صراط ٹائمز خصوصی
ابتدائی تعارف
شیخ مفیدؒ (336ھ/948ء – 413ھ/1022ء) کا اصل نام محمد بن محمد بن نعمان تھا۔ آپ کو “ابو عبداللہ” اور “ابن المعلم” کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ بغداد میں ولادت ہوئی اور ابتدائی تعلیم اپنے والد (جو معلم تھے) اور پھر عصر کے مشہور اساتذہ سے حاصل کی۔ بہت جلد آپ اپنی بے مثال ذہانت اور علمی گہرائی کے سبب “شیخ مفید” کے لقب سے مشہور ہوگئے۔
علمی مقام
شیخ مفید فقہ، کلام، تفسیر، اصول اور مناظرہ میں یگانہ روزگار تھے۔ آپ نے معتزلہ، اشاعرہ اور دوسرے فرقوں کے علماء سے مناظرے کیے اور ہمیشہ حقانیتِ اہل بیتؑ کا دفاع کیا۔ آپ کے شاگردوں میں ایسے درخشاں ستارے شامل ہیں جیسے:
سید مرتضیٰ علم الہدیؒ
سید رضیؒ (نہج البلاغہ کے جامع)
شیخ طوسیؒ (شیخ الطائفہ)
یوں شیخ مفید کی علمی شخصیت نے آنے والی صدیوں میں تشیع کے فکری و فقہی ڈھانچے کو استحکام عطا کیا۔
مرجعیت اور امامؑ کی توقیعات
شیخ مفیدؒ تقریباً تیس سال تک شیعیانِ عصر کے مرجع تقلید رہے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب شیعیان اپنی مشکلات اور سوالات کے ساتھ براہِ راست آپ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ ان تیس برسوں میں امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی جانب سے ۳۰ خطوط (توقیعات) شیخ مفید کے نام صادر ہوئیں۔
ان توقیعات میں امامؑ نے شیخ مفید کو نہایت محبت اور احترام سے مخاطب کیا:
“للأخ الأعز السدید الشیخ المفید”
یعنی: “میرے عزیز ترین اور استوار ترین بھائی، شیخ مفید کے نام”
یہ خطاب اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شیخ مفیدؒ کو امامِ عصرؑ کے نزدیک ایک خاص مقام و منزلت حاصل تھی۔
علمی خدمات
شیخ مفیدؒ نے فقہ و کلام میں ۲۰۰ سے زائد کتابیں اور رسائل تصنیف فرمائے، جن میں سے بعض یہ ہیں:
الإرشاد فی معرفة حجج الله علی العباد (ائمہ اہل بیتؑ کی سوانح)
المقنعة (فقہی کتاب، جو آج بھی اہم ماخذ ہے)
أوائل المقالات فی المذاهب و المختارات (کلامی کتاب)
تصحیح الاعتقاد (شیخ صدوقؒ کی کتاب “الاعتقادات” پر علمی توضیح و اصلاح)
رحلت
شیخ مفیدؒ نے 413ھ (1022ء) میں بغداد میں وفات پائی۔ آپ کا جنازہ سید مرتضیٰ اور سید رضی جیسے شاگردوں نے پڑھا اور لاکھوں شیعیان و علماء نے شرکت کی۔ آپ کو بغداد کے “کاظمینؑ” میں، امام موسیٰ کاظمؑ اور امام محمد تقیؑ کے روضہ کے قریب سپردِ خاک کیا گیا۔
شیخ مفیدؒ نہ صرف اپنے زمانے میں تشیع کے سب سے بڑے علمی و دینی رہنما تھے بلکہ امام زمانہؑ کی خصوصی تائید و اعتماد کا درخشاں چراغ بھی تھے۔ ان کی علمی و فقہی میراث آج تک حوزاتِ علمیہ کے نصاب اور مکتبِ تشیع کے فکری ڈھانچے کی بنیاد ہے۔
📚 ماخذ:
داستانهایی از زندگی علما، محمدتقی صرفی، دفتر نشر برگزیدہ قم
رجال النجاشی
الفہرست للشیخ الطوسی
روضات الجنات
