35

سیلاب اللہ کی رحمت ہے مگر ہماری کوتاہیوں نے اسے زحمت بنا دیا

  • نیوز کوڈ : 2319
  • 29 August 2025 - 23:09
سیلاب اللہ کی رحمت ہے مگر ہماری کوتاہیوں نے اسے زحمت بنا دیا

سیلاب اللہ کی رحمت ہے مگر ہماری کوتاہیوں نے اسے زحمت بنا دیا

 مولانا سید عمار حیدر زیدی قم

پاکستان اس وقت ایک بار پھر آزمائش کی گھڑی سے گزر رہا ہے۔ بارشیں اور سیلاب، جو دراصل اللہ تعالیٰ کی رحمت ہیں، ہمارے لیے زحمت بنتی جا رہی ہیں۔ وہ پانی جو کھیتوں کو سیراب کرنا چاہیے تھا، آج گھروں کو بہا رہا ہے اور انسانوں کی جانیں نگل رہا ہے۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے:

وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ” (الأنبياء: 30)

اور ہم نے پانی کو ہر جاندار چیز کی زندگی کا سبب بنایا۔”

یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ پانی زندگی کا ذریعہ ہے، مگر افسوس کہ ہماری غفلت نے اسے موت کا پیغام بنا دیا۔

 حکومتی ناکامیاں

ہمارے ملک میں ڈیم بنانے کی پالیسی دہائیوں سے صرف فائلوں میں پڑی ہے۔ برساتی نالوں پر سرکاری ادارے قائم کر دیے گئے، نالوں کی صفائی کا کوئی نظام موجود نہیں، اور گندگی کے انبار بارش کے پانی کو طوفان میں بدل دیتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ سیلاب نے صرف گھر نہیں ڈبوئے بلکہ ہماری انتظامی صلاحیت اور حکومتی ترجیحات کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔

حکومت کے نمائندے اعلان کرتے ہیں کہ مرنے والوں کے لواحقین کو پیسے دیے جائیں گے۔ لیکن کیا پیسہ کسی کی جان کا نعم البدل ہو سکتا ہے؟ کیا انسان کی قیمت نوٹوں کے چند بنڈل ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ محض اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔

 عوام کی آزمائش

قرآن کہتا ہے:

وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ” (المائدہ: 2)

اور نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور زیادتی میں مدد نہ کرو۔”

یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل ذمہ داری صرف حکومت کی نہیں، بلکہ ہم سب کی ہے۔ جب حکومتی ادارے ناکام ہوں، تو عوام کو چاہیے کہ ایک دوسرے کا سہارا بنیں، اپنے بھائی کو تنہا نہ چھوڑیں۔

 ہم سب ایک ہیں

یہ وقت ایک دوسرے پر الزام لگانے کا نہیں بلکہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کا ہے۔ آج اگر ہم نے اپنے بھائی کو پانی میں ڈوبنے دیا تو کل ہمیں کوئی سہارا دینے والا نہ ہوگا۔ ہم سب ایک ہیں، ہم سب پاکستانی ہیں۔ یہی اتحاد ہمیں مشکلات سے نکال سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ” (الرعد: 11)

بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلیں۔”

لہٰذا اب وقت ہے کہ ہم اپنی اجتماعی کوتاہیوں کو تسلیم کریں، اپنی اصلاح کریں اور اپنی قوم کے لیے وہ کریں جو ہماری ذمہ داری ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2319

ٹیگز

تبصرے