قم نامور اسلامی مفکر آیت اللہ علامہ محمد تقی مصباح یزدیؒ نے اپنی ایک گفتگو میں کہا کہ:
> “والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری اپنی اولاد کی صحیح تربیت ہے۔ اگر ماں باپ اپنی نسل کو دینی اصولوں پر پروان نہ چڑھائیں تو یہ صرف گھریلو ناکامی نہیں بلکہ ایک اجتماعی سانحہ ہے۔”
علامہ مصباح یزدیؒ نے کہا کہ:
> “آج کے دور میں والدین کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے بچوں کی جنسی تربیت کو نظر انداز نہ کریں۔ میڈیا اور معاشرتی اثرات بہت تیزی سے بچوں کے ذہن کو متاثر کرتے ہیں، اگر ہم نے انہیں اسلامی اقدار کے ساتھ تربیت نہ دی تو انحراف اور آلودگی ان کی شخصیت کو جکڑ لے گی۔”
انہوں نے مزید کہا:
> “جب بچہ صحیح اسلامی ماحول میں پروان چڑھتا ہے تو اس کی شخصیت میں عفت و پاکدامنی رچ بس جاتی ہے۔ لیکن اگر اسے آزاد چھوڑ دیا جائے تو وہ بہت جلد بے راہ روی کا شکار ہو جاتا ہے۔”
مصباح یزدیؒ نے زور دیا کہ:
> “اسلامی تربیت کا مقصد یہ ہے کہ بچے کے دل میں ایمان اور خدا پر یقین پیدا ہو، وہ حلال و حرام میں فرق کو سمجھے، عفت کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائے اور ذمہ داری کے ساتھ ایک صالح فرد کے طور پر معاشرے میں کردار ادا کرے۔”
انہوں نے کہا کہ:
> “یہ نہ سمجھیں کہ بچے کی تربیت محض ایک گھریلو کام ہے، نہیں! یہ ایک ایسا عمل ہے جس پر قیامت کے دن والدین کو خدا کے حضور جواب دینا ہوگا۔ اگر آپ نے اپنی اولاد کو دینی اور اخلاقی اصولوں سے محروم رکھا تو درحقیقت آپ نے معاشرے کو بگاڑ کی طرف دھکیل دیا۔”
علامہ مصباح یزدیؒ نے کہا کہ:
> “ہمارے معاشرے کو بگاڑ سے بچانے کا واحد راستہ یہی ہے کہ ہم اپنی نسل کو دینی اقدار اور اخلاقی نظام کے ساتھ جوڑیں۔ اگر آج والدین اپنی ذمہ داری ادا کریں تو آنے والی نسلیں صالح اور خدا شناس معاشرہ تشکیل دیں گی۔”
عملی نکات جو والدین کے لیے ضروری ہیں
علامہ مصباح یزدیؒ نے والدین کو نصیحت کی کہ وہ تربیتِ فرزندان میں ان امور کا خاص خیال رکھیں:
1. گھر کا ماحول پاکیزہ بنائیں — بچے وہی سیکھتے ہیں جو گھر میں دیکھتے ہیں، لہٰذا والدین اپنی گفتار و کردار میں عملی نمونہ بنیں۔
2. میڈیا کا کنٹرول — بچوں کو ایسے مواد سے دور رکھیں جو ان کے اخلاق کو خراب کرے اور ان کے ایمان کو متزلزل کرے۔
3. سوالات کے جوابات دیں — بچے کے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کو نظر انداز نہ کریں، بلکہ حکمت اور محبت سے انہیں اسلامی زاویۂ نظر سے مطمئن کریں۔
4. دوستیوں پر نظر رکھیں — بچے کے دوست اس کے اخلاق پر گہرا اثر ڈالتے ہیں، لہٰذا والدین محتاط رہیں کہ ان کے بچے کن افراد کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں۔
5. عفت و حیا کی تعلیم — بچپن ہی سے بچوں کو پردہ، شرم و حیا اور پاکیزگی کے اصول سکھائیں تاکہ وہ بڑے ہو کر ان اقدار کو اپنی زندگی میں جاری رکھ سکیں۔
