بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
تحقیق: حجۃ الاسلام ڈاکٹر سید احسن رضا نقوی
جو لوگ احکام دین اور مذہبی مسائل کو نہیں جانتے انہیں چاہئے کہ اس فن میں ماہر علماء اور محققین کی تقلید کریں یعنی اپنے مبتلا بہ مسائل ان سے حاصل کریں۔اس سلسلہ میں چند روایات مندرجہ ذیل ہیں:
پہلی روایت : نجاشی جو علمائے شیعہ میں سے ہیں اپنی علم رجال کی معروف کتاب میں امام باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے اپنے شاگردوں میں سے ایک ممتاز شاگرد ابان سے فرمایا:”یا ابان! اجلس فی المسجد النبی و افت النّاس فانّی احبّ ان یریٰ فی اصحابی مثلک”۔یعنی اے ابان ! جب مدینہ آؤ تو مسجد پیغمبر میں بیٹھ کر لوگوں کو فتوے دو (یعنی احکام دین بتاؤ) کیونکہ میں پسند کرتا ہوں کہ لوگ میرے اصحاب میں سے تم جیسے صحابی دیکھیں۔”
ابان جو مجتہد اور صاحب فتویٰ تھے، امام علیہ السلام نے ان کو فتویٰ دینے کا حکم فرمایا تا کہ لوگ سنیں اور اس پر عمل کریں اور امام(ع) کی نظر میں تمام مجتہدین اور صاحب فتویٰ ابان کی طرح ہیں یعنی حکم امام(ع) کے مطابق ہر شخص کے لئے جو خود مجتہد نہیں ہے، ضروری ہے کہ اپنے مبتلا بہ مسائل میں کسی کی تقلید اور اس کے فتووں پر عمل کرے۔
دوسری روایت:کتاب وسائل الشیعہ( مذہب شیعہ میں حدیث کی مستند کتاب) کے باب ۱۰ “کتاب القضاء” میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت نقل ہوئی ہے کہ آپ نے” معاذ” نامی شخص سے فرمایا: بلغنی انّک تقعد فی الجامع و تفتی فیہ قلت نعم یحیی الرجل اعرفہ بمودّتکم وحبّکم فاخبرہ بما جاء عنکم فقال اصنع “قم ملخصاً”۔”اے معاذ میں نے سنا ہے کہ تم مسجد میں بیٹھ کر لوگوں کو فتوے دیتے ہو؟ میں نے عرض کی کہ ہاں ایسا ہی ہے، جوکچھ میں نے آپ سے حاصل کیا ہے آپ کے محبّوں و دوستوں کے لئے بیان کرتاہوں۔ آپ نے فرمایا ایسا ہی کرو۔”
معاذ روایات معصومین علیہم السلام سے حکم الہی کا استنباط کر کے فتویٰ کی صورت میں لوگوں کو بتاتے تھے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے بھی معاذ کے اس عمل کی تائید فرمائی۔ امام علیہ السلام کی نظر میں معاذ اور دوسرے مجتہدین یکساں ہیں یعنی مجتہدین کا فتویٰ لوگوں کے لئے حجت ہے اور اس پہ عمل کرناضروری ہے۔
تیسری روایت: کتاب وسائل الشیعہ باب۱۰ ” کتاب القضاء‘ ‘ میں عبد العزیز نامی ایک شخص حضرت امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں عرض کرتا ہے :” یا حضرت: میرا گھربہت دور ہے میں اپنے مبتلا ء بہ مسائل جاننے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوسکتا ۔ آیاآپ یونس بن عبد الرحمٰن کی تائید فرماتے ہیں اورکیامیں ان سے اپنے دینی مسائل حاصل کر سکتا ہوں ؟” امام علیہ السلام بے فرمایا: “ہاں۔”
چوتھی روایت : کتاب وسائل الشیعہ باب ۱۰ کتاب القضاء میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی تفسیر سے نقل ہے:”فامّا من کان من الفقہاء صائناً لنفسہ حافظاً لدینہ مخالفاً لہوا ہ مطیعاً لامر مولاہ فللعوام ان یقلدوہ”۔ “مجتہدین اور فقہاء میں سے جو شخص اپنے آپ کو گناہوں سے محفوظ رکھنے والا، اپنے دین کی حفاظت کرنے والا ، خواہشات نفسانی کی مخالفت کرنے والا اور حکم خدا کی اطاعت کرنے والا ہو تو عوام پر لازم ہے کہ اسکی تقلید کریں۔”
گزشتہ مطالب سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ عوام میں سے ان لوگوں پر جو دینی مسائل اور احکام الٰہی سے پوری طرح مطلع نہیں ہیں لازم ہے کہ کسی مجتہد (فقیہ) یعنی اس فن کے ماہر شخص کی تقلید و پیروی کریں۔ اگر چہ وہ لوگ دوسرے علوم و فنون میں خود ماہر و متخصص کیوں نہ ہوں جیسا کہ مجتہد فقیہ کے لئے بھی دوسرے علوم و فنون کے مبتلاء بہ مسائل میں متخصّص اور ماہر فن کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔ پس یہ کہنا بجا ہوگا کہ اس دنیا میں صحیح اور عقلی زندگی کی بنیاد تقلید پر ہے کیونکہ معاشرے کے تمام افراد نہ فقط تمام علوم و فنون میں ماہر و متخصّص نہیں بن سکتے بلکہ مبتلا ء بہ مقدار کی تحصیل پر بھی قادر نہیں ہیں” جس کی وجہ سے معاشرہ کا ہر فرد دوسرے کا محتاج ہے” مثلاً ڈاکٹر کے لئے مکان بنانے میں معمار کی طرف اور معمار کے لئے بیماری میں ڈاکٹر کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے اور ان دونوں کے لئے دینی مسائل میں مجتہد و فقیہ کی طرف رجوع کرنا اور اس کی تقلید کرنا لازم ہے۔رجوع تقلید کا لازم و واجب ہونا عقل و خرد کے علاوہ قرآن اور احادیث کی رو سے بھی ثابت ہے۔اس سلسلے میں مزید تفصیل کے لئے اس موضوع کی مفصل کتب کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔
