46

شوھر بیوی کے بیچ تناو اور حل

  • نیوز کوڈ : 2322
  • 29 August 2025 - 23:11
شوھر بیوی کے بیچ تناو اور حل

شوھر بیوی کے بیچ تناو اور حل

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

 تحریر : سید جہانزیب عابدی

بیوی اور شوہر کے تعلق میں استحصال ایک نہایت باریک مگر تباہ کن رویہ ہے، کیونکہ یہ رشتہ بنیادی طور پر محبت، اعتماد اور قربانی پر قائم ہوتا ہے۔ جب ان بنیادوں کو چھوڑ کر فریقین طاقت، کمزوری، یا نفسیاتی دباؤ کو ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے لگتے ہیں تو رشتہ کمزور ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ شوہر کے پاس عمومی طور پر سماجی، معاشی اور بعض ثقافتی ماحول میں ایک طرح کی بالادستی ہوتی ہے، لہٰذا وہ اگر چاہے تو اپنی کمائی، اپنی حیثیت یا اپنے خاندان کے اثر کو بیوی پر دباؤ کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ بیوی کے پاس شوہر کی نسبت کمزوریاں مختلف ہوتی ہیں، مگر وہ بھی ان کمزوریوں کو ہتھیار میں بدل دیتی ہے۔ وہ شوہر کے جذباتی تعلق، بچوں کے ساتھ وابستگی، یا سماجی عزت کو دباؤ میں بدل سکتی ہے۔ یوں دونوں طرف سے ایک نفسیاتی کھیل شروع ہوجاتا ہے جسے ظاہری طور پر شاید استحصال کہا نہ جائے لیکن حقیقت میں یہ ایک دوسرے کو قابو میں رکھنے کی کوشش ہوتی ہے۔

شوہر کا استحصال عموماً اس انداز میں سامنے آتا ہے کہ وہ بیوی کو مالی طور پر محتاج رکھتا ہے یا اس کی رائے کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ کبھی کبھی وہ غصے اور سختی کے ذریعے بیوی کو خوف زدہ کرتا ہے تاکہ اپنی مرضی مسلط کرسکے۔ یہ رویہ بظاہر اس کی برتری کا اظہار ہوتا ہے لیکن اندرونی سطح پر یہ کمزوری اور عدمِ اعتماد کی علامت ہے۔ بیوی کا استحصال زیادہ نفسیاتی نوعیت کا ہوتا ہے۔ وہ شوہر کی عزت نفس کو چوٹ پہنچانے، مسلسل شکایت کرنے یا خاموش رہ کر سزا دینے جیسی حکمت عملی اختیار کرسکتی ہے۔ وہ بچوں کے ذریعے یا خاندان کے دباؤ سے بھی شوہر کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ دونوں صورتیں دراصل ایک ہی دائرے کا حصہ ہیں جس میں محبت اور اعتماد کے بجائے خوف، دباؤ اور شکایت غالب آجاتے ہیں۔

اس کا سدباب اسی وقت ممکن ہے جب دونوں میں سے کوئی ایک فریق اس کھیل سے باہر نکلنے کا فیصلہ کرے اور رشتے کو طاقت کے بجائے رحمت اور اعتماد پر استوار کرے۔ اگر شوہر اپنی طاقت کو استحصال کے بجائے ذمہ داری سمجھے اور بیوی کے جذبات اور رائے کو اہمیت دے تو بیوی کو بھی نفسیاتی کھیل کھیلنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اسی طرح اگر بیوی شوہر کی عزت اور مقام کو دل سے تسلیم کرے اور اس کے ساتھ تعاون کرے تو شوہر کو بھی سختی یا دباؤ کی ضرورت نہیں رہتی۔ یہ رشتہ اسی وقت کامیاب ہوسکتا ہے جب دونوں اپنی اپنی طاقت اور کمزوریوں کو ہتھیار بنانے کے بجائے ایک دوسرے کے تحفظ اور سکون کا ذریعہ بنیں۔

قرآن مجید نے اسی حقیقت کو بڑے خوبصورت الفاظ میں بیان کیا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں۔ لباس نہ صرف پردہ دیتا ہے بلکہ سکون، تحفظ اور زینت بھی فراہم کرتا ہے۔ جب لباس کو کوئی شخص ہتھیار بنالے تو وہ بدن کو زخم دے سکتا ہے، لیکن جب وہ اپنے اصل مقصد پر قائم رہتا ہے تو بدن کو خوبصورتی اور سکون عطا کرتا ہے۔ یہی اصول ازدواجی زندگی کا ہے۔ نبی اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی فرمایا کہ تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ بہترین ہو۔ اس فرمان میں یہ اشارہ ہے کہ حقیقی قیادت اور طاقت استحصال سے نہیں بلکہ محبت اور حسنِ سلوک سے ظاہر ہوتی ہے۔

لہٰذا اگر دونوں فریق اس حقیقت کو سمجھ لیں کہ طاقت یا کمزوری کو ہتھیار بنانا دراصل اپنے رشتے کو نقصان پہنچانا ہے تو وہ استحصال کی راہ سے بچ سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں کھلے دل سے بات کریں، ایک دوسرے کی کمزوریوں کو دباؤ کے بجائے حفاظت کا ذریعہ بنائیں اور اپنی طاقت کو دوسرے کی خدمت کے لیے استعمال کریں۔ تبھی یہ رشتہ ایک استحصالی جنگ کے بجائے محبت اور سکون کی جنت بن سکتا ہے۔

