طبقہ اکثر دولت، طاقت اور آسائشوں میں گھرا ہوتا ہے۔ اس کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی عقل کو معرفت کے لیے استعمال کرے اور اپنے دل کو عشقِ حقیقی کے لیے آزاد رکھے۔ امیر طبقے کے لوگ اگر اپنی عقل کو محض دنیاوی منصوبوں اور منافع کے حساب کتاب تک محدود کر دیں تو ان کی معرفت کھوکھلی ہو جاتی ہے اور وہ حقیقت کے قریب آنے کے بجائے نفس کی غلامی میں جکڑ جاتے ہیں۔ لیکن اگر یہی طبقہ اپنی عقل کو معرفتِ الٰہی اور اپنی دولت کو خدمتِ خلق کے لیے وقف کرے تو ان کے لیے یہ نعمت ایک ذریعۂ قرب بن جاتی ہے۔ عشق کے مرحلے میں امیر طبقہ اکثر نفسانی خواہشات کے جال میں پھنستا ہے، کیونکہ آسائش اور طاقت انسان کو جلد خود پسندی میں مبتلا کر دیتی ہے۔ لیکن اگر وہ عشق کو خالق سے جوڑ لے اور اپنی محبت کو مخلوقِ خدا کی خدمت میں صرف کرے تو وہ معاشرے کے لیے روشنی کا مینار بن سکتا ہے۔ قرآن نے اس طبقے کو بار بار خبردار کیا ہے کہ مال و دولت فریب ہے اگر وہ ذکر اور عدل کے ساتھ نہ جڑا ہو، مگر یہی مال اگر راہِ حق میں خرچ ہو تو “انفاق” اور “ایثار” کا درجہ پا لیتا ہے۔
متوسط طبقہ یعنی وہ لوگ جو نہ زیادہ آسائشوں میں جکڑے ہوتے ہیں اور نہ ہی تنگدستی میں اتنے مفلوج ہوتے ہیں، حقیقت کی تلاش کے سفر میں اعتدال کے زیادہ قریب سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے پاس عقل کے استعمال کا موقع بھی ہوتا ہے اور عشق کو پروان چڑھانے کی گنجائش بھی۔ یہ طبقہ زندگی کے نشیب و فراز سے نسبتاً زیادہ توازن کے ساتھ گزرتا ہے، لہٰذا معرفت کے لیے ضروری تدبر اور تفکر انہیں زیادہ قدرتی انداز میں میسر ہوتا ہے۔ ان کی عقل اگر شعوری طور پر علم اور غور و فکر سے منور ہو تو وہ نہ صرف حقیقت کے قریب پہنچتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی راستہ دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عشق کے میدان میں یہ طبقہ اپنے رشتوں، محنت، دیانت اور قربانی کے ذریعے اپنی محبت کو پاکیزہ بنا سکتا ہے۔ چونکہ یہ لوگ طاقت اور وسائل میں محدود ہوتے ہیں، اس لیے ان کے لیے نفس کا بڑا فریب شہرت یا بڑے خوابوں کا پیچھا کرنا ہے۔ اگر وہ اس سے بچ جائیں اور اپنی محنت کو قربِ الٰہی کا ذریعہ بنائیں تو یہ طبقہ حقیقتاً معاشرے کا ستون بن جاتا ہے۔
زیریں طبقہ یا غریب اور محروم لوگ تجرید کے سفر میں ایک الگ انداز سے شامل ہوتے ہیں۔ ان کے پاس دنیاوی سہولتیں نہیں ہوتیں، اس لیے ان کی عقل زیادہ تر روزی روٹی اور بقا کے مسائل میں مصروف رہتی ہے۔ اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ غربت کا کرب اور مشکلات کا بوجھ انسان کو ایک خاص قسم کی بصیرت عطا کرتا ہے۔ اگر یہ عقل صبر اور قناعت کے ساتھ پروان چڑھے تو یہ طبقہ معرفت کے سفر میں غیر معمولی گہرائی حاصل کر لیتا ہے، کیونکہ ان کے لیے دنیا کی آرائشوں کی کشش ویسے ہی کمزور رہتی ہے۔ عشق کے معاملے میں یہ طبقہ اکثر زیادہ آگے نکل جاتا ہے، کیونکہ ان کے پاس کھونے کے لیے کم ہوتا ہے اور پانے کے لیے سب کچھ اللہ ہی سے امید رکھتے ہیں۔ ان کی دعائیں زیادہ سچی، ان کے آنسو زیادہ خالص اور ان کی امیدیں زیادہ عاجزی کے ساتھ وابستہ ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اولیاء اللہ اور انبیاء علیہم السلام نے ہمیشہ اسی طبقے سے زیادہ پیروکار پائے۔ لیکن اس طبقے کا خطرہ یہ ہے کہ غربت کے دباؤ میں اگر وہ صبر کو کھو بیٹھیں تو حسد، کینہ اور مایوسی ان کے عشق کو زہر آلود کر دیتی ہے اور عقل کو اندھا کر دیتی ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ حقیقت کے سفر میں ہر طبقے کے لیے مخصوص امکانات اور مخصوص خطرات ہیں۔ امیر طبقے کی عقل اگر معرفت کی طرف نہ جھکے تو وہ نفس کا غلام بن جاتا ہے اور ان کا عشق اگر محض دنیاوی لذتوں میں قید ہو جائے تو وہ معاشرے کے لیے بوجھ بن جاتے ہیں۔ متوسط طبقہ اگر اپنی عقل کو تفکر اور تعلیم سے روشن کرے اور عشق کو قربانی اور اخلاص سے سنوارے تو وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک توازن بخش قوت بن سکتا ہے۔ غریب طبقہ اگر صبر اور قناعت کو اختیار کرے اور اپنے عشق کو اللہ کی محبت میں خالص رکھے تو وہ معاشرے کی روحانی بنیاد کو مضبوط کرتا ہے۔
اسلامی تعلیمات میں یہ توازن قائم رکھنے کے لیے بار بار کہا گیا ہے کہ معرفت اور عشق کو عمل اور عدل کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔ خواہ کوئی امیر ہو یا غریب، متوسط ہو یا طاقتور، حقیقت کا سفر اسی وقت معاشرے کے لیے مفید بنتا ہے جب عقل معرفت سے روشن ہو اور قلب عشق سے معمور، اور یہ دونوں شریعت اور وحی کے تابع رہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فرد کی حقیقت شناسی پورے معاشرے کے لیے خیر و برکت کا سرچشمہ بن جاتی ہے۔
کلینکل سائکولوجی کے تناظر میں اگر ہم حصولِ تجرید کے سفر میں افراطی رویوں کو دیکھیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ انسانی ذہن اور نفس کا توازن بگڑنے لگتا ہے۔ تجرید کا مطلب یہ ہے کہ انسان محسوسات اور تعصبات سے بالاتر ہو کر حقیقت کو دیکھے، لیکن جب یہ سفر اعتدال کے بجائے افراط کا شکار ہو جائے تو اس کا نتیجہ نفسیاتی پیچیدگیوں، رویہ جاتی بگاڑ اور روحانی انحراف میں نکلتا ہے۔
کلینکل نفسیات میں ہمیں ایسے مریض نظر آتے ہیں جو اپنے خیالات اور جذبات کو حد سے زیادہ تجریدی سطح پر لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ افراط اکثر “ڈی پرسنلائزیشن” (Depersonalization) یا “ڈی ریئلائزیشن” (Derealization) جیسی علامات پیدا کرتا ہے جہاں انسان اپنی ذات یا دنیا کو غیر حقیقی سمجھنے لگتا ہے۔