ہم اگر خود کو شیعہ یا امام زمانہ عج کا منتظر سمجھتے ہیں تو یاد رکھیں کہ امام زمانہؑ کے حقیقی منتظر بن کر زندگی گزارنا محض ایک عقیدتی نعرہ یا قلبی خواہش نہیں ہے بلکہ ایک ایسا عملی طرزِ حیات ہے جو انسان کی ذات اور اس کے معاشرتی روابط کو امامؑ کے مشن اور خدا کی مرضی کے مطابق ڈھالتا ہے۔ دشمنانِ تشیع اور امامؑ کے مخالفین کی سب سے بڑی کوشش یہی رہی ہے کہ مومن خاندانوں کو اندرونی انتشار، بےاعتمادی، سطحی اختلافات اور جذباتی الجھنوں کا شکار کر کے انہیں ان کے اصل مقصد اور مشن سے ہٹا دیا جائے۔ چونکہ خاندان ایک چھوٹی مگر بنیادی اکائی ہے، اس پر حملہ دراصل پورے معاشرے اور امت پر حملہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن اور روایات معصومین علیہم السلام نے زوجین کے باہمی تعلق کو نہ صرف محبت اور مودت پر استوار کرنے کی تاکید کی ہے بلکہ اسے اللہ کی نشانی قرار دیا ہے۔

شوہر اور بیوی اگر سطحی اختلافات جیسے معمولی رویے، کمزوریاں یا وقتی جذبات کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کا استحصال کرنے لگیں تو یہ دشمن کی سب سے بڑی کامیابی ہے، کیونکہ اس سے وہ ان کے ذہن کو بڑے مقاصد اور امامؑ کی نصرت کے اصل ہدف سے ہٹا کر چھوٹے چھوٹے الجھاؤ میں مصروف کر دیتا ہے۔ امام کے حقیقی منتظر وہ ہیں جو اپنے ذاتی اختلافات کو بڑی تصویر کے مقابلے میں بےمعنی سمجھتے ہیں، اور جانتے ہیں کہ خدا نے انہیں دنیا میں ایک امتحان کے طور پر ایک دوسرے کا لباس اور سکون بنایا ہے تاکہ وہ مل کر عدل، محبت، انصاف اور ذمہ داری کو زندہ کریں۔

منتظر ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ بیوی اور شوہر دونوں اپنے حقوق اور فرائض کے بارے میں حساس رہیں۔ شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنے اختیار کو ظلم یا استحصال کے بجائے رحمت اور قیادت کے لیے استعمال کرے اور بیوی کو چاہیے کہ وہ اپنی نرمی، حکمت اور ایثار کو شوہر کے لیے سہارا بنائے۔ اگر دونوں اللہ کے سامنے جواب دہی کو یاد رکھتے ہیں تو وہ کسی بھی جھگڑے کو انا کا مسئلہ نہیں بنائیں گے بلکہ اس پر غور کریں گے کہ آیا یہ رویہ مجھے امام کے قریب لے جا رہا ہے یا دشمن کے جال میں پھانس رہا ہے۔ استحصال اس وقت جنم لیتا ہے جب انسان اپنی خواہش یا کمزوری کو حق پر ترجیح دیتا ہے، جبکہ منتظرین کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنی خواہشات کو امام کی اطاعت اور خدا کی رضا کے تابع رکھیں۔

محبت، امن، انصاف اور ذمہ داری اسی وقت قائم رہتے ہیں جب شوہر اور بیوی ایک دوسرے کو خدا کی امانت سمجھ کر برتیں۔ ان کا باہمی احترام اور قربانی نہ صرف ان کے گھر میں سکون پیدا کرتا ہے بلکہ یہ دشمن کی سازشوں کو بھی ناکام بناتا ہے، کیونکہ وہ خاندان جو اپنی چھوٹی چھوٹی مشکلات پر صبر اور حکمت کے ساتھ قابو پاتا ہے وہی بڑا مشن سنبھالنے کے قابل بنتا ہے۔ یوں انتظارِ امام محض دعاؤں یا جذبات کا نام نہیں بلکہ روز مرہ کی زندگی میں ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے، سطحی اختلافات کو بھلا دینے، اور دشمن کی چالوں کے آگے متحد رہنے کا عملی مظاہرہ ہے۔

یوں اگر بیوی اور شوہر اپنی ازدواجی زندگی کو امامؑ کے انتظار کا حصہ سمجھیں اور ہر لمحہ یہ سوچیں کہ ہمیں اپنی کمزوریوں اور جھگڑوں سے اوپر اٹھ کر اس نظام عدل کے کارکن بننا ہے جس کے لیے امام آئیں گے، تو ان کا گھر محبت اور سکون کا قلعہ بن جاتا ہے اور وہ خود امام کے لشکر میں شامل ہونے کے لائق ہو جاتے ہیں۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2322

ٹیگز

تبصرے